اوصافِ حمیدہ سرورِ دو عالم | Ausaf e Hameeda Sarwar e Doualam

اوصافِ حمیدہ ۔سرورِ دو عالم

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری۔ لاہور

خُلق سے مراد وہ عادات و اطوار ہیں جو انسان سے غیر شعوری طور پر سرزد ہوتے ہیں جس کے اظہار کے لیے اسے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ خُلق نفس کی اس راسخ کیفیت کا نام ہے جس کے باعث اعمال بڑی سہولت اور آسانی سے صادر ہوتے ہیں۔ ان کے کرنے کے لیے سوچ بچار کے تکلف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
انسان کے انہی اخلاق سے اس کی تہذیب و تمدن، عقل و شعور اور فطرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اخلاق کی پستی اور جہالت کی تاریکی اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب بلند اوصاف اور اخلاق کی پیکر کامل و مکمل ہستی معاشرے میں موجود نہ ہو۔ اس کی مثال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور سے قبل کا زمانہ ہے۔
آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل سر ز مین ِ عرب کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تہذیب و شائستگی اور اخلاق و اوصاف کا نام و نشان تک نہ تھا۔ عرب قبائل برس ہا برس معمولی باتوں پر برسرِ پیکار رہتے تھے۔ کسی کی آبرو محفوظ نہ تھی۔ باپ اپنی ہی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ انسانی خون نہایت سستا تھا۔ شرک اور بت پرستی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا کہ خانہ کعبہ کے گرد برہنہ طواف کوئی معیوب بات نہ تھی غرضیکہ جہالت اپنے تمام تر لوازمات کے ساتھ جلوہ فگن تھی۔ ایسے دورِ جاہلیت میں انسانیت کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کی کوئی امید باقی نہ تھی۔ لیکن اللہ ربّ العزت کا قانون ہے کہ جب باطل و کفر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہیں سے آفتابِ حق طلوع ہوتا ہے اور نورِحق کی کرنیں گمراہی کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے انسانیت کو فلاح و بہبود اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ جس طرح فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰؑ کی پرورش اور نمرود کے وزیر ِ خاص کے گھر حضرت ابراہیم ؑ کی پرورش کی۔ عین اسی طرح ان مایوس کن حالات میں اللہ ربّ العزت نے رسالت مآب سرورِ دو عالم رہبر کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے بھیجا۔ اور منصب ِ نبوت اور خاتم النبیین کے اعلیٰ مرتبے سے سرفراز فرمایا۔

بلند اخلاق و کردار

اخلاق و کردار انسانی شخصیت کے وہ پہلو اور اوصاف ہیں جن کی بدولت وہ پہچانا جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو‘‘۔ آج تک جتنے بھی انبیا کرام علیہم السلام اس دنیا میں تشریف لائے سب نے سیرت و کردار کی پختگی اور انسان سازی پر زور دیا۔ اور تمام انبیا کرام علیہم السلام نے اپنی سیرت و کردار سے اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ پاک نے بہترین اور منفرد اوصاف سے متمیز کیا ہوتا ہے۔ وہ انسان کی تربیت ایک خاص اور مستحکم انداز میں کرتے رہے تاکہ اچھے اور صالح انسان معاشرے میں پیدا کیے جا سکیں کیونکہ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا صرف عقل نہیں بلکہ سیرت کے بلند اوصاف پر مبنی ہے۔ جب انسان تمام حیوانی صفات سے چھٹکارا پا کر اوصافِ حمیدہ سے متصف ہو جاتا ہے اور اپنے جسم و روح کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوصاف کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے تب ہی وہ فلاح یافتہ اور صالح لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
بلند اخلاق و اوصافِ حمیدہ کا جہاں بھی تذکرہ ہو ذہن میں خود بخود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظیم شخصیت کا خاکہ بن جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اوصافِ حمیدہ اور بلند اخلاق و کردار کی بدولت تمام انسانوں سے ممتاز اور بلند ترین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کے متعلق فرمایا:
٭اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم (القلم۔4)
ترجمہ: بے شک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) عظیم الشان خلق پر قائم ہیں۔

اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کو ان اوصاف پر عمل پیرا ہونے کی تلقین فرماتے ہوئے اللہ پاک نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب۔21)
ترجمہ: یقینا تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی زندگی)میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
عام مشاہدے کی بات ہے کہ انسان کی عادات، اس کا اچھا یا بُرا اخلاق بچپن سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور انہی عادات و اطوار اور اخلاق کی بدولت اُس بچے کے متعلق اس کے والدین اور رشتہ داروں میں ایک تصور بن جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بچپن اور لڑکپن بھی اس قدر پاکیزہ، طیب اور طاہر تھا کہ اہل ِ عرب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کردار اور اعلیٰ اخلاق کی گواہی دیتے تھے۔ اعلانِ نبوت سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی صداقت اور امانت داری کی وجہ سے سرزمین ِ عرب پر صادق اور امین جیسے القابات سے مشہور تھے۔
اعلانِ نبوت کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اہل ِ عرب کو ایک پہاڑی کے قریب اکٹھا کیا اور فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے دشمن حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) صادق اور امین ہیں۔ ہم نے آج تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لیے ہم یقین کریں گے۔ البتہ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خدائے واحد کی عبادت اور بت پرستی کو چھوڑنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اللہ نے مجھے آخری نبی کے طور پر چنا ہے تو سب نے انکار کر دیا۔ وہی عرب جو دنیاوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صادق و امین ہونے کی گواہی دیتے تھے‘ اعلانِ حق سن کر سیخ پا ہو گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور دعوت و تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لوگوں کو نیکی، خدا پرستی اور پاکیزگی کے ساتھ خدائے واحد کی اطاعت و بندگی کی طرف بلایا اور دعوتِ حق دی اور اس کے ساتھ ساتھ چوری، جھوٹ، لوٹ مار، قتل و غارت اور بدکاری چھوڑنے کا حکم دیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تیرہ سالہ مکی دور تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مخالفین کے حملوں، ہر طرح کی مخالفتوں، بہتان تراشیوں، دھمکیوں، سازشوں اور راہِ حق میں صعوبتوں کے باوجود اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اوصافِ حمیدہ کو اختیار کئے رکھا اور اعلانِ کلمہ حق کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ مشن جاری و ساری رہا۔ ابولہب کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ میں کانٹے بچھاتی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسے کبھی بُرا بھلا نہ کہتے۔ ابولہب نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت میں کوئی کثر نہ اٹھا رکھی۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب کی شانِ کریمی اور کفارِ مکہ کی سنگ دلی میں یہ آیات نازل فرمائیں:
ترجمہ: ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے۔ اسے اس کے (موروثی) مال نے کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی اس کی کمائی نے۔ عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جا پڑے گا۔ اور اس کی (خبیث) عورت (بھی) جو (کانٹے دار) لکڑیوں کا بوجھ (سر پر) اٹھائے پھرتی ہے۔ (اور ہمارے حبیب کے تلوؤں کو زخمی کرنے کے لیے رات کو ان کی راہوں میں بچھا دیتی ہے)۔ اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا (وہی) رسہ ہوگا (جس سے کانٹوں کا گٹھا باندھتی ہے)۔ (سورۃ لہب)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوصافِ حمیدہ کو اپناتے ہوئے اپنی عظیم شخصیت اور اپنے ربّ کے لافانی پیغام کو پھیلانے میں مصروفِ عمل رہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا ہی کمال تھا کہ عرب کے غیر مہذب و غیر متمدن اور جاہل قبائل کو کلمہ حق کا پیروکار بنا کر محبت و الفت کی لڑی میں پرو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے ان حیرت انگیز کارہائے نمایاں کی بنا پر دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود اپنے متعلق ارشاد فرمایا:
٭ انما بعثت لاتمم مکارم اخلاق
ترجمہ: مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں۔ 

یوں تو حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کے اخلاقِ حسنہ اور سیرت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا کسی بھی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ ذیل میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت و کردار اور اوصافِ حمیدہ کے چند پہلوؤں کو مختصر بیان کی کوشش کی گئی ہے۔
شاعر حفیظ تائب کے بقول:

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُل چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پاکیزگی اور صفائی کو پسند فرماتے اور دوسروں کو بھی صاف ستھرا رہنے کی تلقین فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے الطہور شطر الایمان ترجمہ: صفائی ایمان کا حصہ ہے۔

٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خوشبو کو بہت پسند فرماتے۔ دورانِ سفر بھی تیل، سُرمہ، کنگھی، آئینہ، قینچی اور مسواک ہمراہ رکھتے تھے۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں کی بے حد عزت و تکریم کرتے۔ کوئی بات ایسی نہ کہتے جس سے کسی دوسرے کو ندامت یا شرمندگی اٹھانا پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کسی کی تحقیر نہ کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیا کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک کنواری پردہ نشین لڑکی سے بھی زیادہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ اپنی نگاہِ مبارک نیچی رکھتے۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صبرو استقامت کے پہاڑ تھے۔ دوسروں کی شرارتیں اور زیادتیاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے لئے اشتعال کا باعث نہیں بنتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تکلیف دینے والوں کو بھی معاف فرما دیتے۔ مکی زندگی میں سفر ِ طائف اوصافِ حمیدہ اور عفو و درگزر کی عظیم مثال ہے۔ طائف کے بسنے والوں نے ظلم کی انتہا کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زخموں سے چور بدن کی حالت میں نڈھال ہو گئے۔ جبریل ؑامین تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اجازت مرحمت فرما دیں تو طائف والوں کو دو پہاڑوں کے درمیان رکھ کر پیس دیا جائے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظرفِ عفوودرگزر دیکھئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’میں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے یقین ہے کہ ان کی اولاد مجھ پر ضرور ایمان لائے گی اور اسلام قبول کرے گی‘‘۔

