مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani
(تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن)
قسط نمبر 5 باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
مناقبِ سلطانی کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل اُلجھنیں جنم لیتی ہیں:
1۔ چونکہ سید عبدالرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے اس لیے ادنیٰ و اعلیٰ طالبانِ مولیٰ فقر کی نعمت کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتے ہوں گے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبتِ عالیہ سے بھی مستفید ہوتے ہوں گے۔ ہندوستانی مصنفین کے مطابق لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا۔ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ شاہی منصب پر فائز ہوتے تو ایسا ممکن نہ ہو پاتا کیونکہ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے اس دنیاوی منصب کے فرائض کی ادائیگی میں زیادہ مصروف رہتے۔ پھر شاہی منصب دار کی حیثیت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ کسی مؤرخ نے نہیں کیا۔ ہندوستانی مصنفین نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ صرف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں کیا ہے جو صرف چند سطروں پر مشتمل ہے۔ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ دنیوی منصب پر فائز تھے اور شاہی خزانہ کے انچارج و نگران تھے تو شاہی خاندان کے ہر فرد اور دربار کے ہر ملازم کا آپ رحمتہ اللہ علیہ سے واسطہ رہتا ہوگا۔ شاہجہان اور اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں درجنوں مؤرخین تاریخ کا ایک ایک لمحہ قلمبند کرنے پر مامور تھے لیکن کسی نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ نہیں کیا جو عجیب سی بات محسوس ہوتی ہے۔
2۔ جب سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور سب پر نگاہ فرمائی سب پر اس کا اثر ہوا لیکن اورنگ زیب عالمگیر اور کوتوال پر نہیں ہوا جس پر اورنگ زیب عالمگیر نے فیض کی درخواست کی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ’’رسالہ اورنگ شاہی‘‘ تصنیف فرمایا۔ کیا اِس ملاقات میں اورنگ زیب عالمگیر نے سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے یہ سوال نہیں کیا ہوگا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ دہلی کیسے تشریف لائے؟ اورجواب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سیدعبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا ہو گا، اگر سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ شاہی ملازم ہوتے تو اورنگ زیب عالمگیر فوراً سید عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو پہچان جاتا اور پھر سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے مسلسل ملاقات رکھتا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے مشیروں میں شامل کرتا ۔
3۔ چہرے پر نقاب ڈالنا سروری قادری مشائخ کی خصوصیت نہیں ہے ۔ اس طرح سے انسان زیادہ مشہور اور معروف ہوتا ہے اور اس کی شہرت جلد پھیلتی ہے جبکہ سروری قادری شیخ گمنامی اور خمول کو پسند کرتا ہے اور حکمرانوں سے دور بھاگتا ہے اور عوام میں رہتا ہے ۔
4۔ آپ رحمتہ اللہ علیہکا مزار مبارک پرانی دہلی میں لاہوری دروازہ سے کافی فاصلے پر باہر واقع ہے اور ساتھ ہی قدیم مسجد شاہ عبد الرحمن بھی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ قلعہ کے اندر نہیں بلکہ باہر عوام الناس میں رہے اور عوام الناس ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض یاب ہوتے رہے۔
مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں ثابت یہی ہوتا ہے کہ صاحبِ مناقبِ سلطانی نے تحقیق نہیں کی اور نہ ہی اس غرض سے دہلی کا سفرکیا۔ جو روایت خاندان میں کسی سے سنی درج کر دی۔1934ء میں سید تجمل شاہ نقوی اچوی کی کتاب ’’باغِ سادات ‘‘ شائع ہوئی۔ 1947ء میں بارِ سوم شائع ہوا۔ اب یہ کتاب نایاب ہے، اس کتاب کا بارِ اوّل تو1934ء ہی میں شائع ہوا کیونکہ’’شریف التواریخ‘‘ جو 1934ء میں شائع ہوئی تھی، میں اِس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 61پر سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح درج کیا گیا ہے :
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
سید عبد الرزاق جیلا نی رحمتہ اللہ علیہ
ابو صالح نصر
سید یٰسین
سید احمد شاہ
سید عبد القادر
سید عبد اللطیف
سید عبد الرحمن عرف بھولو شاہ مدفن دہلی، پیشوا سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
یہ شجرہ نسب آگے اس طرح چلتا ہے:
پیر حبیب شاہ
پیر رجب شاہ
عبد اللہ
محمد شاہ
پیر اللہ بخش
پیر کریم شاہ
حضورشاہ
نور شاہ
زمان شاہ ۔(ان کا مزار موضع تنگ عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں ہے (مزار ویران اور بے آباد ہے کوئی سجادہ نشین اور مجاور موجود نہیں ہے اور نہ ہی مقامی لوگوں کو اِن کے بارے میں کچھ معلوم ہے)۔ زمان شاہ صاحب کے تین فرزند تھے (۱) غلام شاہ (۲) دولت شاہ (۳) نادر شاہ ۔ باغِ سادات کے بارِ سوم 1947ء میں دیئے گئے اِن تینوں بیٹوں کے شجروں کے مطابق ان کی بارہ پشتیں گزر چکی تھیں اور ظفر وال ،ننکانہ صاحب ، لیہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھیں۔)
اس نسب نامہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا لقب کبھی بھی بھولو شاہ نہیں رہا۔ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ دہلی میں1200ھ میں ایک اور قادری بزرگ گزرے ہیں جن کا مزار سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سے دو یا تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور ان کا تذکرہ ہندوستان کی موجودہ اور قدیم کتب میں ملتا ہے۔ ان کو تمام مصنفین نے بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہمگر غلام یحییٰ انجم نے تاریخ مشائخِ قادریہ (جلد سوم )میں شاہ بہلن رحمتہ اللہ علیہ عرف بھولو شاہ لکھا ہے۔بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ایک مجذوب قادری بزرگ تھے اور پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے تھے۔ سلسلہ قادریہ میں آپ عبد الحمید کے مرید و خلیفہ تھے ۔ ’’واقعات دار الحکومت دہلی‘‘ (جلد دوم) میں ہے:
بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار1201ھ: کابلی دروازہ تو اب نہیں رہا مگر اس کی جگہ سب کو معلوم ہے، اسی کے پاس آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ہے۔ آپ سلسلہ قادریہ کے بزرگ تھے۔ 1201ھ میں انتقال کیا، مست روز الست تاریخِ وفات ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے برابر ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مرید شاہ محمد حفیظ صاحب کا مزار ہے جن کے برابر اِن کے صاحبزادے شاہ غلام محمد مدفون ہیں۔ 19محرم کو بھولو شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا عرس ہو تا ہے۔ (صفحہ473)
محمد عالم شاہ فریدی کی کتاب ’’مزاراتِ اولیاء دہلی‘‘ اوّلین کتاب ہے جو1927ء میں دہلی کے مزارات کے بارے میں شائع ہوئی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن 1930میں طبع ہوا۔ 1947ء میں مصنف اور پبلیشر پاکستان ہجرت کر آئے۔ 2006ء میں ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی نے اضافہ و تصحیح کے ساتھ اسے دوبارہ دہلی سے شائع کیا ہے۔ اس میںدرج ہے:
بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ 1789ء نزد کابلی دروازہ پرانی دہلی: آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے رہنے والے تھے۔ سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں اور مولانا فخرالدین چشتی و شاہ نانو کے صحبت یافتہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مجذوب سالک تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 20 محرم 1204ھ بمطابق 1789ء کو بعہدِشاہ عالم ثانی انتقال فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار کابلی دروازہ کے باہر ہے‘‘۔
(صفحہ157۔158)
’’راہنما ئے مزاراتِ دہلی‘‘ میںہے:
آپ (حضرت بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ) سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں حضرت شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اصلی وطن پنجاب تھا اور حضرت شیخ نانو و حضرت شاہ فخر الدین رحمتہ اللہ علیہم کے صحبت یافتہ تھے۔ 20محرم 1204ھ میں وفات پائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مٹھائی پل پر داہنی طرف نیچے اتر کر ریلوے لائن کے پاس ہے (لاہوری گیٹ4 پرانی دہلی6)، قریب میں مسجد بنی ہوئی ہے۔ حضرت شاہ حفیظ الرحمن رحمتہ اللہ علیہ حضرت شاہ بھولو رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مریدوں میں تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اکبر شاہ ثانی کے دورِ حکومت میں 30ذیقعد 1236ھ میں وفات پائی اور اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ حضرت شاہ غلام محمد آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اور خلیفہ تھے، ان کا مزار اپنے مرشد والد کی پائنتی کی طرف ہے۔ (صفحہ284 تا286)
غلام یحییٰ انجم ’’تاریخ مشائخِ قادریہ‘‘ (جلد سوم) میں رقمطراز ہیں:
حضرت شاہ بہلن عرف بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ : آپ کا تعلق سلسلہ قادریہ رزاقیہ سے ہے۔ اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہشاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے۔ مولانا فخر الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی فیض حاصل کیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کیفیت مجذوب سالک کی سی تھی ۔19محرم 1204ھ (1789ئ) کو وصال ہوا۔مست روزِ الست تاریخ سنہ وفات ہے۔ دہلی میں کابلی دروازہ سے متصل ’’تکیہ بھولو شاہ‘‘ میں دفن ہوئے، مزار ِمقدس پر موسمِ بہار میں بسنت کا میلہ بڑی دھوم دھام سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدت مند مناتے ہیں۔ (صفحہ291)
ان تمام تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب ِ باغِ سادات نے سید عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا جو شجرہ نسب بھولو شاہ کے نام سے درج کیا ہے وہ سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نہیں بلکہ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا ہے جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے اور شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ سے قادریہ سلسلہ کا فیض حاصل کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد پنجاب میں ہی رہی اس لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ شاہ محمد حفیظ صاحب اور اس کے بعد اُن کے صاحبزادے شاہ غلام محمد صاحب سجادہ نشین ہوئے جن کے مزارات حضرت بھولو شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہکے ساتھ ہی ہیں ۔سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک ان کے مزار سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر لاہور ی گیٹ صدر بازار ریلوے سٹیشن ریلوے کالونی مسلم وقف بورڈ کوارٹر زپرانی دہلی6میں واقع ہے۔
ہندوستانی کتب میں سید عبد الرحمن دہلوی ؒ کا تذکرہ
’’مزاراتِ اولیا دہلی‘‘ میں ہے:
آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے مستند اولیا میں سے ہیں۔ قادریہ خاندان میں سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہکے مرید و خلیفہ ہیں اور سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ کے پیرو مرشد ہیں۔ صاحبِ تصرف و کرامات تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ریلوے سٹیشن صدر بازار کے مسافر خانہ کے پیچھے ایک احاطہ میں ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال آخر زمانہ شاہجہان یا شروع زمانہ عالمگیر میں ہوا، سن ِوفات معلوم نہیں۔ (طبع اوّل 1927) ( اس کتاب کے بعد شائع ہونے والی کتب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی اسی طرح نقل در نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔)
’’راہنمائے مقاماتِ مقدس دارالحکومت دہلی‘‘ میں درگاہ سید عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں درج ہے:
یہ درگاہ متصل صدر سٹیشن دہلی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اولادِ سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے ہیں۔ اعظم اولیا اللہ ہوئے ہیں۔ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ جو بڑے اولیا اللہ پنجاب میں مشہور ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ یہ آپ رحمتہ اللہ علیہکا تصرفِ ولایت ہے کہ گورنمنٹ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کو سڑک اور ریل سے بچایا بلکہ اس کا احاطہ بہت پختہ ریختہ کا اور جنگلہ آ ہنی اور درگاہ شریف میں جانے کا راستہ بنوا دیا ہے۔ (طبع 1914دہلی)
ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم ’’تاریخ مشائخ ِ قادریہ‘‘ (جلد سوم) میں تحریر کرتے ہیں:
حضرت سیدنا شیخ عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا شمار دہلی کے اہم مشائخ میں ہوتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نسبی رشتہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی اولاد سے ہے۔ تقویٰ ، تدین اور زہدو ریاضت میں ممتاز تھے، کشف و کرامات میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پایہ بہت بلند تھا۔ حضرت سید عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو سلسلہ قادریہ کی دولت سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہوئی تھی اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ دہلی اور اس کے اطراف و نواح میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے سلسلہ قادریہ کو بے حد فروغ حاصل ہوا۔ بے شمار بندگانِ خدا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے اور کتنوں کو اجازت و خلافت کا منصب عطا ہوا۔ مشہور بزرگ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہہی کے خلیفہ تھے۔ (طبع دہلی2006)
’’راہنمائے مزارات دہلی‘‘ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں تذکرہ ہے:
حضرت عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے پیرو مرشد ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ تصرف و کرامات اور خاندانِ قادریہ کے مستند بزرگ تھے۔ (طبع دہلی 2007ئ)
بیلی(Beale) نے اورینٹل بائیوگرافیکل ڈکشنر ی(Oriental Biographical Dictionary) میں تحریر کیا ہے کہ سید عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ وہی ہیں جو عبد العزیز نقشبندی کے فرزند تھے اور جن کی بیٹی کی شادی داراشکوہ کے بیٹے سلیمان شکوہ سے ہوئی۔
ڈاکٹر راما کرشناکا بھی یہی موقف ہے لیکن یہ بات قیاس لگتی ہے کیونکہ ایک تو سید عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نسبی جیلانی سادات ہیں اور دوسرے آپ سلسلہ فقر میں پشت ہا پشت سے قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُن کے والد نقشبندی سلسلہ سے ہوں۔ یہ بات بھی حتمی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی ہند تشریف لائے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد نہیں آئے تھے اور پھر بیلی (Beale) کی اس رائے کو کسی نے بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ سلسلہ سروری قادری یا قادری سلسلہ میں کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ قدیم اور جدید مصنفین میں سے کسی نے اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔
سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ہندوستانی اور پاکستانی مصنفین کی تمام تحقیق ہم نے واضح طور پر بیان کر دی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی مصنفین وہی درج کرتے چلے آ رہے ہیں جو 1914ء میں آثارِ دہلی یا 1927ء میں مزاراتِ اولیا دہلی میں شائع ہو چکا ہے اور پاکستانی مصنف وہی درج کرتے چلے آرہے ہیں جو مناقبِ سلطانی میں شائع ہو چکا ہے۔ تحقیق کرنا تو دور کی بات ہے کسی نے آپ رحمتہ اللہ علیہکے مزار مبارک تک جانے کی کوشش تک نہیں کی۔
سید عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق حقائق سے پردہ اُٹھانے کے لیے ضرورت اس امر کی تھی کہ مزید تحقیق کی جاتی تاکہ سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی درست سوانحِ حیات مرتب کی جاسکے۔ اس سلسلہ میں سب سے مشکل کام ہندوستان آنے جانے اور وہاں تحقیق کرنے کا تھا۔نومبر2008ء میں فقیر نے محمد اسد خان سروری قادری سے اس سلسلے میں ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے ایک دوست محمد عامر الیاس ہیں جن کی لاہور میں آٹو ورکشاپ ہے، اُن کی شادی پرانی دہلی میں ہوئی ہے اور اُن کے برادرِ نسبتی مجیب الرحمن اکثر پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں اگر ان کے ذریعے کوشش کی جائے تو شاید کوئی حل نکل آئے۔ مجیب الرحمن سے محمد اسد خان نے فون پر بات کی تو انہوں نے حامی بھر لی۔ سب سے پہلا مرحلہ سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک کی تلاش کا تھا کیونکہ دہلی اب بہت پھیل چکا ہے۔ پہلے تو مجیب الرحمن نے دہلی کے مزارات کے متعلق کچھ کتب بھجوائیں اور انہیں مزار کا محل وقوع سمجھایا گیا لیکن اس کے با وجود دربار کی تلاش میں دو ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ مزار مبارک کا پتہ چلا تو معلوم ہوا کہ اس علاقہ میں تو داخلہ مشکل ہے۔ غیر مسلک کے لوگ آباد ہیں اور1947ء سے قبضہ گروپ دربار اور اس سے ملحقہ زمین پر قبضہ در قبضہ کرتا چلا آرہا ہے۔ پھر وہ اپنی والدہ کو ساتھ لے کر گئے اور مزار مبارک سے ملحقہ مسجد شاہ عبد الرحمن میں چلے گئے۔ وہاں اُن کی ملاقات سنی سید سلیم الزماں ہاشمی ولد حافظ قاری سید احسان اللہ ہاشمی ولد حکیم سید عبد الرحمن ہاشمی سے ہوئی جو کہ مسجد شاہ عبدالرحمن کی امامت اور دربار کی دیکھ بھال اور خدمت رضاکارانہ طور پر سر انجام دیتے تھے۔ تفصیلاً مدعا اُن کے گوش گزار کیا گیا اور موبائل پرمحمد اسد خان کی بات بھی کروائی گئی۔ انہوں نے ایک تو یہ گلہ کیا کہ کوئی یہاں آکر حالات کی تحقیق نہیں کرتا اور لوگ گھروں میں بیٹھ کر پرانی کتابیں دیکھ کر کتابیں لکھ دیتے ہیں۔ اُن کو تازہ ترین کتاب ’’راہنمائے مزاراتِ دہلی ‘‘دکھائی گئی جو2007ء میں طبع ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ کتاب میں سید عبدالرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی تربت مبارک کی جو تصویر دی گئی ہے وہ چالیس سال پرانی ہے۔ خیر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی خاندانی یاداشتیں اور کاغذات جو عربی یا فارسی میں ہیں، تلاش کریں گے اور پھر کچھ تحر یر کرکے دے سکیں گے۔ اسی دوران ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ انہوں نے موبائل پر تو محمد اسد خان کو سب کچھ بتا دیا تھا لیکن ابھی انہوں نے کچھ بھی تحریر کرنا شروع نہیں کیا تھا کہ 2009ء میں اُن پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور اُن کے جسم کے دائیں حصہ نے کام کرنا بند کر دیا۔ اس دوران اُن کا علاج وغیرہ ہوتا رہا اور ہم لوگ اُن کے تندرست ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ 2010ء کے اوائل میں انہوں نے مجیب الرحمن کو کہا کہ لگتا ہے میرا آخری وقت ہے میں نے جو کچھ تم لوگوں کو بتایا ہے خود لکھ لو۔ مجیب الرحمن کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے صرف ہندی لکھ سکتے تھے۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ تمام معلومات کو اردو میں کمپوز کروالیا جائے۔ مجیب الرحمن نے تمام معلومات کو ہندی میں لکھا اور فروری 2010ء میں پاکستان تشریف لے آئے۔ یہاں پر تمام معلومات کو اردو میں ٹائپ کروایا گیا اور سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک کے لیے خصوصی طور پر تیار کروائی گئی چادر جس پر اسمِ اللہ ذات کندہ تھا، ان کے حوالہ کی گئی۔ مجیب الرحمن 21 فروری 2010ء کو یہ دونوں اشیا لے کر انڈیا چلے گئے اور 23 فروری 2010ء کو سید سلیم الزمان ہاشمی کے پاس پہنچے۔ سید سلیم الزمان ہاشمی صاحب کو بڑی مشکل سے مزار تک لایا گیا۔ انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے بڑی مشکل اور تکلیف سے دستخط/نام لکھ کر یہ نسخہ اس وصیت کے ساتھ مجیب الرحمن کے حوالہ کیا کہ تحقیق کے لیے جو طلب کرے دے دینا۔ 25 فروری2010ء کو سید سلیم الزمان ہاشمی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ مجیب الرحمن نے نسخہ میں یہ لکھا ہے کہ شاید آخری دودِن وہ یہ نسخہ میرے حوالہ کرنے کے لیے ہی زندہ تھے۔ 13مئی 2010ء کو مجیب الرحمن لاہور تشریف لائے اور سید سلیم الزمان ہاشمی صاحب کا دستخط شدہ نسخہ گواہان کی موجودگی میں محمد اسد خان صاحب کے حوالے کیا اور اس نسخہ پر ہی وہ تمام حالات و واقعات جو اس نسخہ کو ترتیب دینے کے دوران پیش آئے تھے گواہان کے سامنے ہندی میں قلمبند کیے جن پر مجیب الرحمن نے تصدیق کے طور پر دستخط کیے اور اُن کی راہنمائی میں ہندی کی اس عبارت کا اردو ترجمہ بھی قلمبند کیا گیا۔ اب یہ نسخہ محمد اسد خان سروری قادری صاحب کے پاس محفوظ ہے۔اس نسخہ کے مطابق سید عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح ِ حیات درج کی جارہی ہے۔ (جاری ہے)