غیبت|Gebat

غیبت

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری۔ لاہور

اُردو لغت میں غیبت کے معنی ہیں کسی شخص یا اشخاص کی غیر موجودگی میں اس کی بدگوئی کرنا یا عیوب کا بیان یا پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا۔
علم الاخلاق کی رو سے غیبت کی تعریف یہ ہے کہ اپنے دینی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی کی جائے اگرچہ وہ نقص اس میں ہو یا اس کے بدن میں ہو، اس کی صفات، افعال اور اقوال میں وہ بات پائی جائے یا کوئی بھی چیز جو اس سے متعلق ہو مثلاً گھر، لباس وغیرہ

غیبت کی اقسام

غیبت کی چند اقسام ہیں:
بلاواسطہ غیبت:
بلاواسطہ لکھنا، کہنا، ہاتھ یا پاؤں کے اشارے سے غیبت کرنا، کسی کو حقیر جاننا، کسی نقص کی وجہ سے اشاروں کنایوں میں بُرا سمجھنا یا کہنا اس کا قد چھوٹا ہے وغیرہ کہنا بھی غیبت ہے۔ 

بالواسطہ غیبت:
کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی بات کا جھوٹا مطلب بیان کیا جائے اور یہ ایسا گناہ ہے جسے تہمت کہا جاتا ہے۔

غیبت اور جھوٹ کا امتزاج:
دوسروں کی خوبی اور کمال کو بیان کرنا غیبت نہیں اور یہ کہ یہ بات میں اس کے سامنے بھی کہوں گا‘ غیبت کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ یہ غیبت ہی شمار ہوگا۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور قرآنِ مجید میں اس گناہ کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے اور روایات میں اس برائی کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
الغیبۃ اشد من الزنآء ۔
ترجمہ: غیبت زنا سے بھی شدید ہے۔
غیبت کرنا اور سننا دونوں حرام ہیں:
غیبت کا مرتکب ہونے کے علاوہ اس کا سننا بھی حرام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًاط اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابُ الرَّحِیْم ۔ (سورۃ الحجرات۔ 12 )
ترجمہ: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

غیبت کی تعریف بارگاہِ رسالت مآب ؐ سے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ غیبت کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب عنایت فرمایا! اپنے بھائی کا ایساذکر جو اسے ناپسند ہو۔ پوچھا گیا اگر وہ عیب اس میں فی الواقع موجود ہو تب بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب عنایت فرمایا کہ جو عیب تم نے بیان کیا ہے اگر وہ اس میں موجود ہے تب ہی تو یہ غیبت ہے ورنہ تو تم نے یہ بہتان باندھا۔ (صحیح مسلم جلد سوئم)
لہٰذا واضح ہو اکہ:
غیبت وہ فعل، اشارہ، کنایہ ہے جس میں کسی متعین شخص، گروہ، مذہب، افراد، معاشرہ یا غائب شخص میں موجود عیوب کو دوسروں کے سامنے تحقیر و تذلیل کی نیت سے بیان کیا جائے اور اگر اس کا علم اس غائب شخص کو ہو تو اسے تکلیف پہنچے اور اس کی دل آزاری ہو۔
ایک دوسرے مقام پر حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم بدگمانی سے بچو۔ اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ ہی کسی کے عیبوں کو تلاش کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو، نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے (فرمانبردار) بندے بن کر رہو اور آپس میں بھائی بن کر رہو۔‘‘ (صحیح بخاری جلد سوئم حدیث نمبر۔1022)
غیبت کے بیان میں حدیثِ مبارکہ میں عیب ٹٹولنے والوں اور غیبت بیان کرنے والوں کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا گیا ہے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’لوگوں کی زبانیں تو ایمان لا چکی ہیں لیکن دل نہیں۔ تم مسلمان بھائیوں کی غیبت چھوڑ دو اور ان کے عیب نہ ڈھونڈو۔ یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ برائیوں اور عیبوں کو ظاہر کر دے گا اور یہاں تک کہ تم اپنے گھر والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے۔‘‘ (بحوالہ سنن ابو داؤد،کتاب الادب)
مستورد بن شداد بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کا نوالہ کھایا اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اسے اس کی مثل جہنم کا نوالہ کھلائے گا۔(بحوالہ سنن ابو داؤد جلد سوئم)