٭ سادہ طبیعت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ رہتے۔ بے حیائی اور نازیبا گفتگو سے سخت نفرت فرماتے۔ اگر کوئی شخص ناپسندیدہ بات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رخ زیبا اس سے دوسری جانب پھیر لیتے۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عہد و پیمان کے بے حد پابند تھے۔ بڑے بڑے تنازعات و اختلاف کے باوجود عہد و پیمان اور معاہدوں کی پاسداری فرماتے۔ معاہدہ صلح حدیبیہ کے وقت جب ابو جندل کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ  کر زخموں سے چُور نڈھال حالت میں بھاگ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس مدینہ جاپہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں مکہ واپس بھیج دیا کیونکہ معاہدہ تحریر ہوچکا تھا۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کا بہت خیال رکھتے اور کبھی کسی سائل کو خالی نہ لوٹاتے۔ اگر کبھی پاس کچھ نہ ہوتا تو ادھار لیکر خود فاقہ کر لیتے مگر حاجت مند کی ضرورت لازمی پوری کرتے۔
قرآن میں جن خصوصیات اور اوصاف کو اپنانے کی تلقین کی گئی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی سیرت سے ان تمام اوصاف کو ظاہر کیا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ قرآن کی مجسم صورت ہے۔
انسان کی فلاح و کامیابی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کے مطابق گزارے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوصاف کو نہ صرف اپنانے کی کوشش کرے بلکہ اپنی زندگی کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کے سانچے میں ڈالنے کے لیے جدوجہد کرے۔
کسی بھی ہستی کے اوصاف میں خود کو ڈھالنے کے لیے لازم ہے کہ اس ہستی کی صحبت میں کچھ عرصہ گزارا ہو اور اس ہستی کے شب و روز اور سیرت کو بہت قریب سے دیکھا ہو۔ محض کتب کے مطالعہ سے اوصافِ رذیلہ سے نجات حاصل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی تزکیہ نفس کا عمل پورا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت قیامت تک محیط ہے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی ہستی کو مثال بنایا جائے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوصاف اور اخلاق سے زیادہ سے زیادہ متصف ہو۔ اور وہ ہستی کوئی اور نہیں فقیر ِ کامل کی ذات ہی ہوتی ہے۔ فقیر ِ کامل فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور فنا فی اللہ کے بلند مقامات سے گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اللہ پاک کی صفات سے متصف ہو چکا ہوتا ہے۔ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مقام پر پہنچ کراس کے وجود میں اللہ اور اس کے رسول کے سوا کچھ باقی نہیں ہوتا۔ ایسا فقیر ِ کامل شریعت ِ مطہرہ پر عمل پیرا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقش ِ قدم پر ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوصافِ حمیدہ اس کے ہر عمل سے ظاہر ہوتے ہیں۔ 

ایسی ہی ایک ہستی ہمارے درمیان موجود ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ سلسلہ سروری قادری کے امام‘ مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ جن کی سیرت کا ہر پہلو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت سے مماثلت رکھتا ہے۔ جنہوں نے اپنی زندگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ورثہ فقر کے فیض کو عام فرمانے کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔ جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے طالبانِ مولیٰ کا تزکیہ نفس بالکل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقے کے مطابق ہی فرما رہے ہیں۔ بیشمار مخالفتوں کے باوجود دین ِ حق کی ترویج کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور لمحہ بھر کے لیے بھی ان مصائب اور مخالفتوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کی کوشش نہیں کی۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں سے اس قدر شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں کہ ہر کسی کو یہی لگتا ہے کہ حضور مرشد کریم سب سے زیادہ اسی سے محبت فرماتے ہیں۔ ناراضگی کے عالم میں بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ آپ مدظلہ الاقدس کی شان ہے۔
موجودہ دور میں اگر کوئی حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے اوصافِ حمیدہ اور اخلاق کو اپنانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ فقیرِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صحبت و خدمت میں حاضر ہو اور ان کی سیرت کا بغور جائزہ لے اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شخصیت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوصاف کا مشاہدہ کرے اور پھر اُن اوصاف کو اپنانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے بار بار اس پاکیزہ صحبت سے مستفید ہو۔
تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے اسمِ اعظم اسم ِاللہ ذات کا فیض حاصل کرنے کے لیے اور اس صحبتِ عظیم سے مستفید ہونے کے لیے خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں حاضر ہوں۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقش ِ قدم پر چلنے اور اوصافِ حمیدہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں