فرمودات سلطان العارفین Farmodat Sultan-Ul-Arifeen

Rate this post

فرمودات سلطان العارفین Farmodat Sultan-Ul-Arifeen

تصنیف ِ لطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

اس رسالہ کا نام محبت الاسرار اور طرفتہ العین رکھا گیا ہے۔ تلمیذ الرحمن وہ ہے جو اس کتاب کے مطالعہ سے راہِ سلوک کے فیوض و برکات اور نکاتِ تصوف جان لے۔
اے عزیز! یہ رسالہ طرفتہ العین توحید میں استغراق اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ملاقات اور بے انتہا عنایات کا وسیلہ ہے۔

ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات

عین توحیدِ ذات تک رسائی تصور اسمِ اللہ ذات سے ممکن ہے جو اسمِ اللہ کے ذاکر اور مسمّٰی کے درمیان برزخ ہے۔
دائمی ذکر کے بغیر وقتی نماز قبول نہیں ہوتی اگرچہ نمازیں ادا کرتے کرتے کمر کبڑی ہو جائے اور نمازِ وقتی کے بغیر دائمی ذکر مقبول نہیں ہوتا اگرچہ پارسائی حاصل کرنے کی کوشش میں وجود بال کی مانند (باریک) ہو جائے۔
سلطان الذاکرین کا ذکر غیر مخلوق ہے جس کے لیے برزخ اسم اللہ، اسم لِلّٰہ،  اسم لَہٗ اور اسم  ھُو  ہیں۔
واصلین ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ ذکرِھوُ میں مشغول رہتے ہیں لہٰذا کبھی نہیں مرتے۔
اس مرتبہ پر پہنچ کر نفس قلب بن جاتا ہے، قلب روح بن جاتا ہے، روح سرّ بن جاتی ہے اور سرّ اسمِ اللہ ذات میں بدل جاتا ہے۔ 

توحید

اسمِ اللہ  توحید ہے اور توحید غیر مخلوق ہے۔
موحد انہیں ہی کہتے ہیں جو مطلق اہلِ توحید بن جائیں۔
مقامِ توحید کہاں ہے؟ جہاں اللہ ہے۔ اللہ کہاں ہے؟ اللہ میرے ساتھ ہے۔ میں کہاں ہوں؟ اللہ کے ساتھ۔ 

مرشد کامل اکمل

جان لو کہ مرد مرشد وہ ہے جو بغیر ذکر و فکر اور بنا ریاضت و مشقت تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں لے جائے۔
مرشد کامل اکمل پر شک نہ کر کیونکہ جو شک کرتا ہے کافر ہو جاتا ہے۔
جو مرشد خود صاحبِ حضور ہواس کے لیے اپنے طالبوں کو بھی حضوری میں پہنچانا کیا مشکل اور بعید ہے! 

وسیلۂ مرشد

فضیلت وسیلۂ مرشد کے ساتھ حاصل ہونی چاہیے کیونکہ بغیر وسیلہ کے فضیلت کسی کام نہیں آتی۔
جس طرح فضیلت منصب ِقضا پر پہنچاتی ہے اسی طرح وسیلۂ مرشد فقر و فاقہ کی بدولت رضائے الٰہی تک پہنچاتا ہے۔
گناہ کرتے وقت مرشد کے نام کا وسیلہ اختیار کیا جائے یا مرشد کانام لے کر اُس سے فریاد کی جائے یا مرشد کی صورت کو واسطہ بنایا جائے یا اسمِاللہ ذات اور اسمِ محمد کے برزخ کو تصور میں لایا جائے تب نفس گناہ سے باز آتا ہے اور اللہ کے قہر سے خوفزدہ رہتا ہے۔ 

عرفانِ نفس

تیری آنکھ تیرے وجود (میں چھپے نفس) کو کیوں نہیں دیکھتی؟ تجھے چاہیے کہ اپنے راہزن نفس کو مار ڈال۔
اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ اس طرح ہوتا ہے جس طرح ہڈی میں مغز۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ (سورۃ الذاریات۔21)
ترجمہ:اور میں تمہارے اندر ہوں، کیا تم دیکھتے نہیں!
باھوؒ! اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانی دو تو اسے کہہ دو کہ تیرا جانی دوست تو تیری جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔
نفس اور شیطان وجود میں اس طرح موجود ہیں جس طرح رگوں میں خون۔ 

انسان 

محض انسان کے اندر وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ سے بذریعہ الہام جواب باصواب پا سکتا ہے۔
محض انسان کے اندر وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت وہ مجلسِ محمدیؐ کی حضوری سے مشرف ہو کر مسرور و مغفور ہو سکتا ہے۔
محض انسان کے اندر وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت وہ نفس و شیطان پر غالب آکر انہیں مغلوب کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کا طالب ہے اور انسان کا ظہور بھی اللہ سے ہے۔
قیل و قال کی راہ اختیار نہ کر۔
انسان کو چاہیے کہ اپنے نفس کو چھوڑکر عروج حاصل کیا جائے تاکہ وہ سلطان العارفین بن سکے جو کہ عبودیت اور ربوبیت دونوں جہتوں کا حامل ہوتا ہے۔ 

دیدارِ  الٰہی

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج سے مشرف ہو کر واپس تشریف لائے تو سب سے پہلے عاشقوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا؟ فرمایا ہاں۔ 
مَنْ رَانِیْ فَقَدْ رَایَ الْحَقَّ 
ترجمہ:جس نے مجھے دیکھا پس تحقیق اس نے حق دیکھا۔
بعد ازاں علما نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا؟ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔  (سورۃ النجم۔3)
ترجمہ: اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔
اس لیے علما کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
تَفَکَّرُوْا فِیْ نِعْمَآئِہٖ وَ لَا تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ 
ترجمہ: اس کی نعمتوں میں تفکر کرو، اس کی ذات میں تفکر نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ کے دیدار کی لذت سے بڑھ کر کوئی اور نعمت، لذت، شوق اور عیش و راحت نہیں ہے اسی لیے دونوں جہان اس کے عشق میں مبتلا اور اس کے مشتاق ہیں۔
جس نے دیدار کر لیا، اس کی اپنی ذات گم ہو گئی۔ اُسے پھر کسی نے نہیں دیکھا کہ سرّ سرّ تک پہنچ گیا۔
باشعور طالب دیدار کی تحقیق کرتا ہے کہ دیدار کی جستجو سے عشق کی نعمت عطا ہوتی ہے جو فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر پہنچاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو صورت کی تشبیہ دینا کفر و شرک کرنا اور مردود ہونا ہے۔ اس بے مثل و بے مثال اور بے نمونہ وبے شبہ ذات کے انوار کو دیکھنا اور اس کے متعلق جستجو کرنا ہوشیار عاشق کا کام ہے کیونکہ یار کا سرّ یار کے پاس ہی ہوتا ہے۔
اللہ کی مثال کسی شے سے نہیں دی جا سکتی، وہ ہر چیز پر قادر اور حیّ قیوم ذات ہے۔
میں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھا تو اس کے راز کو پالیا۔ وہ لامکان ہے اس کی نشانی کیسے دی جا سکتی ہے؟

فنا فی اللہ فقیر

جب کوئی فقیر فوت ہوتا ہے تو اس کی قبر میں سوال و جواب کے لیے منکر نکیر اُسے اٹھاتے ہیں۔ فنا فی اللہ فقیر کی پیشانی پر اسمِ اللہ ذات واضح دیکھتے ہیں۔ جب فقیر ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے دائیں ہاتھ پر اسمِ اللہ ذات اور بائیں ہاتھ پر اسمِ محمدؐ لکھا ہوتا ہے۔جب فرشتے یہ احوال دیکھتے ہیں تو دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔ 

جب تو کسی فقیر کو علم، ذکر و فکر اور تقویٰ کے حصول کے لیے زہد و ریاضت کی مشقت میں دیکھے تو جان لے کہ وہ ابھی تک گمراہی کے جنگل میں بھٹک رہا ہے اور (اللہ سے) حجاب میں ہے جب تک کہ وہ توحید میں غرق ہو کر فنا فی اللہ کی حضوری میں نہ پہنچے۔ 