حرمتِ عزت و ناموس
اسلام کااندازِ تربیت بہت اعلیٰ اور منفرد ہے جس طرح کسی کی جان و مال کو نقصان پہنچانا حرام اور قابلِ تعزیر جرم ہے اسی طرح اسلام میں کسی کی عزت و آبرو، ناموس کو نقصان پہنچانا بھی حرام ہے۔ اسلام کسی عالی نسب سے لیکر غلام تک اور مرد سے لیکر بچے تک، عورت ہو یا کوئی بھی ذی روح‘ سب کی ناموس کی حفاظت کا ضامن ہے اور کسی بھی طریق پر کسی کو بھی نقصان پہنچانے سے روکتا ہے اور آزادی تحریر کے نام پر یا آزادی صحافت کے نام پر یا تقریر کے نام پر یا آزادی خیال کے نام پر کسی کی عزت و آبرو، ناموس کو نقصان پہنچانا حرام قرار دیتا ہے۔
غیبت کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و ناموس پر خفیہ حملہ ہے جس کا مقصد کسی مخصوص شخص کی عز ت و ناموس کو نقصان پہنچانا اور اس کی تحقیر کرنا مقصود ہے اس بنا پر یہ ایک حرام فعل اور کبیرہ گناہ ہے۔
لوگوں کی برائیاں بیان کرنے والوں اور ان کی ناموس، عزت اور آبرو لوٹنے والوں کی ایک عبرت ناک تصویر حدیثِ مبارکہ کی اس روایت میں پیش کی گئی ہے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ ربّ العالمین جل شانہٗ نے مجھے معراج کی شب عالمِ بالا میں بلایا تو میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں کو نوچ رہے تھے۔ ان کی اس حالتِ زار کو دیکھ کر میں نے جبرائیل امین ؑ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! یہ وہ لوگ ہیں جو لوگ اپنے بھائیوں کا گوشت کھاتے تھے یعنی اپنے مسلمان بھائیوں یا لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو اور ناموس کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔‘‘ (بحوالہ ابوداؤد)
غیبت کو قرآنِ مجید میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور اسے ایک قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے۔ غیبت اپنے بھائی کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا نام ہے۔ جبکہ ناموس کو نقصان پہنچانے پر بڑی سخت تنبیہ کی گئی ہے جو اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہے۔
حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا!
جو کوئی کسی مسلمان کی آبرو اور ناموس کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس پر اللہ جل شانہٗ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی فرض اور نفلی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ ( بحوالہ صحیح بخاری جلد دوم صفحہ نمبر44)
غیبت میں بیان کردہ عمومی امور:
غیبت میں عمومی طور پر بیان کئے جانے والے امور کچھ اسطرح کے ہوتے ہیں۔
1 ۔ جسمانی برائی مثلاً کالی رنگت، پست قامت، بدصورتی، گنجا پن، ناک کی ساخت، یا کوئی جسمانی معذوری کا تمسخر کیا جائے۔
2 ۔ حرکا ت و سکنات کی برائی،چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے یا بولنے کے انداز کو بیان کرنا کہ وہ تو بندر کی طرح دوڑتا ہے وغیرہ کہنا۔
3 ۔ کسی شخص کے متعلقات کی برائی مثلاً رہن سہن، مکان، لباس ، گھر کی اشیا ، اولاد، بیوی یا شوہر کا تمسخر اڑانا۔
4 ۔ کسی کے عادات و اطوار پر بے جا تنقید برائے تنقید مثلاً فضول خرچ، کنجوس، یا متکبرانہ رویہ بدتمیزی و بدگوئی وغیرہ۔

غیبت کے اسباب و محرکات کیا ہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیبت اتنی عام کیوں ہے؟ اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ اس کی پہلی وجہ تویہ ہے کہ کسی کی برائی ہم اس کے منہ پر بیان کرنے کی جرأت نہیں رکھتے لہٰذا موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کس طرح اس کی غیر موجودگی میں اس کے عیوب اور خامیاں بیان کی جائیں۔ اور اس کی دوسری وجہ کہ ہم کسی شخص کو یا اپنے بھائی کو دوسروں کی نظروں میں حقیر پیش کر کے گرانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے حسد کے جذبہ کی تسکین کی جاسکے۔ اور اس سے محض لذت کا حصول بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ہم بلا وجہ اپنے بھائی کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ذیل میں غیبت کے چند اسباب بیان کئے جا رہے ہیں:
1 ۔ حسد: کسی کے مال و دولت، ترقی، عہدہ، مرتبہ سے جل کر حسد کی بنا پر برائی کرنا۔
2 ۔ کینہ و نفرت: کسی کے خلاف دل میں کینہ پیدا ہو جائے اور پھر اس کو دوسروں کی نظروں میں گرا کر انتقام لینا۔
3 ۔ غصہ و جذبات: اپنے غصہ اور جذبات پر قابو نہ ہونا اور دوسروں کی غیبت کرتے جانااور انہیں حقیر بنا کر پیش کرنا۔
4 ۔ منفی اندازِ فکر: دوسروں کے متعلق منفی انداز میں سوچنا اور منفی انداز میں پیش کرنا، منفی اندازِ فکر کو فروغ دینا او ر مثبت رویہ جات کو بھی منفی انداز سے سوچنا اور پیش کرنا اور منفی پہلو سے جانچ پڑتال کرنا۔
5 ۔ دوسروں کی تحقیر: لوگوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا، انہیں کمتر جاننا اور پیش کرنااور ان کی کردار کشی کرنا ۔
6۔ فضول گوئی: بنا سوچے سمجھے اور بلا ضرورت زیادہ بولنے کی عادت، کثرت کلامی کرنا۔
7 ۔ احسا سِ کمتری: احسا سِ کمتری کو مٹانے کے لئے دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش، جستجو اور بُرائیاں بیان کرنا او رکسی طبقے، عالم یا مذہبی شخصیت کی تحقیر کرنا۔
8 ۔ بدگمانی: کسی بدگمانی کی بنا پر بلا سوچے سمجھے کسی شخص یا افراد، فرقہ گروہ، مذہب کی تحقیر اور برائیاں بیان کرنا، عدم واقفیت کی بنا پر بھی ایسا کرنا۔
9 ۔ حصولِ تسکین: اپنے جذبات کی تسکین کے لیے حسد کی بنا پر کسی سے بغض رکھنا اور برا بھلا کہنا۔ عدم واقفیت کی بنا پر اپنی تسکین جذبات کے لئے عادتاً برا بھلا کہنا۔
10۔ مخاطب کی خوشامد: اپنے سے بڑے افسر یا کسی بھی بڑی شخصیت کے قرب کے حصول کے لئے یا مخاطب کو خوش کرنے کے لئے بلا وجہ دوسروں کے عیب یا برائی یا بُرا بنا کر بیان کرنا ۔
11 ۔ گناہ سے عدم واقفیت: غیبت کو گناہ نہ سمجھنا یا کسی بھی صورت میں کسی پر جھوٹ باندھنا، عیب جوئی کرنا، اختیارات سے تجاوز کرنا۔
12 ۔ غیبت کے مفہوم سے انجان ہونا: غیبت کے مفہوم سے واقفیت حاصل نہ کرنا اور اس کی تعریف سے ناواقف رہنا۔ شرعی علوم اور اخلاقی علوم اور گناہوں کو گناہ نہ سمجھنا یا ان سب باتوں اور اسباب کو اہمیت نہ دینا۔ یہ سب غیبت کے اسباب ہیں اور قبیح افعال میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کو اہمیت نہ دینا او ر اس کی اہمیت کو نہ سمجھنا بھی ایک گناہ ہے۔کیونکہ جرم کو جرم اور گناہ کو گناہ نہ گرادننا بذاتِ خود ایک قبیح فعل ہے۔ اس سے جس قدر ہوسکے بچا جائے۔

غیبت سے بچاؤ یا بچنے کی تدابیر اور طریقے

ذیل میں غیبت سے بچنے کے لئے چند تدابیر کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر اس گناہ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

1 ۔کم گوئی اختیار کرنا:
بولنے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لیا جائے کہ آپ کے پاس اس بُرائی کا جو آپ نے غیبت کی صورت میں کرنی ہے‘ کو بیان کرنے کا کوئی شرعی جواز موجود ہے۔سوچ سمجھ کر گفتگو کی جائے اور ’پہلے تو لو اور پھر بولو‘ کے مقولے پر عمل کیا جائے۔
2۔ دوسروں کے متعلق بات کرنے اور ان کے بارے میں گفتگو کرنے میں احتیاط برتی جائے اور ان کی پردہ پوشی کی جائے اور لوگوں کے بارے مثبت سوچ اپنائی جائے۔ اس کے علاوہ اچھا سوچنے اور اچھا بولنے کی عادت اپنائی جائے۔
3 ۔ نفرت، کینہ، غصہ اور بغض اور دیگر اخلاقی برائیوں کو اپنی شخصیت اور نفسیات کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔
4 ۔ غیبت کا ارتکاب ہو جانے کی صورت میں اس کا فوری مداوا کیا جائے۔ سب سے پہلے تو اس فعل سے توبہ کی جائے اور اگر ممکن ہو تو جس کی غیبت کی گئی ہو اس سے معافی مانگی جائے یا اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔
5 ۔ اپنے لئے خود احتساب کا نظام مرتب کر کے خود پر نافذ العمل کیا جائے مثلاً نوافل ادا کرنا، تو بہ و استغفار کی کثرت اور اسم اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کا خاص اہتمام کیا جائے جو کہ مرشد کامل اکمل کی بارگاہ سے عطا ہوتے ہیں۔
6۔ اولیا اللہ کی صحبت اختیار کی جائے اور مرشد کامل اکمل کی توجہ خاص حاصل کرنے کا انتظام کیا جائے۔
7 ۔غیبت کرنے سے قبل سوچ لیا جائے اور خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر سوچا جائے کہ اگر میری کوئی برائی کوئی دوسرا اس طرح بیان کرے تو کیا مجھے اچھا لگے گا۔
8 ۔ تصور اسم اللہ ذات کو اپنا معمول بنایا جائے اور یہ عزم مصمم کیا جائے کہ غیبت کرنے سے دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ الٹا اپنی نیکیاں دوسروں کے نامہ اعمال میں منتقل ہوتی ہیں۔
9 ۔ کسی کی برائی بیان کرنے سے پہلے سوچ لیا جائے کہ اس کا مقصد جائز بھی ہے یا نہیں۔ کیا نبی کی شریعت میں اس فعل کی اجازت ہے یا نہیں۔ اگر جائز نہیں یا آپ شک و تردد میں پڑے ہیں تو پھر برائی بیان کرنے سے رک جانا چاہئے۔

حاصل تحریر

قرآن و احادیث سے ثابت ہو گیا کہ غیبت گناہِ کبیرہ میں شمار ہو تا ہے اور اسلام میں اس کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے تاہم طالبانِ مولیٰ راہِ فقر پر چلتے ہوئے اس گناہ سے حتی الامکان پرہیز کرتے ہیں کیونکہ معرفتِ الٰہی کے حصول کے بعد وہ حق الیقین سے اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہوتے ہیں کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی رضا اور مرضی کے بغیر نہیں ہلتا اور اللہ ہی ہر امر پر غالب ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی دوسرے انسان کی غیبت اور گلہ گوئی کا مطلب ہے کہ اللہ کی غیبت و گلہ گوئی کی گئی۔ نعوذ باللہ۔ 
اللہ تبارک تعالیٰ کائنات کو چلانے والا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہر فعل اور امر کو اللہ کی طرف سے جانتے اور سمجھتے ہوئے اس میں اصلاح کا پہلو ڈھونڈا جائے۔ اور ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک نفس کا تزکیہ نہ ہو جائے اور نفس کاتزکیہ اسم اللہ ذات کے ذکر و تصور سے ممکن ہے اگر وہ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سے حاصل کیا گیا ہو۔ موجودہ دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تحریک دعوتِ فقر کے پلیٹ فارم سے اسم اللہ ذات کے فیض کو پوری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔ جو فقر کے روح رواں اور فقر کے رازداں ہیں لہٰذا طالبانِ مولیٰ کے لیے لازم ہے کہ ان کی تعلیمات اور تربیت و نگاہ سے فیض حاصل کیا جائے۔
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے اللہ ربّ العزت فقر کی دولت سے نوازے اور غیبت جیسے قبیح فعل سے محفوظ رکھے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں