عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

تصنیف ِلطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
قسط نمبر 7                         مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

بیت:

از دل بیرون کشم غم ِدنیا و آخرت
یا خانہ جائی رخت بود یا خیالِ دوست

ترجمہ: میں نے اپنے دل سے دنیا و آخرت کی ہر پریشانی کو باہر نکال دیا ہے کیونکہ اس میں یا خیالِ دوست کو رکھا جا سکتا ہے یا غیر اللہ کو۔

یہ ہمہ اوست در مغز و پوست کے مراتب ہیں یعنی ظاہر و باطن ہر شے میں اللہ ہی ہے۔ جان لو کہ اسم اللہ ذات پاک فرشتہ کی مثل پاک ہے اور دنیا پلید کتے کی مثل نجس و ناپاک ہے۔ جب گھر میں کتا داخل ہوتا ہے تو فرشتہ باہر نکل جاتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ ہے:
لَا یَدْخُلُ الْمَلَآئِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ الْکَلْبِ
ترجمہ: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
اس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلْبِ
ترجمہ: حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

اہلِ قلب فقیر کو اہلِ کلب کی مجلس پسند نہیں آتی۔ جو خطرات کی نفی چاہتا ہو، صفاتِ قلب، تزکیہ نفس اورتجلیہ روح کا خواہشمند ہو تاکہ اس کا وجود ایک لعل کی مثل روشن ہو جائے اور وہ روشن ضمیر بن جائے تو اسے چاہیے کہ ہمیشہ مشق مرقومِ وجودیہ کرے۔ اس کا نقش یہ ہے:

جو کوئی اسمِ اللہ ذات سے ’کن فیکون‘ کا راز جان لیتا ہے، زبان سے اس کا درست اقرار اور قلب سے تصدیق کرتا ہے اور پھر اعتقاد و اخلاص سے یَا اَللّٰہ، یَا لِلّٰہ، یَا لَہٗ اور یاھُو پڑھتا ہے تو اسمِ اللہ ذات اس کے وجود میں غیر اللہ باقی نہیں رہنے دیتا۔ بعد ازاں مرشد کی توجہ و توفیق اور مشق مرقومِ وجودیہ کی بدولت اس کی تحقیق بھی ہو جاتی ہے۔ وہ نقش یہ ہے جو کلمہ طیب کی مدد سے حق کی رفاقت عطا کرتا ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔

بیت:

بہ ز ہر لذت بود لذت خدا
بہ ز ہر لذت بود لذت لقا

ترجمہ: ہر لذت سے بہتر اللہ کے قرب اور لقا کی لذت ہے۔

دیدار و لقا کی لذت اور علمِ لقا حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روزِ اوّل تصور اسمِ اللہ ذات سے حضوری اور اللہ کے انتہائی قرب کا سبق بغیر زبان کے پڑھا جائے۔ اس تصور کی بدولت قلب تمام وجود پر غالب آجاتا ہے جس کے بعد طالب تمام احوال کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرتا ہے۔ کل و جز کی ہر مشکل اور دشوار کاموں کا حل اس پر منکشف ہو جاتا ہے۔ تصور اسمِ اللہ ذات سے ایسا نور حاصل ہوتا ہے جو لاھوت لامکان تک پہنچا دیتا ہے جہاں طالب اپنی چشم ِعیاں سے اللہ کا دیدار کرتا ہے۔ اے طالب! اللہ تعالیٰ مخلوق نہیں ہے کہ جسے تو پکڑ سکے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ مال و جنس ہے جسے ہاتھ پر رکھا جا سکے۔ جس نے اسے پایا اس نے پایا، جس نے اسے پہچانا اس نے پہچانا، جس نے اسے دیکھا اس نے دیکھا، جو اس تک پہنچا وہ پہنچا اور فنا فی اللہ ہو کر غرق فی التوحید ہو گیا۔ اس راہ کا تعلق علم کے مطالعہ و شرح اور مال و دولت سے نہیں بلکہ اس کا تعلق حضوری اور ارواحِ قبور سے ملاقات سے ہے۔ یہ ان طالبوں کو حاصل ہوتی ہے جن کا باطن نور اور وجود مغفور ہو چکا ہوتا ہے اور وہ شوقِ دیدار میں مسرور اور فرحت یاب رہتے ہیں۔

جو یہ چاہتا ہو کہ روزِ اوّل ہی قطب یا غوث کے مرتبہ پر پہنچ جائے، ماہ تا ماہی تمام طبقات قدرتِ الٰہی سے اس کی نظر کے سامنے عیاں ہو جائیں اس کے لیے اس نقش کا تصور ضروری ہے جس کا تعلق اسمِ اللہ ذات، اسمِ  محمد اور کلمہ طیب کی حاضرات سے ہے۔ نقش یہ ہے:

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مَنْ طَلَبَ الدُّنْیَا فَھُوَ طَالِبُ الدُّنْیَا وَمَنْ طَلَبَ الْعُقْبٰی فَھُوَ طَالِبُ الْعُقْبٰی وَمَنْ طَلَبَ الْمَوْلٰی فَھُوَ طَالِبُ الْمَوْلٰی وَمَنْ طَلَبَ الْمَوْلٰی فَلَہُ الْکُلُّ۔

ترجمہ: جو دنیا طلب کرتا ہے وہ طالب ِدنیا ہے، جو عقبیٰ طلب کرتا ہے وہ طالبِ عقبیٰ ہے، جو اللہ کی طلب کرتا ہے وہ طالبِ مولیٰ ہے اور طالبِ مولیٰ کے لیے سب کچھ ہے۔

اگر اسمِ اللہ ذات دل میں نقش ہو جائے تو تصفیہ قلب کی بدولت دل پاک ہو جاتا ہے۔ جب طالب دل میں مستغرق ہوتا ہے تو وہ لقائے حق تعالیٰ کرتا ہے۔ میں حیرت زدہ ہوں کیونکہ یہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا  کا مرتبہ بھی ہے۔

بیت:

دل یکی نظر گاہ ربانی
خانۂ دیو را چہ دل خوانی

ترجمہ: دل ایک ایسی جگہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی نظر ہوتی ہے۔ جس دل میں شیطان ہو توُ اُسے دل کیسے کہہ سکتا ہے!

حدیثِ مبارکہ ہے:
رَاَیْتُ فِیْ قَلْبِیْ رَبِّیْ
ترجمہ:میں نے اپنے قلب میں اپنے ربّ کا دیدار کیا۔

بیت:

دل کعبۂ اعظم است بکن خالی از بتاں
بیت المقدس است مکن جائی بتگراں

ترجمہ: دل کعبۂ اعظم ہے اسے بتوں سے خالی کر دے۔ یہ بیت المقدس ہے، اسے بت خانہ مت بنا۔

حدیثِ مبارکہ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلٰی اَعْمَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَنِیَّاتِکُمْ
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اور نہ ہی تمہارے اعمال کو، لیکن وہ تمہارے قلوب اور نیتوں کو دیکھتا ہے۔

اسمِ اللہ ذات ایک آئینہ کی مثل ہے۔ دونوں جہان کا نظارہ اور آزمائش کی خاطر تمام احوال و مشاہدات کا معائنہ اسی آئینہ میں دیکھو۔   بیت:

دادہ خود سپہر بستاند
اسم اللہ جاودان ماند

ترجمہ: آسمان اسی کے پیدا کردہ ہیں اور وہ ان کو (روزِ قیامت) لپیٹ لے گا لیکن اسمِ اللہ ذات جاودانی ہے یہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔
قلب اس لازوال ذات کا ملکِ ولایت اور کل ہے جس میں دونوں جہان جز کی مانند سمائے ہوئے ہیں۔

ابیات:

قالب قلب روضۂ رضوان پاک
لحد قبرش نور چون گویند خاک
باھوؒ از ھُو یافتہ وحدت خدا
بر سر باھوؒ کہ ھو آید چرا

ترجمہ: باھوؒ نے ذکرِھو کی بدولت وحدتِ الٰہی حاصل کی ہے اس لیے ھوُ باھوؒ پر غالب آ چکا ہے۔ اس کا وجود اور قلب جنت کے ایک پاک روضے کی مثل ہیں اور اس کی قبر بھی مطلق نور ہے، اسے خاک کیونکر کہا جا سکتا ہے!

راہِ فقر کے طالب کی نشانی یہ ہے کہ وہ فقر و فاقہ کی لذت چکھتا ہے۔ فقیر ایک عارف ولی اللہ اور عالم باللہ ہوتا ہے جو خزائنِ الٰہی پر تصرف رکھنے کے باوجود لایحتاج ہوتا ہے۔ 

ابیات:

فقر یک نور است با قدرت خدا
فقر یک امر است با رحمت عطا

ترجمہ: فقر قدرتِ الٰہی کا ایک نور اور اللہ کا امر ہے اور یہ اس کی رحمت سے عطا ہوتا ہے۔

فقر یک گنج است از کان کرم
ہر کہ بیند روی فقرش نیست غم

ترجمہ: فقر ایک خزانہ اور منبع ٔکرم ہے۔ جو فقر کا چہرہ دیکھ لے اسکا کوئی غم باقی نہیں رہتا۔

فقر یک علم است با حکمت حکم
مردہ را زندہ کند با سخن قُم

ترجمہ: فقر ایک ایسا علم ہے جو احکامِ الٰہی کی حکمت بیان کرتا ہے اور یہ مردہ کو ’کن‘ کہہ کر زندہ کرنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔

فقر یک ذوق است یا باشد فضل
واقف اسرار گردد زان ازل

ترجمہ: فقر ایک ذوق یا اللہ کا فضل ہے جو ازل کے اسرار سے واقف کر دیتا ہے۔

طاعت بے ریا ہونی چاہیے۔ جس طاعت میں ریا شامل ہو جائے وہ حجابِ اکبر ہے جو قربِ الٰہی سے دور رکھتی ہے۔ اگر کوئی نقاش ہے تو وہ نقش و نگار میں مشغول رہتا ہے، اگر کوئی عالم فاضل ہے تو وہ مطالعہ میں مصروف رہتا ہے لیکن اگر کوئی عاشق ہے تو وہ اپنی جان فدا کر کے اپنا رُخ لقائے الٰہی کی طرف رکھتا ہے۔ اگر تم عاقل ہو تو ہوشیار رہو۔ انتہائے معرفت اور فقر یہ ہے کہ فنا کے بعد ہی لقا حاصل ہوتا ہے اور لقا ہی بقا کی جانب لے جاتا ہے۔ جو اِن مراتب پر پہنچ جائے اسے ذکر، فکر اور مراقبہ سے لذت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے دنیا و آخرت اور حیات و موت میں دونوں جہان کا نظارہ، حور و قصور اور بہشت کی نعمتیں پسند آتی ہیں کیونکہ لاھوت لامکان میں نورِ حضور کے دوران وہ جو کچھ بھی عیاں دیکھتا ہے اسے خود سے بیان کرتا ہے۔ اس مقام پر انتہا اور ابتدا برابر ہو جاتی ہے۔ درمیان میں رسوم، گفت و شنید، کوشش و کشش، جذب و توجہ، وجد، واردات، الہام اور درجات کے حجابات باقی نہیں رہتے۔ قربِ حق اسے مزید بیقرار کر دیتا ہے کیونکہ دل اللہ کے دیدار کا مشتاق ہوتا ہے اور اس اشتیاق میں وہ موت کا منتظر رہتا ہے کہ موت کے بعد اسے رحمتِ ربانی اور قربِ رحمانی کا لباس عطا ہوتا ہے۔ جو ان مقامات پر پہنچ جائے وہ احوال و مشاہدات، خیالات اور وساوس و واہمات سے گزر کر وصال حاصل کر لیتا ہے جو کہ لازوال مرتبہ ہے۔ یہ ہے انتہائے فقر جس میں فنا فی اللہ کا مرتبہ اور اللہ متعال کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ ان مراتب کو ’کنہ کن‘ کی حقیقت کہتے ہیں۔ ہرآنکھ نہ تو ہوشیار ہوتی ہے نہ ہی آنکھ سے دیکھی ہر چیز پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ذکر، فکر اور مراقبہ اللہ کی طرف لے جا سکتے ہیں مگر یہ کہ خواب میں طالبِ مولیٰ کبھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے حجاب دیکھتا ہے، کبھی وہ مقامِ فنا فی اللہ میں غرق ہوتا ہے اور کبھی سلطان الفقر عارفانِ باللہ کی صحبت میں رہتا ہے۔ جو ان تینوں مراتب کو پا لے وہ تمامیتِ فقر پر پہنچ جاتا ہے۔ کیا تو جانتا ہے کہ فقیر علما پر غالب ہوتا ہے اس لیے علما کو چاہیے کہ فقیر سے تلقین حاصل کر کے اس کے طالب بنیں۔ پس معلوم ہوا کہ علما مطالعہ ٔعلم اور کتاب سے جواب دیتے ہیں جبکہ فقرا حضوری سے حاصل کردہ علم سے جواب دیتے ہیں۔ وہ جو بھی قرآن و حدیث کا علم سیکھتے ہیں یا جو بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے پیغام ملتا ہے اس سے تمام مخلوق کو آگاہ کر دیتے ہیں۔ پس فقیر کو تکلیف و تقلید سے کیا سروکار؟ اس کے وجود پر نور کا لباس ہوتا ہے اور اس کا قلب دائمی حضوری میں رہتا ہے۔  بیت:

گر نبودی این مراتب اولیا
کس ندیدی وحدت روئیت لقا

ترجمہ: اگر اولیا کو یہ مراتب حاصل نہ ہوتے تو کوئی بھی وحدت اور لقا حاصل نہ کر پاتا۔

راہِ راستی پر چلنے سے نجات حاصل ہوتی ہے اور کسی کو آزار نہ پہنچانا ہی اللہ کی طرف راہبر و وسیلہ ہے کیونکہ دل آزاری مطلق گناہ ہے۔ اہل ِحضور تمام مراتب سے آگاہ ہوتے ہیں۔ بیت:

ہر کہ می بیند بود دائم خموش
نادیدہ احمق شود مطلق خروش

ترجمہ: جو شخص دیدار کر لیتا ہے وہ ہمیشہ خاموش رہتا ہے۔ جبکہ دیدار نہ کرنے والا احمق ہمیشہ شور مچاتا رہتا ہے۔

نفس پرست تو سبھی ہیں لیکن خدا پرست بہت کم ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مَظْلُوْمًا وَ لَا تَجْعَلْنِیْ ظَالِمًا 
ترجمہ: اے اللہ! مجھے مظلوموں میں سے بنا نہ کہ ظالموں میں سے۔

سبھی زندہ دل مظلوم ہیں اور وہ قربِ الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جبکہ سبھی مردہ دل ظالم ہیں جن کے چہرے کبیرہ و صغیرہ گناہوں کی کثرت کے باعث ازل سے سیاہ ہیں۔ 

ابیات:

معرفت نور است فقرش با حضور
ہر کہ فقرش میرسد شد جان غفور

ترجمہ: معرفت فقر کا نور ہے جو حضوری میں پہنچاتا ہے۔ جو فقر تک پہنچ جائے اس کی جان مغفور ہو جاتی ہے۔

برد نورش با حضورش اشتغال
جز خدا دیگر نہ بیند ہیچ حال

ترجمہ: فقر کا یہ نور حضوری میں لے جا کر اللہ کے ساتھ مشغول کر دیتا ہے پھر طالب کسی بھی حال میں اللہ کے دیدار سے غافل نہیں رہتا۔
تمامیتِ فقر کے اس مقام پر پہنچنے پر طالب ہر شے سے آگاہ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ صاحبِ نظر بن چکے ہوتے ہیں۔

ابیات:

عاشقان را قوت دیدن رویت خدا
عیش شوق و ذائقہ لذت لقا

ترجمہ: عاشقوں کو دیدارِ الٰہی سے قوت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی عیش اور شوق دیدار کی لذت کو چکھنا ہے۔

ہر کہ را اصل است بر وصلش جمال
آنچہ داند میخورد بروی حلال

ترجمہ: جس کی حقیقت جمالِ الٰہی سے وصال ہو وہ جو چاہتا ہے کھاتا ہے کیونکہ اس کے لیے سب کچھ حلال ہے۔

ہر تصرف در تصرف ملک او
احتیاجی نیست آنرا جستجو

ترجمہ: ہر تصرف پر اسے اختیارحاصل ہوتا ہے اس لیے اسے کسی اور شے کی جستجو اور احتیاج نہیں ہوتی۔

مالک الملکی فقیر عالم تمام
کل و جز در حکم او مثل غلام

ترجمہ: فقیر ہر عالم کا مالک ہوتا ہے اور کل و جز ہر شے غلام کی مثل اس کی ماتحت ہوتی ہے۔

این مراتب فقر را شد ابتدا
ہمدم و ہم صحبتی با مصطفیؐ

ترجمہ: مراتبِ فقر کی ابتدا یہ ہے کہ فقرا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمدم اور ہم صحبت ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

 
 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں