سیرت ِ محمدیؐ کے درخشاں پہلو
Seerat e Mohammadi s.a.w.w Kay Darakhshaan Pehlu
تحریر: فقیہہ صابر سروری قادری
انسانی تاریخ میں ایسی ہستیوں کی مثال بہت کم ملتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر پہلو سے بنی نوع انسان کے لیے ایک لازوال اور مکمل نمونہ پیش کیا ہو۔ وہ ہستی صرف اور صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ہے جن کی زندگی، سیرت اور تعلیمات آج بھی کروڑوں انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؐ کی بعثت سے قبل عرب معاشرہ جہالت، ظلم اور اخلاقی پستی کا گڑھ تھا، جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، قبائلی عصبیت عروج پر تھی اور عدل و انصاف کا تصور ناپید تھا۔ اس تاریک دور میں آپؐ نورِ ہدایت بن کر تشریف لائے اور صرف 23 سال کے مختصر عرصے میں نہ صرف ایک انقلاب برپا کر دیا بلکہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے ابدی اصول قائم کیے جو ہر زمانے کے لیے قابلِ عمل ہیں۔
آپؐ کی سیرتِ طیبہ کا ہر گوشہ، خواہ وہ نبوت سے قبل کی زندگی ہو یا اعلانِ نبوت کے بعد کی جدوجہد، مکی دور کے صبر و استقامت کا پہلو ہو یا مدنی دور کی حکمرانی اور عدل کا، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، ایک درخشاں مثال ہے۔ آپؐ کی ذاتِ مبارکہ میں ایک کامیاب رہنما، منصف، معلم، سپہ سالار، حکمران، شوہر، باپ اور دوست کے تمام کمالات اس طرح جمع تھے کہ اس کی نظیر کائنات میں نہیں ملتی۔ آپؐ نے اپنے قول و فعل سے ایسا نمونہ پیش کیا جو محض نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا کامل رہبر ہے۔ آئیے، سیرتِ محمدیؐ کے انہی درخشاں پہلوؤں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو آج بھی ہمارے لیے باعثِ سبق اور رہنمائی ہیں۔
کفر کا خاتمہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مکہ میں بعثت کے بعد اوّلین فریضہ کفر و شرک کا خاتمہ اور توحید (اللہ کی وحدانیت) کی دعوت دینا تھا۔ یہ ایک انتہائی مشکل اور حساس کام تھاکیونکہ عرب معاشرہ صدیوں سے بت پرستی، قبائلی عصبیت اور اخلاقی پستی میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپؐ نے اس گہرے کفر کو ختم کرنے اور لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار حکمتِ عملی پر مبنی طریقہ اپنایا جو بیک وقت روحانی، فکری اور عملی پہلوؤں پر مشتمل تھا۔ کفر کی سب سے بڑی بنیاد شرک تھی یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا۔ آپؐ نے سب سے پہلے اس عقیدے پر ضرب لگائی اور لوگوں کو خالص توحید کی دعوت دی۔ قرآنِ مجید میں لوگوں کو بتوں کی بے بسی اور اللہ کی مطلق حاکمیت کا یقین دلایا گیا۔
قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ ج اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ ج لَمْ یَلِدْ لا وَ لَمْ یُوْلَدْ۔لا وَ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ (سورۃ الاخلاص)
ترجمہ:(اے نبی ٔمکرّم!) آپ فرما دیجئے وہ اللہ ہے جو یکتا ہے۔اللہ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔
یہ سورۃ توحید کا جامع ترین بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ عبادت صرف ایک اللہ کی ہونی چاہیے، اسی سے مدد مانگی جائے اور اسی پر بھروسہ کیا جائے۔ یہ تعلیم لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کی گئی کہ بتوں کا نہ نفع ہے نہ نقصان۔
اخلاقی اصلاح اور کردار سازی
کفر صرف عقائد کی خرابی سے نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی بگاڑ بھی تھا۔ آپؐ نے لوگوں کی اخلاقی تربیت کی، انہیں سچائی، امانت داری، صلہ رحمی، عدل و انصاف اور شرافت جیسی اقدار سکھائیں۔ آپؐ خود صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے اور آپؐ کی سیرتِ طیبہ ہر لحاظ سے ایک بہترین نمونہ تھی۔ لوگ آپؐ کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرتے تھے۔
آپؐ نے واضح کیا کہ ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ یہ اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔
ابتدا میں خصوصاً مکی دور میں آپؐ نے لوگوں کو اسلام کی دعوت انتہائی حکمت، نرمی اور خوبصورت انداز میں دی۔ آپؐ نے کبھی زبردستی نہیں کی بلکہ دلیل، منطق اور اخلاقی قوت سے لوگوں کے دلوں کو جیتا۔ ارشادِ ربانی ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (سورۃ النحل۔ 125)
ترجمہ: (اے رسولِ معظمؐ!) آپ اپنے ربّ کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث(بھی) ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو۔
خاتم النبیین نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معجزاتی شخصیت، آپؐ کا اعلیٰ کردار، سچائی، امانت داری اور ہر حال میں ثابت قدمی وہ بنیادی عوامل تھے جنہوں نے لوگوں کو آپؐ کی نبوت پر ایمان لانے پر مجبور کیا۔ جو لوگ آپؐ کو جانتے تھے، انہوں نے کبھی آپؐ کی باتوں میں جھوٹ نہیں پایا۔ آپؐ کے دشمن بھی آپؐ کو صادق اور امین تسلیم کرتے تھے۔
ابو جہل نے ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ آپ جو (دین) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں۔ (جامع ترمذی۔3064)
تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی:
فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ (سورۃالانعام۔33)
ترجمہ: ’’وہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘
مدینہ کی ریاستی تشکیل
یثرب کو مدینہ منورہ میں تبدیل کرنا صرف ایک شہر کا نام بدلنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنا تھا جہاں مختلف قبائل اور مذاہب کے لوگ ایک معاہدے (میثاقِ مدینہ) کے تحت امن و امان سے رہ سکتے تھے۔ اس معاشرے میں غریب و امیر، کالے و گورے سب برابر تھے۔ یہ اس دور کی سب سے ترقی یافتہ شہری اور ریاستی دستاویز تھی جو آپؐ کی انتظامی اور سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ (سیرت ابنِ ہشام)
آپؐ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم کر کے ایک بے مثال معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اس بھائی چارے نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑا اور اتحاد و یگانگت کا درس دیا۔
حضرت بلال حبشیؓ جیسے غلام کو مؤذن کی فضیلت بخشی گئی اور حضرت سلمان فارسیؓ جیسے عجمی کو اہم مقام ملا۔ یہ اسلام کی مساوات کا عملی مظاہرہ تھا۔
جیسے جیسے مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوئیں، اسلام کی قوت اور وقار میں اضافہ ہوا۔ فتح مکہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے بعد لاکھوں لوگ اسلام میں داخل ہوئے کیونکہ انہوں نے اللہ کی مدد اور اسلام کی سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔
فتح مکہ کے بعد جب آپؐ نے عام معافی کا اعلان کیا تو اس نے دشمنوں کے دلوں میں بھی اسلام کی حقانیت کو ثابت کر دیا اور لوگ جوق در جوق ایمان لائے۔ چنانچہ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَ الْفَتْحُ۔لا وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ (سورۃ النصر۔ 1,2)
ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں (کہ) وہ اللہ کے دین میں جوق دَر جوق داخل ہو رہے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفر کو حکمت، صبر، اخلاق اور عملی جدوجہد سے ختم کیا۔
حکمتِ عملی اور دور اندیشی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو آپؐ کی بے مثال حکمتِ عملی اور دور اندیشی تھی۔ آپؐ نہ صرف روحانی قیادت فراہم کرتے تھے بلکہ عملی زندگی کے پیچیدہ ترین مسائل کا حل بھی انتہائی ذہانت سے نکالتے تھے۔
صلح حدیبیہ
صلح حدیبیہ آپؐ کی حکمتِ عملی کا ایک بہترین ثبوت ہے۔ بظاہر یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں مسلمانوں کو کمزور پایا گیا لیکن اس کے دور رس نتائج نے اسلام کے فروغ کی راہیں کھول دیں۔ عمرہ ادا کیے بغیر لوٹنا، شرائط کا بظاہر ناگوار لگنا، یہ سب اس وقت کے لیے مشکل تھا مگر آپؐ نے مستقبل کی کامیابیوں کا ادراک کیا جو بعد میں فتح مکہ کی بنیاد بنی۔
