فقرا اور صوفیا | Fuqara or Sufia

فقرا اور صوفیا

تحریر: نورین عبدالغفور سروری قادری ۔ سیالکوٹ

حدیث نبویؐ ہے:
’’شریعت ایک درخت ہے طریقت اس کی ٹہنیاں ہیں اور معرفت (تصوف) اس کے پتے ہیں اور حقیقت (فقر) اس کا پھل ہے اور قرآن ان سب کا جامع ہے (یعنی ان سب کو قرآن میں جمع کر دیا گیا ہے)۔‘‘
شریعت کا تعلق ظاہری دنیا سے ہے اس لیے اس کے تمام اعمال کا تعلق بھی ظاہری اعضا کے اعمال سے ہے یعنی زبان سے توحید کا اقرار، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ۔ طریقت دراصل شریعت ہی کا باطن ہے۔ شریعت جن اعمال و احکام کی تکمیل کا نام ہے ان اعمال و احکام کو حسن ِ نیت اور حسن ِ اخلاص کے کمال سے آراستہ کر کے نتائج ِ شریعت کو درجہ احسان پر فائز کرنے کی کوشش علم ِ طریقت اور تصوف کی بنیاد ہے۔ شیخ احمد سرہندی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
 ’’شریعت و حقیقت ایک دوسرے کا بالکل عین ہیں اور حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ اور جدا نہیں ہیں۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی)
اس کو ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھ لیجئے کہ اگر کوئی شخص ظاہری شرائط و ارکان کے مطابق نماز ادا کرتا ہے تو فرضیت کے اعتبار سے اس کی نماز تو ادا ہو جائے گی لیکن اس کے باطنی تقاضے پورے نہیں ہوں گے اس لیے کہ نماز میں جس طرح اس کا چہرہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اس کے قلب و روح کا قبلہ بھی ربّ ِ کعبہ کی طرف ہو اور جسم کے ساتھ ساتھ اس کا قلب اور روح بھی خالق ِ حقیقی کی طرف متوجہ ہوں، یہ قلبی اور باطنی کیفیات ہیں جن سے بندے کو روحانی مشاہدہ نصیب ہو جاتا ہے۔ تصوف کا منشا انہی روحانی کیفیات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس روحانی ترقی اور فروغ کے لئے جو طریقے اہل ِ اللہ نے وضع کیے ہیں انہیں طریقت کہتے ہیں۔ ان طریقوں کو اصطلاحاً علم التزکیہ و علم التصوف بھی کہتے ہیں۔ وہ بزرگ ہستیاں جنہوں نے قلب و باطن کی تطہیر اور اصلاح و تصفیہ کی خیرات اخلاقی و روحانی تربیت کے ذریعے اُمت ِ مسلمہ میں تقسیم کی وہ صو فیا کرام اور فقرا کہلاتے ہیں۔
صوفیا اور فقرا میں کیا فرق ہے؟اسلام میں فقرا اور صوفیا کرام کا مقام و مرتبہ، کردار اور حقیقت کیا ہے؟
صوفی وہ ہے جو اللہ کی خاطر ترکِ دنیا اور ترکِ نفس کی کوشش کرتا ہے اور قربِ خداوندی کے حصول کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ صوفیا تزکیۂ نفس اور تصفیہ ٔ قلب کے ذریعے قربِ الٰہی کی جستجو کرتے ہیں جس کا تعلق محض صوفی کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب ’’حقیقت ِ تصوف‘‘ میں تصوف کے اصل مآخذ کی تحقیق کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:
تصوف الصفا سے ہے جس سے مراد ہے ’’صاف ہونا۔‘‘ اس معنی کی رو سے کسی شے کو ہر طرح کی ظاہری و باطنی آلودگی سے پاک صاف کر کے اجلا اور شفاف بنا دینا تصوف ہے۔
تصوف صوف سے مشتق ہے جس کا لغوی معنی ہے ’’اونی لباس‘‘۔ باب تفعل کے وزن پر تصوف کا معنی ہے اس نے اونی لباس پہنا۔
الصفو کے معنی ’’محبت، خلوص، دوستی کے معنی ہیں‘‘۔ اس مادہ کے اعتبار سے صوفی سے مراد وہ شخص ہے جس نے دنیا و آخرت کے اجر و جزا سے بے نیاز ہو کر محبوبِ حقیقی سے بے لوث محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کر لیا۔
التصوف سے مراد ’’یکسو ہونا، پوری یکسوئی سے متوجہ ہونا ہے۔‘‘پس تصوف سے مراد ہر لحاظ سے اللہ کی طرف متوجہ رہنا۔
الصفہ: ایک گروہ کا کہنا ہے صوفیا کی وجہ تسمیہ ان کا باعتبارِ اوصاف اصحابِ صفہ سے قریب تر ہونا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہد مبارک میں موجود تھے۔
حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کشف المحجوب میں تحریر کرتے ہیں:
اہل ِ علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ صوفی کو صوفی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ صوف (پشمینہ) کے کپڑے پہنتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اوّل صف میں ہوتے ہیں۔ اور ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ اصحابِ صفہ کی نیابت کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ نام صفا سے ماخوذ ہے۔
مزید فرماتے ہیں:
چونکہ صوفیا کرام اپنے اخلاق ومعاملات کو مہذب و پاکیزہ بنا کر طبعی آفتوں سے نفرت کرتے ہیں اس بنا پر انہیں صوفی کہا جاتا ہے۔ (کشف المحجوب)
حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا فرمان مبارک ہے:
صوفی مخلوق سے آزاد اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔
حضرت شیخ شبلی صوفیا کرامؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:
صوفیا کرام وہ ہیں جو ہر چیز سے زیادہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں۔
حضرت ابو الحسن نوریؒ کا قول ہے:
صوفیا کرام کا گروہ وہ ہے جن کے وجود کدورتِ بشری سے آزاد اور آفتِ نفسانیہ سے پاک و صاف ہو کر آرزوؤں اور تمناؤں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔
حضرت شیخ ابو علی رودباریؒ نے فرمایا:
صوفی وہ ہے جو ہر وقت اْسی کا ہو کر رہتا ہے جس کا وہ بندہ ہے۔
حضرت عمر بن عثمان مکیؒ نے فرمایا:
صوفی اپنے پُرسکون جسم، مطمئن دل، منور چہرہ، کشادہ سینہ، آباد باطن اور تعلق مع اللہ کی وجہ سے دنیا کی تمام اشیا سے بے پرواہ ہوتا ہے۔
مختلف فقرا اور اولیا نے صوفیا کے جو اوصاف بیان کیے ہیں ان کے حصول کے لیے ہر صوفی کسی نہ کسی مرشد کامل کی مجلس اور صحبت اختیار کرتا ہے۔ روحانی تربیت حاصل کرنے والی جگہ کا نام خانقاہ، درگاہ، تکیہ یا زاویہ ہو سکتا ہے۔ صوفی کو روحانی فیض کے لیے مرشد کامل اکمل کی ضرورت ہوتی ہے اور مرشد کامل اکمل وہ ہے جس کے ظاہر و باطن میں ھُو کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہ مرتبہ ’’ہمہ اوست در مغزو پوست‘‘ ہے اور یہی ہے فقیر مالک الملکی جو انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز نائب ِ رسولؐ ہوتا ہے اور اسے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ بھی کہتے ہیں۔
حضرت سخی سلطان باھوؒنے خود اپنے آپ کو نہ صرف کامل و مکمل و اکمل و نور الہدیٰ جامع مرشد فرمایا ہے بلکہ مرشد کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو’’مالک الملکی فقیر‘‘ بھی فرماتے ہیں۔ نور الہدیٰ کلاں میں یوں رقمطراز ہیں:
میں کامل و مکمل و اکمل و نور الہدیٰ جامع مرشدہوں اور مالک الملکی مرتبے کا جامع فقیر ہوں۔
اور یہ ولایت کا سب سے اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔
صاحب ِ فقر کو ’’فقیر‘‘ کہتے ہیں۔فقیر کی جمع ’’فقرا ‘‘ ہے۔ فقر کے لغوی معنی افلاس اور تنگدستی کے ہیں مگر باطنی اور روحانی دنیا میں فقر دونوں جہانوں کی بادشاہی کا نام ہے۔
فقر کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چند احادیث ذیل میں تحریر کی جا رہی ہیں: 

اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّ بِہٖ عَلٰی سَآئِرِ الْاَنْبِیَآئِ وَ الْمُرْسَلِیْن

ترجمہ:فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔ پس فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔(عین الفقر)

ہر شے کی ایک چابی ہے اور جنت کی چابی فقرا اور مساکین کی محبت ہے اور ان کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ یہ روزِ قیامت اللہ کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابوذر غفاریؓ سے فرمایا:
اے ابوذرؓ! فقرا وہ ہیں جن کا ہنسنا عبادت، جن کا مزاخ تسبیح اور جن کی نیند صدقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک دن میں تین سو مرتبہ دیکھتا ہے۔ جو کسی فقیر کے پاس ستر قدم چل کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ستر مقبول حج کا ثواب لکھتا ہے اور جنہوں نے ان فقرا کو مصیبت میں کھانا کھلایا تو وہ کھانا قیامت کے دن ان کی دولت (اجروثواب) میں نور کی مانند ہوگا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
فقیر (انسانِ کامل) وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو ’’کُنْ‘‘ کہے اور’’فَیَکُوْن‘‘ ہو جائے۔(الرسالتہ الغوثیہ)

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقیر ِ کامل اسے کہتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں منظور ہو کر ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہے اور دم بھر کے لیے بھی آپؐ کی مجلس سے غیر حاضر نہ رہے۔ ظاہر میں وہ عام لوگوں کی مجلس میں رہے لیکن باطن میں ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس رہے۔(کلید التوحید کلاں)
فقراکا کلام اللہ کا کلام ہے۔ جس نے ان کے کلام کی اہانت کی گویا اس نے اللہ کے کلام کی اہانت کی اور جو فقرا سے دشمنی رکھے گا اللہ تعالیٰ ان فقرا کو (ان دشمنوں سے) بچا لے گا۔ (محکم الفقرا)
فقیر وہ ہے جو طمع نہ کرے، اگر کوئی کچھ دے تو منع نہ کرے اور اگر کچھ ملے تو جمع نہ کرے۔فقیر کے لیے علم ِ ملاقات اوردوسروں کے لیے علم ِ کرامات ہے۔کرامات سے مراد مقامِ ناسوت ہے جبکہ ملاقات مقامِ لاہوت ہے۔کرامات لوگوں کو اپنی بازیگری کا تماشا دکھانا ہے جبکہ ملاقات حضرت محمدؐ کی اطاعت اورحضوری سے مشرف ہونا ہے۔ نیز ملاقات سے مراد مقامِ ربوبیت پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کی توحید اور واحدانیت میں غرق ہونا ہے جو فنا فی اللہ بقا باللہ عارف باللہ فقیر کا شرف ہے۔ (عین الفقر)
فقیر صاحب ِ امر ہے صاحب ِ امر اسے کہتے ہیں جس کا امر روکا نہ جائے کیونکہ فقیر کی زبان رحمن کی تلوار ہوتی ہے۔ جس چیز کے لیے وہ لفظ کن کہتا ہے وہ امرِ الٰہی سے دیر میں یا جلدی ضرور ہوجاتی ہے۔ (امیر الکونین)
فقیر کے لیے دنیا ایک قدم ہے۔ فقیر دنیا سے قدم اٹھا کر عقبیٰ میں رکھتا ہے پھر توکّل اختیار کر کے عقبیٰ سے قدم اٹھاتا ہے اور آدھے قدم پر معرفت ِ توحید میں جاپہنچتا ہے اور پھر وہاں سے آدھا قدم چل کر فقر کے کامل مرتبے پر پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے: ِاِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ ترجمہ:جب فقر کامل ہوتا ہے تو اللہ ہی ہوتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
جان لے کہ کامل مکمل اکمل جامع نور الہدیٰ فقیرخدا کا عاشق اور حضرت محمد مصطفیؐ کامعشوق ہوتا ہے ان مراتب کے حامل فقیر کو ’’کامل کل فقیر‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ کامل مکمل جامع نور الہدیٰ عاشق و معشوق کے جملہ مراتب کامل کُل میں آجاتے ہیں۔(نورالہدیٰ کلاں)
جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ، فنا فی ھو یعنی وحدت کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور توحید میں فنا ہو کر ’’سراپا توحید‘‘ہو جاتا ہے تو انسانِ کامل، فقیر کامل کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے وہی امامِ مبین اور وہی مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَکُلُّ شَیْئٍ اَحْصَیْنَہُ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ     (یٰسین۔12) ترجمہ:اور ہر امر کو جمع کر رکھا ہے ہم نے امامِ مبین میں۔

اس آیت میں امامِ مبین سے مراد ’’انسانِ کامل(فقیر کامل)‘‘ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر امر ، حکم اور اپنی پیدا کردہ کل کائنات کو ایک لوحِ محفوظ جو کہ انسانِ کامل کا دِل ہے میں محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانِ کامل کا دِل وہ جگہ ہے جہاں انوارِ ذات نازل ہوتے ہیں اور اسکی وسعت کا بیان و انداز ہ نہیں کیا جا سکتا۔ (شمس الفقرا)
فقیر ِ کامل اپنی نگاہ سے زنگ آلودہ قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور تزکیۂ نفس کرکے قربِ الٰہی کی منزل تک لے جاتاہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیر ِ کامل کی صحبت اور قرب ہے۔
فقیر کو نہ عزت سے غرض ہے نہ ذلت سے۔ کوئی اسے مانے یا نہ مانے اسے کوئی پرواہ نہیں۔ فقیر کی نظر میں اللہ کے سوا کسی کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہوتا۔ (سلطان العاشقین)
اگر کسی طالب ِ مولیٰ کو فقیر کامل کی صحبت میسر آئے تو اسے چاہیے کہ اپنا سب اختیار و متاع فقیر کامل کے سپرد کر دے اور اس کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرے۔ حتیٰ الامکان کوشش کرے کہ فقیر کامل کی مخالفت سے بچے اور اس کی بے ادبی سے محفوظ رہے۔ فقیر کامل کی مخالفت اور دشمنی دونوں جہان میں ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔سلطان العارفین حضر ت سخی سلطان باھوؒ فقیر کامل کے دشمن کے بارے میں فرماتے ہیں:
فقرا کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ (محبت الاسرار)
فقیر (انسانِ کامل) کے تین دشمن ہوتے ہیں یہ تینوں ہی دنیا کو دوست رکھتے ہیں۔ ایک منافق دوسرا حاسد اور تیسرا کافر۔ (اسرارِ قادری)
فقیر (انسانِ کامل) کا دشمن تین حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو مردہ دل اور حاسد عالم ہے جس کی زبان زندہ اور دل تصدیق سے بے خبر ہے یا وہ جھوٹا،منافق اور کافر ہے یا اہل ِ دنیا ہے جسے بہشت میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی۔ (عقل ِ بیدار)
ان فقرا اور مرشدانِ کامل کو مختلف ناموں سے پکارا یا یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنی تصانیف میں ’’کامل و اکمل مرشد‘‘ کو درج ذیل مختلف ناموں سے موسوم فرمایا ہے:
(1) فقیر مالک الملکی (2) امیر الکونین (3)سلطان العارفین (4)عارف کامل قادری (5) سلطان التارکین (6) صاحب ِ امر یا فقیر صاحب ِ امر (7) اولی الامر (8) فقیر (9)فقیر ِ کامل یا کامل فقیر (10)عارف باللہ یا عارف اللہ فقیر (11) مست فقیر ِ کامل (12) فقیر صاحب ِ قلب(13) صاحب ِ راز فقیر (14)صاحب ِ عین العیان، صاحب ِ عیاں فقیر یا عین العیان فقیر (15) غوث و قطب ِ وحدت یا غوث وقطب صاحب ِ تحقیق یا اہل ِ وحدت واحد غوث و قطب (16) فنا فی اللہ فقیر(17) حقیقی فقیر (18)عارف ختم الفقرا (19) ختم الفقر فقیر (20) لایحتاج فقیر یا صاحب ِ جمعیت لایحتاج فقیر (21) عاشق فقیر (22)فقیر درویش یا درویش فقیر (23) غنی فقیر (24) کامل کُل فقیر
حاصل تحریر یہ کہ تصوف کی انتہا فقر کی ابتدا ہے۔ تصوف کی تعریف بہت سے صوفیا نے کی ہے جبکہ فقر کی حقیقت فقرا نے واضح کی ہے۔ صوفیا کے نزدیک تصوف صفائے باطن اور قلبی وروحانی پاکیزگی کا نام ہے جس میں نفس کی آفات سے چھٹکارا پایا جاتا ہے۔ تصوف صفا یعنی تزکیہ اور مشاہدہ کا نام ہے۔ صوفی وہ ہے جس کا دل پاک اور اللہ سے معاملہ صاف ہوتا ہے اور اسے اللہ کی بارگاہ سے انعام واکرام حاصل ہو۔
جبکہ فقیر وہ ہے جو زمین پراللہ کا نائب اور خلیفہ ہے جس کے وجود میں اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فقرا کا درجہ صوفیا کرام سے کئی گنا زیادہ ہے۔ فقر ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب کی راہ ہے۔ فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے ربّ سے ملاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہِ فقر پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

راہِ فقر فیض است فیض عام
راہِ دنیا شرک است مطلق تمام

استفادہ کتب:
عین الفقر تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
محکم الفقرا۔ ایضاً
کشف المحجوب تصنیف حضرت سیّد علی بن عثمان ہجویریؒ
حقیقت تصوف تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری

فقرا اور صوفیا | Fuqara or Sufia” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں