فرامین سلطان باھوؒ (اقتباس : عین الفقر ) Farameen Sultan-ul-Arifeen Ain-ul-Faqr
قسط نمبر 3 مترجم: پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن سروری قادری
فنا فی اللہ
میں بے سر (فنا) ہو کر خدا کو دیکھتا ہوں جس کی مثل کوئی نہیں۔ جس مقام پر میرا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا وہاں وصل کی کیا گنجائش ہے۔
ہم دریائے عشق میں اس شان سے غرق ہوئے کہ ہمارا سر ہمیشہ عرش سے بلندہی ہوتارہا ہے ۔
تیری اپنی ذات ایک ایسا حجاب ہے جو مزید ہزاروں ہزار حجابات کو پیدا کرتی ہے۔ (اے طالب!) اگر تو اپنی ذات کو فنا کر دے تو توُ دیکھے گا کہ محب اپنے محبوب (اللہ) کے ساتھ ہے (یعنی دونوںمیں جدائی اور دوئی نہیں)۔
میںنہ زاہد ہوں،نہ متقی،نہ پرہیز گار ہوں، نہ ہی راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والا ہوںبلکہ میں فنا فی اللہ ہو کر اپنے محبوب سے مل گیا ہوں۔
جو شخص روزِ ازل سے (حضوریٔ فنا فی اللہ کی) مستی میں (غرق) ہواس کا جسم اسمِ اللہ سے یوں یکتا ہوتا ہے جیسے نقش اپنے نقاش میں سمایا ہوا اور اس کے ساتھ یکتا ہوتا ہے۔
مرشد صاحب ِ تصرف فنافی اللہ بقاباللہ فقیر ہوتا ہے۔
فقیر فنا فی اللہ مجلسِ محمدی ؐ کے تمام مراتب کو اور ان مراتب کی حضوری رکھنے والوں کو جانتا پہچانتا ہے۔
فقر فنا فی اللہ اسے کہتے ہیں جو حق تعالیٰ کی توحید میں اس قدر غرق ہو چکا ہوکہ اسے اللہ تعالیٰ کی حاجت بھی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کی حاجت اسے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے جدا ہو۔
اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی ذات میںفنا فی اللہ ہوئے بغیر جتنے بھی مقامات ہیں تمام شیطان کے ہیں۔
مرد کو مقامِ فنافی اللہ میں غرقِ توحید ہونا چاہیے۔
خودی اور خدا ایک جگہ اکٹھے نہیں رہ سکتے جس طرح کہ آگ اور پانی ایک جگہ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
اللہ تعالیٰ (کے وصال) کا راستہ بال سے بھی باریک تر ہے، اس راہ میں فنا فی اللہ ذات ہونا پڑتا ہے۔
جو توحیدِ خدا میں غرق ہو کر سراپا توحید ہو گیا اس کی ذات (اللہ اور اس کے) درمیان باقی نہیں رہتی اور اسے کامل وحدت نصیب ہو جاتی ہے۔
خود کو فقر فنا فی اللہ میں راسخ اور ثابت قدم رکھ۔
حضوری میں بھی شرک اور کبر کا خدشہ رہتا ہے اسی لیے خود کو فنا کر کے فنا فی اللہ ہوجا۔
جب تک تو فنا در فنا نہیں ہو جاتا ہرگز اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔
فنافی اللہ فقرا غیر ماسویٰ اللہ سے پاک ہوتے ہیں۔
جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات میںفنا ہوکر نور ہو جاتا ہے اس کے لیے علم،ذکر اورحضوری حجاب ہوتے ہیں۔
بندہ اس وقت تک توحید میں غرق نہیں ہوتا جب تک وہ ماسویٰ اللہ سے جدا اور اللہ سے یکتا نہیں ہو جاتا۔
قلب یا دل
پہلے قلبِ سلیم حاصل کر پھر حق کو تسلیم کر۔
