کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation

Rate this post

کلید التوحید (کلاں)  Kaleed ul Tauheed Kalan 

قسط نمبر40                      مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

 مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو مردہ دل ہیں اور اللہ کی معرفت اور ذکر سے غافل اور اندھے ہیں لیکن (پھر بھی) خود کو ذاکر کہلاتے ہیں اور مخلوق بھی ان کو ذاکر کہتی ہے۔ ذاکر کے مراتب کا تعلق انبیا کی مجلس میں ان سے ملاقات، مشاہدۂ ربوبیت میں استغراق اور اللہ کے قربِ حضوری سے ہے جس میں ذاکر اللہ کا ہم نشین ہو کر ملاقات کرتا ہے اور اس کے اسرار حاصل کرتا ہے۔ ان مراتب کا تعلق بلند آواز سے ذکر ِ جہر کرنے سے نہیں ہے۔ حدیثِ  قدسی ہے:
اَنَا جَلِیْسٌ مَّعَ مَنْ ذَکَرَنِیْ 
ترجمہ: جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہم نشین ہوتا ہوں۔

خفی ذکر کرنے والا ہی اللہ کا ہم نشین ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً    (سورۃ الاعراف۔55)
ترجمہ: اپنے ربّ کو پکارو عاجزی اور خفیہ طریقے سے۔

جان لو کہ ذاکر کے لیے دو گواہ ہیں اوّل دائمی ذکر، دوم کامل فکر۔ دائمی ذکر کے مزید دو گواہ ہیں اوّل مجلس ِ محمدیؐ کی دائمی حضوری، دوم اللہ کی معرفت، قرب اور حضوری میں استغراق۔کامل فکر کے بھی مزید دو گواہ ہیں اوّل فنائے نفس، دوم فیض و فرحتِ روح۔ کیا تو جانتا ہے کہ ذکر حضوری سے ہوتا ہے اور ذکرِ  اسمِ اللہ ذات حضوری کا دوسرا نام ہے۔ اسمِ  اللہ جب ذاکر کے وجود پر تاثیر کرتا ہے تو اسے اپنے قبضہ و تصرف میں لے کر اس پر غالب آ جاتا ہے اور ذاکر کی نفسانی اور کثیف جان کو نکال لیتا ہے اور روحانی وجود کو پاک و لطیف کر کے حضوری کے استغراق میں لے جاتا ہے۔

مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو حبس ِ دم کر کے ذکرکرتے ہیں اور اپنے مردار خور مرشد کا تصور کرتے ہیں اور فنا فی الشیطان ہونے کو فنا فی الشیخ کے مرتبہ سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ (فنا فی الشیخ کا اصل مرتبہ یہ ہے کہ) صورتِ فنا فی الشیخ پل بھر میں مجلسِ محمدیؐ کی حضوری اور معرفتِ اِلَّا اللّٰہُ  تک پہنچا دیتی ہے۔ ذکر کا تعلق جمعیت سے ہے اور جمعیت اسے کہتے ہیں کہ مراقبہ میں ہزاروں ہزار مقامات اور نورِ ذاتِ الٰہی کی تجلیات کا مشاہدہ کیا جائے۔ اس کو مرتبہ حسنات کہتے ہیں۔ جو مراتبِ حسنات پر پہنچ جائے وہ سخاوت کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ دائمی نماز ادا کرتا ہے اور تیغِ  کلمہ طیب سے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو قتل کرتا ہے اور وہ نجات یافتہ عارف ولی اللہ بن جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلصَّلٰوۃُ یُذْھِبُ السَّیِّاٰتِ وَکَلِمَۃُ الطَّیِّبُ یُذْھِبُ السَّیِّاٰتِ وَالسَّخَاوَۃُ یُذْھِبُ السَّیِّاٰتِ 
ترجمہ: نماز، کلمہ طیب اور سخاوت گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ  ط اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِیْنَ۔  (سورۃ ھود۔114)
ترجمہ: اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے بعض حصوں میں نماز قائم کریں۔ بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور یہ ذاکرین کے لیے ذکر (کی مانند) ہے۔

