امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

قسط نمبر13

شرح ذکر

بہت سے ذاکر اہلِ تقلید ہیں اور بہت سے لوگ انا کے باعث حجاب میں ہیں۔ ذکر کی شرح اور دلیل یہ ہے کہ ذاکر اہلِ توحید دیدار سے مشرف ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایسا ذکر کرتے ہیں جس کے باعث اللہ اور بندے کے درمیان سے حجاب اُٹھ جاتا ہے۔ ابیات:
ذکر یک درد است باشد لادوا
شد شفا از درد و ذکرش بالقا
ترجمہ: ذکر ایک ایسا درد ہے جس کی کوئی دوا نہیں۔ اس درد سے شفا وہ ذکر ہے جس میں ذاکر کو لقائے الٰہی حاصل ہو۔
ذکر یک سوزست سوزد مغز و جان
سوز از لاہوت بہ برد لامکان
ترجمہ: ذکر ایک آگ ہے جو مغز اور جان کو جلا دیتی ہے اور یہی آگ لاھوت لامکان میں لے جاتی ہے۔
ذکر کی سات قسمیں یا طریقے ہیں جو قلب و قالب کے ساتوں اندام سے اور مکمل طاقت کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور ان ہر سات میں سے ستر ہزار علمِ حکمت، ستر ہزار قربِ نور اور ستر ہزار معرفتِ توحید اور دیدار کی تجلیات منکشف ہوتی ہیں جو کہ توفیقِ الٰہی کی تجلیات کہلاتی ہیں۔ توحید کے باتحقیق مشاہدہ سے جمعیت، تصورِ کل اور وجود کے طلسمات و معمات اور مشکلات کا حل اور تمام خزانوں پر تصرف حاصل ہوتا ہے جس کے لائق وسیع حوصلے والے کامل الوجود اولیا اللہ ہیں جو کہ عارف باللہ ہیں۔ جملہ ساتوں ذکرِ عظیم جو وجود کے ساتوں اندام سے ادا کیے جاتے ہیں‘ طالب کو قلبِ سلیم عطا کرتے ہیں اور صراطِ مستقیم دکھاتے ہیں اس کے ساتھ اعتقاد اور یقین والا علم عطا کرتے ہیں‘ یہ ہیں اوّل ذکرِ عظیم ذکرِ حامل ہے جسے تلقین کے بعد شروع کرتے ہی طالب کے تصرف میں گنجِ غنایت آ جاتے ہیں جو طالب کو لایحتاج اور کامل الغنایت بنا دیتے ہیں اور طالب شکایت سے باز آجاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
عَذَابَ الْجُوْعِ اَشَدُّ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔
ترجمہ: بھوک کا عذاب قبر کے عذاب سے بھی شدید ہے۔
دوم ذکرِ عظیم ذکرِ نور ہے جس کی تلقین کے شروع میں ہی طالبِ مولیٰ کے قلب و قالب کے ساتوں اندام مشاہدۂ نور میں غرق ہو جاتے ہیں اور طالب تصور اسمِ اللہ ذات کے نوری مجاہدہ کے ذریعے حضوری سے مشرف ہو کر یکبارگی اپنے مطالب پا لیتا ہے۔ سوم ذکرِ عظیم ذکرِ بقا ہے۔ ذکرِ بقا کا آغاز ہی اللہ کی ذات میں فنا ہونا ہے۔ ذکرِ بقا سے طالب لاھُوت لامکان میں پہنچ کر معرفتِ توحید اور لقا سے مشرف ہوتا ہے اور یکبارگی اپنے مطالب پا لیتا ہے۔ چہارم ذکرِ عظیم دماغ کی بیداری ہے جس کی تلقین کے آغاز میں ذاکر کا دماغ بیدار ہو جاتا ہے اور علم الیقین اور علم الاعتبار کے ساتھ اللہ کے انوار میں غرق ہو کر دیدارِ پروردگار سے مشرف ہو جاتا ہے اور طالب یکبارگی اپنے مطالب پر پہنچ کر ان کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔ پنجم ذکرِ عظیم ذکر ابدی حیات ہے۔ اس ذکر کی تلقین کے آغاز میں قلب و قالب کے ساتوں اندام مکمل حیات پا لیتے ہیں اور وہ لاھوت لامکان میں پہنچ کر اٹھارہ ہزار عالموں اور اس کی کل مخلوقات کا نظارہ بے حجاب دیکھتا ہے۔ ششم ذکرِ عظیم ذکر الحق ہے جس کے شروع کرتے ہی ذاکر پر حقیقتِ معرفت اور توحیدِ حق کے حقائق واضح ہو جاتے ہیں اور وہ باطل، حرص، طمع، حسد، تکبر، خواہشاتِ نفس اور ریا کو ترک کر دیتا ہے اور صاحبِ نظر بن کر نگاہ سے طالبانِ مولیٰ کو روزِ اوّل ہی خضر علیہ السلام کی مجلس میں پہنچا دیتا ہے اور طالب یکبارگی اپنے مطالب پا لیتا ہے۔ ہفتم ذکر عظمت العظام ہے جس کی تلقین سے ذاکر اسرارِ الٰہی سے ایسے محرم ہو جاتا ہے کہ وہ نہ تو خداہوتا ہے اور نہ ہی لمحہ بھر کے لیے خدا سے جدا ہوتا ہے۔ اور طالب یکبارگی اپنے مطالب پا لیتا ہے۔
وہ کونسا علم اور راہ ہے جو دیدارِ معبود سے مشرف کر دے؟ وہ کونسا علم ہے جو ربّ العالمین کے ساتھ بقا عطا کر دے جو دیدارِ الٰہی سے ممکن ہے۔ سن اے احمق اور نفس کے غلام! ناقص اور اہلِ ہوس، سن اے اہلِ غضب، نالائق اور اہلِ غم، سن اے بے دانش، بے شعور، مردہ دل اور اللہ کی معرفت، قرب اور حضوری سے بے خبر! سن اے رحمتِ الٰہی سے محروم اور اس کی بارگاہ میں نامنظور! دیدارِ پروردگار قلبِ سلیم کے حامل طالبوں کے لیے ممکن ہے نہ کہ ایسے جاہل عالم سے جس کا دل مردہ اور وجود افسردہ ہے اور وہ گدھے کی مانند ہے۔ 

کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمَلْ اَسْفَارًاط(الجمعہ۔5)۔

ترجمہ: وہ گدھے کی مثل پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہیں۔ 
وہ طالبِ نفس اور دنیا کے چاہنے والے شیطان بدکار کے غلام ہیں۔ وہ سب معرفتِ توحید سے دور ہیں اور دنیا میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور دیدارِ الٰہی کا اعتبار نہیں کرتے اس لیے ان احوال کا تذکرہ نہ کرو۔
جان لو کہ بعض مردود اہلِ بدعت ایسے ہیں جو دیدار و معرفت اور وصال کو ظاہری حسن و سرود اور خدوخال سے تشبیہ دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ وہ جھوٹے ہیں جو مراتبِ زوال کے باعث بے جمعیت اور پریشان حال رہتے ہیں کیونکہ اللہ جو کہ غیر مخلوق ہے‘ اسے مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینا کفر و شرک کا باعث ہے۔ جان لو کہ ازل، ابد، عرش، کرسی، لوح و قلم، تحت الثریٰ اور جنت تمام مقام ہیں اور ہر مقام پر خدا تعالیٰ کو کسی شے یا مخلوق سے تشبیہ دے کر دیکھنا جائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ کوئی کسی مقام پر مشرفِ دیدارِ خدا ہو ایسا کہنے والا خواہشاتِ نفس کے باعث کافر ہو جاتا ہے۔ یہ دیدار اور لقائے ربّ العالمین کے مراتب محض اللہ کا فیض، فضل اور عطا ہیں اور رحمت و نعمتِ الٰہی ہیں جو اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب اسمِ اللہ ذات سے تجلیہٴ انوار کا شعلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ طالب کو لاھوت لامکان میں لے جاتا ہے جہاں نہ وقت ہے اور نہ کوئی مقام۔ جہاں وہ لقائے الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں۔ جو ان مراتب کا منکر ہوتا ہے وہ کاذب، منافق اور کفار میں سے ہے۔ دیدار و لقا تحقیق شدہ ہیں جو قدرتِ الٰہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ بیت:
نیست آنجا ازل و ابد و نیست دنیا نہ بہشت
آن مکان لامکان است دیدار از سرشت
ترجمہ: لامکان نہ ازل ہے نہ ابد اور نہ ہی دنیا نہ بہشت۔ لامکان وہ مرتبہ ہے جہاں صرف دیدار حاصل ہوتا ہے۔
دیدارِ انوار کے دوران طالب جو کچھ دیکھتا ہے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔اور جو کلامِ الٰہی اللہ کے قرب میں سنتا ہے وہ اُسے تاقیامت یاد رہتا ہے۔ ابیات:
اللہ ہر کرا خواہد نماید عین راز
اللہ ہر کرا خواہد دہد قرب از آواز
اللہ ہر کرا خواہد بہ بخشد باحضور
او نخواہد راندہ گرداند ز دور
ترجمہ: اللہ جس کسی کو چاہتا ہے عین راز عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے قرب اور ہم کلامی کا شرف بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی حضوری عطا کرتا ہے لیکن جسے نہیں چاہتا اسے خود سے دور کر دیتا ہے۔
یہ دیدار و لقا کی راہ کا علم ہے۔ اس لقا کے علم کی گواہ آگاہی بخشنے والی نگاہ ہے۔ بعض کو لقا جمعیت بخشتا ہے اور بعض لقا سے مجذوب ہو جاتے ہیں اور بعض لقا کی خاطر دن رات بے چین رہتے ہیں۔ 

اِنَّ لِلْمُشْتَاقِ الْمُدَبِّرِیْنَ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ

ترجمہ: بے شک اہلِ اشتیاق ہی مدبر ہیں جو کہتے ہیں کیا مزید (قرب و دیدار) ہے؟
یہ توحید کے مراتب ہیں جو اہلِ اشتیاق تجرید (تجرید یہ ہے کہ اللہ کے سوا ہر شے کی نفی کر دی جائے) و تفرید (تفرید یہ ہے کہ اپنی ذات کی بھی نفی کر دی جائے) سے گزر کر حاصل کرتے ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا (الکہف۔110)
ترجمہ: پس جو اپنے ربّ کا قرب و دیدار چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اعمالِ صالحہ اختیار کرے اور اپنے واحد ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
اعمالِ صالحہ اور ازلی عبادت قرب و دیدارِ الٰہی کے حصول کی جانب متوجہ رہنا ہے جو واصلین کو علمِ بقا سے حاصل ہوتا ہے۔ ابیات:
گر شوم در غرق دیدارش دوام
باھوؒ در ھُو گم شدہ باھوؒ کدام
ترجمہ: اگر میں ہمیشہ اللہ کے دیدار میں غرق رہوں تو باھُوؒ ھُو میں فنا ہونے کے باعث باھُوؒ کیسے رہے گا؟
باخبر باھوؒ بود یاھُو بخوان
یاھو باھوؒ را برد باھُوؒ نہ ماند
ترجمہ: باھُوؒ یاھُو کے ذکر میں ہوشیار رہتا ہے کیونکہ یاھُو کا ذکر باھُو کو وہاں لے جاتا ہے جہاں وہ فنا ہو کر باھُو نہیں رہتا۔
ہر کہ از خود گم شود آنجا چہ دید
خوش ببین دیدار از خود خود برید
ترجمہ: جو طالب خود کو دیدار میں غرق کر لیتا ہے تو وہاں کیا دیکھنا رہ جاتا ہے اس جگہ خود سے فنا ہو کر دیدار کر۔
ہر کہ منکر از خدا و ز مصطفیؐ 
آن کاذب و مردود گردد بے حیا
ترجمہ: جو اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منکر ہے وہ بے حیا، جھوٹا اور مردود ہے۔
گر لذت دیدار را شرح کنم
کونین را بر نام او صدقہ کنم
ترجمہ: اگر میں لذتِ دیدار کی شرح بیان کرنے لگوں تو دونوں جہان کو اس (اللہ) کے نام پر صدقہ کر دوں۔
گر بیائی زود بینی طالبا
طالبان پیدا شوند بہر از لقا
ترجمہ: اے طالب! اگر تو آئے تو تُو اسے جلد دیکھ لے گا کیونکہ طالبانِ حق لقا کی خاطر ہی پیدا ہوتے ہیں۔
اجل پیغام است موت از معرفت
ہر کہ محرم موت شد طالب صفت
ترجمہ: (خواہشاتِ نفس کی) موت معرفت کا ایک پیغام ہے۔وہی اصل طالب ہے جو اس موت کا طلبگار ہے۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ  (البقرہ۔115)
ترجمہ: پس تو جدھر بھی دیکھے گا اللہ کا چہرہ پائے گا۔
ابیات:
ہر طرف بینم مشرف شد لقا
آوردم رو بسوی قبلہ چو او قبلہ نما
ترجمہ: میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہوں لہٰذا میں اپنا چہرہ قبلہ کی جانب کرتا ہوں کیونکہ وہی اصل قبلہ ہے۔ 
از لقا اللہ رو نگردانم بجان گرجان بود
اگرچہ از تن سر جدا جان میشود
ترجمہ: جب تک جان میں جان ہے میں لقائے الٰہی سے روگردانی نہیں کروں گا اگرچہ سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ 
جام نوش ہرگز نہ ترسد جان بی جان
ساکن لاہوت نظرش لامکان
ترجمہ: اس کے دیدار کا جام نوش کرنے والا موت سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ لاھوت میں رہتا ہے اور اس کی نظر لامکان پر ہوتی ہے۔
دیدہ بر دیدار دل باشتغال
غرق فی التوحید عارف دم وصال
ترجمہ: اس کی آنکھ دیدار میں اور دل اللہ کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے۔ ایسا عارف توحید میں غرق اور واصل ہوتا ہے۔ 
از لقا رو نگردانم دوام
ہر کہ روئی گرداندہ کافر تمام
ترجمہ: میں کبھی بھی لقائے الٰہی سے منہ نہیں موڑتا اور جو کوئی اپنا چہرہ اس سے پھیرتا ہے وہ مطلق کافر ہو جاتا ہے۔
اہلِ اللہ فقیر جس کے ساتوں اندام تصور اسمِ اللہ ذات سے مطلق نور بن جاتے ہیں وہ ظاہری طور پر لوگوں میں تصرف کرنے والا مشہور ہوتا ہے اور باطن میں معرفتِ الٰہی کے تصرف کی بنا پر مشہور ہوتا ہے اور اٹھارہ ہزار عالموں اور مجلسِ انبیا، اولیا اللہ، تمام فرشتوں، مؤکلات اور جن و انس میں اس کے احوال (مراتب) ظاہر ہوتے ہیں۔یہ اس فقیر کے مراتب ہیں جس کا باطن معمور ہوتا ہے۔ یہ مراتب تصور اسمِ اللہ ذات کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر مراتب سے ثواب حاصل ہوتا ہے لیکن تصور اسمِ اللہ ذات سے بے حجاب دیدار حاصل ہوتا ہے لیکن (راہِ حق میں) تصورِ شیطانی کی مداخلت سے باخبر رہ۔ جان لو کہ اسمِ اللہ ذات فرمانِ الٰہی کی مثل ہے اور صاحبِ تصور اسمِ اللہ ذات عارف جو صاحبِ نظر ہوتا ہے‘ اس فرمان کا حامل ہوتا ہے۔ جو اسمِ اللہ ذات کے فرمان کی عزت نہیں کرتا وہ نافرمان اور فرعون بن جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ جسے مشاہدہ اور قربِ الٰہی کے ساتھ دائمی حضوری اور وصال حاصل ہو اس کا کلام کبھی غلط اور خطا سے پُر نہیں ہوتا کیونکہ وہ کلام اللہ کی بارگاہ میں اس کے ازلی قرب کی بنا پر مقبول ہوتا ہے۔ ایسے فقیر کی زبان سیف اللہ ہے جو تلوار کی مثل (برائی کو) قتل کرنے والی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

اُقْتُلُوْا الْمُوْذِیَاتِ قَبْلَ الْاِیْذَآءِ

ترجمہ: موذیات کو ایذا پہنچانے سے پہلے قتل کر دو۔
فقیر کے ان مراتب کو خواہشاتِ نفسانی سے مغلوب لوگ کیا جانیں کہ فقیر ایک دم میں تمام عالم کو اپنی توجہ سے فنا کر سکتا ہے اور ایسا وہ حکمِ خدا اور اجازتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کرتا ہے۔ کیونکہ فقیر توحیدِ الٰہی میں غرق اہلِ حضور ہوتا ہے اور اس کے پاس اسمِ اللہ ذات کا نور اور تمام جلالی و جمالی صفات کی طاقت ہوتی ہے اور اس کی کوئی بھی بات حکمتِ الٰہی سے خالی نہیں ہوتی۔ بیت:
مست را فکری نباشد از جلال
غرق فی التوحید اللہ با وصال
ترجمہ: توحید میں غرق مست فقیر کو جلال سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور اللہ سے وصال کی بنا پر وہ ان کو جذب کر لیتا ہے۔ 
جو فقیر دائمی طور پر غرق اور دیدار سے مشرف و متوجہ ہو وہ مردار دنیا، نجاست، گندگی، مردار اور حرام کی بدبو کی طرف ہرگز نہیں دیکھتا۔ جاننا چاہیے کہ شیطان صرف خدا کے دشمنوں پر ہی غالب آسکتا ہے اور ان پر غفلت سے غلبہ کرتا ہے جبکہ خدا کے دوست شیطان پر غالب ہوتے ہیں۔ جو حق کا حقیقی طالب ہے وہ بلاشبہ اہلِ توفیق اور حق کا رفیق ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا  (بنی اسرائیل۔65)

ترجمہ: (اے شیطان!) بے شک تو میرے بندوں پر غالب نہ آسکے گا اور تیرا ربّ ہی ان کے لیے کافی اور کارساز ہے۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں