Alif | الف
عید میلاد النبیؐ
لفظ میلاد’’ولادت‘‘ سے ہے اور عید سے مراد خوشی ہے اور عید میلادِالنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مراد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی منانا ہے۔ کچھ لوگ اسے بدعت قرار دیتے ہیں اس بنا پر کہ یہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں نہیں منائی گئی۔اس طرح بہت سی ایسی چیزیںاور علوم ہیں جو کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور میں موجود نہیں تھیں بعد میں اجماع سے عمل میں آئیں لیکن درحقیقت ولادتِ مصطفیؐ کی خوشی نہ صرف اللہ تعالیٰ نے منائی بلکہ دورِنبوت، صحابہ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بھی منائی گئی۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اُس ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت باسعادت پر عید کیوں نہ منائیں جن کی بدولت ہمیں دو عیدیں (عیدالفطر اور عیدالاضحی) اور راہِ ہدایت اور صراطِ مستقیم نصیب ہوئی۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حجاز (مکہ،مدینہ) اور تما م عرب میں نہیں منائی جاتی۔ ان کے علم کے لئے عرض ہے کہ اسلام چودہ سوسال قبل آیا اور موجودہ دور جس کا تذکرہ یہ لوگ کرتے ہیں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد اور خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد 70یا 80سال قبل شروع ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ تک نہ صرف مکہ اور مدینہ بلکہ سارے عالمِ اسلام میں عید میلادالنبیؐ بڑی عقیدت و احترام سے منائی جاتی رہی ہے۔ یہ کوئی خود ساختہ اور گھڑا ہوا افسانہ نہیں ہے بلکہ حقائق کے ساتھ تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔ اس کتاب کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ حق کو پیش کرنا ہے کیونکہ حدیثِ نبویؐ ہے: ’’جو حق بات کہنے سے ڈرا وہ گونگا شیطان ہے۔‘‘ قرآن وحدیث، اکابرینِ حق کے اقوال سے اور تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ خلافتِ عثمانیہ تک عالمِ عرب میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بڑی شان و شوکت سے منائی جاتی رہی ہے۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد سے ہی دنیا کو دولتِ ایمان اور ہدایت و رحمت نصیب ہوئی۔ دنیا وآخرت کی تمام نعمتیں و رحمتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کی وجہ سے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی کو تمام جہانوں کے لئے رحمت اور مومنین کے لئے انعام و احسان فرمایا ہے۔
(سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تصنیف و تالیف ’’حقیقت عید میلاد النبیؐ‘‘ سے اقتباس)