Ism-e-Allah-Zaat

س) اسمِ اللہ ذات کیا ہے؟ ?Ism-e-Allah Zaat Kya Ha

س) اسمِ  ذات کیا ہے؟

اسمِ  ذات انسانی باطن کی کلید ہے یعنی اس کے ذریعے انسان باطنی اور روحانی جہان میں داخل ہو سکتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اس کلید کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اللہ تعالیٰ تک رسائی اور رہنمائی کے لیے عام کیا۔ اسم  ذات سنہری حروف سے لکھا ہوا اللہ کا فریم شدہ اسم ہے جو مرشدِ کامل اکمل ذکر اور تصور کے لیے مرید کو عطا کرتا ہے۔ ذکر و تصورِ اسمِ  ذات کے انسانی باطن پر بہت خاص اثرات ہوتے ہیں۔

س) ذکر و تصور اسمِ ذات سے حاصل ہونے والے اثرات کیا ہیں؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: بے شک اللہ (اسمِ  ذات) کے ذکر میں ہی قلوب (یعنی ارواح) کا اطمینان ہے۔

ہماری روح ایک زندہ وجود ہے اور ہر زندہ وجود کی طرح اسے اپنی زندگی اور قوت کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ ذکر و تصورِ اسمِ ذات انسانی روح اور باطن کو زندگی اور قوت عطا کرتا ہے۔ جتنا ہم اللہ کا ذکر کریں گے اتنا ہی ہمارا اس سے رشتہ مضبوط ہوگا جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا:

ترجمہ: تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔

روح کا تعلق اس ظاہری اور ٹھوس وجود رکھنے والے جہان سے نہیں بلکہ عالمِ امر سے ہے اس لیے اس ظاہری دنیا کی کوئی چیز اس کی قوت اور زندگی کا باعث نہیں بن سکتی۔ روح کا تعلق صرف اللہ سے ہے اس لیے صرف اللہ کا ذکر ہی اسے وہ قوت دے سکتا ہے جو اسے جسم کے پنجرے کی قید سے رہائی دلا کر عالمِ امر میں اللہ تک رسائی عطا کرتی ہے۔

س) ذکر روح پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

جب سانسوں کے ساتھ ذکرِ اسم  ذات (ذکرِ پاس انفاس) کیا جاتا ہے تو اس کی تاثیر روح تک پہنچتی ہے کیونکہ روح کا جسم سے تعلق سانسوں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ جب روح جسم میں داخل ہوتی ہے تو جسم سانس لینا شروع کر دیتا ہے اور جب روح جسم سے نکل جاتی ہے تو جسم سانس لینا بند کر دیتا ہے۔ جس طرح منہ سے کھایا گیا کھانا سارے جسم کو قوت فراہم کرتا ہے اسی طرح سانسوں کے ساتھ کیا گیا ذکر روح کو قوت فراہم کرتا ہے لیکن یہ صرف تبھی ممکن ہے جب ذکر کسی مرشدِ کامل سے حاصل کیا جائے اور اس کی نگرانی میں ہی کیا جائے۔

اسمِ اللہ ذات کے بارے میں مکمل مطالعہ کے لیے ان لنک پر کلک کریں:

//urdu.sultan-bahoo.com

//mahnamasultanulfaqrlahore.com/important-topics-ism-e-allah-zaat/

اپنا تبصرہ بھیجیں