صلح حدیبیہ کو قرآن میں ’’فتح مبین‘‘ (واضح فتح) کہا گیا ہے جو اس کی حکمت عملی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (سورۃ الفتح۔1)
ترجمہ: (اے حبیب ِ مکرم!)بے شک ہم نے آپ کے لیے (اسلام کی ) روشن فتح (اور غلبہ ) کا فیصلہ فرمادیا (اس لئے کہ آپ کی عظیم جدوجہد کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جائے )۔
(صحیح بخاری میں صلح حدیبیہ کے تمام واقعات تفصیل سے موجود ہیں ) (حدیث نمبر 2731)
نفسیات کا گہرا فہم اور انسانی تعلقات
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر انسان کی نفسیات کو گہرا سمجھتے تھے اور اسی کے مطابق اس سے پیش آتے تھے۔ آپؐ نے کبھی کسی کو مجبور نہیں کیا بلکہ ہمیشہ نرمی، افہام و تفہیم اور ذاتی مثال سے دل جیتے ۔
آپؐ ہر صحابی کے مزاج اور صلاحیت کے مطابق اس کو ذمہ داری سونپتے تھے۔ حضرت عمرؓ کی سختی، حضرت ابوبکرؓ کی نرمی، حضرت علیؓ کی شجاعت اور حضرت عثمانؓ کی حیا، آپؐ نے ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کا احترام کیا اور انہیں اسلام کی خدمت میں استعمال کیا۔
مزاح اور شگفتگی
عمومی تاثر کے برعکس نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی شخصیت میں مزاح اور شگفتگی کا ایک حسین رنگ بھی تھا۔ آپؐ کا مزاح کبھی گستاخانہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ہمیشہ حق اور حکمت پر مبنی ہوتا تھا جس سے لوگ خوش ہوتے تھے اور ان کا دل ہلکا ہوتا تھا۔
ایک بوڑھی عورت آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں جنت میں جاؤں۔ آپؐ نے مسکراتے ہوئے فرمایا’’جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔‘‘ وہ عورت پریشان ہو گئی تو آپؐ نے وضاحت فرمائی ’’اہلِ جنت کو اللہ تعالیٰ نوجوان بنا کر جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (شمائل ترمذی۔ 227)
یہ آپؐ کے لطیف مزاح کی ایک مثال ہے۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے درخواست کی کہ کوئی سواری کا جانور مجھے عطا فرما دیجئے۔
حضور اقدسؐ نے فرمایا’’میں تمہیں اونٹ کا بچہ دوں گا۔‘‘
اس نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! اونٹ کا بچہ میرے کس کام آئے گا؟ آپؐ نے فرمایا ’’ہر اونٹ کسی اونٹ کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔‘‘(شمائل ترمذی۔ 225)
مندرجہ بالا واقعات آپؐ کی شگفتہ طبعی کو ظاہر کرتے ہیں۔
عملیت پسندی اور جدت
آپؐ کی شخصیت محض نظریات تک محدود نہیں تھی بلکہ آپؐ عملیت پسند اور جدید طرزِ فکر کے حامل تھے۔ آپؐ نے اپنے دور کے مطابق بہترین حل پیش کیے اور نئے طریقوں کو اپنانے سے گریز نہیں کیا۔
غزوہ احزاب کے موقع پر جب مسلمانوں کے پاس دشمن کے لشکر کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا جو عرب میں ایک نیا طریقہ تھا۔ آپؐ نے خود بھی اس کام میں حصہ لیا۔
یہ آپؐ کی عملیت پسندی اور مشورے کو قبول کرنے کی بہترین مثال ہے۔
آپؐ نے صفائی اور حفظانِ صحت پر بہت زور دیا جو اس وقت کے معاشروں میں اتنا عام نہیں تھا۔ وضو کی اہمیت، مسواک کا استعمال، اور جسمانی صفائی پر کثیر احادیث آپؐ کی عملیت پسندی اور صحت مند معاشرے کے قیام کی فکر کو ظاہر کرتی ہیں۔
عورتوں پر نرمی
اسلام میں عورت کو جو مقام دیا گیا ہے وہ کسی اور مذہب یا معاشرے میں نہیں ملتا اور اس کی سب سے بڑی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اپنی سیرتِ طیبہ ہے۔ آپؐ نے نہ صرف زبانی طور پر عورتوں کے حقوق بیان کیے بلکہ عملی زندگی میں ان کے ساتھ نرمی، شفقت اور احترام کا ایسا بے مثال نمونہ پیش کیا جو انسانیت کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
بیٹیوں سے محبت اور ان کی پرورش کی فضیلت
عرب معاشرے میں جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیٹیوں کی قدر و منزلت کو اجاگر کیا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے اور آپ ؐنے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔(صحیح مسلم۔6695)
آپؐ خود اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جب وہ تشریف لاتیں تو آپؐ کھڑے ہو کر استقبال کرتے، ان کی پیشانی چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی مشکلات، تکالیف اور خوشیوں پر صبر شکر کرے، اللہ ان بچیوں پر اس کی مہربانی کے سبب اس شخص کو جنت میں اپنے فضل سے داخلہ عطافرمائے گا۔‘‘ کسی نے پوچھا ’’یا رسول اللہ! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟‘‘ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے۔ کسی نے پوچھا ’’یا رسول اللہ! اگر ایک بیٹی ہو تو؟‘‘ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے۔(مسند احمد۔ 8406)
یہ احادیث بیٹیوں کی پرورش پر زور دیتی ہیں اور والدین کو ان کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک
آپؐ نے اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ انتہائی نرمی، عدل اور محبت کا برتاؤ کیا۔ آپؐ نے مردوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کریں۔ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (سورۃ النسائ۔19)
ترجمہ:اور ان (عورتوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے رہو۔
یہ آیت مردوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کی تلقین کرتی ہے۔
آقاپاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہو اور میں تم میں سے اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہوں۔ (ترمذی۔ 3895)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مرد کی اچھائی کا معیار اس کا گھر میں برتاؤ ہے۔ آپؐ نے خواتین کے حقوق کو اہمیت دی اور ان کے جذبات کا احترام کیا۔ آپؐ نے عورتوں کے معاشی، سماجی اور قانونی حقوق کو تسلیم کروایا، ان کو وراثت کا حق دیا، ان کی گواہی کو تسلیم کیا اور ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے۔
قبل از اسلام عورت کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا تھا لیکن اسلام نے انہیں مقررہ حصہ دیا۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے میراث میں مردوں اور عورتوں دونوں کے حصے کا ذکر کیا ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ترکے میں مردوں اور عورتوں دونوں کا حصہ ہے، چاہے وہ حصہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ ص وَ لِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ ط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (سورۃ النسائ۔ 7)
ترجمہ:مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے۔
آپؐ نے بعض اوقات مشکل ترین فیصلوں میں بھی اپنی ازواج سے مشورہ کیا، جیسے صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا مشورہ۔ یہ خواتین کی فہم و فراست اور ان کی رائے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات اور سیرت کا ہر پہلو عورتوں پر نرمی، ان کے حقوق کی پاسداری اور جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے منور کرنے کی بہترین مثال ہے۔ آپؐ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں عورت کو عزت ملی اور علم کی قدر کی گئی۔
جہالت کا خاتمہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد سے قبل عرب معاشرہ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ علم کا فقدان تھا، توہم پرستی عام تھی اور اخلاقی پستی عروج پر تھی۔ آپؐ نے اس جہالت کو ختم کرنے کے لیے علم اور تعلیم پر بے پناہ زور دیا۔
علم کو فرض قرار دینا
آپؐ نے علم حاصل کرنے کو ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا۔ یہ ایک انقلابی قدم تھا جس نے صدیوں پرانی جہالت کا خاتمہ کیا۔جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے:
علم کا حصول ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔(سنن ابن ماجہ۔ 224)
یہ حدیث واضح طور پر تعلیم کی عالمگیر اور لازمی حیثیت کو بیان کرتی ہے۔
قرآن اور حکمت کی تعلیم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی جو سراسر حکمت اور نور ہے۔ آپؐ کی تعلیمات نے لوگوں کے عقائد، اعمال اور اخلاق کو پاک کیا۔ قرآن نے بار بار غور و فکر، تدبر اور عقل کے استعمال کی ترغیب دی تاکہ لوگ جہالت کی زنجیریں توڑ سکیں۔ قرآنِ مجید کی یہ دعا علم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (سورۃ طہٰ۔ 114)
ترجمہ: اور کہہ دو: اے میرے ربّ! میرے علم میں اضافہ فرما۔
مسجدِنبویؐ کو درس گاہ بنانا
آقا پاکؐ نے مسجدِنبوی ؐکو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک عظیم درس گاہ میں تبدیل کر دیا۔ یہاں لوگ قرآن، حدیث، فقہ اور زندگی کے آداب سیکھتے تھے۔ صفہ کے اصحابؓ علم کے حصول میں رات دن گزارتے تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ آپؐ نے علم کی ترویج کو کتنی اہمیت دی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر (علمِ دین) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ۔ 227)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مسجدِنبویؐ کے قیام کا بنیادی مقصد علم کا حصول اور اس کی ترویج تھا۔
تعلیم یافتہ قیدیوں سے استفادہ
غزوۂ بدر کے بعد جب قریش کے قیدی پکڑے گئے تو آپؐ نے ان میں سے پڑھے لکھے قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ منفرد شرط رکھی کہ وہ دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو ان کو رہا کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام آپؐ کی علم دوستی اور جہالت کے خاتمے کے لیے عملی جدوجہد کا عکاس ہے۔ (سیرت ابنِ ہشام، جلد 2، صفحہ 297)
جہالت پر مبنی رسوم و رواج کا خاتمہ
آپؐ نے جہالت پر مبنی تمام رسوم و رواج جیسے بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، شراب نوشی، سود خوری اور قبائلی عصبیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ آپؐ نے خلقِ خدا کو توحید اور اخلاقی اقدار کی طرف بلایا جس سے ذہنی اور عملی جہالت کا خاتمہ ہوا۔
آپؐ کااندازِ تعلیم بہت جامع تھا۔ آپؐ قرآن کے احکام کی وضاحت فرماتے، دین کے بنیادی عقائد سکھاتے، اخلاقیات پر زور دیتے اور صحابہ کرام ؓکے سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا:
میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(سنن ابن ماجہ۔229)
نورِ ھوُ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شخصیت اَن گنت پہلوؤں کی حامل ہے جو آپؐ کو نہ صرف ایک پیغمبر بلکہ ایک ہمہ گیر قائد، ایک ہمدرد انسان اور ایک کامیاب معلم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے ایک مکمل نمونہ اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
خاتم النبیینؐ کی سیرت کا عکاس، مرشد کامل اکمل
ہم نے اس مضمون میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بے مثال شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ بطور ایک بے مثال قائد، حکمتِ عملی کے ماہر، رحمت و شفقت کا پیکر، عدل و انصاف کا علمبردار اور جہالت کے اندھیروں کو مٹانے والا۔ آج کے دور میں جب ہر طرف فکری انتشار، مادہ پرستی کا غلبہ اور روحانی بے چینی ہے تو مرشد کامل اکمل کی شخصیت انہی نبویؐ صفات کا عملی مظہر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نیابت کا حسین پرتو پیش کرتی ہے۔ مرشد کامل اکمل وہ ہستی ہے جو حضورؐ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امت کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ مرشد کامل اکمل کی ذات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے وہ روشن پہلو نمایاں نظر آتے ہیں جو کفر کو مٹا کر ایمان کو زندہ کرتے ہیں اور جہالت کو علم سے بدلتے ہیں۔
توحید کا فروغ اور ایمان کی پختگی:
جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفر و شرک کا خاتمہ کر کے توحید کی بنیاد رکھی، آج بھی مرشد کامل اکمل اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے شرک کی آلودگی کو صاف کرتے ہیں اور انہیں خالص توحید کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ ایمان کی حقیقی روح کو بیدار کرتے ہیں نہ کہ صرف ظاہری رسومات کو۔ وہ لوگوں کے اندر اللہ پر کامل بھروسے اور اس کی محبت کو پروان چڑھاتے ہیں جیسے حضورؐ نے بتایا ’’اللہ پر کامل توکل کرو۔‘‘ (ترمذی۔ 2344)
مرشدکامل اکمل بھی اپنے مریدین کو ظاہری اسباب سے ہٹا کر اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتا ہے جس سے ان کے ایمان میں پختگی آتی ہے۔
اخلاقی اصلاح اور کردار سازی:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت کا اہم پہلو اخلاقی بلندی اور کردار سازی تھا۔ مرشد کامل اکمل بھی اپنے مریدین کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ وہ انہیں تکبر، حسد، غیبت اور دیگر باطنی بیماریوں سے پاک کرکے عاجزی، محبت، صبر، شکر اور ایثار جیسے نبویؐ اخلاق اپنانے کی ترغیب دیتاہے۔
یہ دراصل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان کی عملی شکل ہے ’’میں تو صرف اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح۔ 5096)
رحمت، شفقت اور نرمی کا پیکر:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں۔ مرشد کامل اکمل بھی اپنے مریدین اور عام لوگوں کے ساتھ بے پناہ رحمت اور شفقت کا برتاؤ کرتا ہے۔ وہ مایوسوں کو امید دیتے ہیں، غمزدوں کو تسلی دیتے ہیں اور کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں۔ ان کا طرزِعمل وہی نبویؐ طرزِعمل ہوتا ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور دلوں کو محبت سے لبریز کرتا ہے۔ یہ ان کے ذریعے اللہ کے اس حکم کی تعمیل ہے:
وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (سورۃ الحجر۔88)
ترجمہ:اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے (شفقت و التفات کے) بازو جھکائے رکھئے۔
عدل و انصاف اور مساوات کا فروغ:
جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عدل و مساوات پر مبنی معاشرے کی بنیاد رکھی، مرشد کامل اکمل بھی اپنی صحبت میں کسی رنگ و نسل، حسب و نسب، یا امیر و غریب کی تفریق نہیں کرتا۔ ان کی محفل میں سب برابر ہوتے ہیں اور ہر ایک کو یکساں احترام و محبت ملتی ہے۔ یہ دراصل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک مساوات پر مبنی نظام قائم کرنے کی کوشش ہے جس کا عملی نمونہ مدینہ کی ریاست میں قائم کیا گیا تھا۔
جہالت کا خاتمہ اور علمِ نافع کا حصول:
نبی پاکؐ نے جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے بدلا۔ آج مرشد کامل اکمل بھی اپنے مریدین کو صرف ظاہری علوم ہی نہیں بلکہ باطنی علوم اور معرفتِ الٰہی سے بھی آراستہ کرتا ہے۔ وہ انہیں دین کی حقیقی سمجھ، قرآن و سنت کی گہری بصیرت اور اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ یہ دراصل علمِ نافع (فائدہ مند علم) کا حصول ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب بناتا ہے جیسا کہ حدیث میں ارشادِ نبویؐ ہے:
جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ (صحیح بخاری۔ 71)
مرشد کامل بھی اپنے مریدین کی اسی دینی سمجھ اور بصیرت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
مرشد۔حضور اکرمؐ کا نائب:
مرشد کامل اکمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب اس لیے کہا جاتاہے کیونکہ وہ آپؐ کی روحانی و اخلاقی وراثت کو آگے بڑھاتا ہے۔ مرشد کامل اکمل موجودہ دور میں لوگوں کو حضورؐ کی سیرتِ طیبہ سے جوڑنے اور ایمان و اخلاق کو مستحکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کا بیج دلوں میں بوتا ہے اور ایک بہترین انسان اور سچا مسلمان بننے کی راہ دکھاتا ہے۔
مرآۃ العارفین میں درج ہے:
یہی وہ لوگ ہیں جن کی اپنی ذات عشقِ الٰہی اور عشقِ رسولؐ کی تپش سے فنا ہو چکی ہے اور جو اپنی اصل حقیقتِ محمدیہ یعنی وحدت تک پہنچ چکے اور اب نورِ محمد ہی ان کی اصل حقیقت ہے۔
مرشد کامل اکمل نبی اکرمؐ کے روحانی نائب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ نہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہی شریعت میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں بلکہ درحقیقت نبویؐ تعلیمات اور سنتِ نبویؐ کو اس کے حقیقی رنگ میں زندہ کرتے ہیں اور لوگوں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ کے عملی نمونے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ سے جوڑنا، تزکیۂ نفس کے ذریعے باطنی پاکیزگی عطا کرنا اور انہیں ایک حقیقی مسلمان بنانا ہے۔ اس طرح وہ اس روحانی سلسلے کی کڑی ہیں جو حضور نبی اکرمؐ سے لے کر آج تک جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’جان لو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! پھر کون ہو گا؟‘‘ آپ ؐنے فرمایا ’’میرے خلفاہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے۔ سو جسے تم سیدھے راستے پر پاؤ اس کے ساتھ بیعت (عہدِوفا) نبھاؤ اور جو سیدھی راہ پر نہ رہیں انہیں ان کا حق دے دو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔‘‘ (ابن ماجہ۔2871)
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں ہے تاکہ تم اس کی اتباع کرو۔ پس جب تم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین کی اتباع کرو گے جو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم تھے توگویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کی۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے توگویا تم نے آقا پاک علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی زیارت کی۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 14)
جس طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک نگاہ نے صحابہ کرامؓ کو بدل دیا، اسی طرح آج کے مرشد کامل کی نگاہ بھی طالب کے دل کی دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مرشد کامل کی نگاہِ فیض سے طالب کے نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دل میں اللہ کا نور پیدا ہوتا ہے۔
باطنی پاکیزگی کے لیے صرف ظاہری اعمال کافی نہیں بلکہ ایک کامل مرشد کی صحبت اور نگاہ بھی ضروری ہے جو طالب کے باطن کو اندرونی آلائشوں سے پاک کرے۔ مرشد کامل اکمل لوگوں کو مادیت پرستی، روحانی غفلت اور دین کے بارے میں غلط فہمیوں سے نجات دلاتا ہے۔ وہ نہ صرف ظاہری علوم کی قدر کرتا ہے بلکہ حقیقی علمِ دین اور معرفتِ الٰہی کی ترویج کرتا ہے جو انسان کو اللہ کے حقیقی قرب تک لے جاتا ہے۔
آج کے دور میں مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر وہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جو صحابہ کرامؓ کے تزکیہ کا باعث بنا۔ آپ نہ صرف اسلام کی حقیقی روح کو زندہ کر رہے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کو باطنی طور پر پاک کر کے انہیں عشقِ الٰہی اور اطاعتِ رسولؐ کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تسلسل ہے جو قیامت تک جاری رہے گا اور جو انفرادی سطح پر تزکیۂ نفس اور اجتماعی سطح پر امت کی روحانی اصلاح کا باعث بنتا رہے گا۔ان شاء اللہ!
استفادہ کتب:
مرآۃ العارفین: تصنیفِ لطیف سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ
سیرتِ النبیؐ: ڈاکٹرطاہرالقادری
Very good blog
SubhanAllah ❤️
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے اور آپ ؐنے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔(صحیح مسلم۔6695)
بہت بہترین
آج کے دور میں مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر وہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جو صحابہ کرامؓ کے تزکیہ کا باعث بنا۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
BHT khoob
Great 👍
آپؐ نے واضح کیا کہ ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ یہ اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔
Ya Allah Punjtan Pak k wastay hum pe apna fazal farma 🤲🤲🤲🤲🤲 humaray gunah maaf farma 🤲🙏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’جان لو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! پھر کون ہو گا؟‘‘ آپ ؐنے فرمایا ’’میرے خلفاہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے۔ سو جسے تم سیدھے راستے پر پاؤ اس کے ساتھ بیعت (عہدِوفا) نبھاؤ اور جو سیدھی راہ پر نہ رہیں انہیں ان کا حق دے دو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔‘‘ (ابن ماجہ۔2871)