جو دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہو، شیطان کی تبا ہ کاریوں اور خطر ات میں پھنسا ہو ،نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس سے معمور ہو، اس پر اللہ تعالیٰ اپنی نگاہِ رحمت نہیں ڈالتا۔
اگر دل کو محبوب (اللہ) کی صحبت نصیب ہو جائے تو طالب کو ایسی جاودانی زندگی حاصل ہوتی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔
جس دِل پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نظر پڑ جاتی ہے وہ دِل نفس اور شیطان سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
جب قلب کی آنکھیں اور سر کی آنکھیںدونوں ایک ہو کر یکتائی کا تاج پہن لیتی ہیں تو اس وقت واصلوں کو معراج نصیب ہو جاتی ہے۔
اللہ کی نظر میں صرف حضوری والا دل منظور ہے۔
منظور دل وہ ہے جو پرُدرد اور صاحبِ حضور ہو، اس کی مراد (ایمان کی) سلامتی والی موت ہو، بردبار اور حلیم ہو، صراطِ مستقیم پر گامزن، (عشقِ الٰہی میں) شکستہ خاطر، اشتغالِ اللہ کی بدولت ربّ قدیم کی توحید میں غرق اور شیطان کے برے کاموں سے بیزارہو۔
جب دِل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری ہو جاتاہے تو نفس اور خواہشاتِ نفس کا حجاب ہٹ جاتا ہے۔
اگر توچاہتاہے کہ فقیر اہلِ اللہ تجھ سے راضی ہوجائیں تو صفائی دل اختیار کر کے ان سے مل جا کیونکہ فقرا کی نظر دل پر ہوتی ہیں۔
جب تک دل بیدار نہ ہو اللہ کا دیدار کیسے ہو سکتا ہے!
جسے تصدیقِ دل نصیب نہیں وہ ذاکر بھی نہیں ہوتا، خدانخواستہ کہ اسے مومن و مسلمان کہا جائے۔
زندہ دل ہرگز نہیں مرتا۔ مٹی اور کیڑے زندہ دل رکھنے والے جسم کا گوشت ہرگز نہیں کھاتے اگر چہ وہ ہزار سال پڑا رہے۔
قلب ہر وقت سر سے پاؤں تک اللہ کے شوق کی آگ میں جلتا رہتا ہے اُس کو یہ آگ اس طرح لذت دیتی ہے جس طرح سخت سردی میں آگ کی تپش اچھی لگتی ہے۔
جو دل اللہ تعالیٰ کے رازوں سے غافل ہو اسے دل نہیں کہا جاسکتا وہ تو بس ایک مٹھی خاک ہے۔
دل تو اللہ کا گھرہے، شیطان کے گھر کو تو دل کیسے کہہ سکتا ہے!
مرشد کامل کی نگاہ کے بغیر دل پر پڑے پردے ہرگز نہیں ہٹتے۔
اگر دل اور زبان میں موافقت نہ ہو تو محبت کے انوار دل میں پیدا نہیں ہوتے۔
جب میں نے خواہش کی کہ خانہ کعبہ کا طواف کرنے جاؤں تو کعبہ سے آواز آئی کہ پہلے اپنا دل (غیر اللہ سے) پاک کر پھر میری طرف آ۔
پاک دل ہر وقت کعبہ کو اپنے سامنے پاتا ہے۔ پاک صاف دل وہ ہے جو نفس کا مخالف ہو۔
تیرا دوست تیرے اندر ہے۔ اگر تو اسے دیکھنا چاہتا ہے تو اپنے دل کے آئینہ میں تلاش کر۔
اگر کسی کو تصدیق ِدل حاصل نہیںتو اس کا محض زبان سے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا اقرار کر لینا اسے کوئی فائدہ نہ دے گا۔
ہر چیز کا دارومدار تصدیقِ قلب پر ہے۔
نفس
جب تک تو خود سے فنا نہیں ہو جاتا، تو ہوا و ہوس میں قید رہے گا۔
جو شخص دنیا،خواہشاتِ شیطانی اور جاہل نفس کے قریب ہے وہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دور ہے۔
کافروں، منافقوں، فاسقوں، مردود اور لعنتی شرابیوں کا نفس امّارہ ہوتا ہے۔
اہلِ نفسِ امارہ کا دل مردہ اور سانس (ذکر ِاللہ کے بغیر) افسردہ ہوتا ہے۔
نفس سے بدتر اور کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ ہوا و ہوس کا سرچشمہ ہے اورفرعون کی طرح خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔
جس پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتاہے وہ صاحبِ نفس ہو جاتا ہے اور شہوت سے پرُ، خواہشات پرست، طالبِ دنیا، حسن پرست اور زینت کی نمائش کرنے والا بن کر شیطان کے ساتھ مل جاتا ہے۔
نفس اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتا ہے۔
نفس اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کی طلب کو کہتے ہیں۔
نفس موٹے خنزیر کی طرح ہے جو اہل ِکفر سے دوستی رکھتا ہے اور خود پرستی میں مبتلا ہو کر خوار رہتا ہے۔
نفس اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ بھی ہے اور یہی نفس فتنہ پھیلانے والا بھی ہے۔
نفس نفسانی خواہشات سے بھرا ہوا بھی ہے اور یہی نفس عادل بادشاہ بھی ہے۔
نفس رشوت اور حرام کھانے والا خبیث بھی ہے اور یہی نفس صاحبِ ارشاد ہادی مرشد بھی ہے۔
یہ نفس کبھی خود پرستی اور حرص و حسد میں گرفتار ہو کر برباد ہو جاتا ہے تو کبھی یہی نفس سلطان العارفین عاشق اور معشوق بن جاتا ہے۔
اے نفس! تونے اللہ تعالیٰ کو ایسے نہیں پہچانا جیسے اسے پہچاننے کا حق ہے۔
نفس غصے کی حالت میں درندہ اور گناہ کرتے وقت بچہ بن جاتاہے۔ نعمت ملنے پر نفس فرعون بن جاتا ہے، سخاوت کے وقت قارون، بھوک لگنے پر دیوانہ کتا اور پیٹ بھر جائے تو یہ متکبر اور مغرور گدھا بن جاتاہے۔
نفس اگربھوکا ہوتو کتے کی طرح ہوتا ہے اور اگر پیٹ بھرا ہو تو گدھا ہوتاہے۔
زندہ نفس شیطان ہے یا دیو یا غولِ بیابان ہے۔
نفس بادشاہ ہے، شیطان اس کا وزیر ہے اور دنیا ان دونوں کی ماں ہے جو ان کی پرورش کرتی ہے۔
اگر تو چاہتا ہے کہ آسانی سے منزل پر پہنچ جائے تو فوراً اپنی خودی (اَنا) کو درمیان سے نکال پھینک تاکہ نفس شرمندہ ہو جائے۔
کیا تو جانتا ہے کہ نفس کیا ہے؟ تیرے وجود کے اندر چھپا ہوا کافر ہے۔ نفس کو صرف کافر اور یہودی ہی دوست رکھ سکتے ہیں۔
نفس سے ہوشیار رہو۔
جس نے نفس پر قابو پالیا اس نے گویا شیطان اور نفسانی خواہشات کا راستہ بند کر دیا۔
اگر نفس ناپاک ہوتو جسم پرپاک لباس پہننے کا کیا فائدہ اور اگر دِل میں شرک ہو تو زمین پر سجدہ کرنے کا کیا فائدہ۔
جس نے اپنے نفس کو آبادکیا وہ شیطان کا پیروکار ہے، پس وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اللہ کے بندوں کا بھی دشمن ہے۔
جو شخص اپنے نفس کو قابو کرلیتاہے شیطان اس سے دور بھاگ جاتا ہے۔
جو شخص اپنے نفس کے چور کو قابو نہیں کرتا وہ شیطان کے قریب ہوتا ہے اور رحمن سے دور۔
نفس بادشاہ کی طرح ہے اور شیطان وزیر کی طرح ہے۔اگر بادشاہ قید ہوجائے تو وزیر اس سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قید نہیں کرتا وہ بیوقوف ہے۔
اگر باز اور چڑیا ایک ہی گھر میںہوں تو جب تک باز بندھا ہے، چڑیا کو اس سے کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر نفس بندھا ہوا ہو توبندے کو (شیطان سے) کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
مقامِ طریقت میں نفس دوسرے درجہ پر یعنی نفسِ لوّامہ ہے۔ نفسِ لوامہ کو لذت سے دور رکھ اور اس کی خواہشات کو پامال کر کے ہوا و ہوس سے بالاتر ہو جا۔
مقامِ حقیقت میںنفس تیسرے درجہ پر یعنی نفسِ ملہمہ ہوتا ہے۔ اسے عشق کی آگ اور اللہ کے ذکر سے موم کر تاکہ یہ ’مرنے سے پہلے مرجاؤ‘ کے مقام تک پہنچ جائے۔
نفس کی حقیقت کوجاننا سیکھو۔
جس شخص نے اپنے نفس کو قید نہ کیا ہووہ نفس اور شیطان کی محبت و رضا (کی طلب) میں ہے۔
اے باھوؒ نفس کو کتا کہا گیا ہے۔اس کتے کو مت پال اور شیطان کے تابع ہوکر شیطانی نہ کر۔
جس کے دِل کا رجحان نفس کی طرف ہوتا ہے اس کا دِل مکمل طور پر سیاہ ہو کر (اللہ سے) غافل ہو جاتا ہے۔
جب نفس اور دِل ایک ہو جاتے ہیں تو روح کمزور اور عاجز ہو جاتی ہے۔
جب دِل اور روح ایک ہو جاتے ہیں تو نفس کمزور، عاجز اور مفلس ہو کر تابع ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ایک بات ہزار دشمنوں کے برابر نفس اور شیطان (کے وار سے) سے بہتر ہے۔
نفس اور شیطان خداکے شریک ہیں۔
جو شخص اللہ کی بارگاہ سے دھتکارا ہوا ہوتا ہے نفس اور شیطان اس کے ہمراہ ہوتے ہیں اور اسے (مزید) گمراہ کرتے ہیں۔
نفس، شیطان، دنیا یا غیر اللہ ہر شے اللہ کے حکم کے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہے۔
نفس کے طالب و مطلوب بہت زیادہ ہیں لیکن دیدارِ مولیٰ کے طالب صاحبِ دردبہت کم ہیں۔
نفس سے ڈر اور اس کافر سے باخبر رہ۔ وہ کسی نہ کسی بہانے تجھے بلا میں مبتلا کر دیتا ہے۔
یااللہ! توُ نے نفس اور شیطان کو میرا جانی دشمن بنا دیا اور پھر فرمایا کہ میں ان سے جنگ کروں۔
محاسبہ نفس اور تزکیہ نفس
(اے طالب) محاسبہ نفس کے لیے اپنے آپ کو قاضی بنا اور اس کافر نفس کو ختم کرنے کے لیے غازی بن جا۔
اپنے نفس کی خوشنودی کے لیے بہانے نہ ڈھونڈ۔
اس دیو کے بچے نفس کااس کے سواکوئی علاج نہیں کہ اسے عشق کے سوز سے اتناجلایا جائے کہ اس کی تپش سے یہ دیو مسخر اور تابع ہو جائے۔
اپنی جان کو قربان اور نفس کو قتل کیے بغیر اور مرشد کامل اکمل کے ہاتھ پر بیعت کیے بغیر کوئی بھی راہِ ربانی حاصل نہیں کر سکتا کہ دنیافانی ہے۔
جب میں نے اپنے نفس کی گردن اڑا دی تو نفس مردِ حق بن گیا۔ اپنے نفس کو مارے بغیر کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کے عشق کو نہیں پا سکا۔
اگر نفس تابع ہوجائے تو یہ جان سے عزیز دوست بن جاتا ہے۔نفس کی حقیقت کو احمق اور بے تمیز لوگ کیا جانیں؟
اے نفس! اگر تو عیش پرستی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے تو تُو اللہ تعالیٰ کا سب سے اچھا دوست بن جائے گا اور تیری سب آرزوئیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔
طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ دن رات ہر وقت ہر لمحہ نفس کی مخالفت کرے اور کسی بھی وقت نفس سے غافل نہ رہے کیونکہ نفس کافر ہے۔
تجھے چاہیے کہ تو ہر وقت اپنے نفس کی حرکتوں اور حالتوں پر نظر رکھ اور اس کی خواہشات کو تباہ کر دے۔
اے نفس! تو نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کیاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق ہو سکے۔
دانشمند وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف خود مدعی ہو اور اس کا محاسبہ کرے۔
جب خدا اور دیو (نفس اور غیر ماسویٰ اللہ) ایک ہی جگہ (وجود میں) اکٹھے ہوں تو عشق ِ حق دیوانے دیو کو مار ڈالتا ہے۔
پیٹ اگر بھرا ہو تو شیطان کی طرح ہے اور خواہشاتِ نفس کا سرچشمہ ہے۔ اگر توخداکی طلب رکھتا ہے تو ان سب سے نجات حاصل کر لے۔
اگر تو ان مراتب پر پہنچنا چاہتا ہے جہاں اس کی آنکھ تیری آنکھ اور اس کی بات تیری بات بن جائے تو اپنے نفس کی گردن اڑا دے۔
عالم، فاضل، قاضی، مفتی، حاکم اور بادشاہ شریعت کے مطابق ہزاروں لوگوں کی تفتیش کرتے ہیں لیکن ساری عمر اپنے نفس کی تفتیش ایک بار بھی نہیں کرتے۔ لیکن فقر ا دن رات اپنے نفس کی تفتیش اور محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔
ہم اپنے نفس کو ہر در پر رسوا کرتے ہیں کیونکہ نفس ہمارادشمن ہے اور ہم اس کے دشمن ہیں۔
شریعتِ محمدیؐ
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریعت پر ہوشیاری سے کار بند رہا جائے اور سوتے جاگتے، مستی و ہوشیاری ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم رکھا جائے۔
اگرچہ تو توحید میں مکمل طور پر غرق ہی کیوں نہ ہو جائے تب بھی خلافِ شریعت اور سنت کوئی کام نہ کرنا۔
مرد وہ ہے جو باطن میں اس انتہا پر ہو جسے بیان نہ کیا جاسکے لیکن اس کے باوجود شریعت پر مکمل طور پر کاربند رہے اور ہمیشہ ذکر فکر میں مشغول رہے۔
اگر تو چاہتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تجھ سے راضی ہو جائیںتودنیا ترک کر کے شریعتِ نبویؐ کی اتباع کی کوشش کر۔
شریعت کو اپنا دوست بناؤ اور بدعت کو چھوڑ دو۔
فقیر، فقر کے اعلیٰ مراتب پر پہنچا ہوتا ہے پھر بھی ذرّہ بھر شریعت کے خلاف نہیں چلتا کہ اس کا ظاہر عام (لوگوں کی طرح) ہے مگر باطن خاص ہے۔
فقیر شریعتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا اور کوئی راہ اختیار نہیں کرتا۔
پختہ کامل مرد وہ ہے جو کسی بھی حالت میں شریعت سے باہر ہرگز قدم نہ رکھے خواہ وہ اللہ کے تمام رازوں سے واقف اور یومِ الست سے ہی سکر، مستی، قبض، بسط اور شوق و عشق کے احوال میں ہی کیوں نہ ہو۔
مرد وہ ہے جو باطن میں مقامِ لاھوت پر ہو پھر بھی شریعت پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو اور بال برابر بھی شریعت کی خلاف ورزی نہ کرے۔
(جاری ہے)