بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

Rate this post

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر   23                                  مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

سکون کیسے حاصل ہو؟

کسی نے دریافت کیا کہ سکون کیسے حاصل ہو؟

فرمایا: وہ انسان ہی حالتِ سکون میں رہتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں جدوجہد کی۔ جب اس کی محنت انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اس کا سکون لازوال ہو جاتا ہے۔

کیا علم ضروری ہے؟

کسی نے پوچھا کہ علم کے بغیر کیا فقر حاصل ہو سکتا ہے؟

فرمایا: جب کوئی بھی کام کرنے لگتے ہیں یا نیا کام شروع کرتے ہیں یا کہیں سفر پر جاتے ہیں تو اس کے بارے میں علم یا معلومات حاصل کرتے ہیں تاکہ ہم بھٹک نہ جائیں یا بھول نہ جائیں مثلاً آپ پہلے کراچی نہیں گئے تو کراچی جانے کے لیے آپ کو جاننا پڑے گا کہ کون سے راستے پرجاناہے یا کس ٹرین سے جانا ہے، کہاں سے بیٹھنا ہے اور کہاں جا کے اُترنا ہے، پھر کدھر جاناہے۔آپ ایسی  معلومات حاصل کریں گے تو پھر سفر کا آغاز کریں گے۔ آپ کسی شخصیت یا کسی آدمی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں چھان بین کر کے اچھی طرح معلومات حاصل کرتے ہیں حتیٰ کہ ہم نے روٹیاں پکانے والا توا لینا ہو تو اس کو بھی ٹھیک ٹھاک طریقے سے دیکھتے ہیں، اس کی بھی معلومات حاصل کرتے ہیں یا علم حاصل کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی بھی راہ پر چلنے کے لیے یا کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے اس کے متعلق معلومات جسے علم کہا جا سکتا ہے، حاصل کرنا ضروری ہے۔ شریعت کی دو حدیثیں ہیں:

جو علم کے بغیر زہد اختیار کرتاہے وہ آخری عمر میں کافر ہو کر مرتا ہے۔

جس نے علم کے بغیر زہد کیا وہ آخری عمر میں پاگل ہو جائے گا یا پھر کافر ہو کر مرے گا۔ 

اس لیے اگر کوئی فقر حاصل کرنا چاہتا ہے، فقر کی راہ پر چلنا چاہتا ہے تو پہلے اس کا ظاہری علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے متعلق پڑھیں کہ یہ کیا چیز ہے تا کہ جب تجھ پر کوئی حال کھلے تو پاگل نہ ہو جائے یا تو اس کو چھوڑنہ دے یا تو گمراہ نہ جائے۔ یہ علم تب ضروری ہے جب مرشد کے ہاتھ پر بیعت کر کے فقر اختیار کیا جائے کیونکہ مرشد کے بغیر تو فقر حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔

علم کی اقسام

علم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک علم ِحصولی ہے جو ہم حواسِ خمسہ سے حاصل کرتے ہیں یا کسی کالج، یونیورسٹی یا مدرسے سے حاصل کرتے ہیں یا گھر میں حاصل کرتے ہیں۔ دوسرا علمِ لدنی یا علمِ حضوری ہے جو اللہ پاک کی ذات خود بندے کے قلب پر اتارتی ہے۔ یہ علم کوئی انسان عطا نہیں کرتا اور نہ کسی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علمِ لدنی کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے۔ یہ علم اللہ پاک اپنے بندے کے دل پر اس بندے کی حالت کے مطابق اتارتا ہے۔

بغداد میں حضرت شیخ ابوبکر شبلیؒ کی خانقاہ کے کچھ فاصلہ پر ایک عالم کا حلقۂ درس تھا جس کا نام ابو عمران تھا۔ ایک دن ابو عمران اور ان کے شاگردوں نے امتحاناً حضرت ابو بکر شبلیؒ سے حیض کا ایک مسئلہ پوچھا۔ حضرت نے مسئلہ کا نہایت وضاحت سے جواب دیا اور تمام اختلافات و جوابات ذکر فرمائے۔ 

ابو عمران نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اعتراف کیا کہ ہمیں اس مسئلہ کے محض تین ہی اقوال معلوم تھے۔ آپ نے تو اس سلسلہ میں دس اقوال ایسے بیان فرمائے ہیںجن کی ہمیں ہوا بھی نہیں لگی تھی۔

استقامت

فرمایا: استقامت وہ مقام ہے جس کے بغیر انسان کے باطن کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ جو مرید استقامت سے منہ موڑتا ہے اس سے ذاتِ حق منہ موڑ لیتی ہے۔ اپنے موجودہ مقام سے آگے بڑھنے کے لیے سالک کو استقامت اختیار کرنا پڑتی ہے۔

مومن کی نشانی

کسی نے پوچھا مومن کی کیا نشانی ہے؟

فرمایا: مومن کی دو نشانیاں ہیں:

(۱)  وہ اللہ کی دی ہوئی امانت یعنی روحِ قدسی کی حفاظت کرتا ہے۔ 

(۲) وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد یعنی عہدِالست کی پاسداری کرتا ہے۔

قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ (سورۃ المومنون۔ 8)

ترجمہ: اور وہ جو امانت اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔

معرفت

فرمایا: اگر کوئی مرشد کے بغیر سو سال عبادت و ریاضت کرتا رہے لیکن اللہ کی معرفت حاصل نہیں تو وہ عبادت بے سود ہے۔ ایسی عبادت سے حجاب نہیں اٹھتا بلکہ نفس مزید موٹا ہوتا ہے۔

شکر سے مزید ملتا ہے 

فرمایا: اگر انسان اللہ کا شکر ادا کرے تو وہ مزید عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: 

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (سورۃابراہیم۔ 7)

ترجمہ: اور یاد کرو جب تمہارے ربّ نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

اور اگر انسان ناشکری کرے تو اللہ کم دیتا ہے۔ مزید فرمایا: 

وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد (سورۃابراہیم۔ 7)

ترجمہ:اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے، لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ تو ہے۔ نہ پہننے کو کم ہوا اور نہ کھانے کو۔ سب کچھ ویسا ہی موجود ہے۔ لیکن یہ بھی تو دیکھو:

کیا تمہاری نماز میں خشوع وخضوع ہے؟ 

کیا اللہ کویاد کرتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے؟ 

کیا غیر اللہ سے وحشت ہوتی ہے؟

کیا اللہ سے محبت ہوئی؟

کیا مرشد کی طرف دھیان جاتا ہے؟

کیا ذکرِخفی جاری ہوا ہے؟

یہی اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جنہیںوہ اپنے نافرمانوں سے چھین لیتا۔

مخلوق سے محبت

بات چل نکلی کہ اللہ کی مخلوق سے محبت کرنی چاہیے تو فرمایا: حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے جب اللہ کا انکار کیا اور اپنی آخری حد پر پہنچے تو حضرت یونس علیہ السلام ان سے ناراض ہو کر وہاں سے نکل گئے۔ تو اللہ کو یہ بات پسند نہ آئی اور مچھلی اللہ کے حکم سے ان کو اپنے پیٹ میں لے گئی۔

مرنے کے بعد فیض زیادہ

فرمایا: مرشد کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد طالبوں کو فیض زیادہ ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ چونکہ مرشد چلا جاتا ہے، اللہ ایک نئی کھڑکی کھول دیتا ہے۔مرشد جب تک حیات ہوتا ہے اس وقت تک اس پر شریعت نافذ ہوتی ہے، اور وہ اس کا پابند ہوتا ہے لیکن جب وصال ہو جائے تو پھر زیادہ آسانی سے اپنے طالبوں کو فیض عطا کرتا ہے۔ 

قرآن کی سمجھ کیسے آئے؟

فرمایا: جس نے قرآن سمجھنا ہو اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس جانا پڑے گا۔ علامہ اقبالؒ ارمغانِ حجاز میں فرماتے ہیں:

بہ مصطفیؐ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است 

ترجمہ: تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں۔ اگر تو اُن (مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابو لہب کا دین ہے۔ 

قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہوا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی اس کو سمجھتے ہیں، اب اگر کسی نے سمجھنا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سمجھے۔

زائد نوافل

جب حدیثِ قرب نوافل کی بات ہوئی تو فرمایا کہ حدیثِ قدسی ہے:

میرا بندہ زائد نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی بینائی بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔

نوافل سے مراد صرف یہ نہیں کہ نماز والے نفل پڑھے جائیں بلکہ اس سے مراد ہر نیکی ہے جو فرائض اور واجبات کے علاوہ ہے۔ 

اللہ کا رنگ

فرمایا: طالب خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لیتا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہے؟ جیسا کہ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں فرمایا: 

صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً (سورۃ البقرۃ۔138)

ترجمہ: (کہہ دو: ہم) اللہ کے رنگ (میں رنگے گئے ہیں) اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے ۔ 

فاسق سے دین کا کام

کسی نے کہا کہ فلاں نیک کام اس بندے نے کیا ہے لیکن اب منافق ہے۔ فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اللہ فاسق سے بھی دین کا کام لے لیتا ہے۔‘‘

امام سے مراد مرشد

ایک بار قیامت کی بات چل نکلی تو فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ:

یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ  بِاِمَامِہِمْ  (سورۃ بنی اسرائیل ۔71)

ترجمہ:یاد کروجس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ 

مولوی کہتے ہیں کہ امام سے مراد انبیا ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے نبی کا لفظ تو استعمال نہیں کیا۔ اگر نبی کے ساتھ ہی بلانا ہوتا تو اللہ نبی کا لفظ استعمال کر لیتا۔ کیا اللہ کے لیے مشکل تھا کہ’’نبی‘‘کا لفظ استعمال کرے؟اس سے مراد ہر دور کا انسانِ کامل اور امام الوقت ہے۔ 

سیاست کا پیمانہ

ایک دفعہ سیاست کی بات چل نکلی تو فرمایا: جس کو جس بھی کام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اس کی پرفارمنس اس کے کام سے دیکھی جاتی ہے نہ کہ اس کی ذاتی زندگی سے۔ ایک حکمران اگر منتخب کیا جاتا ہے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہا ہے نہ کہ اس کے ذاتی فعل دیکھنے شروع کر دئیے جائیں۔ 

بنی اسرائیل پر انعامات کی وجہ

جولائی 2025ء ، 8 محرم الحرام کو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضری کا موقع ملا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کوئی سوال ہے تو پوچھو؟کسی نے عرض کی کہ بنی اسرائیل پر اتنے انعامات کی وجہ کیا تھی؟

فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے عاشق تھے، اللہ کی رضا پر تھے۔ انہی کی وجہ سے ان پر اتنی عنایات کی گئیں۔ قرآن میں ہے:

ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ  (سورۃالجمعہ ۔4)

ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ 

اللہ کے نور کی صورت

فرمایا: اللہ نے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور کی مثال بیان کی ہے:

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ لا  یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓئُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۔ (سورۃ النور۔35)

ترجمہ:اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اُس طاق (نما سینۂ اَقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے ؛ (وہ) چراغ (قلبِ محمدیؐ کے) فانوس میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پَرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیا و رُسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت) سے روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالمگیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحیٔ ربانی اور معجزاتِ آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں۔ (وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دوہرے نور کی پیکر ہے)۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے ، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔

پہلے انبیا کی صورت میں اللہ کا نور آتا تھا اور جو اللہ کی طلب رکھتے تھے انہیں اپنے نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا یعنی انبیا کی طرف بھیج دیتا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے، تو جو اس وقت اللہ کی طلب رکھنے والے تھے، ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد اللہ کا نور اولیا کی صورت میں جلوہ گر ہوا۔ اب جو اللہ کی طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اولیا کی طرف ان کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔

(جاری ہے)



اپنا تبصرہ بھیجیں