یہ بھی عارف باللہ فقیر کے مراتب ہیں جیسا کہ مولانا رومؒ نے فرمایا:

آنکہ او را لقمہ شد نور جلال
ہر چہ خواہد میخورد او را حلال

ترجمہ: جس کا کھانا نورِ جلال ہو وہ جو بھی کھائے اس پر حلال ہے۔

آنکہ جز ماہی ز آبش سیر شد
آنکہ بیروزیست روزش دیر شد

ترجمہ: جو مچھلی پکڑے بنا ہی پانی سے سیر ہو جائے وہ روزی سے محروم رہتا ہے اور اس کی روزی دیر سے آتی ہے (یعنی جو محنت نہیں کرتا اس کی روزی دیر سے ملتی ہے) ۔

جوابِ مصنف:

رود در حلق عارف لقمہ حلال
زانکہ عارف دائمی باحق وصال

ترجمہ: عارف کے حلق سے لقمۂ حلال ہی اترتا ہے کیونکہ وہ حق کے ساتھ دائمی وصال پا چکا ہوتا ہے۔

شد وجود عارفان آتش تمام
باذکر آتش سوختہ لقمہ حرام

ترجمہ: عارفوں کے وجود میں ذکر کی بدولت اس قدر آگ ہوتی ہے کہ اگر اس میں لقمۂ حرام جائے تو جل جاتا ہے۔ 

وحدتِ حق آب عارف آبجو
آبجو در آب گم شد آب گو

ترجمہ: وحدتِ حق سمندر ہے اور عارف ندی کا پانی۔ ندی کا پانی سمندر میں گم ہو کر سمندر ہی کہلاتا ہے۔

ماہی در آب است و از آب بیخبر
از جدائی آب ماہی جان بدر

ترجمہ: مچھلی پانی کے اندر رہتے ہوئے پانی (کی اہمیت) سے انجان ہوتی ہے لیکن پانی کی جدائی سے اس کی جان نکل جا تی ہے۔

عارفان بسیار گویند عارفم
معرفت را کی رسد ایں اہل غم

ترجمہ: بہت سے عارف کہتے ہیں کہ میں عارف ہوں جبکہ غمگین لوگ معرفت تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟

معرفت نوریست سر راز نور
ز آفتاب معرفت عالم ظہور

ترجمہ: معرفت نور ہے اور اسرار کے نور کا سرچشمہ ہے۔ اس معرفت کے آفتاب سے ہی تمام عالم کا ظہور ہے۔

فقیر مالک الملکی ہوتا ہے۔ عارف باللہ صاحبِ ذات ولی اللہ کے مراتب یہ ہوتے ہیں کہ اسے توفیقِ الٰہی حاصل ہوتی ہے اور وہ یہ جاودانی خدمات سرانجام دیتا ہے کہ جسے چاہے اللہ کے حکم سے مسندِ بادشاہی پر بٹھا دے اور جسے چاہے معزول کر دے۔ جو بادشاہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا ہو تو اہلِ اللہ فقیر کو چاہیے کہ باطنی لشکر کے ساتھ اس کی مدد کرے اور ملک فتح کر کے مراتب سے نواز دے۔ مونس فقیر کی رفاقت سے عرب و عجم کے سب ملک اس بادشاہ کے قبضہ و تصرف میں آ جاتے ہیں۔ بیت:

حمایت را کہن دامان درویش
ز صد سد سکندر در مدد بیش

ترجمہ: کسی کو اگر مدد کے لیے درویش کا پرانا دامن بھی مل جائے تو وہ سکندر بادشاہ کی سینکڑوں دیواروں سے بہتر ہے۔

درویشی کے مراتب کے لائق وہی شخص ہے جو رات دن اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو۔ درویش وہ ہوتا ہے جو ذکر ِ الٰہی سے ایک لمحے کے لیے بھی فارغ نہ رہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلْاَنْفَاسُ مَعْدُوْدَۃٌ وَ کُلُّ نَفَسٍ یَخْرُجُ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَھُوَ مَیِّتٌ   
ترجمہ: سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکر ِ j کے بغیر خارج ہو وہ مردہ ہے۔

نیز درویش اسے کہتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے ہمیشہ لوحِ محفوظ کے مطالعہ میں مشغول رہے۔ لیکن فقرا ان مراتب کے حامل کو نجومی کہتے ہیں۔ فقیر کے مراتب یہ ہیں کہ اللہ کی معرفت اور توحید کے علاوہ مخلوقات اور طبقات کی طرف نظر بھی نہیں کرتے۔ اور فقیر کے مراتب یہ ہیں کہ وہ فقر اور معرفتِ الٰہی کا حامل ہوتا ہے۔ مخلوق کی نظر میں وہ تقلید کرنے والا ہوتا ہے لیکن باطن میں وہ توحید میں مستغرق ہوتا ہے۔ بعض کے مراتب یہ ہوتے ہیں کہ وہ مخلوق کی نظر میں صاحبِ عز و جاہ اور صاحبِ عظمت اور اہلِ توحید ہوتے ہیں جبکہ اللہ کی بارگاہ میں وہ مردہ دل اہلِ تقلید ہوتے ہیں۔

جان لو کہ ذکر چار ہیں۔ ذکرِ  زبان، ذکرِ  قلب، ذکرِ  روح اور ذکرِ  سِرّ۔ پس زبان سے ذکر کرنے والے کی زبان تلوار بن جاتی ہے اور ذکر ِقلب کرنے والے کے دل میں ذکرِ قلب سے اللہ کی محبت پیدا ہو کر ایسے ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ کے سوا وہ کسی دوسرے سے انس، پیار اور محبت نہیں رکھتا اور اس ذاکر کا قلب ذکرِقلب سے ایسے زندہ ہو جاتا ہے کہ حق کی تصدیق کرتا ہے اور زندگی و موت میں کبھی نہیں مرتا۔ ذکر ِ روح کا ذاکر ہمیشہ انبیا اور اولیا کی ارواح کی مجلس میں ہوتا ہے اور اسے نفسانی لوگوں کی مجلس پسند نہیں آتی۔ ذکر ِ سِرّ کرنے والے کو ظاہر و باطن میں تجلیاتِ ذات کا ایسے مشاہدہ حاصل ہوتا ہے جس طرح بارانِ رحمت برستی ہے۔ جب ان چاروں اذکار کا مجموعہ ایک ہی بار کھلتا ہے تو ذاکر عارف باللہ اور عاجز فقیر بن جاتا ہے۔ 
بیت:

خاکساران جہاں را بہ حقارت منگر
تو چہ دانی کہ دریں گرد سواری باشد

ترجمہ: تو عاجز لوگوں کو حقارت کی نظر سے مت دیکھ۔ تو کیا جانے کہ اس گرد میں ہی سوار چھپا ہوتا ہے۔

جوابِ مصنف:

خاکسارم جان سپارم باخدا
عارفانی غرق فی اللہ باخدا 

ترجمہ: میں عاجز اور اللہ پر جان فدا کرنے والا ہوں کیونکہ میں اللہ کی ذات میں غرق فنا فی اللہ عارف ہوں۔

فنا فی اللہ اسے کہتے ہیں جو وحدانیت ِ حق میں اس طرح غرق ہو جس طرح انگارہ آگ میں، نمک کھانے میں اور پانی دودھ میں شامل ہوتا ہے۔ یہ نفس پر غالب، روشن ضمیر اور فنا فی اللہ فقیر کے مراتب ہیں۔ پس تو جان لے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معرفت و توحید کی دوستی کی بنا پر فقر کو عزیز رکھتے تھے اور اسی لیے فقر کے متعلق فرمایا:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ   
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

اور پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقرا کو عزت دیتے ہوئے فرمایا:
سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادَمُ الْفُقَرَآئِ 
ترجمہ: قوم کا سردار فقرا کا خادم ہوتا ہے۔

لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقر کو اس لیے عزت دے کر اپنا فخر قرار دیا کہ فقر کے سر پر اللہ کا نام ہے یعنی فقر اللہ سے ہے۔ فقر کا دشمن تین چیزوں سے خالی نہ ہوگا یا وہ حاسد ہوگا یا منافق یا نفس سے مغلوب غیبت کرنے والا۔ اور فرمایا گیا:
اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزَّنَآئِ 
ترجمہ: غیبت زنا سے بھی بدتر ہے۔

پس معلوم ہوا کہ فقر آئینے کی مثل روشن ہوتا ہے جو پاکیزہ باطن دکھاتا ہے۔ جو اس آئینہ میں دیکھتا ہے تو اس کا جو بھی حال ہو اس میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ ہر کوئی اپنے احوال پر فخر کرتا ہے۔ کوئی کلامِ الٰہی کے علم کا حامل ہوتا ہے اور کوئی قرب و وِصال اور معرفتِ  اِلَّا اللّٰہُ  کے مرتبہ کا حامل ہوتا ہے۔ کلامِ الٰہی کے علم سے ہی وصال حاصل ہوتا ہے اور کلامِ الٰہی کے اس علم اور فقر کے بغیر وصال محض جہالت ہے اور جاہل ہمیشہ زوال کا شکار رہتا ہے۔ یقینا ایسا ہی ہے کیونکہ کلامِ الٰہی کے علم کا حامل عالم اس علم پر ناز کرتا ہے جبکہ صاحبِ  وصال فقیر تصور اسمِ اللہ  ذات کی تلوار سے نفس کو قتل کرتا ہے اور اس پر نازاں ہوتا ہے۔ اے عالم! اس علم سے معرفتِ الٰہی طلب کر اور تکبر اور خواہشاتِ نفسانی پر مغرور نہ ہو کیونکہ ہر علم کی انتہا معرفتِ الٰہی اور حضوری میں استغراق ہے۔ علما کی زبان لمبی ہوتی ہے (یعنی وہ بہت زیادہ بولتے ہیں) اور اس کے مراتب قال کے ہوتے ہیں جبکہ فقیر خاموش رہتے ہیں وہ مراتب ِ کُل پر ہوتے ہیںجیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
مَنْ لَہُ الْمَوْلٰی فَلَہُ الْکُلُّ 
ترجمہ: جسے اللہ مل گیا اسے کلُ (سب کچھ) مل گیا۔

جب قلب ذکرِ اللہ کی بدولت اللہ کا نام یَا اَللّٰہ  پکارتا ہے تو اسے گویائی عطا ہوتی ہے اور اس کی ظاہری زبان گفتگو سے باز رہتی ہے جس کے بعد عارف باللہ مراقبہ کے استغراق میں حق تعالیٰ سے ایک ہی لمحہ میں الہام مذکور پاتا ہے۔ جو ہر لمحہ اللہ کے ساتھ محو ِگفتگو رہے وہ خواہشاتِ نفس سے گفتگو نہیں کرتا بلکہ اس کے لب خاموش رہتے ہیں۔ عارف خاموش رہتے ہیں اور خاموشی میں ستر ہزار حکمتیں ہیں اور ہر حکمت میں مزید ستر ہزار حکمتیں ہیں اور حکمت معرفتِ  اِلَّا اللّٰہُ اور حکمِ  الٰہی کو کہتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
لَا تُکَلِّمُ کَلَامَ الْحِکْمَۃِ عِنْدَ الْجُھَالِ 
ترجمہ: جاہلوں کے سامنے حکمت کی بات بیان نہ کرو۔
مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانُہٗ 
ترجمہ: جس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا یقینا اس کی زبان گونگی ہو گئی۔

بعض مردہ دل والوں کی خاموشی مکر و فریب اور تقلید کی غرض سے ہوتی ہے اور بعض کی خاموشی معرفتِ  اِلَّا اللّٰہُاور توحید کی بدولت ہوتی ہے۔ توحید و تقلید کی حقیقت کو گفتگو، عقل و بینائی، سمجھداری، پاکیزگی اور صحبت کی تاثیر سے معلوم کرنا چاہیے۔ جان لو کہ بعض عارف دنیا سے مفلس اور دین سے غنی ہوتے ہیں اور ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہتے ہیں۔ وہ بظاہر مخلوق کے سامنے گداگر اور مفلس ہوتے ہیں لیکن باطن میں اللہ کے ساتھ (مشغول) ہوتے ہیں۔ اس طرح دودھ سے دہی جمائی جاتی ہے اور جب دہی کو بلویا جاتا ہے تو مکھن نکلتا ہے اور اگر اس مکھن کو دہی یا دودھ میں ڈالا جائے تو وہ اس میں حل نہیں ہوتا۔ پس اہلِ محبت اہلِ اللہ دنیا میں اسی طرح ہوتے ہیں۔ فَھِمَ مَنْ فَھِمَ۔

جان لو کہ صاحبِ مراقبہ کو مراقبہ سے دائمی حضوری کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ مراقبہ کسے کہتے ہیں؟ مراقبہ میں ہدایتِ  الٰہی، صراطِ مستقیم اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدیم باطنی راہ کے عظیم مراتب ہیں۔ صاحب ِ مراقبہ کا مراقبہ تب تک درست نہیں ہوتا جب تک تصور اسمِ اللہ  ذات سے نہ کیا جائے۔ مراقبہ وصال کے خاص الخاص درجات کی بنیاد ہے۔ مراقبہ اگر اسمِ  ذات کے ذکر، فکر اور تسبیح سے کیا جائے تب درست ہوتا ہے۔ صاحبِ مراقبہ باطن یا نیند یا مشاہدہ میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ معرفتِ ا لٰہی سے متعلق ہے جو اسے مجلسِ محمدی کی حضوری میں لے جاتا ہے جہاں وہ انبیا اور اولیا سے ملاقات کرتا ہے۔ جسے مراقبہ سے یہ دو مراتب گواہ کے طور پر حاصل نہ ہوں اس کا مراقبہ غلط ہے اور وہ اس مراقبہ سے کوئی راستہ نہیں پاتا۔ مراقبہ نفس، شیطان اور خطراتِ دنیا کی پریشانی سے حفاظت اور نگہبانی کرتا ہے اور ہر منزل و مقام درجہ بدرجہ طے کروا کر معرفتِ  اِلَّا اللّٰہُ  میں غرق کر دیتا ہے اور مجلسِ  محمدی کی حضوری عطا کرتا ہے۔ لہٰذا وہ صاحبِ مراقبہ طریقِ تحقیق سے جس وقت چاہتا ہے حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔ عارف باللہ کا مراقبہ کامل اور اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔ ایسے آباد باطن پر اسے مبارکباد۔

جان لو کہ تین چیزیں پوشیدہ نہیں رہتیں اگرچہ انہیں ہزاروں پردوں میں لپیٹ دیا جائے اوّل آفتاب، دوم مشک و عطر کی طرح معطر دینِ محمدی، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، سوم معرفتِ  اِلَّا اللّٰہُ کا حامل عارف باللہ۔ جا ن لو کہ جو شخص خواب یا مراقبہ میں جنت میں داخل ہو اور جنت کا کھانا کھائے اور جنت کی نہر کا پانی پئے اور حور و قصور کا نظارہ دیکھے تو جیسے ہی وہ خواب یا مراقبہ سے باہر آتا ہے تو اسے تمام عمر کھانے اور پینے کی حاجت نہیں رہتی۔ بھوک اور پیاس کا احساس اس کے وجود سے ختم ہو جاتا ہے اور اس کی آنکھوں کو زندگی بھر نیند نہیں آتی اگرچہ وہ ظاہری طور پر سوتا ہوا نظر آئے اور وہ ایک ہی وضو سے تمام عمر گزار دیتا ہے۔ اس کے وجود میں اس قدر قوت و توفیق پیدا ہوتی ہے کہ رات دن اس کا سر سجدہ سے فارغ نہیں رہتا اور وہ روز بروز طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ بظاہر وہ جو کچھ کھاتا پیتا ہے محض مخلوق کی ملامت سے بچنے اور ان سے پوشیدہ رہنے کی غرض سے۔ موسمِ  گرما اور موسمِ سرما اس کے لیے برابر ہو جاتے ہیں اور گرمی و سردی اسے کچھ مزہ نہیں دیتیں۔ یہ بھی خام اور ناقص درویش کے مراتب ہیں۔ فقیر کو ان مراتب سے شرم اور حیا آتی ہے اور یہ مراتب فقرِ محمدیؐ سے بہت دور ہیں کیونکہ ان کا تعلق خواہشِ نفس سے ہے۔ اس مرتبہ کی انتہا یہ ہے کہ طالب مراقبہ یا خواب میں لقائے ربّ العالمین سے مشرف ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر اس (ذات کے دیدار) کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اس کے وجود میں معرفت ِ توحید، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور طلب ِ محبت سے اس قدر آگ پیدا ہوتی ہے کہ اس کی جلالیت و غضب کے باعث وہ رات دن عبادت کے ذریعے نفس پر قہر برسانے میں مشغول رہتا ہے۔ وجود پر شریعت کا لبادہ اوڑھتا ہے اور ہمیشہ شریعت کی پیروی کرتا ہے اور کہتا ہے:
تَفَکَّرُوْا فِیْ نَعْمَآئِہٖ وَ لَا تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ 
ترجمہ: اس (اللہ) کی نعمتوں میں تفکر کرو اس کی ذات میں تفکر نہ کرو۔

اللہ کی معرفت اور توحید نعمت عظمیٰ ہے۔ صادق طالبِ مولیٰ اللہ کے جسم اور جوہر میں فکر نہیں کرتا کیونکہ وہ ذات بے مثل و بے مثال ہے۔ فقیر کا وجود تنور کی مثل ہے جس میں ذکر کی آگ سے اس کے اعضا اس طرح جلتے ہیں جس طرح آگ خشک لکڑی کو جلاتی ہے اور اگر وہ اس آتشِ جلالیت کا ایک ذرہ بھی زمین و آسمان پر ڈال دے تو ہر شے راکھ ہو جائے۔ اس وجود پر آفرین ہے جو جلتا ہے لیکن پھر بھی دم نہیں مارتا اور نہ ہی اس آتش سے روزِ قیامت تک خلاصی پاتا ہے۔ اس ریاضت سے کوئی بھی ریاضت سخت نہیں۔ ان مراتب پر پہنچ کر بعض لوگ کافر و مشرک ہو جاتے ہیں اور بعض دیوانے اور مجنوں اور بعض مجذوب ہو جاتے ہیں۔ اور جو یہ بار برداشت کرتا اور شریعت میں باخبر اور ہوشیار رہتا ہے وہ مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ ہزاروں ہزار مجذوب اس آتش میں جل کر راکھ ہو گئے۔ ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی ایسا ہوتا ہے جو رحمت کے پانی سے اس آگ کو بجھاتا ہے اور معرفتِ الٰہی حاصل کر کے محبوبیت کے مراتب پر پہنچ جاتا ہے۔ میرا یہ قول میرے حال کے مطابق ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ کیا تو جانتا ہے کہ زمین و آسمان کے تمام طبقات بغیر ستون کے محض اسمِ  اللہ ذات کے ادب سے کھڑے ہیں اور تاقیامت اسمِ اللہ  ذات کی طرف ہی متوجہ رہیں گے اور زمین و آسمان میں موجود ہر شے اسمِ اللہ ذات کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ج وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔  (سورۃ حدید۔1)
ترجمہ: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ہر شے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور وہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا۔  (سورۃ الاحزاب۔72)
ترجمہ: بیشک ہم نے اپنی امانت آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی لیکن سب اس کا بارِ گراں اٹھانے سے خوفزدہ ہو گئے لیکن انسان نے اس (بارِ گراں) کو اٹھا لیا بے شک وہ ظالم اور نادان ہے۔

 بیت:

اسم اللہ بس گرانست بس عظیم
ایں حقیقت یافتہ نبیؐ کریم

ترجمہ: اسمِ اللہ ذات نہایت بھاری اور عظیم امانت ہے۔ اس کی حقیقت صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جانتے ہیں۔

 (جاری ہے)

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں