Rah-e-Faqr-ka-Razhan

راہِ فقر کے راہزن–Rah-e-Faqr Kay Rahzan

راہِ فقر کے راہزن

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ستارھویں صدی ہجری کے عظیم المرتبت بزرگ، امامِ سلسلہ سروری قادری اور فقیرِ کامل ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی وسعتِ ولایت کا اندازہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُس باطنی حکمِ سروری و سرمدی سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سلطان العارفینؒ کو باطنی طور پر بیعت کرتے ہوئے فرمایا جس کا ذکر آپؒ یوں بیان فرماتے ہیں:
* حضور فائض النور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حکمِ ارشاد، خلق شدہ، چہ مسلم، چہ کافر، چہ بانصیب، چہ بے نصیب، چہ زندہ و چہ مردہ۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
ترجمہ:حضور فائض النور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمام خلقت، کیا مسلم، کیا کافر، کیا بانصیب، کیا بے نصیب کیا زندہ کیا مردہ سب کو ہدایت کا حکم ملاہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات ایسا آئینۂ باصفا ہیں کہ ہر شخص ان میں اپنے مقام و مرتبہ کی تحقیق کر سکتا ہے۔آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کے مطابق آپ ؒ ہر مسلمان، کافر، زندہ، مردہ، بانصیب، بے نصیب، راہِ راستی پر قائم،راہِ حق سے منحرف ہونے اور بھٹک جانے والے، سکوت اختیار کرنے والے، عارفانِ باللہ، علماءِ عامل، فقراءِ کامل، غوث و قطب، ابدال و اوتاد، مرشدانِ کامل، صاحبِ الہام، صاحبِ وھم، صاحبِ دلیل، صاحبِ مکاشفہ، صاحبِ کشف و کرامات،صاحبِ زُہدو ریاضت، اہلِ علم، اہلِ دعوت، اہلِ تقویٰ، اہلِ درجات و مراتب، اہلِ حجاب، طالبانِ دنیا، طالبانِ عقبیٰ، طالبانِ مولیٰ،مبتدی، متوسط اور منتہیٰ طالب، ہر عاقل و ہوشیار اور جاہل وبدکردار کو اپنی تعلیمات میں مخاطب فرماتے ہیں۔ اُن کے سکوت، مقام و مرتبہ کی حقیقت، وجۂ رجعت اور ناقص رہنے کے اسباب کو بیان فرماتے ہیں اور معرفت و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھنے کیلئے تلقین و ارشاد فرماتے ہیں۔
* جب ایک طالبِ مولیٰ صدق و اخلاص سے قرب و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھتا ہے تو تمام کائنات رفتہ رفتہ اس کے تصرف و اختیار میں دے کر اللہ تعالیٰ اس کے صدق، اخلاصِ نیت، ہمت و حوصلہ اور ارادہ اور طلبِ مولیٰ کی پختگی کی آزمائش کرتا ہے کہ آیا وہ غیر ماسویٰ اللہ مقامات و مراتب کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا اپنی نظر ذاتِ حق تعالیٰ پر رکھتا ہے۔
جب معراج کی رات آقا علیہ الصلوٰۃو السلام قرب و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھے تو کائنات کی ہر شے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے آراستہ و پیراستہ کر کے پیش کی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان تمام مقامات و مراتب کو اپنے قبضہ و اختیار میں لاتے ہوئے ان پر قناعت نہ کی اور انہیں ناپسند کرتے ہوئے ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم ان مقامات و مراتب، درجات و حجابات اور لذات و تصرفات کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں۔
اگر ایک طالبِ مولیٰ ان مقامات و مراتب اور درجات و تصرفات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے لیے وسیلہ و سیڑھی جانے اور ان کے کھلنے، تصرف میں آنے اور حاصل ہونے کے دوران ان کی طرف مائل و متوجہ ہونے کی بجائے اپنی نظر دیدار و وصالِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رکھے تو یہ طالبِ مولیٰ کے لیے خزانۂ دل ہیں بصورتِ دیگر اگر یہ طالبِ مولیٰ کے لیے سکوت اور ٹھہراؤ کا باعث بنیں تو راہِ فقر کے راہزن اور مراتبِ ہوا و ہوس ہیں اور طالبِ مولیٰ کے لیے استدراج، رِجعت اور ناقص پن کی وجہ ہیں۔ ذیل میں ہم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیفات عین الفقر، نور الہدیٰ (کلاں)، عقلِ بیدار، کلید التوحید (کلاں)، اسرارِ قادری اور محک الفقر (کلاں) سے ان مقامات و مراتب، درجات و تصرفات اور لذات و حجابات کی فہرست دے رہے ہیں جن کی حقیقت و حیثیت پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کا نکتۂ نظر بیان کریں گے۔ یہ مقامات و مراتب، درجات و تصرفات اور لذات و حجابات درج ذیل ہیں:
* ذکر و فکر کے حجابات اور لذات، وردو وظائف سے حاصل ہونے والے مشاہدات اور ان کی لذات، لوحِ محفوظ کے مطالعے اور مشاہدے سے لوگوں کو ان کے احوالِ نیک و بد کی خبر دینا، کشف القلوب کے حاصل ہونے سے لوگوں کے احوال و خیالاتِ دل جاننا، کشفِ قبور کے کھلنے اور جاری ہونے سے مُردوں کے حالات جاننا، علمِ دعوت کے رواں ہونے سے اولیاء کرام کے مراتب کی تحقیق اور مجلسِ انبیاء اور اولیاء میں حاضری کی لذات اور ان پر سکوت اختیار کر لینا، کونین کا ہر وقت مشاہدہ کرنا، کشف و کرامات کا ظہور اور ان کو دیکھنے دکھانے کی لذات، الہام، وھم اور کشف کا حاصل ہو جانا، خود کو غوث و قطب یا ابدال و اوتاد سمجھنا، مراتب کے حصول کے بعد ان کے سلب ہو جانے کے غم میں غرق رہنا، مستجا ب الدعوات ہو جانے کو قربِ الٰہی کی انتہا سمجھ لینا، حرمِ کعبہ و حرم مدینہ میں خود کو نماز پڑھتے دیکھنا اور دیگر اعمال و ارکان کے مشاہدہ میں خود کو مصروف دیکھنا، شیخِ کامل سے الہامات و پیغامات کے وصول ہونے پر خود کو صاحبِ فقر اور فقیر جاننا، علمِ ارادات و علمِ مکاشفہ اور علمِ لدنی کے حصول کے بعد علم کو بیان کرنے کی لذت میں غرق ہونا، تعبیرِ رویا کا حاصل ہو جانا، تحت الثریٰ سے عرشِ بریں تک مقاماتِ باطن کی طیر سیر، اپنی غیب دانی کا لوگوں پر اظہار کرنا، مقامِ شریعت، مقامِ طریقت، مقامِ حقیقت، مقامِ معرفت، مقامِ عشق اور مقامِ محبت میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احوال پر قناعت کرنا، رجوعاتِ خلق کی طرف مائل ہونا، مقاماتِ عقبیٰ کا مشاہدہ، جنوں اور مؤکل فرشتوں کی تسخیر اور ان سے مختلف کاموں کا حصول، فتوحات کا حاصل ہونا، مقامات و مراتب کا تصرف اور لوگوں کو ان تک پہنچانے کا تصرف مل جانا، اسمائے الٰہیہ اور آیاتِ الٰہیہ کے انوار کا مشاہدہ، تجلیاتِ نفس اور تجلیاتِ روح کو انوارِ ذات اور معرفتِ الٰہی سمجھ لینا اور ان جیسے کئی اور مراتبِ صفات کا حصول وغیرہ راہِ فقر کے حجابات ہیں۔
* اب ہم ان مقامات و مراتب، درجات و تصرفات، لذات و حجابات کی حقیقت و حیثیت کو تعلیمات سلطان العارفینؒ کے مطابق بیان فرماتے ہیں۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ دورانِ مشاہدہ طالبِ اللہ کو اپنی نظر معرفتِ توحیدِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رکھنے کی تلقین و ہدایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* ’’یاد رہے کہ دورانِ مشاہدہ نظر معرفتِ توحیدِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری پر رہے کہ یہی اصل مقصود ہے۔ اس کے علاوہ ہر مرتبہ دوری اور رسوائی کا مرتبہ ہے۔ ان دونوں مراتب میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور محبت کی تکمیل ہے۔جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
* ترجمہ: ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘ (التوبہ۔100)
* ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ۔ 161)
نورِ حضور کا یہ خلاصہ لا مکان میں پایا جاتا ہے۔ عارف باللہ فقیر جب لامکان میں پہنچتا ہے تو دونوں جہاں اس کو مچھر کے پَر جیسے بے وقعت نظر آتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)
* جب طالبِ مولیٰ ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان مقامات و مراتب کو اس پر کھول کر اس کے صدق، صبر اور طلبِ الٰہی کی آزمائش کرتا ہے کہ آیا اس کی نظر ذاتِ حق تعالیٰ سے بہکتی ہے یا وہ نگاہِ بلند اور سخن دلنوار سے ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
* ’’جو شخص اللہ کی طرف دوڑتا ہے اللہ تعالیٰ کا فضلِ عنایت اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اس کے سامنے دونوں جہان پیش کر کے اس کا امتحان لیتا ہے، اگر طالبِ اللہ دونوں جہان سے منہ موڑ لیتا ہے تو فقیر ہو جاتا ہے اور فقر کے اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی نظر اللہ کے سوا کسی اور چیز کی طرف نہیں اٹھتی جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے ’’نہ بہکی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نظر، نہ حد سے بڑھی۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* ’’طریقت میں رجوعاتِ خلق کی بھر مار رہتی ہے۔ چنانچہ جن، ملائک، انس اور زر و مال کا رجوع صاحبِ طریقت کی طرف ہو جاتا ہے اور یہ خالی رجوعات ہی نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاحبِ طریقت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ ورنہ طریقت میں ہزاراں ہزار بلکہ بے شمار طالبوں کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ شاید ہی کوئی طالب اللہ تعالیٰ کے کرم سے اور فقرائے کامل کی برکت سے ساحلِ مراد تک سلامت پہنچتا ہے وہ بھی اسی صورت میں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طر ح کوئی مہر بخش مرشد اس غریب کی دستگیری کر کے ہر گھڑی اس کی نگہبانی کرتا رہے۔‘‘ (عین الفقر)
* ’’جب حاضراتِ تصور اسمِ اللہ ذات شروع ہوتے ہیں تو سب سے پہلے جنوں کے لشکر ادب سے ہاتھ باندھ کر صاحبِ تصور کے گرد کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے حکم کا انتظار کرتے رہتے ہیں، آخر عرض گزار ہوتے ہیں کہ اے ولی اللہ! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ کچھ تو فرمائیے۔ طالبِ حق کہتا ہے ’’میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ اسی طرح فرشتے ومؤکل اور تمام روحانی صاحبِ تصور کے پاس آکر عرض کرتے ہیں اور اس کی خدمت میں سنگِ پارس، علمِ کیمیائے اکسیر اور علمِ دعوت تکسیر کا عمل پیش کرتے ہیں لیکن صاحبِ تصورِ کامل اُن کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جملہ انبیاء و رسل و اصفیاء و اصحابؓ و امام حسنؓ و امام حسینؓ و حضرت محی الدین شاہ عبد القادر جیلانی قدس سرہُ العزیز کو اپنی معیت میں لے کر تشریف لاتے ہیں اور صاحبِ تصور کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھاتے ہیں اور تلقینِ معرفت، تعلیمِ علم اور منصبِ ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* مقامات و مراتب اور درجات ذات تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو راہِ فقر کے تمام طالب گمراہ ہو جاتے۔ مگر یہ ذاتِ حق تعالیٰ کے معاملہ میں اُس وقت فیض رساں ہیں اگر وہ ان کو فقط وسیلہ ہی جانے، بصورتِ دیگر ہوا و ہوس اور غیر ماسویٰ اللہ ہیں۔ مراتبِ ذات اس شخص پر کھلتے ہیں جو طبقاتِ خلق کی طیر سیر سے نکل آتا ہے۔‘‘
* ’’بعض لوگوں کو لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرنا آ جاتا ہے۔ بعض کو قرب ربّ جلیل کی بنا پر دلیلِ دل کے ذریعے آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے، بعض کو ایسی قوتِ مشاہدہ حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ حاضراتِ اسم اللہ ذات سے ہر دوجہان کا تماشا پشتِ ناخن پر دیکھتے رہتے ہیں، بعض کو وہمِ وحدانیت و علمِ و اردات حاصل ہو جاتی ہے جس سے ان پر جملہ مقصود و مطالب کھل جاتے ہیں اور وہ انہیں دیکھتے رہتے ہیں، بعض کی نظر اور نگاہ عیاں طور پر لاھوت لامکان کا نظارہ کرتی رہتی ہے، بعض کو ہر مرتبہ کے مؤکل پیغام دے کر خطراتِ شیطان سے بچا لیتے ہیں جس سے وہ متوکل ہو جاتے ہیں۔ اگر راہِ باطن میں اس طرح مراتب بمراتب، منصب بمنصب، قرب بقرب، حضوری بحضوری،جمعیت بجمعیت، عین بعین اور بخشش و فیض کے آثار اور تجلیاتِ دیدارِ پروردگار کے انوار نہ ہوتے تو راہِ باطن کے تمام راہی گمراہ ہو جاتے۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* ’’اگر فقر کی باطنی راہ عیاں نہ ہوتی اور تمثیل و الہام اور وھم و مشاہدہ اور دلیل سے جواب باصواب نہ ملتا تو اس راہ پر چلنے والے سب گمراہ ہو جاتے۔‘‘ (محک الفقر کلاں)
* ’’اگر عارف باللہ ولی اللہ فقیروں کو باطن میں توفیقِ معرفت و یگانگی کی بدولت معرفت و رفاقتِ ا لٰہی کے عظیم مراتب اور شرفِ حضورئ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سعادتِ کبر یٰ حاصل نہ ہوتی تو راہِ باطن کے تمام راہی گمراہ ہوچکے ہوتے۔‘‘ (کلید التوحید کلاں)
* درج ذیل عبارات میں آپ ؒ نے ان درجات، مقامات اور مشاہدات کو بہتر گردانتے ہوئے ان کو صرف سیڑھی قرار دیا اور ان کی نسبت معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمد ی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہی ان تمام سے بہتر قرار دیا۔
* اگر تمام علماء باعمل ہوکر سچ بولیں، روئے زمین کی تمام چیزوں میں سے صرف حلال چیزیں کھائیں،علم کو محض رضائے اِلٰہی کی خاطر پڑھیں اور رضائے اِ لٰہی ہی کی خاطرشاگردوں کو تعلیم دیں تو اِس سے بہتر اور کیا چیز ہے ؟ اگر کوئی شخص زمین کو اپنے اڑھائی قدموں کی طے میں لے آئے اور ہمیشہ نمازِ پنجگانہ خانہ کعبہ میں سنت طریقے سے با جماعت ادا کرے تو اِس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص ہمیشہ حضرت خضر علیہ السلام کا ہم صحبت رہے اور اُن سے علم کے دَور کرتا رہے تو اِس سے بہتر اور کیا چیز ہے ؟اگر کوئی شخص دورانِ بار ش فرشتوں کو پانی کا ہر قطرہ ہتھیلی پر اُٹھا کر زمین پر رکھتے ہوئے دیکھے اور ہر فرشتے کا نام جانے اور توجۂ باطنی سے اُسے پہچانے بھی تو اِس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک اور ان سے لے کر روزِ قیامت تک جملہ انبیاء و اولیاء اللہ صاحبِ مراتب مومن مسلمانوں کی ارواح سے ملاقات و مجلس و مصافحہ کرے اور تمام ارواح کے نام جانے اور ہر ایک کو پہچانے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر روئے زمین پر موجود تمام اہلِ ورد و وظائف، تمام اہلِ علمِ دعوتِ قبور اور تمام حافظِ قرآن دن رات پوری پاکیزگی و طہارت کے ساتھ تلاوتِ قرآن کیا کریں تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص ذکر فکر و محاسبۂ نفس و جملہ مکاشفے کرتا رہے اور خلقِ خدا کے ساتھ حسنِ خلق کے ساتھ پیش آتا رہے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص عمر بھر طوافِ کعبہ کرتا رہے اس سے کوئی حج نہ چھوٹے،زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے، نوافل پڑھنے سے کبھی فارغ نہ ہو، ہمیشہ قائم اللیل و صائم الدھر رہے، ہمیشہ صاحبِ ریاضت و صاحبِ تقویٰ رہے اور مسائلِ فقہ و تفسیرِ قرآن پڑھتا رہے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص عمر بھر اللہ کی راہ میں جنگ کرتا رہے اور دارِ حرب میں کافروں کو قتل کرتا رہے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص ساری دنیا کو اپنے قبضے میں لے کر دن رات راہِ خدا میں خرچ کرتا رہے او رسخاوت سے مسلمانوں کو نفع پہنچاتا رہے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص ظلِ اللہ بادشاہ بن کر مشرق سے مغرب تک تمام لوگوں کو عدل و انصاف مہیا کرتارہے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص تماشائے ابد اور احوالِ ہر دوجہان پشتِ ناخن یاکفِ دست پر دیکھا کرے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ اگر کوئی شخص اوتاد، ابدال یا غوث و قطب بن کر عرش سے بالاتر ہزار مراتب یا تحت الثریٰ تک پھیلے ہوئے ہوائے نفس کے تمام مراتب طے کر لے تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہے؟ یہ جملہ فتوحات درجات ہیں اور ان میں سے ہر ایک محض ایک سیڑھی ہے، البتہ تصور اسمِ اللہ ذات اور تصرف کلمہ طیبات ’’لَآ اِلَہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کے ذریعے وحدانیت تک پہنچنا، معرفتِ الٰہی حاصل کرنا، نورانیتِ فنا فی اللہ میں غرق ہونا، منظورِ الٰہی ہونا اور مجلسِ سرورِ کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی دائمی حضوری سے مشرف ہونا ان تمام درجات سے بہتر ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* سلطان العارفین رحمتہ علیہ اللہ نے طالبانِ مولیٰ اور عارفانِ الٰہی کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کسی ایک مقام و مرتبہ پر سکوت کی بجائے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انتہائی مقام کی دائمی حضوری کی طرف بڑھنے کی بھی تلقین و ہدایت فرمائی ہے اور اپنی مثال دیتے ہوئے فرمایا:
* ’’بعض طالبوں کو اسمِ اللہ ذات کے تصور سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس کی دائمی حضوری حاصل ہوئی اور وہ حضوری کی اُسی حالت پر قائم رہے لیکن میں (باھُوؒ ) ہر روز ترقی کر رہا ہوں اورمیرے درجات میں روز بروز لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے اور انشااللہ یہ اضافہ ابدالآباد تک جاری رہے گا کہ حکمِ سروری دائم و جاوداں ہے۔‘‘ (عین الفقر)
مزید فرمایا!
* جسے مقامِ شریعت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری حاصل ہوتی ہے اسے مقامِ طریقت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری کے احوال کی کیا خبر؟ جسے مقامِ طریقت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری حاصل ہے اُسے مقامِ حقیقت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری کے احوال کا کیا پتہ؟ جسے مقامِ حقیقت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری حاصل ہے اسے مقامِ معرفت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری کے حالات کیا معلوم؟ جسے مقامِ معرفت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری حاصل ہے وہ مقامِ عشق میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کے احوال کیا بتائے؟ جسے مقامِ عشق میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری حاصل ہے وہ مقامِ محبت کی حضوریات کو کیا جانے؟ جو خدا کی نظر میں سما جاتا ہے وہ یکتا بخدا ہو جاتا ہے اور دونوں جہان اس کے مدِ نظر رہتے ہیں۔ جسے مقامِ محبت کی حضور ی حاصل ہے وہ حضوری فنا فی اللہ کی حقیقت کیا جانے؟ پس ہر کوئی اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے حقیقتِ احوال جانتا ہے لیکن فقیر فنا فی اللہ ہر مرتبے کی حضوری کے احوال جانتا اور پہچانتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا فرمان ہے ’’جس نے اللہ کو پہچان لیا اس سے کوئی چیز مخفی نہ رہی۔ (عین الفقر)
* مرشد کامل یا فقیرِ کامل اور اہلِ مراتب درویشوں کے مقام و مرتبہ اور ان کے مطلوب و مقصود کا موازنہ کرتے ہوئے سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* مرشد کامل کا ایک مرتبہ تصور اسمِ اللہ ذات توحیدکا ہے جس کی ابتدا و انتہا معرفتِ توحید فنا فی اللہ باخدا ہے۔ یہ فقرائے عارف باللہ کو نصیب ہوتا ہے۔ دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کی ابتدا اور انتہا حرص و ہوس سے عبارت ہے، اس کی پہچان اس طرح ہوتی ہے کہ اس مرتبہ پر بندہ رات دن لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرتا ہے اور لوگوں کے احوالِ نیک و بد سے باخبر رہتا ہے۔ یہ درویشوں کا مرتبہ ہے۔ فقیر کی نظر میں یہ کمتر و ادنیٰ مرتبہ ہے وہ اِسے منجم کا مرتبہ قرار دیتا ہے کہ اس سے بندہ لوحِ محفوظ سے آشنا ہوتا ہے نہ کہ خدا سے متفق و یگانہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مرتبہ وہ ہے جس میں مشرق سے مغرب تک ہر ولایت کی نگرانی درویش کے ذمے ہوتی ہے۔ اُس کی ولایت میں جہاں بھی کسی دیگ میں نمک ڈالا جائے اُسے اُس کی خبر ہوتی ہے۔ یہ اوتاد و ابدال کا مرتبہ ہے۔ فقیر اِس ادنیٰ مرتبے کی طرف دیکھتا ہی نہیں کہ اس کی نظر میں یہ مطلق خام خیالی ہے کیونکہ یہ سیرِ زمین کا مرتبہ ہے نہ کہ وحدانیتِ معرفتِ عین الیقین کا۔ جان لے کہ عرش سے ستر منزل اوپر مرتبۂ قطب ہے اور قطب سے ستر منزل اوپر مرتبۂ غوث ہے۔ لیکن غوث و قطب کے مراتب انانیتِ نفس و کشف و کرامات کے مرتبے ہیں جو غرقِ وحدانیتِ ذات کے مراتب سے بے خبر ہیں۔ فقیر اِن کمتر مراتب کی طرف دیکھتا ہی نہیں کہ ان کا تعلق خواہشاتِ نفس سے ہے۔ سچا طالب مرید طلبِ مولیٰ میں شاد رہتا ہے۔ حدیثِ قدسی ہے ’’اے میرے بندے! میری نعمتیں کھا اور مجھ سے اُنس رکھ کہ میں تیرے لیے ہر غیر ماسویٰ اللہ سے بہتر ہوں۔‘‘ یعنی اے میرے بندے! میری معیت میں عیش کر اور مجھ سے الفت رکھ کہ میں تیرے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہوں جو میرے سوا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ فقیر اہلِ خدا ہوتا ہے اور اہلِ مراتب اہلِ حرص و ہوا ہوتا ہے۔ اہلِ خدا اور ہلِ ہوا کو ایک دوسرے کی مجلس راس نہیں آتی۔ خبردار! رجعتِ نفس، معصیتِ شیطان اور حوادثِ خلق کی آفت سے ہوشیار رہ۔ عالم کی آفتِ رجعت طمع ہے، فقیر کی آفتِ رجعت رجوعاتِ خلق ہے کیونکہ بادشاہ و اُمراء کے مرید ہونے سے اس کے نفس میں ہوائے خود پسندی پیدا ہوتی ہے جو اُسے خدا کی معرفتِ قرب سے باز رکھتی ہے۔ اور اہلِ دنیا کی آفتِ رجعتِ بخل و کنجوسی ہے۔ (اسرارِ قادری)
* حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ درویشی و فقیری کیا چیز ہے؟ فرمایا ’’درویشی فقیری یہ ہے کہ اگر اٹھارہ ہزار عالم کی جملہ موجودات اور جہان بھر کا سونا چاندی فقیر کو دے دیں تو وہ اُسے فوراً راہِ خدا میں خرچ کر دے۔‘‘ درویشی و فقیری کے ستر ہزار مقامات ہیں۔ فقیر جب تک اُن سترّ ہزار مقامات کی سیر و تفریح نہیں کر لیتا اور دوسروں کو یہ سیر تماشے دکھانے کے قابل نہیں ہو جاتا اسے فقیر درویش نہیں کہا جا سکتا۔ جب تک فقیر درویش اُن جملہ مقامات سے واقف ہو کر اُن سے آگے نہیں بڑھ جاتا وہ فقیر درویش ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اِس قدر قوت و طاقت کے بغیر اگر وہ درویشی کرتا ہے تو خود نمائی کے لیے کرتا ہے نہ کہ خدا کے لیے۔ (عین الفقر)
* بعض کو باطن میں طبقات کا مشاہدہ او ران کی طیر سیر حاصل ہوتی ہے اور وہ طبق پر طبق طے کرتے چلے جاتے ہیں یعنی سات طبقاتِ زمین، نو طبقاتِ افلاک اور بالائے عرش ستر ہزار مراتب جن میں ہر ایک مرتبہ دوسرے مرتبے سے ستر سالہ مسافت پر واقع ہے۔ ان تمام درجات و مراتبِ طبقات کو اہلِ طبقات یعنی غوث و قطب پل بھر میں طے کر جاتے ہیں لیکن فقیر ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا کہ یہ ادنیٰ اور کمتر مراتب ہیں کیونکہ ان کا تعلق ہوائے نفس سے ہے اور یہ قربِ خدا وندی سے دور ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)
آپؒ نے مزید فرمایا!
* ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی عارف باللہ ہوتا ہے لیکن تمام عارف بھی جمع ہو جائیں تو مراتبِ فقر تک نہیں پہنچ سکتے۔ غوث، قطب اور عارف کی مجال نہیں کہ فقیر کے سامنے دم مار سکیں کیونکہ غوث، قطب اور عارف اہلِ درجات و طبقات ہوتے ہیں اور اہلِ درجات و اہلِ طبقات پر اہلِ ذات (فقیر) غالب ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* فقر کی انتہا ایک تو صبر میں ہے اور دوسری رضا میں، لیکن اس پر بھی غرور نہ کر بلکہ اس سے آگے بڑھ۔ فقرکی انتہا کیا ہے؟ فقر کے چار مراتب ہیں۔ اوّل یہ کہ فقیر ہمیشہ تصور اسمِ اللہ ذات میں غرق رہتا ہے، کونین و دونوں جہان اُس کے زیرِ قدم ہوتے ہیں اور جملہ فرشتے اُس کے تابع فرمان غلام ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑا درجہ ہے لیکن یہ بھی خام مرتبہ ہے۔ اس پر بھی مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھنا ضروری اور فرضِ عین ہے۔فقر کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ فقیر ایک ہی نظر میں عرش سے تحت الثریٰ تک کے تمام طبقات طے کر جاتا ہے، ایک ہی نگاہ سے قبروں کے مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، لوحِ محفوظ کو ہمیشہ اپنے زیرِ مطالعہ رکھتا ہے اور لوگوں کو ان کے نیک و بد احوال سے آگاہ کر سکتا ہے، ہمیشہ نمازِ پنجگانہ حرمِ کعبہ میں ادا کرتا ہے، حلال کھاتا ہے اور حرام سے بچتا ہے۔ یہ بھی فقر کا بہت بڑا درجہ ہے لیکن یہ بھی خام مرتبہ ہے اور اس پر بھی مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے آگے بڑھنا ضروری اور فرضِ عین ہے کہ یہ تمام مراتب ناسوتی ہیں۔ اس درجہ کا فقیر محتاج ہوتا ہے جب کہ کامل فقیر لایحتاج ہوتا ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)
* درویش و فقیر کے مراتب میں کیا فرق ہے؟ درویش کا مرتبہ یہ ہے کہ لوحِ محفوظ ہمیشہ اس کی چشمِ ظاہر کے مطالعہ میں رہتی ہے۔ لیکن فقیر لوگ اِس کو مرتبۂ منجم کہتے ہیں یعنی دوریش کا مرتبہ نجومی کا مرتبہ ہے اور فقیر کا مرتبہ غرق فنا فی اللہ کا مرتبہ ہے کہ وہ توحیدِ حیّ القیوم میں غرق ہوتا ہے۔ مراتب کے لحاظ سے درویش ایسے ہی ہے جیسے کہ مریض اور فقیر ایسے ہے جیسے کہ طبیب۔ نگاہِ درویش سے دل میں مسخرا پن پیدا ہوتا ہے اور مسخرا پن یہ ہے کہ ایک ہی نگاہ سے مفلس ماہی گیر کو بادشاہ بنا دے لیکن نگاہِ فقیر سے آدمی روشن ضمیر ہو کر دونوں جہان کا حاکم وامیر بن جاتا ہے اور معرفتِ الٰہی سے مشرف ہوکر تجلیاتِ نورِ ذات کے مشاہدہ میں اس شان سے غرق ہوتا ہے کہ اگر اسے ملکِ سلیمانی ؑ کی بادشاہی بھی پیش کی جائے تو اسے ہرگز قبول نہیں کرتا کہ وہ باطن کا مرد ہوتا ہے۔ ایسے مردوں کا دل دنیااور اہلِ دنیا اور سیم و زر سے سرد ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* وہ مرتبہ کہ جس میں ذکرِ قربانی سے ذاکر کے وجودکا بند بند ایک دوسرے سے جدا ہو جاتا ہے، غوث و قطب دہقانی کا نفسانی مرتبہ ہے۔ عارفِ خدا فقراء کے نزدیک یہ مرتبہ محض بازی گری ہے جو معرفتِ اللہ توحید سے بہت دور ہے۔ اگر کسی کو لوحِ محفوظ کے مطالعہ سے حالاتِ نیک و بد کے مشاہدہ کا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے تو فقراء اسے نجومی کا مرتبہ کہتے ہیں جومعرفتِ اللہ توحید سے بہت دور ہے۔ اگر کسی کو یہ مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے، آسمانوں کے طبقات اور ستاروں پر پہنچ جاتا ہے اور عرش سے بھی اوپر نکل جاتا ہے تو فقراء اسے بھی مکھی اور پروانے کا مرتبہ کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جوتوں سمیت دریا کی گہراہی میں اتر جاتا ہے اور پانی پر چلتے ہوئے اس کے پاؤں بھی خشک رہتے ہیں تو فقراء کے نزدیک یہ مرتبہ بھی تنکے کا مرتبہ ہے جو معرفتِ اللہ توحید سے بہت دور ہے۔ اگر کوئی شخص صاحبِ کشف و کرامات ہو جاتا ہے اور انائے نفس سے ’’قُمْ بِاِذْنِیْ‘‘ (اٹھ میرے حکم سے) کہہ کر مردہ کو زندہ کر دیتا ہے تو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نزدیک وہ کافرہے۔ یہ مرتبہ بھی معرفتِ اللہ توحید سے بہت دور ہے۔ جو شخص لوگوں کے دلوں کو اپنا مطیع کر لیتا ہے تو فقراء کے نزدیک وہ بھی خام ہے اور جو شخص بیک نظر لوگوں کے دلوں کو زندہ کر دیتا ہے تو فقراء کے نزدیک وہ بھی خام و ناتمام ہے۔ پھر فقر کیا چیز ہے؟ فقر کسے کہتے ہیں؟ فقر سے کیا چیز حاصل ہوتی ہے؟ کس عمل سے فقر حاصل ہوتا ہے؟ ابتدا سے انتہا تک فقر کی طے کلمہ طیب ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کی حاضرات سے ہوتی ہے۔ پھر فرمایا! ’’اگرمیں فقر کی شرح بیان کروں تو وہ یوں ہے کہ فقر کو کسی مقام و منزل کی حاجت ہی نہیں۔ کیونکہ کسی درجہ و منزل و مقام پر رُک کر مطمئن ہو جانا فقراء کے دلوں پر حرام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’اولیاء اللہ کے دلوں پر سکون حرام ہے۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* جان لے کہ جو شخص خواب یا مراقبہ کے دوران بہشت میں داخل ہو کر بہشتی کھانا کھا لیتا ہے اور بہشتی نہر کا پانی پی لیتا ہے اور حور و قصور کا مشاہدہ کر لیتا ہے تو پھر اسے زندگی بھر کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی کہ اس کے وجود سے بھوک و پیاس ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے، زندگی بھر اُسے نیند نہیں آتی (یعنی اس دل و باطن بیدار رہتا ہے) خواہ بظاہر وہ سوتا ہوا ہی نظر کیوں نہ آئے اور ایک ہی وضو میں وہ ساری عمر گزار دیتاہے (یعنی ظاہر و باطن میں کبھی ناپاک نہیں ہوتا) اور اس کے وجود میں اِس قدر قوت و توفیقِ الٰہی پیدا ہو جاتی ہے کہ رات ہو یا دن‘ کسی وقت بھی اس کا سرسجدے سے فارغ نہیں ہوتا اور وہ روز بروز فربہ ہوتا چلا جاتا ہے (یہاں فربہ ہونے سے مراد باطن کی قوت و طاقت ہے)۔ بظاہر وہ جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے محض لوگوں کی ملامت سے بچنے اور خود کو لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کے لیے۔ اس کے لیے موسمِ سرما اور گرما برابر ہوتے ہیں، نہ اسے سردی بھاتی ہے اور نہ ہی گرمی، لیکن یہ مرتبہ بھی ایک خام و کمتر درویش کا مرتبہ ہے فقیر کو اس مرتبہ سے شرم و حیا آتی ہے کہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ مرتبہ بہت دور ہے اس لیے کہ اس کا تعلق نفس و ہوا سے ہے۔ انتہائی مرتبہ یہ ہے کہ خواب و مراقبہ میں دیدارِ الٰہی نصیب ہو۔ (کلیدِ التوحید کلاں)
* راہِ فقر میں صاحبِ باطن طالب اکثر ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔ ان کے صاحبِ باطن ہونے کے باوجود ناقص رہ جانے کی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* راہِ فقر میں بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ کشف و کرامات، عزّو جاہِ دنیا اور تصرفِ درجات کو پسند کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ جنوں اور مؤکل فرشتوں کی تسخیر اور خام خیالات کے دلدادہ ہو جاتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ ذکر و فکر و مراقبہ کے ذریعے لذتِ ناسوت یا لذتِ ملکوت یا لذتِ جبروت یالذتِ لاھوت یا لذتِ الہام قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ کو فقر فنا فی اللہ کی انتہا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ اپنی ہی صورت سے جواب باصواب کے وہم و خیال کو قربِ اللہ حضوری کا وصال سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ مقامِ تجلیات میں آکر اٹھارہ ہزار عالم کی کُل مخلوقات کے احوال کا تماشا دیکھنے میں محو ہو جاتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ تمام جہان کو مسخر کرنے کے لیے تعویذات کے نقش پُر کرنے، ان سے جنس و مال جمع کرنے کو ہی کامل فقیری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بعض طالب مرید ناقص رہ جاتے ہیں کہ وہ زمین کی طیر سیر، تماشائے عرش و کرسی، مطالعۂلوحِ محفوظ اور منازلِ آسمان کی طے کو کامل فقر سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ سب کچھ ہوائے نفس کی تسکین کا سامان ہے۔ عاقل و باشعور طالب مرید وہ ہے جو ابتدا ہی میں معرفتِ قربِ اللہ کی حضوری میں اس طرح غرق ہو جائے کہ اُسے کوئی منزل نظر آئے نہ کوئی مقام۔ بعض طالب مریدوں کا مطلوب و مقصود مرتبۂ محمود ہوتا ہے اور بعض کا مقصود مرتبۂ مردود ہوتا ہے اس لیے ہر طالب کو چاہیے کہ وہ ظاہر و باطن میں اپنی آزمائش کرتا رہے اور اپنا امتحان و محاسبہ کرکے دیکھتا رہے کہ آیا اس کو مرتبۂ حضوری حاصل ہے یا وہ مرتبۂدوری میں بھٹک رہا ہے؟ اسے قربِ رحمانی حاصل ہے یا وہ آفاتِ شیطانی و مصائبِ دنیائے پریشانی میں مبتلا ہے؟ (عقلِ بیدار)
* جان لے کہ بعض بزرگ بارہ بارہ سال اور چالیس چالیس سال تک ریاضت کرتے رہے اور اس کے نتیجہ میں لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، عرشِ اکبر تک کی طیر سیر کر ڈالی، بالائے عرش ہزاراں ہزار مقامات طے کر کے غوث و قطب بن گئے، لوگوں کو طالب مرید بنایا، دنیا میں عزّو جاہ اور نعمتیں حاصل کیں، نام و ناموس کمایا، صاحبِ کشف و کرامات ہو گئے، جنوں اور مؤکلات کو اپنا تابع فرماں بنا لیا اور اسی کو معرفتِ توحیدِ الٰہی جان لیا۔بعض بزرگ قلبی ذکرِk میں محور ہے اور اُس کے نتیجے میں اوراقِ لوحِ ضمیر کے مطالعہ میں غرق ہو کر مرتبۂ الہام تک جا پہنچے اور اسی کو معرفتِ توحیدِ الٰہی جان لیا۔ بعض حضرات ذکرِ روح میں مشغول رہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دماغی جنبش اور نورِ تجلیۂ روح کے مشاہدات کو معرفتِ توحیدِ الٰہی سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ تمام مراتبِ درجات ہیں جن کا تعلق عالمِ خلق سے ہے، یہ درجاتِ اہلِ تقلید ہیں جوفقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور معرفتِ توحیدِ الٰہی سے بہت دور ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان میں سے نہ تو کسی کو اسمِ اللہ ذات کی ابتدا معلوم ہوئی اور نہ انتہا، انہیں معلوم ہی نہ ہو سکا کہ معرفتِ الٰہی کیا چیز ہے؟ توحید کسے کہتے ہیں؟ اور مشاہدۂ قربِ حضوری کی حقیقت کیا ہے؟ سن! معرفتِ توحیدِ الٰہی اورمشاہدۂ قربِ حضوری یہ ہے کہ جب طالبِ اللہ اسمِ اللہ ذات اور کلمہ طیبات ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کو اپنے تصور و تصرف میں لاتا ہے تو اسمِ اللہ ذات اور کلمہ طیبہ کے ہر ہر حرف سے نور کی تجلیات پھوٹتی ہیں جو اہلِ تصور کو لامکان میں قائم ہونے والی مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں پہنچا دیتی ہیں جہاں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے سامنے دریائے وحدتِ الٰہی موجزن رہتا ہے جس میں طرح طرح کی موجیں ’’وحدہٗ، وحدہٗ وحدہٗ‘‘ کے نعرے لگا رہی ہوتی ہیں۔ جو آدمی اس دریائے توحید پر پہنچ کر نورِ الٰہی کا مشاہدہ کرلیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام جس خوش نصیب طالب کی گردن پکڑ کر وحدتِ الٰہی کے اس دریا میں ڈال دیتے ہیں اور وہ اس میں غوطہ کھا لیتا ہے تو وہ غواصِ توحید ہو جاتا ہے اور فقر فنا فی اللہ کے مرتبے پر پہنچ جاتا ہے۔ بعض طالب دریائے توحید میں غوطہ کھانے کے بعد سالک مجذوب ہو جاتے ہیں اور بعض مجذوب سالک اہلِ توحیدِ ذات بن جاتے ہیں۔ اہلِ درجات سے مراتبِ ذات پوشیدہ رہتے ہیں۔ جو طالب لامکان میں پہنچ جاتا ہے وہ دریائے توحید کے نور کی کوئی مثال نہیں دے سکتا کہ لامکان اُس کا نام ہے جہاں نجاستِ دنیا کی بُو تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی وہاں ناگوار ہوائے نفس کا گزر ہو سکتا ہے، وہاں تو دائم استغراقِ بندگی ہے۔ لامکان میں شیطان کے داخلے کا تو امکان ہی نہیں ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

* مجھے تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو ہر کام خلقِ خدا کی خوشنودی اور دنیوی شان و شوکت اور روضہ و خانقاہ کی خاطر کرتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی اور استغراقِ معرفت کی طرف ہرگز دھیان نہیں دیتے۔ ہاں یہ بالکل سچ ہے کہ کامل مکمل فقیر کے نزدیک طیر سیرِ طبقات، مراتبِ غوث و قطب اور عرش سے بالاتر ستر ہزار درجات و مقامات کو اپنے قبضے و تصرف میں لانا خام و ناقص لوگوں کا کام ہے اور علمِ کیمیا حاصل کرنا، خلقِ خدا میں ناموری اور شہرت حاصل کرنا، جنوں، انسانوں، درندوں اور پرندوں پر تصرف حاصل کرنا، کشف و کرامات پر قادر ہونا اور امورِ دنیا میں ترقی و درجات حاصل کرنا ناقص و ادھورے لوگوں کا کام ہے۔ علمِ کیمیا، علمِ اکسیر اور علمِ دعوتِ تکسیر حاصل کرنا، بیس بیس دائروں والے نقش پُر کرنا، دائرہ جفر کے نقش بنانا اوربادشاہ و امراء کو مسخر کرکے اپنے تابع کرنا نادان لوگوں کا کام ہے۔ اور خود کو فناکر کے معرفتِ ’’اِلاَّ اللّٰہ ‘‘ میں غرق کرنا مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل کرنا مردانِ کامل کا کام ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* راہِ فقر کے مسافروں کو درپیش حجابات کا ذکر کرتے ہوئے سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* نفس، خلق اور دنیا یہ تین حجاباتِ عام ہیں۔ دیدِ طاعت، دیدِ ثواب اور دیدِ کرامت حجاباتِ خاص ہیں۔ اگر کوئی عرشِ اکبر پر نماز پڑھے، لوحِ محفوظ کو اپنے مطالعہ میں رکھے، تمام زمین کو اڑھائی قدموں میں طے کرے یا پانچوں وقت خانہ کعبہ میں سنت طریقے سے باجماعت نماز ادا کرے تو یہ سب حجابِ اکبر ہیں اور نفس کو فنا کر کے غرقِ توحید ہونا، ہروقت مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہنا، دل کو پاک کرنا اور مقاماتِ طبقات کی طیر سیر کی طرف متوجہ نہ ہونا معیتِ خداوندی کے بے حجاب مراتب ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں کو بلا سے آزماتا ہے جس طرح سونے کو آگ سے آزمایا جاتا ہے۔‘‘ دنیا یقین و اعتبار کی آزمائش کے لیے ہے اوریہ بندے اور اللہ کے درمیان ایک حجاب ہے۔ الٰہی! وہ سر نہ دے جو تجھے چھوڑ کر مخلوق کو سجدہ کرے، وہ آنکھ نہ دے جو تجھے چھوڑ کر غیر کو دیکھے، وہ کان نہ دے جو تیرے کلام کو چھوڑکر غیر کا کلام سنیں، وہ زبان نہ دے جو تیری ثنا چھوڑ کر غیر کی ثنا کرے، وہ قدم نہ دے جو تجھے چھوڑ کر غیر کی طرف اٹھیں، وہ ہاتھ نہ دے جو تیرے بغیر غیر کی طرف دستگیری چاہیں، وہ کمر نہ دے جو تجھے چھوڑ کر غیر کی طاعت میں جھکے، وہ سینہ نہ دے جو تیرے پیار کی بجائے نجاست و غلاظتِ غیر سے بھرا رہے اور وہ دل نہ دے جو تیری قربت کے بجائے قربتِ غیر سے معمور ہو۔ (عقلِ بیدار)
* حجابات دوقسم کے ہیں یعنی حجاباتِ عام اور حجاباتِ خاص، ان میں سے حجاباتِ عام تین ہیں یعنی نفس، دنیا اور شیطان۔ اور حجاباتِ خاص بھی تین ہیںیعنی طاعت، ثواب اور درجات۔ مصنف باھُوؒ کہتا ہے کہ ہر قسم کے عام و خاص حجابات سے وہ شخص خلاصی پاتاہے جس پر معرفتِ وحدانیتِ ذاتِ الٰہی کھل جاتی ہے ورنہ ہر مراد ایک حجاب ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* راہِ فقر میں انسان کو تین مشکل مقامات پیش آتے ہیں۔ اوّل مقامِ دنیاکہ اس میں رجوعاتِ خلق اور اہلِ دنیا سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ مقامِ ناسوت ہے، اگر آدمی اس میں مشغول ہو جائے تو اہلِ ناسوت ہی رہتا ہے۔ دوم مقامِ عقبیٰ کہ اس میں باطنی مشاہدات نصیب ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو خواب یا مراقبہ میں باغ و بہارِ بہشت نظر آئے اور وہ اسے پسند کر بیٹھے تو وہ اہلِ ملکوت و اہلِ جبروت ہی رہتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ طالبِ اللہ کو راہِ فقر میں جو مقام بھی پیش آئے اس پر اعتماد نہ کرے اور نہ ہی اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ رہے بلکہ آگے بڑھ کر مقامِ لاہوت پر پہنچے کہ بندہ جب لاہوت میں پہنچتا ہے تو طالبِ مولیٰ مذکر بنتا ہے اور جسے مولیٰ مل گیا وہ مالکِ کُل ہو گیا۔ محبتِ الٰہی کے علاوہ باقی جتنے بھی مراتبِ طیر سیر ہیں ان کی قدرو قیمت بس اتنی سی ہے کہ اگر تُو پانی پر چلتا ہے تو تُو ایک تنکا ہے اور اگر تُو ہوا میں اڑتا ہے تو تُو مکھی ہے لیکن اگر تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راضی کرلے تو پھر بہت کچھ ہے۔ (عین الفقر)
* حجابات بھی بہت زیادہ ہیں مثلاً علم حجاب، ذکر حجاب، فکر حجاب، وردو وظائف حجاب، لوحِ محفوظ کا مطالعہ کر کے نیک و بد وخوش بخت معلوم کرنا حجاب، عرش پر نماز پڑھنا حجاب، کرسی حجاب، ہر وقت کونین کی حقیقتِ حال کا مشاہدہ کرنا حجاب، خود کوغوث و قطب سمجھنا حجاب، کشف و کرامات حجاب، مقامات و درجات حجاب، خلق حجاب، نفس حجاب، دنیا حجاب، ازل حجاب، ابد حجاب اور حورو قصورِ عقبیٰ حجاب۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں باعثِ ثواب ہیں لیکن خدا سے روک دینے والی ہیں اور جو چیز بندے کو اللہ سے روک کر اپنے ساتھ مشغول کر لے وہ حجاب ہے اور ثواب کا حجاب توایسا ہے کہ اس سے نفس انانیت کا شکار ہو کر مطلق خراب ہو جاتا ہے۔ سو بے حجاب علم کون سا ہے؟ بے حجاب راہ کون سی ہے؟ بے حجاب معرفت و فقر ہدایتِ لانہایت کون سی ہے؟ بے حجاب مذکور حضور قربِ اللہ نور کون سا ہے؟ وہ دائرہ اسمِ اللہ ذات ہے کہ جس میں کل و جز کی ہر شے بے حجاب ہے۔ جو شخص اسمِ اللہ ذات کے اس دائرے میں حضوری کی راہ کو بلا حجاب نہیں دیکھتا وہ معرفتِ الٰہی سے محروم رہتا ہے اور وہ اندھا ہے۔ جو فقیر نہ مرتبے سے آگاہ ہے اور نہ صاحبِ نگاہ ہے اس سے تلقین لینا کبیرہ گناہ ہے۔ جو شخص کسی ناقص مرشد سے تلقین لیتا ہے وہ قربِ ا لٰہی سے بہت دور چلا جاتا ہے فقیر جو کچھ کہتاہے مقامِ حقیقت سے کہتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
* اگر تُو عاقل و ہوشیار ہے تو سن! اگر تُو عارف لائقِ دیدار ہے تو سن! اگر تو طالبِ دنیائے مردار ہے تو سن! اگر تُو عا لمِ فضیلت آثار ہے تو سن! اور اگر تُو جاہل و بدکردار ہے تو سن! رحمت و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ کفر وشرک کی بیماری و لعنت و زحمت و زوال سے نجات حاصل کر لی جائے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ دنیا سے کنارہ کشی کر لی جائے کیونکہ یہ دنیا ہی ہے جو بندے کو معرفت و وصالِ الٰہی کی راہ سے ہٹادیتی ہے۔ جو طالبِ اللہ شروع میں ہی تمام دنیا کو جمع کر کے اپنے قبضہ و تصرف میں نہیں لے آتا اور اس کا دل تمام دنیا سے سیر نہیں ہو جاتا وہ احمق ہے کہ فقر و معرفت کی راہ میں قدم رکھتا ہے۔ طالب کے لیے فرضِ عین ہے کہ وہ سب سے پہلے تمام دنیا اور ملکِ سلیمانی ؑ کو اپنے تصرف، اپنے اختیار اور اپنے حکم میں لے آئے، جب وہ ایسا کر لے تو اس پر فرضِ عین ہے کہ اب وہ اس تصرف و اختیار سے دست بردار ہو کر اپنا رُخ اللہ کی طرف کر لے اور تصور و دیدا رمیں محو ہو کر مرتبۂ دیدار تک پہنچے۔ یہ راہ نہ تو قیل و قال کی راہ ہے اور نہ ہی گفت و شنید اور مطالعۂ علمِ قیل و قال کی راہ ہے بلکہ مشاہدۂ عین جمال کی راہ ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
* تو جس منزل و مقام پر بھی پہنچ جائے اگر تُو پانی پر چلتا ہے تو تُو ایک تنکا ہے اور اگر تُوہوا میں اڑتا ہے تو تُو مکھی ہے۔ ایک کامل پیر و مرشد کی نگاہ میں اس قسم کے مراتب محض بازیگری اور شعبدہ بازی ہیں کیونکہ یہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اورمعرفتِ توحید سے بہت دور اور مطلق حجاب ہیں۔ مرشد کامل تو ایک ہی توجہ سے پل بھر میں دونوں جہان طے کر ا دیتا ہے۔ (عقلِ بیدار)
* بعض طالبوں کو شیخِ کامل سے مرتبۂ الہام و پیغام حاصل ہو جاتا ہے اس کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
* نفس شناسی اور الہام و پیغامِ شیخِ کامل کا حصول بھی بچوں کا کھیل تماشا ہے اس مرتبے پر مغرور ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ محض مرتبۂ پیغام ہے مرتبۂ معرفت و فقر نہیں۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی ابیات میں بھی ان مقامات و مراتب اور کشف و کرامات کی نفی فرماتے ہوئے اپنے دل میں ذاتِ الٰہی کو پالینے کے بارے میں فرماتے ہیں:

نہیں فقیری جھلیاں مارن‘ ستیاں لوک جگاون ھُو
نہیں فقیری وہندیاں ندیاں‘ سکیاں پار لنگاون ھُو
نہیں فقیری وچ ہوا دے‘ مصلّٰے پا ٹھہراون ھُو
نام فقیر تنہاں دا باھُو‘ جیہڑے دل وچ دوست ٹکاون ھُو

حاصلِ تحریر

اگر ہم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ان تمام تحریروں کا بغور مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپؒ اپنی تلقین و ہدایت میں اس فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بیان فرماتے ہیں جن کی بنیاد اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری اور قرب و وصالِ الٰہی کے لازوال مراتب کا حصول ہے۔ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ راہِ فقر کے راہی ان مراتبِ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ کسی اور مقام و رمرتبہ کی طرف متوجہ ہوں اس لیے وہ بعض طالبوں پر ان مقامات کو کھول کر ان کی حقیقت کا مشاہدہ کراتے ہوئے ان کو منازلِ فقر تک بڑھاتا ہے اور ایسے طالب جن کا ان مقامات و مراتب میں اُلجھ کر سکوت اختیار کر جانے کا ڈر ہوتا ہے انہیں اپنی تلقین و ارشاد سے ان مراتب و درجات کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ جیسا کہ خود سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ان سب (مقامات و مراتب، درجات و تصرفات اور لذات و حجابات) کا حال و حقیقت مرشد کامل طالبِ اللہ کو یا تو زبانی طور پر بتا دیتا ہے یا ہر منزل و مقام پر ان کا مشاہدہ باطنی آنکھوں سے کرا دیتا ہے تا کہ طالب کو یقین و اعتبار حاصل ہو جائے۔ راہِ باطن میں یوں تو آفات ہی آفات ہیں مگر تصور اسمِ اللہ ذات سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔‘‘ (نو ر الہدیٰ کلاں)

اپنا تبصرہ بھیجیں