سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن
Sultan-ul-Faqr Haftam Sultan-ul-Ashiqeen Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman
(دوسرا اور آخری حصہ) تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری
آپ مدظلہ الاقدس نگاہِ کامل کے حامل ہیں
نگاہ سے مراد صفت منتقل کرنا ہے جیسا کہ مجلسِ محمدیؐ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نگاہ سے طالب میں صدق، حضرت عمرؓ کی نگاہ سے عدل اور محاسبہ نفس، حضرت عثمان غنیؓ کی نگاہ سے ادب و حیااور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نگاہ سے علم و شجاعت کی صفت طالب میں منتقل ہوتی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ق وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ الجمعہ۔ 2)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس نے مبعوث فرمایا اُمیوں میں ایک رسول جواُن کو پڑھ کر سناتا ہے اس کی آیات اور (نگاہِ کامل سے)ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت (علم ِلدنی) سکھاتا ہے۔ اور اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرامؓ کو قرآنِ پاک کی تعلیم دیتے پھر نگاہِ کامل سے ان کا تزکیہ نفس فرماتے۔ بقول علامہ محمد اقبالؒ:
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس مرتبۂ کمال کے باوجود بھی ظاہری کرامات سے اگرچہ اجتناب فرماتے ہیں مگرسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے ارشاد کے مصداق:
بو کستوی دی چھپدی ناہیں، بھاویں دے رکھئیے سے پلے ھُو
آپ مدظلہ الاقدس سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوتا ہے۔ جب کوئی طالب مرشد کامل کے ہاتھ پر بیعت ہوتا ہے توابتدامیں ضرور مشاہدہ کرایا جاتاہے تاکہ وہ کامل یقین کے ساتھ راہِ فقر پر گامزن ہو جائے کہ جس ہستی کے ہاتھ میں اس نے ہاتھ دیا ہے وہ کامل ہے۔ مشاہدہ سے طالب گو مگوکی کیفیت سے نکل کر یقین کی حالت میں داخل ہو جاتا ہے اور یقین ہی ایمان ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی نظرِکرم اور مہربانی کی بدولت کثیر تعداد میں طالبانِ مولیٰ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت اور بہت سے طالبانِ مولیٰ کو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری نصیب ہوئی۔(اقتباس:سلطان العاشقین)
آپ مدظلہ الاقدس کی غلامی اختیار کرنے اور آپکی صحبت میں رہنے والے تمام طالبانِ مولیٰ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ ظاہر میں پردہ پوشی فرماتے ہیں مگر باطن میں اپنی نگاہِ کامل سے طالب کی عادات کو نیکی کی جانب گامزن فرما دیتے ہیں اور تمام نفسانی بیماریوں سے نجات دلا دیتے ہیں۔اپنے مرید کی اصلاح ایسے فرماتے ہیں کہ اس کے باطن سے تمام برائی ختم فرما کر اس کا ظاہر بھی سنوار دیتے ہیں اور باطن کو اس لائق کر دیتے ہیں کہ طالب ذوق و شوق سے فقر کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے مرید قمر عباس اپنا مشاہدہ درج کرواتے ہیں کہ انہیں نشے کی لت لگ چکی تھی وہ خود بھی اپنی اِس لت سے اس قدر تنگ آ چکے تھے کہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگے۔ ان کے ایک دوست کامران مقصود جو کہ سلطان العاشقین کے دستِ اقدس پر بیعت تھے، انہوں نے قمر عباس کو بیعت کا مشورہ دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت ہوتے ہی ان کی نشہ کی عادت ایسے چھوٹی کہ پتہ ہی نہ چلا اور یہی نہیں اب قمر عباس عوام الناس کو پیغامِ فقر دیتے ہوئے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے حصولِ فیض کی ترغیب دیتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)
صاحبِ لوح و قلم ہیں
لوح و قلم کے جملہ علوم آقاپاکؐ کو معلوم ہیںبلکہ لوح و قلم کے جملہ علوم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علوم کے چند قطرے ہیں۔ عارفین کے نزدیک تو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام علوم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا کر رکھے ہیں اور صفت ِعلیم سے کامل طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم متصف ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا ۔ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (سورۃ الجن۔ 27-26)
ترجمہ: اللہ غیب کو جاننے والا ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ۔
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (سورۃ آلِ عمران۔ 179)
ترجمہ: اللہ کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں غیب کا علم عطا کر دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔
فرمانِ مصطفیؐ ہے’’اللہ تعالیٰ نے مجھے اوّلین و آخرین کے علم کا وارث بنایا اور مختلف علوم کی مجھے تعلیم فرمائی۔ ایک وہ علم ہے کہ جس کا چھپانا مجھ پر لازم کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ ایسا علم ہے کہ جس کو میرے بغیر کوئی نہیں اٹھا سکتا، دوسرا علم وہ ہے جس کو بتانے اور چھپانے کا اختیار دیا گیا اور تیسرا علم وہ ہے کہ جس کے متعلق یہ حکم ہوا کہ ہر خاص و عام کو تبلیغ کروں۔(تفسیر روح البیان۔ صحائف السلوک صحیفہ 56 از خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی)
وہی لوح و قلم کا علم بالواسطہ یا بلاواسطہ عارفین، فقرائے کاملین کو وراثت میں منتقل ہوا جس کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنے پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:
میں شہباز کراں پروازاں، وِچ دریائے کرم دے ھوُ
زبان تاں میری کن برابر، موڑاں کم قلم دے ھوُ
افلاطون ارسطو ورگے، میرے اَگے کس کم دے ھوُ
حاتم جیہے کئی لکھ کروڑاں، در باھوؒ دے منگدے ھوُ
مفہوم: میں شہباز ِ معرفت ہوں اور سمندرِ رحمت باری تعالیٰ میرے اندر موجزن ہے۔ انسانِ کامل کے مرتبہ پر پہنچ کر مجھے زبانِ کن (زبان قدرت) حاصل ہو گئی۔ اور میں لوحِ محفوظ پر رقم شدہ تقدیر تبدیل کر سکتا ہوں۔ میرے علم کے سامنے ارسطو اور افلاطون کے علم کی کچھ بھی حیثیت نہیں اور حاتم طائی جیسے کروڑوں سخی تو خود میرے دَر پر بھکاری بن کر کھڑے ہیں۔
اس کے متعلق اس عاجزہ کا مشاہدہ بھی ہے۔ ایک روز اسمِ اللہ ذات کا تصور کر کے مراقبہ میں گئی تو دیکھا کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے ہاتھ میں قلم اور ایک رجسٹر ہے اور آپ مدظلہ الاقدس لامکاں کے مرتبہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس تقدیر لکھ رہے ہیں۔ بیشک اولیا کرام کے تصرف میں اللہ نے اعلیٰ و ارفع مقام دے رکھا ہوتا ہے۔عزیز قارئین !یاد رہے’’ فقر کا راستہ مشاہدے کا راستہ ہے اور حق الیقین تک صرف مشاہدے کے ذریعہ ہی پہنچا جا سکتا ہے۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس ہی کامل نورِ محمدیؐ کے حامل ہیں
نورِ محمدی اس کائنات میں ہر کسی میں موجود ہے لیکن یہ کامل طور پر اس ہستی میں جلوہ گر ہوتا ہے جس میں حقیقتِ محمدیہ کا ظہور ہوتا ہے اور قیامت تک ہر زمانہ میں ایک ایسے فقیر کامل موجود رہے گا جس میں حقیقتِ محمدیہ کا ظہور ہوگا اور اس میں کامل نورِ محمدی کے ظہور کی بدولت ہی دنیا قائم رہے گی۔ جیسے ہی یہ نور اٹھا لیا جائے گا کائنات ختم ہو جائے گی۔
اب سوال یہ کہ جن کے لیے یہ کائنات بنی کیاانکے نوری وجود کے بغیر اس کائنات کا قائم رہنا ممکن ہے؟ بالکل نہیں!
حقیقتِ محمدیہ کے متعلق میں اپنا ایک مشاہدہ بیان کرنا چاہوں گی۔
یہ عاجزہ خواب دیکھتی ہے کہ صحرا میں ایک بزرگ ہستی اونٹنی پر سوار ہیں اور چہرہِ مبارک ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ اونٹ سے اُتر کر صحرا میں نماز ادا کررہے ہیںاور میں بھی ان کے ساتھ نماز ادا کرتی ہوں۔ جب وہ نماز ادا کرکے واپس جانے لگتے ہیں تو میں پوچھتی ہوں کہ آپ کون ہیںتوان کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا ہے، نورانی چمکتا ہوا چہرہ حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا ہوتاہے اور آسمان سے غیبی آواز گونجتی ہے کہ یہ حقیقتِ محمدیہ کے مظہر ہیں۔
معزز قارئین! یہ خواب میں نے تب دیکھا جب میں بیعت بھی نہیں ہوئی تھی اور آپ مدظلہ الاقدس کو ظاہری طور پر بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس خواب کے چند ماہ بعد اچانک ایک حادثہ ہوااور اس حادثے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کو ظاہری طور پر دیکھا اور فوراً خواب کی دلیل مل گئی اور میں نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت کر لی۔ بیعت کے کچھ عرصے تک میں اس خواب پر پریشان رہی کیونکہ حقیقتِ محمدیہ کے متعلق مجھے ظاہری علم حاصل نہیں تھا تو بیشتر مرتبہ خواب میں مجھے یہ سمجھایا گیا کہ آپ عبدہٗ کے متعلق تفکر کریں اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تصنیف مبارکہ شمس الفقرا کا انگلش ترجمہ Sufism-The Soul of Islam بیشتر مرتبہ خواب میں دکھایا گیا۔ پس جب ظاہری علم کا مطالعہ کیا اوران کتب کا باطن میں فیض بھی محسوس کیا تو حقیقتِ محمدیہ کی سمجھ آئی۔ پھر تقریباً دو سال بعد دوبارہ یہی خواب دیکھا تو بہت بے چینی محسوس کی اور جب اگلے روز بزمِ سلطان العاشقین میں شرکت کی تو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو اُسی لباس میں پایا جس میں آپ مدظلہ الاقدس کو خواب میں دیکھا تھا۔
بلا شبہ اللہ نے کرم نوازی کی اور مجھ پر یہ راز عیاں ہوا۔ اس عنایت پر عاجزہ اللہ سے دعاگو ہے کہ اللہ پاک میرے مرشدکریم کا فیض ِہدایت ساری کائنات پر اس قدر رکھے کہ تمام خلقت آپ مدظلہ الاقدس کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال سکیں اور آپ کی امان میں آ سکیں۔
آپ مدظلہ الاقدس ہی سلطان الفقر ہفتم ہیں
رسالہ روحی شریف میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے سلطان الفقر ہستیوں کا ذکر کیا اور پانچ ہستیوں کے ناموں کا انکشاف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ان میں ایک خاتونِ جنت (حضرت بی بی فاطمۃ الزہراؓ) کی روح مبارک ہے۔ ایک حضرت خواجہ حسن بصریؓ کی روح مبارک ہے۔ ایک ہمارے شیخ، حقیقتِ حق، نورِ مطلق، مشہود علی الحق حضرت سید محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی محبوبِ سبحانیؓ کی روحِ مبارک ہے اور ایک سلطانِ انوارسر السرمد حضرت پیر عبدالرزاق فرزند حضرت پیر دستگیر (قدس سرہٗ العزیز) کی روحِ مبارک ہے۔ ایک ھاھویت کی آنکھوں کا سرچشمہ، سرّ اسرارذاتِ یاھو، فنا فی ھو فقیرباھوؒ (قدس سرہٗ العزیز) کی روحِ مبارک ہے۔ اور دیگر دو ارواح دیگر اولیا کی ہیں۔ (رسالہ روحی شریف)
دیگر دو ارواح سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور سلطان الفقر ہفتم حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ہیں۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس خود فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت بی بی فاطمہؓ کی کرم نوازی سے ہمیں اس مرتبہ تک پہنچایا ہے کہ طویل عرصہ تک کوئی اس مقام پر نہیں پہنچ سکے گا۔ سلسلہ کے امام آتے رہیں گے، اسمِ اللہ ذات کا نور ملتا رہے گا، طالبانِ مولیٰ انکی پہچان بھی کرتے رہیں گے لیکن اللہ کے احکامات کے لیے ان کا روحانی مرکز ہمارا مزار ہو گا۔ ہمارا دربار دنیا داروں کے لیے نہیںبلکہ روحانی لوگوں کے لیے فقر کا مرکز ہو گا یعنی طالبانِ مولیٰ کے لیے۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس کے مرید شکیل احمد سروری قادری بیان کرتے ہیں ’’میں دیکھتا ہوں کہ آقا پاکؐ تشریف لاتے ہیں اور حضورمرشد کریم مدظلہ الاقدس بھی وہاں تشریف فرما ہیں۔ آقاپاکؐ کے جسم سے نور نکلتا ہے اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے جسمِ مبارک میں داخل ہو جاتا ہے۔ ابھی میں مراقبہ ہی میں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنا جسم مبارک سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے جسم مبارک میں داخل فرما دیتے ہیں۔ پھر بعد میں آپ مدظلہ الاقدس وہاں موجود رہ جاتے ہیں۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس کی مرید مسز عنبرین مغیث صاحبہ فرماتی ہیں کہ انہیں علمِ دعوت میں حضرت بی بی فاطمہؓ نے فرمایا ’’کبھی اپنے مرشد کو فراموش نہ کرنا ، تم جو بھی ہو ان کی وجہ سے ہو۔ ان کی ہر حال میں اطاعت کرنااور وہ سلطان الفقر ہفتم ہیں۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس کے مرید اللہ دتہ سروری قادری بیان کرتے ہیں ’’ایک دن مراقبہ کے دوران سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ساتھ دیکھا۔ پھر کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا چہرہ مبارک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا چہرہ مبارک بن گیا اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا چہرہ مبارک حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا چہرہ مبارک بن گیا۔ پھر دونوں ایک ہی بن گئے، چہرہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کاہے۔ پھر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی غیبی آواز آئی :
یہ میں اور میں یہ ہوں، ہم ایک ہیں۔ اس زمانے میںیہ فقر کے سلطان اورسلطانوں کے سلطان ہیں مراد کہ آپ سلطان الفقر ہفتم ہیں۔‘‘
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے خلیفہ سلطان حافظ محمد ناصر مجید صاحب بیان کرتے ہیں ’’ایک رات میں نے اسمِ محمدؐ کا تصور کرکے مراقبہ کیا۔ میں صبح کے وقت آفس جا رہا ہوںاورہائی وے پر اچانک مجھے مرشد کریم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی گاڑی نظر آئی جو میری گاڑی سے کچھ فاصلے پر تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضور مرشد کریم خود گاڑی ڈرائیو کر رہے ہیں۔ جس پر مجھے حیرانی ہوئی کہ مرشد کریم اسلام آباد آئے ہوئے ہیں اور کسی نے مجھے خبر بھی نہیں دی۔ میں نے اپنی گاڑی حضور مرشد کریم کی گاڑی کے پیچھے چلانا شروع کر دی۔ چلتے چلتے حضور مرشد کریم کی گاڑی ایک جگہ رکی جو کہ ایک عظیم الشان فارم ہاؤس معلوم ہوتا تھا اور وہاں بہت سی گاڑیوں کا ہجوم تھا۔ جب میں مرشد کریم کے پیچھے داخل ہونے لگا تو ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کو کس سے ملنا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرے مرشد سلطان العاشقین ابھی اندر تشریف لے گئے ہیں اور یہ انکی گاڑی کھڑی ہوئی ہے، تواس پر ایک شخص نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیاکہ وہاںچلے جائیں۔ میں فوراً بھاگ کراس کمرے کی جانب بڑھا جس کے باہر ایک سیکورٹی گارڈ کو اشارہ کیا کہ مجھے اندر جانے دے جس پر سیکورٹی گارڈ نے مجھے اندر جانے کا کہا۔ ابھی میں نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی لیکن پھر سوچا کہ حضور مرشد کریم اندر اکیلے ہیں، مجھے اندر جا کر دیکھنا چاہیے۔ اندر داخل ہونے پر دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا ہال ہے جس میں ہر طرف دل فریب خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں اوربہت سے لوگوں کا ہجوم ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یقینا یہ سب اللہ کے مقربین ہیں، تاہم میں حضور مرشد کریم کو دیکھنے کے لیے بے چین تھا۔ جب میں نے نظر اٹھائی تو نہایت ہی دلکش منظر تھا۔ اچانک آواز آئی کہ یہ سلطان الفقر ہفتم بیٹھے ہیں۔نہایت ہی دلکش منظر نظر آیا جس سے میرے رَگ و پے میں سکون طاری ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک کرسی پر حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام تشریف فرما ہیں اور آپؐ کے دائیں جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ تشریف فرما ہیں جبکہ دائیں جانب سلطان الفقر اوّل حضرت بی بی فاطمۃ الزہراؓ، سلطان الفقر دوم حضرت خواجہ حسن بصریؓ، سلطان الفقر سوم سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ، سلطان الفقرچہارم حضرت پیر دستگیر عبدالرزاق جیلانیؓ، سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تشریف فرما ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے مرشد کریم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو مبارکباد دی کہ آپ سلطان الفقر ہفتم ہیں۔ پھر دیگر سلطان الفقر ہستیوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں سلطان العاشقین کو سلطان الفقر ہفتم ہونے پر مبار کباد پیش کی ۔پھر بے ساختہ میری نظر حضورنبی اکرم ؐ کے چہرہِ انور پر پڑی تو آپؐ نے فرمایا کہ سلطان العاشقین کے اس مرتبہ کا اعلان عوام الناس میں بھی کر دیا جائے۔‘‘(ماہنامہ سلطان الفقرلاہور)
معزز قارئین! 21 مارچ 2025ء کو محفل میں جب اس عہدے کا اعلان ہوا تو میرے دل میں دن رات یہ سوچ بنی رہتی کہ اے اللہ ! مجھ پر کرم فرما اور مجھے اس اعلان سے اپنے انداز سے آگاہی دیجئے کیونکہ آپ سلطان العاشقین نے بذاتِ خود اپنی زبانِ مبارک سے اس عہدے کا نہ کبھی ذکر کیا نہ اعلان۔ تو اللہ سے دعائیں کرتے کرتے کچھ دنوں کے بعد اسمِ محمدؐ کا ذکر و تصور کر کے معمول کے مطابق مراقبہ میں جاتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ میرے گھر کی دیوار کے ایک جانب روضۂ رسولؐ ہے اور میرے کمرے کے اندرسے گنبد رسول دکھائی دے رہا ہے۔میں خاموش ہاتھ باندھے گنبدِ رسولؐ کو دیکھ رہی ہوں کہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علیؒ تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’پریشان مت ہو، تمہارے مرشد ہی سلطان الفقر ہفتم ہیں۔‘‘ اور مجھے تین کتابیں دے کر جاتے ہیں جن میں سے ایک سلطان الوھم، دوسری رسالہ روحی شریف اور تیسری کتاب اورنگ شاہی ہوتی ہے۔
محترم قارئین!میںاس راہ پر چلتے ہر قدم اللہ اور اللہ کے حبیب ؐ کی شکر گزار ہوں کہ اللہ پاک نے یہ یقین کا سفر طے کروایا جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش دل میںنہیں رہی۔ اختتام پر دعا گو ہوں کہ اللہ پاک آپ مدظلہ الاقدس کی رحمت کو وسعت اور آپ کی غلامی میں آنے والے تمام طالبانِ مولیٰ کو آپ کی حقیقی پہچان عطا فرمائے اور اس راہ پر چلنے کی استقامت عطا فرمائے۔ بے شک یہ راہِ حق ہے، یہاں پر اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ عطا کیا جاتا ہے اور یہ ایک عظیم الشان نشانی ٔحق ہے۔ جو طالب حق کی طلب لے کر نکلتاہے تو باری تعالیٰ اسے وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں حق موجود ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِِیْن (سورۃ یٰسین ۔ 17)
ترجمہ:اور ہم پر توصرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہی ہے۔
استفادہ کتب:
۱۔مجتبیٰ آخر زمانی : تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔حقیقتِ محمدیہ : ایضاً
۳۔ مرشد کامل اکمل : ایضاً
۴۔ابیاتِ باھوکامل : تحقیق ، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۵۔الرسالۃ غوثیہ : تصنیفِ لطیف سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ
۶۔رسالہ روحی شریف: تصنیف ِلطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ،مترجم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۷۔محک الفقر کلاں : تصنیف ِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۸۔سلطان الوھم : ایضاً
۹۔نور الہدیٰ کلاں : ایضاً
۱۰۔سیرت سیدنا غوث الاعظم : تصنیف حضرت علامہ عبدالرحیم خان قادری