آدابِ صحبت ِمریدین | Adab e Sohbat e Mureedin

آدابِ صحبت ِمریدین

تحریر: احسن علی سروری قادری

مثل مشہور ہے کہ آد می اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے ۔صحبت انسان کی فطرت پر اثر انداز ہونے والی سب سے قوی اور طاقت ور چیز ہے اور کبھی کبھی یہ اتنی پراثر بھی ہوتی ہے کہ فطرت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیتی ہے۔ جو انسان جس چیز کا طالب ہوتا ہے اسی طرح کی صحبت اختیار کرتا ہے اور اس کی صحبت اس کی طلب کی تکمیل کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کومزید نکھارتی ہے۔ مثلاً اگر ایک طبیب طبیبوں کی ہی صحبت اختیار کرے گا تو اس کے طب کے متعلق علم اور تجربہ میں بھی اضافہ ہوگا اور وہ اپنے ہی جیسے لوگوں میں پُر سکون اور خوش رہے گا اور اسی طرح دیگر تمام شعبوں کے لیے ہے۔اچھی یا بُری،فا ئدہ مند یا نقصان دہ صحبت اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں اور اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ کسی کو کسی خاص صحبت اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ نصیحت کے ذریعے اچھی صحبت اختیار کرنے کی تلقین قرآن و احادیث اور صوفیا کے اقوال سے بھی ملتی ہے اور عام روز مرہ گفتگو میں بھی بڑے بزرگ ہمیشہ اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت ہی کرتے ہیں اور ان کی یہ نصیحت بے معنی نہیں ہوتی کیونکہ کوئلے کی کان میں رہنے والا نہ بھی چاہے تو بھی کالا ہوگا اور عطر کی دکان پر بیٹھنے والا خواہ عطر استعمال بھی نہ کرے خوشبو اس کے جسم کا حصہ بن جائے گی۔

قرآنِ مجید میں اللہ تمام مسلمانوں کوصا دقین کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
کُونُوْا مَعَ الصّٰـدِقِیْن  ترجمہ: ’’صادقین کے ساتھ ہو جاؤــــــــــــ‘‘۔
بے شک صادقین کی صحبت مسلمان میں صدق پیدا کرے گی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’ایسے دوست کی صحبت اختیار کرو جس کا دیدار تمہیں اللہ کی یاد دلائے اور فرمایا: ’’ہر شخص اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک کو یہ سوچنا چا ہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔‘‘ حضرت مالک بن دینارؒ نے اپنے داماد مغیر ہ کو نصیت فرمائی: ’’اے مغیرہ! اپنے جس بھائی اور دوست سے تجھے تیرے دین میں بہتر فائدہ نہ ہو اس کی صحبت سے کنارا کش ہو جا تاکہ تو سلامت رہے‘‘۔ پس بندے کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ ایسے لوگو ں کی صحبت اختیار کرے جو دنیا میں بھی اس کے دین و ایمان کے لیے فائدہ مند ہو اور آخرت میں بھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  نے فرمایا ’’فاسق کے چہرے پر ایک بار نگاہ ڈالنے سے چالیس دن تک دل سے ایمان کی حلاوت جاتی رہتی ہے‘‘۔ یہاں’ ’نگاہ‘‘ ڈالنے سے مراد دوستی و محبت کی نگاہ ہے پس معلوم ہوا کہ فا سقین کی ایک لمحہ کی صحبت بھی کس قدر نقصان دہ ہے۔

راہِ فقر میں صحبت کی اہمیت دوسرے عام معاملات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ یہ قربِ الٰہی کی پاکیزہ اور مقدس راہ ہے اور اس میں ترقی ایسے پاکیزہ لوگوں کی صحبت سے میسر آتی ہے جو خود قربِ الٰہی کی نعمت سے فیض یاب یا کم از کم اس راہ پر گامزن ہوں۔ فاسقین و فاجرین یا دنیا داروں کی صحبت جو طالب مولیٰ کی توجہ کو اللہ سے ہٹا کر دنیا کی طرف ما ئل کرے ایک مبتدی طالب ِ مولیٰ کے لیے زہر ِقاتل ہے جب تک کہ وہ قرب و معرفت الٰہی میں اس حد تک کامل نہ ہو جائے کہ دنیا کی رنگینیاں اسے قطعاً اپنی طرف مائل نہ کر سکیں۔ جب تک مبتدی کامل نہ ہو جائے اپنی صحبت کا خیال رکھے، ہنسی ٹھٹھہ کرنے والی غیر سنجیدہ محافل، روپے پیسے کی لالچ سے لبریز گفتگو کرنے والے لوگوں کی محافل، شہوت سے پُر، عورت کو موضوع بنانے والے لوگوں کی محافل وغیر ہ سے سختی سے پرہیز رکھے اور ایسی محافل کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے۔ اگر خود میں اتنی ہمت اور حکمت پائے کہ انہیں خوفِ خدا دلاتے ہوئے ایسے ناپسندیدہ افعال سے باز رکھ سکے تو ضرور نصیحت اختیار کرتے ہوئے انہیں روکے ورنہ جاہلوں کو دور سے سلام والا رویہ بہترین رہے گا۔ سنت ِ رسول ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک محفل کے پاس سے گزر رہے تھے جس میں لوگ ہنسی و ٹھٹھہ کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اِن سے فرمایا ’’اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہو جائے‘‘۔ اگر ایک طالب ِ مولیٰ معرفت ِ الٰہی اور قرب و دیدارِ الٰہی میں ابھی کامل نہیں ہوا اور دنیاداروں کی محافل سے اجتناب بھی نہیں برتتاتو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ وہ جو کچھ طالبانِ مولیٰ اور مرشد کامل اکمل کی صحبت سے فیض حاصل کرے گااسے اِن دنیاداروں کی صحبت میں گنوا بیٹھے گا اور اگر ہمیشہ یوں ہی چلتا رہا تو قرب میں ترقی کے درجات انتہائی سست روی سے طے کرے گا البتہ جب وہ ان بے فیض صحبتوں سے بچتے ہوئے ہمیشہ مرشد کامل اکمل اور طالبانِ مولیٰ کی صحبت میں رہے گا تو فقر میں کا ملیت کے اس مقام تک پہنچ جائے گا جہاں ان دنیاداروں اور ان کی بے فائدہ گفتگو سے بالکل بے نیاز ہو جائے گا اور یہ اس پر کچھ اثر نہ ڈال سکیں گی۔

فقر ایک خوشبو ہے ،ایک نور ہے۔ جو طالب جس قدر اس خوشبو، اس نور کی صحبت میں رہے گا اتنا ہی خوشبو دار اور نورانی ہوگا اور پھر اس خو شبو اور نور کو دوسروں تک پہنچانے کے قابل بھی بن جائے گا جیسے کہ صندل کی لکڑی دوسری عام لکڑی کو بھی خو شبودار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کامل فقیر بھی صندل کی لکڑی کی طرح ہے جو اس کی صحبت میں رہتا ہے اس سے خوشبو حاصل کرتا ہے یا پارس پتھر کی مثل ہے کہ جو اس کی صحبت میں رہتا ہے سونا بن جاتا ہے۔ پس فقرا کی صحبت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جسے اختیار کرنا سعادت ہے۔ اللہ نے اپنے محبوب  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسط سے تمام امت کو ان فقرا کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ (الانعام۔52)
ترجمہ:(اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) جو لوگ صبح وشام اپنے ربّ کو پکارتے اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں انہیں خود سے دور نہ کیجیے۔

اور ان لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے منع فرمایا جو یادِ الٰہی سے غافل ہیں:
  فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی ۵لا عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا  (النجم۔29)
ترجمہ: پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اس شخص سے کنارہ کشی اختیار فرما لیں جس نے ہمارے ذکر سے روگردانی کی اور اس نے محض دنیا کی زندگی کو ہی اپنا مقصود بنا لیا ہے۔

پس یہی حکم تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے بھی ہے۔ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’تجھے چاہیے کہ صحبت کی غرض کو پہچان۔ اگر فقط انس و محبت تجھے مقصود ہے تو اچھے اخلاق ڈھونڈ، اگر دین مقصود ہے تو علم وعمل ڈھونڈ، اگردنیا مقصود ہے توسخاوت وکرم تلاش کر، ہر ایک کی ایک شرط ہے۔ اے عزیز! جان کہ خلق کی تین اقسام ہیں بعض لوگ غذا کی مانند ہیں کہ اِن کے بغیر آدمی کو چارہ نہیں، بعض دوا کی مثل ہیں کہ کبھی کبھی اِن کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض بیماری کے سے ہیں کہ ان کی کبھی احتیاج نہیں ہو سکتی لیکن لوگ اس میں پھنس جاتے ہیں تو تدبیر کرنی چاہے کہ نجات پائیں۔ غرضیکہ ایسے شخص کے ساتھ صحبت رکھنی چاہیے کہ اسے تجھ سے یا تجھے اس سے دینی فائدہ ہو۔ (کیمیائے سعادت)
حدیث ِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْمُؤْمِنُ مِرْاٰۃُ الْمُؤْمِنِ ترجمہ: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔
 کوئی فاسق، فاجر یا دنیادار ایک مومن کا آئینہ نہیں بن سکتا چنانچہ اگر ایک مومن کو اپنی حقیقی صورت کو دیکھنا اور سنوارنا ہے تو اسے مومنین کی صحبت ہی اختیار کرنا ہوگی جن کے شفاف باطنی نفوس اس کے لیے مثل ِ آئینہ ہوں گے جن میں اس کی تمام خوبیاں و خامیاں اسے صاف نظر آئیں گی۔ مومن بھائیوں کے اعلیٰ مقام اسے خود بھی ایمان کی ترقی کا شوق اور رغبت دلاتے ہیں اور ان کے تجربات اور ان کا علم اس کی ترقی میں مددگار بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کبھی وہ اپنے مقام سے رجعت کرنے لگے تو اس کے مومن بھائی نہ صرف اسے اس کی کمزوریوں کا احساس دلاتے ہیں بلکہ ان کمزوریوں کو دور کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یونہی جب ایک بھائی کسی آزمائش سے گزر رہا ہو تو اس ایک کی آزمائش سب کے لیے ایک تجربہ بن جاتی ہے کہ اگر کل انہیں ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات درپیش ہوں تو کیسی حکمت ِ عملی اختیار کرنے سے وہ اس آزمائش سے اچھے طریقے سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔

مومنین کی صحبت میں ہمیشہ علم و معرفت ِ الٰہی کی گفتگو زیرِ بحث رہتی ہے۔ پس ان کی صحبت ہمیشہ ہر ایک کے لیے علم میں اضافہ کا باعث بنتی ہے، اگر ایک بھائی نے علم ِ الٰہی کی کوئی نئی بات سیکھی وہ اسے دوسرے بھائیوں تک پہنچاتا ہے اور یوں ہر کوئی ایک دوسرے کا فیض رساں بنتا ہے اور کم کتابیں پڑھ کر صرف گفتگو اور بحث کے ذریعے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پس صحبت ِ مومنین بے حد و بے حساب فیض رساں ذریعہ ہے ترقی ٔ ایمان کے لیے۔

حکایات میں آیا ہے کہ ایک شخص کعبہ میں طواف کر رہا تھا اور یوں دعا کر رہا تھا :اللھم اصلح اخوانی ’’اے اللہ! میرے بھائیوں کی اصلاح فرما‘‘ اس سے پوچھا گیا کہ اس مقدس مقام پر پہنچ کر تو خود اپنے لیے دعا کیوں نہیں کر رہا؟ اس نے جواب دیا ’’میرے کچھ بھائی ہیں جن کی طرف میں لوٹ کر جاؤں گا۔ اگر وہ درست ہو گئے تو میں بھی اِن کے ساتھ درست ہو جاؤں گا۔ جب میری اصلاح کا دار و مدار مصلح لوگو ں کی صحبت پر ہے تو میں اپنے بھائیوں کے لیے یہی دعا کرتا ہوں تاکہ میرا مقصود اُن سے پورا ہو جائے‘‘۔ 

حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ فرماتے ہیں ’نفس کو اپنے یاروں کی عادتوں سے سکون ملتا ہے اور انسان جس گروہ کے درمیان رہتا ہے اُن کی عادات اور افعال کو اپنا لیتا ہے کیونکہ تمام معاملات اور ارادے جو حق اور باطل سے ہیں وہ دوسروں کے معاملات و ارادوں سے ہی پرورش پاتے ہیں اور انسان کے ارادوں پر دوسرے کے ارادے کا غلبہ ہوہی جاتاہے اور دوسروں کی صحبت کا بڑا اثر ہوتا ہے اور عادات کو بڑا غلبہ حاصل ہو تا ہے یہاں تک کہ ایک باز آدمی کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ جان جاتا ہے اور طوطا انسان کے سکھانے پر بولنے لگتا ہے اور گھوڑا بھی ریاضت اور مشق کے ذریعہ جانوروں کی عادت سے نکل کر انسان کی عادت اختیار کر لیتا ہے اسی طرح تمام چیزوں میں صحبت کی تاثیر موجود ہوتی ہے کہ اِن کی پوری عادت ہی تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے اور اہل ِطریقت کے مشائخ پہلے ایک دوسرے سے صحبت کا حق ہی مانگتے ہیں اور مریدوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان صحبت ایک فریضہ کا درجہ حاصل کر گئی ہے۔ (کشف المحجوب)

مومنین کی صحبت کی رغبت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ملتی ہے کہ  الشیطان مع الواحد و ھو من الاثنین الا بعد ترجمہ: ’’شیطان اس کے ساتھ ہوتا ہے جو تنہا ہو اور وہ دو سے بہت دور ہوتا ہے‘‘۔ یعنی جو شخص تنہائی اختیار کرتا ہے شیطان اس پر بہت جلد اور آسانی سے حملہ آور ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس کا کوئی ساتھی اور مومن بھائی موجود نہیں ہوتا جو اسے اس کے نفس کے بڑھتے ہوئے عیبوں سے آگاہ کرتا۔ کشف المحجوب میں حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے مریدوں میں سے ایک کے دل میں خیال پیداہوا کہ میں درجہ ٔ کمال تک پہنچ چکا ہوں لہٰذا میرے لیے تنہا رہنا صحبت سے زیادہ بہتر ہے چنانچہ وہ گوشہ نشین ہو گیا اور دل کو جماعت ِ صوفیا کی صحبت سے کنارہ کش کر لیا۔ جب رات ہوتی تو کچھ لوگ اس کے پاس اونٹ لے کر آتے اور کہتے آپ کو تو بہشت میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ اس اونٹ پر بیٹھ جاتا اور چل پڑتا یہاں تک کہ ایک ایسا مقام نمودار ہوتا جس میں خوبصورت کھانے اور نہریں جاری ہوتیں۔ وہ لوگ اس کو صبح ہونے تک وہاں رکھتے، سحری کے قریب وہ سو جاتا اور جب بیدار ہوتا تو اپنے آپ کو خلوت کرنے کے دروازے پر پاتا۔ یہاں تک کہ آدمیت کی رعونت اور غرور اس میں پیدا ہو گیا اور جوانی کی نخوت نے اس کے دل میں اپنی تاثیر ظاہر کی اور اس نے دعویٰ کی زبان کھولی اور کہنے لگا کہ مجھے اس طرح کی حالت پیش آتی ہے۔ لوگوں نے یہ خبر حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچائی تو وہ اٹھے اور اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر تشریف لائے تو اس کو خواہشات میں مست اور غرور و تکبر میں مبتلا پایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے حال دریافت فرمایا تو اس نے سب کچھ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے بیان کر دیا۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آج رات تو وہاں پہنچے تو یاد رکھ اور تین مرتبہلاحول ولا قوۃ اِلَّا باللّٰہ العلی العظیمپڑھنا۔ چنانچہ رات ہوئی اور وہ اسے لے گئے تو وہ دل میں حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا انکار کر رہا تھا تاہم جب کچھ وقت گزرا تو اس نے تجربہ کے طور پر تین مرتبہ لاحول پڑھا، جونہی اس نے یہ پڑھا وہ سب اس پر چیختے چلاتے ہوئے بھاگ گئے اور اس نے اپنے آپ کو ایک کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا پایا کہ چند مردار جانوروں کی ہڈیاں اس کے گرد پڑی ہوئی تھیں، وہ اپنی خطا پر واقف ہو گیا اور توبہ کی طرف متوجہ ہوا اور دوبارہ صحبت اختیار کر لی۔ مرید کے لیے تنہائی سے زیادہ بڑی کوئی آفت نہیں۔ (کشف المحجوب)

چنانچہ مومنین کی صحبت ایک طرح سے ایک مضبو ط حصار کی مانند ہے جو شیاطین کو اس حصار کو توڑ کو مومن تک پہنچنے نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معرفت ِ الٰہی کی انتہائی سخت اور اعلیٰ منازل سے گزرنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گزارنے کے باوجود کبھی تنہائی کو ایک لمبے عرصے کے لیے نہ خود اختیار کیا نہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس کی اجازت یا حکم دیا۔ حدیث ِپاک میں مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دینا بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ مومنین کو ایک دوسرے کی صحبت سے کبھی کنارہ کش نہ ہونا چاہیے اور دکھ سکھ، تنگی آسانی میں ایک دوسرے کو اپنی صحبت سے فائدہ پہنچانا چاہیے۔

زندگی کے تمام دیگر معاملات کی طرح صحبت ِفقرا کے بھی کچھ آداب ہیں جن کو ملحوظ رکھ کر ہی صحبت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ طالبانِ مولیٰ کے لیے صحبت کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

بھائیو (برادرانِ طریقت) کے ساتھ ایثار اور جوانمردی کے ساتھ پیش آئے، ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہو، کسی پر اپنا حق نہ جتائے، کسی سے حق نہ مانگے بلکہ اپنے ذمہ ہر ایک کا حق سمجھے اور ان کا حق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔ صحبت کے حق سے مراد یہ ہے کہ ان کی تمام باتوں اور کاموں میں موافقت ظاہر کرے، ہمیشہ ان کا ساتھ دے چاہے ذاتی طور پر نقصان اٹھانا پڑے۔ ان کی طرف سے تاویل کرے اور معذرت پیش کرے۔ ان کی مخالفت، ان سے نفرت، جھگڑا اور لڑائی نہ کرے۔ ان کے عیب دیکھنے سے اندھا بن جائے۔ اگر ان میں سے کوئی اس کی مخالفت کرے تو ظاہر میں جو کچھ اس نے کہا اس کے حوالے کر دے اگرچہ جو کچھ اس نے کہا ہے حقیقت اس کے خلاف ہے اور چاہیے کہ ہمیشہ اپنے بھائیوں کے دلوں کی حفاظت کرے اور ایسے کام سے اجتناب کرے جو ان کو ناپسند ہوں چاہے وہ جانتا ہو کہ اس میں ان کی بہتری ہے۔ ان میں سے کسی سے حسد نہ کرے۔ اگر کسی بُرے سلوک کی وجہ سے ان میں سے کسی کے دل پر بوجھ پڑ جائے تو حسن ِ اخلاق کے ساتھ اسے دور کرے اگر دور نہ ہو تو مزید احسان اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے یہاں تک کہ دور ہو جائے اور اگر ان میں سے کسی کی طرف سے غیبت وغیرہ کی بنا پر اس کے دل کو ٹھیس پہنچے تو اپنے آپ سے ظاہر نہ کرے بلکہ اس کے خلاف ظاہر کرے۔

غیروں کے ساتھ برتاؤ

غیروں کے ساتھ برتاؤ اور معاشرتی تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے اپنا راز چھپائے، ان کے ساتھ شفقت اور مہربانی سے پیش آئے، ان کا مال بطورِ امانت اگر ہو تو ان کے سپرد کر دے، طریقت و معرفت کے احکام ان سے پوشیدہ رکھے۔ ان کی بداخلاقی پر صبر کرے ان پر اپنی برتری کا خیال بھی دل میں نہ لائے بلکہ کہے ’’اللہ ان سے درگزر فرمائے گا۔ اے میرے نفس! تجھ سے ہر چھوٹی بڑی بات کی پُرسش ہوگی اور ہر شے کی تجھ سے حساب فہمی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ناواقف کی ان باتوں سے درگزر فرمائے گا کہ وہ ان باتوں کو جاننے والے نہیں ہیں، لیکن جاننے والوں سے حساب فہمی ہوگی تو عوام کی تو پرواہ بھی نہیں کی جاتی البتہ خواص ایک بڑے خطرے میں ہیں‘‘۔

مالدار لوگوں کی صحبت

مالدار لوگوں کی مجلس اختیار کرے تو ان پر اپنی قوت کا اظہار کرے، ان سے لالچ نہ رکھے، جو کچھ ان کے پاس ہے اس کی امید نہ رکھے اور کسی کو خاطر میں نہ لائے۔ ان کے عطیات حاصل کرنے کی خاطر ذلت و رسوائی جیسے امور سے اپنے دین کو محفوظ رکھے جس طرح حدیث شریف میں آیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی مالدار سے مال حاصل کرنے کے لیے اس کے سامنے ذلت اختیار کرتا ہے اس کا دو تہائی دین چلا جاتا ہے‘‘۔ پس ہم ایسے کام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں جس کے ساتھ دین کو نقصان پہنچے۔ ایسے لوگوں کی مجلس سے بھی پناہ چاہتے ہیں جن کی وجہ سے دین میں رخنہ اندازی ہو اس کا قبضہ ٹوٹ جائے ان کے مالوں کی چمک اور دنیا کی تازگی نورِ ایمان کو زائل کر دے جس طرح حدیث شریف میں آیا ہے۔

البتہ اگر تمہیں کسی وقت سیر و تفریح، سفر، مسجد یا کسی اجتماع میں ان کے ساتھ اکٹھا ہونا پڑے تو حسن ِ اخلاق سے پیش آنا ضروری ہے۔ یہ عام حکم ہے جو مالدار اور فقیر سب کی صحبت میں اختیار کیا جائے۔ یعنی تجھے مناسب نہیں کہ ان پر اپنی فضیلت کا اعتقاد رکھے بلکہ یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ تمام مخلوق تجھ سے بہتر ہے تاکہ تو تکبر سے بچ جائے۔ اپنے لیے فقر کی فضیلت نہ ڈھونڈ، نہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں شرف و عزت کا اعتقاد رکھ اور نہ اس کے لیے کوئی قدر و منزلت خیال کر۔ جس طرح کہا گیا ہے کہ جو آدمی خود اپنی قدر چاہتا ہے اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور جو اپنے آپ کو بڑا قیمتی خیال کرتا ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ پس غنی کا ادب یہ ہے کہ وہ فقیر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے یعنی اپنی ہتھیلی سے اس کے لیے مال نکالے اور فارغ ہو جائے کیونکہ اس کے پاس جو مال ہے وہ نائب کی حیثیت سے ہے خود مالک نہیں ہے۔ اور فقیر کا ادب یہ ہے کہ وہ غنی اور اس کے مال سے بلکہ دنیا و آخرت سے اپنے دل کو خالی کر دے اور اپنے دل کو کسی چیز کا محل، وطن اور مدخل نہ بنائے بلکہ ان تمام چیزوں سے صاف اور خالی رکھے پھر اپنے ربّ کے نور سے بھرنے کا امیدوار اور منتظر ہو۔ نہ غیر کے وجود کو سمجھے اور نہ اپنے لیے کوئی طاقت خیال کرے اس وقت اللہ تعالیٰ کا فضل آئے گا اور کسی قسم کی تھکاوٹ اور غم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ مالداری حاصل ہوگی۔

فقرا کی صحبت

فقیروں سے مصاحبت کا تقاضا یہ ہے کہ اکل و شرب و لباس میں ہر اچھی چیز میں ان کو اپنی ذات پر ترجیح دے، اپنی جان کو ان سے کم مرتبہ سمجھے اور کبھی کسی حال میں فقیروں پر برتری کا خیال دل میں نہ لائے۔

حضرت ابو سعید بن احمد بن عیسیٰ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’فقیروں کے ساتھ تیس سال تک رہا لیکن میرے اور ان کے درمیان کبھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس سے ان کو دکھ پہنچتا، نہ میری طرف سے کوئی نفرت آمیز سلوک ہوا جس سے ان کو وحشت ہو جاتی‘‘۔ لوگوں نے اس برتاؤ کی جب کیفیت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا ’’ میں ان کے ساتھ ہمیشہ اپنے نفس کے خلاف رہا‘‘۔  (غنیۃ الطالبین)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’دو بھائیوں کی مثال دو ہاتھوں کی سی ہے کہ ایک (ہاتھ) دوسرے (ہاتھ) کو دھوتا ہے‘‘۔ یہاں دھونے سے مراد ہر طرح کا نفع پہنچانا ہے، اس کو اس کے عیوب سے آگاہ کر کے اس کی اصلاح کرنا، مشکل وقت میں اس کی مدد کرنا، اس کو اپنے علم و عمل کے ذریعے باطنی و روحانی تقویت پہنچانا اور اس کے لیے دعا کرنا غرض ہر طرح کا ظاہری و باطنی ساتھ دینا شامل ہے۔ پیر بھائیوں کی صحبت کے چند اصول مندرجہ ذیل ہیں:

1 ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ   ان من کمال التقویٰ تعلم من لا یعلم  یعنی’’ کمال تقویٰ یہ ہے کہ تو اسے دین کا علم سکھائے جو کچھ نہیں جانتا‘‘۔ پس علم ِ دین و معرفت کی منتقلی آدابِ صحبت میں اہم ترین حیثیت رکھتی ہے۔ حلقہ ٔ طالبانِ مولیٰ میں پہلے سے موجود طالبوں پر فرضِ عین ہے کہ وہ نووارد لوگوں کو انتہائی حکمت آمیز طریقے سے آدابِ طریقت سے آگاہ بھی کریں اور علم ِ معرفت جس حد تک انہیں معلوم ہے آگے منتقل کریں تاکہ نئے آنے والے بھی جلد ترقی ٔ دین کی راہ پر گامزن ہو کر دوسروں کو فیض پہنچانے کے لائق بن جائیں۔ لیکن علم منتقل کرتے وقت اس تکبر کا شائبہ تک موجود نہ ہو کہ یہ نیا آنے والا تو کم علم اور اس لحاظ سے ہم سے کمتر ہے ورنہ اس کو تو آپ کے علم سے ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ ہی جائے گا لیکن آپ کا تکبر آپ کے تقویٰ کے حصول میں آڑے آجائے گا۔ اچھی صحبت میں ہر ایک شخص ہر دوسرے شخص کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، جسے آج آپ بے غرض ہو کر کچھ سکھا رہے ہیں لازماً کل وہ آپ کے لیے کچھ سیکھنے کا باعث بن جائے گا۔ جو علم آپ کے ذریعے آگے پہنچا و ہ جہاں تک آگے پھیلتا جائے گا اور آپ کے لیے خیر ہی خیر بنتا جائے گا اس لیے علم منتقل کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔

2۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے  ترجمہ:’’وہ دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں‘‘ (الحشر۔9)۔ پس ایثار صحبت ِ فقرا میں خوشگواری اور خوشحالی کا باعث بھی ہے، ان کی آپس میں محبت بڑھانے کی وجہ بھی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ کے ہاں ان کے درجاتِ تقویٰ میں ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ ہر طالب اگر اس بات کو اپنا اصول بنا لے ’’میرا اللہ کے سوا کسی پر کوئی حق نہیں جبکہ میرے ذمہ ہر ایک کا حق ادا کرنا ہے‘‘ تو بے شک وہ اللہ کے سوا کسی کا محتاج نہ ہوگا پس کبھی تنگی میں نہ ہوگا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے مخلوقِ الٰہی کے نفع کا باعث بننے کی وجہ سے محبوبیت میں ترقی کرے گا۔

3 ۔ حسن ِاخلاق ہر ادب کا سرچشمہ ہے اور ہر صحبت کا حق ہے۔ حسن ِ اخلاق کے بغیر کوئی صحبت خواہ وہ دنیاداروں کی ہی کیوں نہ ہو پھل پھول نہیں سکتی۔ فقرا کی صحبت میں تو حسن ِ اخلاق کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمانِ عالیشان ہے ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ہاتھوں اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں‘‘ اور آپؐ نے مومنین میں سب سے بہتر اسے قرار دیا جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔ خوش اخلاقی بہت سی کمزوریوں اور کمیوں کو دور کرنے کا باعث بن سکتی ہے مثلاً اگر کوئی مال سے ایثار نہ کر سکتا ہو، کم علمی کے باعث علم منتقل نہ کر سکتا ہو یا دوسری کسی طرح کی مدد نہ کر سکتا ہو وہ اپنے حسن ِ اخلاق سے دوسروں کو خوشی و سکون مہیا کر سکتا ہے۔

4۔ درگزر کرنا صحبت کو احسن طریقے سے جاری رکھنے میں بہت اہم ہے۔ ساتھ رہتے ہوئے بطورِ بشر ہر ایک سے کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اگر دلوں میں ان کی رنجش رکھی جائے یا زبان سے ان پر تلخ کلامی کی جائے تو یہ فقرا کی صحبت کے لیے سخت نقصان دہ ہے کہ نہ طالب ِ مولیٰ کے لیے دلوں میں کینہ یا غصہ رکھ کر سفر ِحق طے کرنا ممکن ہے، نہ زبان کو آلودہ کر کے وہ اللہ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ چنانچہ غلطیوں پر درگزر کرنا ہی اس کی اپنی ذات کی باطنی فلاح کے لیے بہترین ہے اور یہ درگزر اپنے بھائی کی غلطی پر ازخود ہونی چاہیے تاکہ اسے معافی مانگنے کی شرمندگی نہ اُٹھانا پڑے۔ بزرگوں کا قول ہے کہ اگر کوئی بھائی تیرا قصور وار ہو تو اس کی طرف سے ستر طرح کی عذر خواہی تو خود اپنی طرف سے کر، اگر نفس قبول نہ کرے تو اپنے دل سے کہہ کہ تو نہایت بدخو اور بدذات ہے کہ تیرے بھائی نے ستر عذر کیے اور تو نہ مانا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ (بنی اسرائیل۔53)
ترجمہ: بے شک شیطان ان کے درمیان عداوت ڈالتا ہے۔
 حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی فرمایا:
مِنْ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ (یوسف۔100)
ترجمہ: اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں کے درمیان عداوت ڈال دی۔

 یعنی دو بھائیوں کے دلوں میں رنجش ڈالنے والا شیطان ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ دو بھائیوں کے دل میں محبت ہی ڈالتا ہے۔ 
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدَّا (مریم۔96)
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ کیے تو عنقریب اللہ ان میں محبت پیدا کر دے گا۔

 یعنی عداوت و رنجش ڈالنا شیطان کی چال ہے اور اس سے بچنا دین میں ترقی کے لیے لازم ہے۔

5۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ  (الحجرات۔10) ترجمہ: ’’بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ‘‘۔ اگر دو بھائیوں کے درمیان کسی بات سے اختلاف پیدا ہو جائے اور دونوں میں سے کوئی بھی آگے بڑھ کر رنجش دور کرنے کی ہمت نہ کر پا رہا ہو تو دوسرے بھائیوں پر لازم ہے کہ ان کے درمیان اختلاف کو دور کرنے کی صورت پیدا کریں۔

6۔ دورانِ صحبت امر بالمعروف کے ساتھ ساتھ نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر اپنے بھائی کی خلوصِ دل سے بھلائی مقصود ہے تو امر بالمعروف سے قبل نہی عن المنکر ضروری ہے کہ اگر اسے کسی معصیت میں مبتلا دیکھیں یا اپنے روحانی مقام سے کسی ظاہری و باطنی خطا کے باعث رجعت کرتا ہوا پائیں تو یہ فرض بن جاتا ہے کہ اسے اس کی خطا کا احساس دلا کر اس سے روک لیا جائے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’جو حق بات کہنے سے خاموش رہا وہ گونگا شیطان ہے‘‘۔ اگر ایک پیر بھائی کی خطا پر اسے اس خیال سے نہ ٹوکا جائے کہ کہیں وہ ہمارے بارے میں بُرا نہ سوچے یا ہم سے ناراض نہ ہو جائے تو بے شک یہ اپنے نفس کی کمزوری اور غلبہ ٔ شیطانی کے باعث ہے، اس نفس و شیطان سے لڑ کر صرف اپنے بھائی کی بھلائی کی نیت سے اسے حق بات بتانے اور اس کی غلطی کا احساس دلانا نہایت ضروری ہے خواہ وہ وقتی طور پر ناراض ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ایک پیر بھائی اپنے دوسرے بھائی کو خطا پر دیکھ کر خاموش رہتا ہے تو اس سے بھی بڑی خطا کر رہا ہے کہ وہ بے چارہ تو اپنی خطا سے ناواقف ہے لہٰذا معصوم ہے۔ یہ تو جانتے بوجھتے اسے اس کی خطا سے نہیں روک رہا۔ یہاں کسی بھی قسم کی مصلحت نقصان دہ ہو سکتی ہے جتنی جلدی ہو سکے خطا کو خود سے بھی اور اپنے پیر بھائی سے بھی دور کر دینا چاہیے۔

7۔ اگر کوئی پیر بھائی ہمیں ہماری خطا سے آگاہ کرے تو اس پر بُرا منانے کی بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اسے خود سے بہتر مومن مان کر اس بات کا یقین کر لینا چاہیے کہ اس کا آئینۂ نفس ہم سے زیادہ شفاف ہے لہٰذا وہ ہمیں ہماری جو صورت دکھا رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ ہم میں واقعی یہ خطا ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ خطائیں ہیں اس لیے جلد ان کو دور کرنے کی تدبیر اور کثرت سے استغفار کرنی چاہیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ فرمایا کرتے تھے ــ’’اس پر خدا کی رحمت ہو جو میرے عیب کو میرے سامنے ہدیہ لائے‘‘۔ کیونکہ اگر وہ ہمیں ہمارے عیب سے آگاہ نہ کرتا تو یہ عیب ہماری روحانی ترقی میں رکاوٹ بنا رہتا۔ خدانخواستہ ہماری فطرت کا حصہ بن جاتا اور روزِ قیامت اللہ اور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے شرمندگی کا باعث بن جاتا۔ یہ اس پیر بھائی کا احسان ہے جس نے اس عیب کو ہم پر ظاہر کر کے ہمیں اسے خود سے دور کرنے کا احساس دلایا۔ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں ’’اپنے عیب و نقصان کو ایک دوسرے سے معلوم کر لے اور جب تیرے بھائی نے مہربانی سے تنہائی میں تیرا عیب تجھ سے کہا تو اس کا احسان مان اور خفا نہ ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص تجھے اطلاع کرے کہ تیرے کپڑے کے اندر سانپ یا بچھو ہے تو تُو اس سے خفا نہ ہوگا بلکہ احسان مانے گا۔ سب بُرے اخلاق انسان میں بچھو و سانپ کی مانند ہیں مگر ان کا زخم قبر میں ظاہر ہوتا ہے اور ان کا زخم روح پر ہوتا ہے۔ وہ اس دنیا کے سانپ و بچھو سے زیادہ موذی ہیں۔‘‘ (کیمیائے سعادت)

8۔ عیب پوشی فقر و تصوف کی بنیاد اور اللہ اور اس کے رسول اور تمام اولیا اور صوفیا کی اعلیٰ ترین صفت ہے۔ منقول ہے کہ ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محفل ِ اقدس میں چاروں اصحاب رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا کہ ہم کو شب ِ معراج میں جو خرقہ ٔ فقر جنابِ ربانی سے عطا ہواتھا وہ اگر تم کو پہنایا جائے تو اس کا حق کس طرح ادا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا ’’یا حضرت! میں صدق اختیار کروں گا‘‘۔ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہٗ سے بھی یہی سوال پوچھا، انہوں نے کہا ’’میں عدل اختیار کروں گا‘‘۔ پھر یہی سوال حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا ’’میں حیا اور تحمل کروں گا‘‘۔ پھر جناب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا ’’اگر مجھے خرقۂ فقر عطا ہوا تو میں اس کے شکریہ میں پردہ پوشی اختیار کروں گا، لوگوں کے عیب ڈھانپوں گا اور ان کی تقاصیر سے درگزر کروں گا‘‘ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہایت خوش ہو کر فرمایا ’’اے علی(رضی اللہ عنہٗ) جس طر ح رضائے مولیٰ و رضائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تھی اسی طرح سے تو نے جواب دیا ہے پس یہ خرقہ تیرا ہی حق ہے‘‘ اسی وقت آپ رضی اللہ عنہٗ کو خرقۂ فقر پہنایا او ربشارت دی کہ تم شہنشاہِ ولایت ہو اور میری تمام اُمت کے پیشوا ہو‘‘۔

 بقول میاں محمد بخش ؒ

پردہ پوشی کم فقر دا میں طالب فقراواں
عیب کسے دے پھول نہ سکاں ہر ہک تھیں شرماواں

جس قدر ضروری ایک پیر بھائی کو اس کے عیوب سے آگاہ کرنا ہے اسی قدر ضروری اس کے عیبوں کی دوسروں سے پردہ پوشی ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کو اس کے عیب سے تنہائی میں آگاہ کیا جائے اور اس کی خطاؤں کو کسی دوسرے پر ظاہر نہ ہونے دیا جائے۔

9۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’وہ شخص بُرا دوست ہے جس کو دعا کرنے کی تجھ سے درخواست کرنی پڑے اور بُرا ہے وہ دوست جس کے ساتھ تجھے خاطر مدارت سے زندگی گزارنا پڑے اور بُرا ہے وہ دوست جس کے سامنے تجھے اپنی کسی لغزش کی معذرت کرنی پڑے کیونکہ ایک لمحے کی صحبت کا حق یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تیرے لیے خود ہی دعا کرتا رہے اور صحبت کا اصل سرمایہ انبساط و شادمانی ہے نہ کہ خاطر مدارت، اور معذرت کرنا بیگانوں کا کام ہوتاہے جبکہ سچی محبت و صحبت میں بیگانگی ایک جفا ہے‘‘۔ پس صحبت کا حق ادا کرنے کی بہترین صورت اپنے بھائی کے لیے ہدایت و رحمت کی دعا ہے خواہ پوشیدہ کی جائے خواہ اعلانیہ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے ’’جو شخص اپنے بھائی کے واسطے اس کی پیٹھ پیچھے جو دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تجھے بھی یہ بات حاصل ہو ‘‘ اور ایک روایت میں یوں وارد ہوا ہے کہ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے ’’ میں پہلے تیرا مدعا بر لاؤں گا‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے ’’دوستوں کی دعا جو ان کی غیر موجودگی میں ہو‘ حق تعالیٰ اسے کبھی رد نہیں فرماتا‘‘۔ حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’میں ستر دوستوں کا نام سجدہ میں لیتا ہوں اور ہر ایک کے واسطے دعا کرتا ہوں‘‘۔ دعا ردِ بلا بھی ہے اور باعث ِ ترقی ٔ درجات بھی ہے اور دعا کرنے والے اور جس کے لیے دعا کی جائے دونوں کے حق میں بہترین ہے۔ خلوصِ دل سے دوست کے لیے کی گئی دعا اس کے لیے بہترین تحفہ اور دنیا و آخرت کی نعمت ہے اور صحبت کا حق ادا کرنے کا بہترین ذریعہ بھی۔

10۔ مشکل حالات اور آزمائش کے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور مناسب مشورہ دینا بھی صحبت کا حق ہے۔ مشورے کو امانت قرار دیا گیا ہے جسے ضرورت کے وقت اس کے طلبگار کو پہنچانا لازم ہے۔ اگر مناسب مشورہ دینے میں بخل سے کام لیا جائے یا غلط مشورہ دے کر امانت میں خیانت کی تو آزمائش میں مبتلا ساتھی کا کام تو اللہ خود ہی سنوار دے گا البتہ جان بوجھ کر صحیح مشورہ نہ دینے والے کی نہ صرف سخت پُرسش ہوگی بلکہ ممکن ہے کہ اسے اس سے بھی سخت آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے اس لیے جب بھی کوئی پیر بھائی مشکل میں مدد مانگے یا مشورہ مانگے تو حسب ِ استطاعت و توفیق زیادہ سے زیادہ مدد اور بہترین سے بہترین مشورہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر خود کو اس لائق نہ پائے تو نرمی سے معذرت کر لینی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اچھی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر لمحہ اپنی اصلاح کرنے کی ہمت و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین

 
 

39 تبصرے “آدابِ صحبت ِمریدین | Adab e Sohbat e Mureedin

  1. بےشک میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ اقدس ( سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور سلطان باھُوؒ کے حقیقی و روحانی وارث, انسان کامل اکمل نور الہدی ) کے عطا کردہ اسم اللہ ذات مشق مرقوم وجودیہ اور خفی ذکر یاھو سے اللہ پاک اور حضرت محمد ﷺ کا دیدار (ملاقات) اور پہچان ہوتی ہے
    اس طرح انسان کا مقصد حیات حاصل ہوتا ہے
    تحریک دعوت فقر پاکستان لاہور ذندہ باد

    1. خانقاہ میں صحبت مرشد ہی تزکیہ نفس کے لئے سب سے اہم ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں-
      خانقاہ میں رہائش پذیر مریدین کے آپس میں تعلقات، سپرد کئے گئے فرائض اور ان کی ادائیگی کے دوران دلی کیفیات اہم ہیں

    2. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اچھی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر لمحہ اپنی اصلاح کرنے کی ہمت و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #adab #sohbat #mureedin

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #adab #sohbat #mureedin

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #adab #sohbat #mureedin

  5. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #adab #sohbat #mureedin

اپنا تبصرہ بھیجیں