حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِخلافت کی مشکلات Hazrat Ali r.a kay Dor-e-Khilafat ki Mushkilat


4.7/5 - (80 votes)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کے دورِخلافت کی مشکلات

 Hazrat Ali r.a kay Dor-e-Khilafat ki Mushkilat

قسط 6                                                               تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

خطرناک سازش اور اس کا مقصد

حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں پیش آنے والی مشکلات کو سمجھنے کے لئے اس سازش کو سمجھنا ضروری ہے جو حضرت عثمانؓ کے خلاف ہوئی۔ کیونکہ جن سازشیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا وہی سازشی حضرت علیؓ کے خلاف چھپ کر برسرِپیکار رہے۔ سامنے چہرے اور تھے لیکن پسِ پردہ سازشی وہی تھے۔ وہی سازشی جتن کرتے رہے تھے کہ اُمتِ مسلمہ میں تفرقہ پڑے اور یہ آپس میں جھگڑتے رہیں تاکہ طاقت کا مرکز سازشی بن جائیں۔ اس ضمن میں کچھ واقعات بیان کئے جا رہے ہیں تا کہ سمجھا جا سکے کہ سازشی خلافت کے نظام کو کس طرح نقصان پہنچا رہے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ جو حکم دیتے اس پر عمل درآمد نہ کیا جاتا بلکہ حضرت عثمانؓ کو بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا۔ سازشی امورِ خلافت میں اس قدر مداخلت کرنے لگے تھے کہ وہ حضرت عثمانؓ کی جانب سے پوری سلطنت میں جھوٹے احکام بھیجتے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کو بھی پتا نہ لگنے دیا جاتا۔ اگر پتا چل بھی جاتا تو حضرت عثمانؓ کچھ نہ کر پاتے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اتنے اہم عہدوں پر آ چکے تھے کہ ان کو کچھ کہا نہ جا سکتاتھا اور یہی وجہ بنی حضرت عثمانؓ کی شہادت کی۔ 

موجودہ دور میں اگر آپ نے اس طاقت کو سمجھنا ہو تو پوری دنیا میں اس کو  Deep State  کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ خفیہ طرزِ حکومت ہوتا ہے جو طاقت کے بل بوتے پر جب اپنے مقاصد کے لیے حرکت میں آتا ہے تو قانون کے دائرے سے منزہ و مبرا ہو جاتا ہے۔ نہ صرف یہ قانون کی گرفت سے باہر ہوتا ہے بلکہ حکومتی مشینری کی پہنچ سے بھی دور ہوتا ہے۔ اس کے لئے مختلف نام ہیں جیسے Deep State, Shadow Government اور  State within State۔

یہ عموماً کسی ملک کی آرمڈ فورسز، انٹیلی جنس، پولیس اور بیوروکریسی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ملکی حالات کے مطابق ان اداروں میں سے کوئی ایک بھی ہو سکتا ہے اور سب کا مجموعہ بھی ہو سکتا ہے۔ طاقت کے خفیہ استعمال کا یہ طریقہ سب سے پہلے ترکوں نے دریافت کیا۔ وہاں کے لیڈر حیران و پریشان تھے کہ وہ احکامات کچھ دیتے ہیں لیکن ہوتا کچھ اور ہے اور ان کے احکامات بدل دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے چھپی ہوئی طاقت کو ’’دریں دولت‘‘ کا نام دیا۔ 

اس ضمن میں کچھ واقعات بیان کئے جا رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کا آخری دور اِسی طرح کی مشکلات سے دوچار تھا:
(۱)  باغی جب تیسری بار حضرت عثمانؓ کو قتل کرنے کی نیت سے مدینہ میں داخل ہوئے تو ان کے پاس ایک خط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خط حضرت عثمانؓ کی طرف سے ہمارے خلاف لکھا گیا کہ مصر پہنچتے ہی ہمیں قتل کر دیا جائے یا دوسری سزائیں دی جائیں۔ خط لے جانے والا حضرت عثمانؓ کا خادم تھا اور وہ حضرت عثمانؓ کی اونٹنی پر سوار تھا۔ ان باغیوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے خط برآمد ہوا جس پر حضرت عثمانؓ کی مہر ثبت تھی۔ ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
قاصد حضرت عثمانؓ کا غلام تھا اور انہی کے اونٹ پر سوار تھا اور یہ لوگ وہ خط اپنے ساتھ لئے ہوئے تھے اور لوگوں میں گھوم پھر کر اسے دکھا رہے تھے۔ اہلِ مدینہ نے اس خط کے بارے میں حضرت عثمانؓ سے گفتگو کی تو آپؓ نے فرمایا ’’اس خط پر گواہی پیش کرو، اللہ کی قسم! یہ خط نہ میں نے خود لکھا نہ لکھوایا اور نہ میں جانتا ہوں کہ یہ کس کی طرف سے ہے۔ اور رہی مہر تو وہ جعلی بھی بنائی جا سکتی ہے۔‘‘ پس صادقین نے آپ کی بات کی تصدیق کی اور کاذبین نے جھٹلایا۔ (تاریخ ابنِ کثیر) 

طبری اس کے متعلق لکھتے ہیں:
جب یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور پوچھا:
’’یہ غلام آپ کا ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا ’’یہ غلام میرے علم کے بغیر چلا گیا تھا۔‘‘
وہ بولے ’’یہ آپ کا اونٹ ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا ’’یہ اسے میرے علم کے بغیر میرے گھر سے لے گیا تھا۔‘‘
وہ بولے ’’یہ آپ کی مہر ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا ’’کسی دوسرے نے لگا دی ہو گی۔‘‘ (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اوّل، ص 420-421)
کیا کوئی ذی عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ جہاں ایسا معاملہ درپیش ہو کہ پوری سلطنت میں بغاوت کا خدشہ ہو، کیاوہاں کوئی اونٹ پر ایسا اہم پیغام دے کر کسی کو بھیجے گا یا تیز رفتار گھوڑے پر۔۔۔؟

پھر دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ اپنا اونٹ کیونکر بھیجتے جبکہ وہ جانتے تھے کہ اہلِ مصر اسی راستے سے واپس جا رہے ہیں۔ اگر خط دے کر بھیجنا مقصود ہوتا تو اپنا اونٹ ہرگز نہ بھیجتے کہ باغی دور سے ہی پہچان جائیں کیونکہ اس وقت صرف آپؓ کے پاس ایک اونٹ تھا جو آپؓ نے حج کرنے کے لئے رکھا ہوا تھا۔ 

تیسری بات یہ ہے کہ اگر بھیجنا ہوتا تو اسی راستے پر نہ بھیجتے بلکہ علیحدہ راہ اختیار کرنے کا حکم فرماتے۔
چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اپنے غلام کو کیوں بھیجتے کہ اہلِ مصر دیکھتے ہی پہچان گئے کہ حضرت عثمانؓ کا غلام ہے۔ اگر خط بھیجنا ہی ہوتا تو کسی اور کو بھیجتے کہ باغیوں کو بھی شک نہ ہوتا۔
اگر ان سارے حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ آپؓ کو پھنسایا گیا جسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ یہ سارا کچھ Frame کیا گیاتھا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سازشی نظامِ خلافت کے اندر اتنا گھس چکے تھے کہ آپؓ کے غلاموں، سواریوں اور مہروں کو بغیر اجازت اور بغیر خبر ہوئے استعمال کر رہے تھے۔ 

(۲) سازشی اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو حضرت علیؓ سے دور رکھا جائے کیونکہ حضرت علیؓ کے مخلصانہ اور حکمت پر مبنی مشوروں پر عمل کرنے سے خلافت مضبوط ہوتی اور وہ اپنے مذموم ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف چالیں چلیں۔  طبری لکھتے ہے:
حضرت علیؓ نے حضرت عبدالرحمن بن اسود سے فرمایا کہ کل حضرت عثمانؓ میرے پاس آئے تھے اور وہ کہتے تھے کہ میں دوبارہ یہ عمل نہ دہراؤں گا اور آپ کے مشورے پر عمل کروں گا۔ 

میں نے کہا کہ آپؓ نے منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر تقریر فرمائی تھی اور وعدہ کر لیا تھا پھر جب آپؓ گھر چلے گئے تو مروان نے آپ ہی کے دروازے سے نکل کر لوگوں کو گالیاں دیں اور انہیں تکلیف پہنچائی۔ (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اول، ص 416)
حضرت علیؓ نے فرمایا ’’مروان نے حضرت عثمانؓ کو اپنے ارادے سے باز رکھا۔‘‘ (تاریخ طبری) 

یہاں تک کہ حضرت نائلہؓ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا:
لوگوں نے مروان کی وجہ سے آپ کو چھوڑ رکھا ہے لہٰذا آپ حضرت علیؓ کو بلا لیں۔ (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اول، ص 414)

(۳)  حضرت عثمانؓ نہایت نرم دل اور معاف فرمانے والے تھے۔ سازشیوں نے آپؓ کی ان صفات سے فائدہ اٹھایا۔ سب سے پہلے جس لعین نے آپؓ سے گستاخی کی اس کا نام جبلہ بن عمرو ساعدی تھا۔ آپؓ نہایت فراخ دل تھے۔ اس لعین نے بھرے بازار میں آپؓ سے گستاخی کی مگر آپؓ نے اسے کوئی سزا نہ دی اور نہ ہی کسی اورکو اجازت دی کہ اس کے خلاف کاروائی کرے۔ اس کے بعد سازشی اور باغی مزید دلیر ہو گئے۔ آپ ہر معاملہ میں جو آپؓ کی ذات سے متعلق تھا لوگوں کو معاف کرتے گئے یہاں تک کہ آپؓ کو شہید کر دیا گیا۔ 

(۴) حضرت عثمانؓ اُمت کے مابین جنگ و جدل اور خونریزی کے سخت خلاف تھے۔ سازشیوں نے جب دیکھا کہ حضرت عثمانؓ تو ان کی تمام حرکتوں اور گستاخیوں کے باوجود لڑائی کی طرف بھی نہیں آ رہے تو انہوں نے مختلف حیلے بہانے سے سازش کر کے لڑائی کا آغاز حضرت عثمانؓ کی طرف سے کرایا جو آخر کار شہادتِ عثمانؓ تک جا پہنچا۔ اس سلسلے میں طبری لکھتے ہیں:
ابوحفصہ یمانی کا بیان ہے ’’میں ایک صحرا نشین عرب کا غلام تھا۔ مروان نے مجھے پسند کیا اس لئے اس نے مجھے، میری بیوی اور لڑکے کو خرید لیا اور ہم سب کو آزاد کر دیا اور میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ جب حضرت عثمانؓ محصور ہو گئے تو بنو اُمیہ ان کی حفاظت پر مامور تھے اور مروان ان کے گھر رہنے لگے تھے۔ میں بھی مروان کے ساتھ تھا۔ فریقین میں میں نے ہی جنگ کو بھڑکایا تھا اور قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو گھر کی چھت سے نشانہ بناکر قتل کر دیا تھا۔ اسکا نام نیاراسلمی تھا۔ اس وجہ سے جنگ چھڑ گئی۔‘‘ (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اوّل، ص 435)

(۵) اس امر سے بھی سازش کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے محاصرے کو (سیف کی روایت کے مطابق حضرت عثمانؓ کا محاصرہ 40 دن رہا اور باغیوں کا قیام 70 دن رہا) جب اٹھارہ دن گزر گئے تو دوسرے شہروں سے مسافر آئے اور انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک سے امدادی فوجیں آ رہی ہیں جن میں حضرت حبیبؓ، حضرت معاویہؓ اور حضرت قعقاع ؓامدادی فوج لا رہے ہیں۔ 

لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ وہ فوجی امداد کبھی نہ آ سکی۔ اہلِ مدینہ صرف منتظر ہی رہے اور حضرت عثمانؓ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اس سلسلے میں طبری لکھتے ہیں:
جب حضرت عثمانؓ نے یہ حالات دیکھے کہ لوگ ان کے خلاف ہو گئے ہیں تو انہوں نے حضرت امیر معاویہؓ کو شام میں خط لکھ کر بھیجا۔
جب حضرت امیر معاویہ کے پاس یہ خط پہنچا تو وہ حالات (مناسب وقت) کا انتظار کرتے رہے۔ (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اول، ص 423) 

ڈاکٹر طٰہٰ حسین لکھتے ہیں:
باغیوں نے حضرت عثمانؓ کا گھیراؤ کر رکھا تھا تو امیر معاویہؓ نہ تو فوری طور پر مدد کو پہنچے اور نہ ہی کوئی دستہ روانہ کیا۔ (سیدّنا حضرت علی المرتضیٰؓ)
اس وقت حضرت عثمانؓ نے باقی گورنروں اور عاملوں کو بھی خط لکھے کہ مدد بھیجیں لیکن وہ مدد نہ آئی۔ اس کے متعلق مختلف روایات ہیں کہ فلاں مدد فلاں جگہ پہنچ چکی تھی یا مدینے کے قریب تھی۔ بہرحال اس پر سب مشہور مؤرخ متفق ہیں کہ کوئی مدد مدینہ تک نہ پہنچ سکی۔ 

ڈاکٹر طٰہٰ حسین لکھتے ہیں:
حضرت عثمانؓ نے مختلف گورنروں سے مدد مانگی۔ امیر ِشام کو بھی خط لکھا مگر انہوں نے دوسروں کی طرح تجاہل سے کام لیا اور اس قدر تاخیر کر دی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا۔ (سیدّنا حضرت علی المرتضیٰؓ)

(۶) سازش اس قدر سنگین ہو گئی تھی کہ باغی کھلے عام حضرت عثمانؓ سے خلافت چھوڑنے کا مطالبہ کرتے تھے جبکہ پہلے کسی خلیفہ کے دور میں ایسا نہ ہوا۔ باغیوں نے حضرت عثمانؓ سے کہا:
’’آپ خلیفہ بننے کے مستحق نہیں ہیں اس لئے آپ اس سے دستبردار ہو جائیں۔‘‘ (تاریخ طبری)
حضرت عثمانؓ خلافت نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپؓ سے فرمایا تھا کہ خلافت سے آپؓ دستبردار نہیں ہوں گے۔ اس سلسلے میں مسند احمد میں روایت موجودہے:
سیدّنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ سیدّہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیدّنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ کی طرف پیغام بھیجا۔ جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اس حالت میں دیکھا تو ہم ایک طرف جا کر جمع ہوگئیں تاکہ آپ آزادی سے گفتگو کرسکیں۔ بات چیت ہوتی رہی، آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ ما ر کر فرمایا ’’عثمانؓ! امید ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین تم سے اس قمیض کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو مجھے ملنے تک اس قمیض کو نہ اتارنا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔ (مسند احمد 25073)

ابنِ سعد لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا:
اللہ تعالیٰ ایک روز تمہیں ایک کرتہ پہنائے گا، اگر منافقین تم سے اسے اتروانا چاہیں تو تم اسے کسی ظالم کے لئے نہ اتارنا۔ (طبقات ابن سعد، جلد دوم، حصہ سوم، ص 139) 

۷۔ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخری چند سالوں میں فتنہ عروج پر تھا۔ اپنی کتاب میں محمد رضا مصری لکھتے ہیں:
کوفہ میں فتنہ نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ لوگ اپنی مجالس میں بیٹھ کر حضرت عثمانؓ اور سعید (گورنرِ کوفہ) کو (معاذاللہ) گالیاں دیتے۔ لوگ اس کے لیے بکثرت جمع ہونے لگے۔ سعید اور شرفائے کوفہ نے یہ صورتحال لکھ کر حضرت عثمانؓ سے درخواست کی کہ ان کو یہاں سے نکال دیجئیے۔ (عثمانؓ بن عفان)

(جاری ہے)

استفادہ کتب:
۱۔ تاریخ طبری، مصنف:علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری، ناشر نفیس اکیڈمی کراچی
۲۔ طبقات ابنِ سعد، مصنف: محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی
۳۔سیدّنا حضرت علی المرتضیٰؓ ،مصنف طٰہٰ حسین
۴۔ عثمانؓ ابنِ عفان، مصنف: محمد رضا مصری 

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں