روزہ یا بھوک ؟ Roza Ya Bhook
تحریر: مسز فقیہہ صابر سروری قادری
روزہ یا بھوک؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا ہمارا عمل محض ایک رسم ہے یا ایک زندہ حقیقت؟ کیا ہم صرف سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا حساب رکھتے ہیں یا اپنے نفس کے عروج و زوال پر بھی نظر رکھتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پیٹ کا خالی ہونا محض ایک فاقہ(بھوک) ہے جبکہ روح کا بے لگام خواہشات سے دستبردار ہو جانا ’’روزہ‘‘ ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک ایسی مخلوق ہیں جس کا ایک پاؤں مٹی (مادیت) میں ہے اور دوسرا آسمان (روحانیت) میں۔ سال کے گیارہ مہینے ہم اپنی مٹی کی دیواروں کو سینچنے، معدے کی آگ بجھانے اور خواہشات کے انبار لگانے میں صرف کر دیتے ہیںجس سے ہماری روح آہستہ آہستہ مادیت کے ملبے تلے دَب کر رہ جاتی ہے۔ روزہ دراصل اسی روح کو بیدار کرنے کی ایک سالانہ مہم ہے۔ یہ صرف کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لینے کا نام نہیں بلکہ یہ مادیت کے شور میں روح کی سرگوشی سننے کا نام ہے۔
یہ صرف پیٹ کو خالی رکھنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے ربّ کو یہ بتانے کا طریقہ ہے ’’اے اللہ! میرے لیے تیری رضا ان نعمتوں سے زیادہ اہم ہے جو میرے سامنے پڑی ہیں۔‘‘ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنِ کریم ہمیں روزے کی فرضیت اور اصل مقصد بتاتا ہے۔
روزہ کی فرضیت
فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (سورۃ البقرہ۔185)
ترجمہ:پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے۔
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم 02ھ میں تحویلِ قبلہ سے کم و بیش پندرہ روز بعد نازل ہوا۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شعبان کے آخری دن ہم کو خطبہ ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! ایک بہت بڑے مہینہ نے تم پر سایہ کیا ہے۔ اللہ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ اس ماہ میں جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ کی طرف ’’قرب‘‘ چاہے اس کو اس قدر ثواب ملتا ہے کہ گویا اس نے فرض ادا کیا۔ جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر (70) فرض ادا کیے۔ وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، وہ مساوات ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور جو ایک روزہ دار کو روزہ افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس سے روزے دار کے ثواب میں کمی نہیں آتی۔‘‘
ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ؐ!ہم میں سے ہر شخص روزہ افطار نہیں کروا سکتا۔ خاتم النبیین رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی یہ ثواب عطا فرماتاہے جو ایک گھونٹ دودھ، ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے کسی کا روزہ افطار کراتا ہے۔ جو روزہ دار کو سیر ہو کر کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا، وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہو گا۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اوّل حصہ رحمت،درمیانہ حصہ بخشش اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام (نوکر) کا بوجھ ہلکا کر دے اللہ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
حضور پرنور خاتم النبیٖین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ِمبارک ہے ’’رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ، شعبان میرا اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے۔‘‘
روزہ کی فرضیت کا مقصد
ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (سورۃ البقرۃ۔ 183)
ترجمہ:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم ’’تقویٰ‘‘اختیار کرو۔
اس آیتِ مبارکہ سے روزے کا مقصد واضح ہے کہ مسلمان متقی بن جائے اور تمام اخلاقِ رذیلہ اور اعمالِ بد سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔متقی بننے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
تقویٰ کیا ہے
’’حقیقتِ روزہ‘‘ کتاب میں درج ہے:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک مرتبہ تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔‘‘
تقویٰ اصل میں قلب (باطن) کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام ہے۔ جس قدر کسی کا قلب اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا وہ اسی قدر متقی ہوگا یعنی تقویٰ قربِ الٰہی کا نام ہے۔ روزہ انسان کو قربِ الٰہی میں لے جاتا ہے۔
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
تقویٰ کا پہلا درجہ یہ ہے کہ جس چیز پر علما اور فقہا کا فتویٰ ہے اس سے بچنا ضروری ہے، یہ عام مسلمانوں کا تقویٰ ہے۔ دوسرا درجہ مشتبہ چیزوں سے پرہیز ہے یعنی شریعت میں کسی چیز کو بظاہر حلال کر دیا گیا ہے لیکن مشتبہ کہلاتی ہے، تو اس سے گریز صلحا کا تقویٰ ہے۔ تیسرے درجہ پر وہ متقی ہیں جو حرام ہو جانے کے اندیشہ سے بھی گریز کرتے ہیں۔ یہ ’’اتقیا‘‘ کا درجہ ہے۔ چوتھا درجہ ان چیزوں سے گریز کا ہے جن سے عبادات واطاعت پر قوت حاصل نہیں ہوتی یہ ’’صدیقین‘‘ کا تقویٰ ہے۔ گویا پہلا درجہ جو عوام کا تقوی ہے، ترکِ کفر و شرک ہے۔ دوسرا درجہ جس میں شرح کی منہیات سے پرہیز اور گناہ کے ترک کرنے کا حکم ہے، یہ متقیوں کا تقویٰ ہے۔ تیسرے درجے پر خواص کا تقویٰ ہے جو عبادات و ریاضت میں خطرات کو کم کرتا ہے، چوتھے درجہ پر وہ ہیں جو ہر لمحہ ترکِ ما سویٰ اللہ پر قائم ہیں اور دنیا کا کوئی خطرہ دل میں نہیں آنے دیتے، نفس اور شیطان سے خلاصی پا چکے ہیں۔ یہ خاص الخاص یعنی عارفین کا تقویٰ ہے،یہی اہلِ تقویٰ اللہ کے محبوب ہیں۔
یعنی روزہ کا اصل مقصد متقی بنانا ہے اگر تقویٰ حاصل ہوگا تو قرآنِ کریم سے راہنمائی، نور اور صراطِ مستقیم حاصل ہوگا اور تقویٰ کی کس منزل تک پہنچنا چاہیے اس کی قسمیں بیان کر دی گئی ہیں۔ جس طرح انسان دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب اور اعلیٰ سے اعلیٰ زندگی کے حصول کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح تقویٰ کی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ منزل اور مرتبہ کی کوشش کرنی چاہیے اور رمضان المبارک ان لوگوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ اللہ تعالیٰ سے صراطِ مستقیم طلب کریں اور تقویٰ کے حصول کی کوشش کریں۔(حقیقتِ روزہ سے اقتباس)
تاہم یہاں ایک بہت باریک فرق ہے کہ اگر ہم متقی بننے کے لیے نہیں بلکہ صبح سے شام تک صرف اس لیے نہیں کھاتے کہ یہ ایک فرض ہے یا ایک رسم ہے اور اس دوران ہمارا روّیہ وہی پرانا رہتا ہے یعنی وہی غصہ، وہی جھوٹ اور وہی دوسروں کا دل دکھاناوغیرہ پھر یہ روزہ نہیں، صرف ایک جسمانی تکلیف اور بھوک ہے۔ بھوک انسان کو کمزور اور چڑچڑا بناتی ہے جبکہ روزہ انسان کو نرم اور مہربان بناتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسے ہی روزے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
جس نے(روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری 1903)
نفس کی سرکشی اور روزے کا پہرہ
سنن نسائی میں ارشادِ نبوی نقل ہے:
اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْھَا (نسائی۔2235)
ترجمہ: روزہ (گناہ سے روکنے والی) ڈھال ہے جب تک کہ (روزہ دار) اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔
انسانی نفس فطرتی طور پر ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے جسے اگر کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ انسان کو گناہوں کی کھائی میں گرا دیتا ہے۔ نفسِ امارہ (برائی پر اُکسانے والا نفس) ہمیشہ راحت، لذت اور شہوت کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پیٹ ہمیشہ بھرا رہے تاکہ وہ اپنی طاقت کا اظہار کر سکے۔ روزہ اس سرکش گھوڑے کے لیے ایک ’’لگام‘‘ ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے، تو اس کے نفس کی وہ اکڑ ختم ہونے لگتی ہے جو اسے ’’بندگی‘‘ سے دور رکھتی تھی۔
نفس کی اسی اصلاح اور شیطانی اثرات کو زائل کرنے کے لیے اللہ کے رسول ؐ نے ایک بڑا اہم نکتہ بیان فرمایا:
شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، لہٰذا اس کے راستوں کو بھوک (روزے) کے ذریعے تنگ کرو۔ (متفق علیہ)
یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزہ صرف پیٹ کا نہیں بلکہ خیال کا بھی ہونا چاہیے۔ اگر پیٹ تو کھانے سے رکا ہوا ہے لیکن دماغ سازشوں، حسد اور برے ارادوں میں مصروف ہے تو نفسِ امارہ اب بھی زندہ ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو نفس کے ان تمام خفیہ راستوں کو بند کر دے جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔
معاشرتی آئینہ اور انسانیت کا درس
روزہ محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ یہ ایک عظیم معاشرتی درس ہے۔ یہ ہمیں ’انا‘ کی بستی سے نکال کر ’انسانیت‘کی وادی میں لے آتا ہے۔ ایک مالدار انسان، جس کے دسترخوان پر ہر نعمت موجود ہے، جب دن بھر بھوک کی تپش برداشت کرتا ہے، تو اسے پہلی بار اس مفلس کا احساس ہوتا ہے جس کے بچے کئی کئی دن فاقے سے رہتے ہیں۔ یہ احساسِ محرومی ہی معاشرے میں عدل اور سخاوت کو جنم دیتا ہے۔
اگر ہمارا روزہ ہمیں کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے یا کسی حاجت مند کی ضرورت پوری کرنے پر آمادہ نہیں کرتا تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے جسم کو تڑپایا تو ہے مگر روح کو بیدار نہیں کیا۔ ایک حقیقی روزہ دار کا ہاتھ افطار سے پہلے ہی دوسروں کے لیے کھل جاتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پیاس کا علاج تو پانی کے ایک گھونٹ میں ہے مگر اس کی روح کی پیاس کا علاج دوسروں کا دکھ بانٹنے میں ہے۔
روزہ اور اخلاص
اخلاص سے مراد یہ ہے کہ عمل ریاکاری سے پاک ہو اور فقط رضائے الٰہی کے حصول کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآ نِ مجید میں بار بار اخلاص کے ساتھ اعمال سرانجام دینے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (سورۃ الزمر۔2)
ترجمہ:آپ اللہ کی عبادت اُس کے لیے اپنی طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں۔
حضرت خواجہ حسن بصریؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جسے میں اپنے بندوں میں سے جس سے محبت کرتا ہوں اس کے دل میں ودیعت کرتا ہو ں۔‘‘ (امام دیلمی)
روزے کی سب سے بڑی شان اور اس کی روح ’اخلاص‘ ہے۔ باقی عبادات کی نسبت اس میں ریا کا خطرہ کم ہے۔ ہر عبادت دکھائی جا سکتی ہے۔ نماز، زکوٰۃ اور حج کے لیے مادی وجود کا اظہار ضروری ہے، مگر روزہ بندے اور اس کے ربّ کے درمیان ایک پوشیدہ محبت کا نام ہے۔ انسان بند کمرے میں اکیلا ہو، سامنے ٹھنڈا پانی موجود ہو، اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہو پھر بھی وہ پیاس کی شدت میں لب تر نہیں کرتا۔ یہ وہ انتہا ہے جہاں بندہ اپنے مادی وجود کی نفی کر کے صرف ربّ کی موجودگی کا اعتراف کرتا ہے۔ اخلاص کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہر عمل صرف اللہ کے لیے ہو، اس میں نفس، دکھاوا اور دنیاوی غرض شامل نہ ہو۔
روزہ اس لیے اخلاص کی بلند ترین مثال ہے کہ کوئی انسان یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ دوسرا واقعی روزے سے ہے۔ بھوک چھپ کر بھی مٹائی جا سکتی ہے مگر روزہ دارایسانہیں کرتا اورگناہ اکیلے میں بھی ترک کرتا ہے کیونکہ اللہ کو حاضر و ناظر مانتا ہے۔
روزہ اور جزا
حقیقی روزہ دار کے لیے ایک منفرد انعام کا وعدہ کیا گیا ہے:
اَلصِّیَامُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ (صحیح بخاری 1894)
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
محدثین فرماتے ہیں:
اس حدیث میں ’’لی‘‘ (میرے لیے) کا لفظ روزے کے اخلاص کو باقی تمام عبادات سے ممتاز کرتا ہے۔
حضور اکرمؐ نے فرمایا:
صبر نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
مزید فرمایا:
روزہ دار کے منہ کی بوُ خدا کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔
روزہ دار کا سونا عبادت، سانس لینا تسبیح اور دعا بہترین اجابت ہے۔
جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو بہشت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔ شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں اور ایک منادی کرنے والا پکارتا ہے ’’اے طالبِ خیر! جلد تیرا وقت ہے اور اے طالبِ شر ٹھہر جا کہ تیری جگہ نہیں۔‘‘
روزہ اور صحت
ڈاکٹر و اطبا بتاتے ہیں کہ روزہ کاصحتِ جسمانی سے خاص تعلق ہے اور رمضان میں سب خود یہ تجربہ کرتے ہیں کہ بارہ سے پندرہ گھنٹے خالی پیٹ رہ کر افطار کے وقت بیشمار نعمتیں اور لذیذ غذائیں چند منٹوں کے اندر معدہ میں پہنچ جاتی ہیں اور کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔ یہ صرف روزہ کی برکت ہے۔ اگر طبعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں جہاں ظاہر وباطن کا تزکیہ ہوتا ہے وہاں تندرستی بھی حاصل ہو تی ہے چنانچہ حافظ مندری نے ’’الترغیب و الترہیب‘‘ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:
جہاد کرو غنیمت حاصل ہو گی، روزے رکھو تندرست رہو گے، سفر کرو مالدار ہو جاؤ گے۔(رواۃ لطبرانی فی الاوسط و رواۃ ثقات)
بھوک سے روزے تک کا سفر
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ روزہ ایک ’تربیتی کورس‘ ہے نہ کہ ایک ’سالانہ رسم‘۔ اگر رمضان کے تیس دن گزرنے کے بعد بھی ہماری زبان میں وہی زہر، ہمارے دل میں وہی کینہ اور ہمارے کاروبار میں وہی ملاوٹ باقی ہے تو ہم نے صرف ایک مہینہ اپنا وقت ضائع کیا ہے۔ جس طرح لوہا بھٹی میں تپ کر کندن بنتا ہے اسی طرح انسان کو بھوک اور صبر کی بھٹی میں تپ کر ’’انسانِ کامل‘‘بننا چاہیے۔
ایسے لوگ جو روزے کی روح سے واقف نہیں ہوتے ان کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ وعید ہمیں لرزا دینے کے لیے کافی ہے:
بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے سوائے جاگنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ 1690)
پس ثابت ہوا کہ ’’روزہ اور بھوک‘‘ دو الگ راستے ہیں۔ایک راستہ معدے کے سیرہونے پر ختم ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ اللہ کی معرفت اور نفس کی پاکیزگی کی طرف جاتا ہے۔ ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم محض بھوکا رہنا چاہتے ہیں یا اپنے وجود کو روزے کے نور سے منور کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقی روزہ وہی ہے جو افطار کی گھنٹی بجنے سے پہلے ہمارے نفس کے بتوں کو پاش پاش کر دے۔
’’روزہ یا بھوک‘‘کا فیصلہ ہماری نیت اور ہمارے عمل نے کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا فاقہ ’’روزہ‘‘ بن جائے تو ہمیں اپنے نفس کو اللہ کی محبت کی آگ میں تپانا ہوگا۔ ہمیں اپنی بھوک کو بندگی میں، اپنی پیاس کو معرفت میں اور اپنے صبر کو تقویٰ میں بدلنا ہوگا۔
حاصلِ کلام:
آخرکار حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بھوک اور روزہ ایک جیسے دکھائی دے کر بھی ایک نہیں۔ بھوک جسم کو روکتی ہے جبکہ روزہ نفس کو بدلنے کے لیے آتا ہے۔ بھوک افطار پر ختم ہو جاتی ہے مگر روزہ اگر درست راستے پر ہو تو انسان کے اندر ایک نیا شعور چھوڑ جاتا ہے۔ وہ شعور جو خواہش کو قابو میں رکھنے سے آگے بڑھ کر خواہش کی جڑ تک پہنچتا ہے۔
یہیں سے عبادت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے: ایک وہ جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے اور دوسری وہ جو انسان کے اندر باقی رہتی ہے۔ پہلی کا حاصل معدے کی خالی کیفیت ہے اور دوسری کا حاصل دل کی بیداری۔ پہلی انسان کو خود پر مطمئن کر دیتی ہے اور دوسری اسے اپنے ربّ کا محتاج بنا دیتی ہے۔
پس حقیقی روزہ وہ نہیں جو صرف کھانے سے روکے بلکہ وہ ہے جو انسان کو خود سے روکے۔ اور بندے کو عبادت کے فخر سے نکال کر عبودیت کی عاجزی میں داخل کر دے۔ جب روزہ اس مقام تک پہنچ جائے تو پھر وہ صرف ایک فرض نہیں رہتا بلکہ معرفت کی طرف کھلنے والا دروازہ بن جاتا ہے۔اور یہی روزے کی اصل کامیابی ہے۔
آئیے عزم کریں کہ اس بار ہمارا روزہ صرف پیٹ کا نہیں بلکہ پورے وجود کا ہوگا، جو ہمارے نفس کو پاک کر کے ہمیں واقعی ایک ’’بہتر انسان‘‘ بنا دے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں روزہ کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
استفادہ کتب:
حقیقتِ روزہ :تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
ماہنامہ سلطان الفقر لاہور، شمارہ : اپریل 2021، مضمون:رمضان المبارک کی برکتیں