جان لو کہ فنا فی اللہ فقیر کا مقام چودہ طبقات میں نہیں بلکہ اس کا مقام توحید میں استغراق ہے۔
فقیرِکامل کی ایک نظر تمام عمر کی عبادت، تمام علم ِفضیلت حاصل کرنے اور تمام مسائلِ فقہ سیکھنے سے بہتر ہے کیونکہ علمِ ظاہر جلد اور کھال پر ہی اثر انداز ہوتا ہے۔
معرفتِ توحید کا علم دوست ہے جو فقیر کے سینہ میں اسرارِ الٰہی منکشف کرتا ہے۔
فقیر کا مقام توحید ہے جسے وہ پسند کرتا ہے۔
اہلِ مقامات حجاب میں ہیں کیونکہ وہ کل (مستقبل) کے امیدوار ہیں۔ 

خواہشاتِ نفس

انسان کے وجود میں تین خدا ہیں۔اوّل نفس، دوم خواہشات۔ خودی پر مبنی ان دونوں خدائوں کو باہر نکال دے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو خود پر ثابت کر لے جس میں اس نے فرمایا:
اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (سورۃ النسائ۔171)
ترجمہ: بیشک اللہ ہی واحد معبود ہے۔
خواہشاتِ نفس کے پیروکار خواہشاتِ نفس کے پیروکاروں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ والے اللہ والوں کے ساتھ۔
لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’دوڑو اللہ کی طرف‘‘ کو ’’دوڑو اللہ سے دور‘‘ سمجھ لیا ہے۔
جو راہِ (سلوک) میں کسی کو اپنے ہمراہ نہ رکھے وہ گمراہ ہے۔
جو (فقر میں) ہمراہ (مرشد) کے ساتھ ہو وہ بادشاہ ہے۔
اوّل مرتبہ فنا فی الشیخ ہے، اس کے بعد فنا فی الرسولؐ اور پھر فنا فی اللہ کا مرتبہ ہے۔
تو نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’تم ہرگز اللہ کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دو‘‘ (سورۃ آلِ عمران۔ 92 )کو دوسرے فرمان ’ ’کھائو اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بیشک اللہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ (سورۃ الاعراف۔ 31)سے بدل دیا ہے۔ 

اس عاجز کی یہ بات اپنے دل کے کانوں سے سنو کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ  (سورۃ آلِ عمران۔185)
ترجمہ: ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
 مگر تم نے اس روز کو فراموش کر کے غفلت کا شیطانی جام نوش کر رکھا ہے۔
مخلوق کا حق مقدم رکھتے ہو اور اللہ کا حق فراموش کر دیتے ہو۔ معلوم ہوا کہ:
وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی  (سورۃ بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: اور جو اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا پس وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ 

علم

فقر میں (ظاہری) علم اور جہالت نہیں ہوتی کیونکہ اگر کوئی علم کے ذریعے حق تک پہنچ سکتا تو شیطان لعنتی قرار نہ پاتا۔
جسے حق حاصل ہو جائے اُسے کیا ضرورت کہ علمِ صرف و نحو اور علم ِاصول پڑھے۔
جان لو کہ جہالت عذاب ہے اور علمِ عین ثواب ہے۔ ثواب جنت ہے اور عذاب دوزخ۔
حساب و شمار کو یاد رکھنے کا نام علم ہے جبکہ فقیر ذکر، فکر، عشق اور محبت میں غرق اور دیدار کا طالب ہوتا ہے۔ 

اللہ بس ما سویٰ اللہ ہوس

جس کے لیے اللہ کافی ہو اُسے کسی اور کی کفایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جس کا ہادی اللہ ہو اُسے کسی اور کی ہدایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اہلِ محبت کا تعلق نہ ثواب سے ہوتا ہے نہ عذاب سے، بلکہ وہ محض نفس کا محاسبہ کر کے اپنی جان کباب بنائے رکھتے ہیں۔
درویشوں کے لیے صرف اللہ ہی کافی ہے کیونکہ ماسویٰ اللہ ہر شے ہوس ہے۔
اہلِ دیدار عاشق اور دیوانے ہوتے ہیں جبکہ اہلِ علم روزی معاش اور لذیذ کھانوں کی خاطر دیوان خانوں میں امرا سے ملاقاتوں میں مشغول ہوتے ہیں اور نفس پروری کی وجہ سے اللہ سے بیگانے رہتے ہیں۔

فقرا اور فقہا

فقرا کا یار (اللہ) ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
فقرا اور فقہا کے درمیان کیا فرق ہے؟فقرا ذاتِ الٰہی میں مستغرق صاحبِ ذوق و شوق ہوتے ہیں۔ فقہا مسائل کے مطالعہ کے لیے ورق گردانی کرتے رہتے ہیں۔
ذکرِاللہ سے اللہ ذاکر کا رفیق بنتا ہے۔
فقرا کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔
فقیہ عارف اور ولی نہیں ہوتا اور نہ ہی فقیہ واصل باللہ ہوتا ہے۔ فقیہ تو دنیاوی مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جبکہ فقیر اللہ تعالیٰ کا ہمنشین ہوتا ہے۔ 

علما اور فقرا

علما کے پاس دلیل کے لیے علمِ شریعت ہے اور فقرا کا ہر دم و قدم ربّ جلیل اللہ تعالیٰ کی توحید میں مستغرق ہوتا ہے۔
اگرچہ علما نے ظاہری علوم حاصل کیے ہوتے ہیں لیکن وہ راہِ معرفت سے محروم رہتے ہیں۔
علما مردہ دل لوگوں یعنی دوسرے علما سے علم حاصل کرتے ہیں جبکہ فقرا اللہ حیّ قیوم سے علم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ عَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔  (سورۃ الکہف۔65)
ترجمہ: اور ہم نے اسے اپنا علمِ لدنیّ سکھایا۔
علما معاش اور مردار دنیا کے مال و دولت کے طلبگار ہوتے ہیں اور فقیر کی طلب اللہ کا دیدار ہے۔
علما پر آتشِ دوزخ حرام ہے لیکن فقیر پر جنت اور دوزخ دونوں حرام ہیں۔
علما کون ہیں؟ اہلِ روایت۔ فقرا کون ہیں؟ اہلِ ہدایت۔ پس روایت ہدایت کے لیے ہوتی ہے نہ کہ رشوت اور دنیا کے مال و دولت کے لیے۔ 

حبِ دنیا

حبِ دنیا بدعت ہے۔
سنو! شیطان صبح سویرے طمع کا طبل بجاتا ہے، دنیا کو آراستہ اور نقش و نگار سے پیراستہ کر کے نفسانی خواہشات سے مغلوب لوگوں کو دکھاتا ہے۔
جو دنیا کے مال و دولت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے وہ درحقیقت دنیا کو قول دیتا ہے کہ میں تیرا غلام ہوں اور تیرے ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہوں۔
دنیا متاعِ شیطان ہے۔ جو متاعِ شیطان اپنے ہاتھ میں لے وہ شیطان کے تابع ہو جاتا ہے۔
جس کے دل میں دانہ برابر بھی دنیا کی محبت ہو وہ خود کو شیطان کے درجہ میں شمار کرے۔
جو دنیا اور اہلِ دنیا کو پیش ِنظر رکھتا ہو وہ درویش نہیں بلکہ دونوں جہان میں ملعون ہے۔ 

راہِ فقر

جو راہِ فقر اختیار کرتا ہے اس کا نفس مر جاتا ہے اور نفس کا مرنا ہی اصل مقصود ہے کیونکہ نفس کے مرنے سے طالب اپنے ربّ اور معبود تک جلدی پہنچتا ہے۔
جو شخص اللہ کا طالب اور فقیر ہو خدانخواستہ وہ کبھی غیر شرعی کام نہیں کرتا اگرچہ اس کی ظاہری حالت خراب ہو۔
اگر کسی کو جہالت کی بنا پر حق حاصل ہوتا تو ابوجہل کعبہ میں موجود ہوتے ہوئے کبھی بھی مرتد نہ ہوتا۔
راہِ فقر محبت کی راہ ہے جیسا کہ اصحابِ کہف کا کتا محبت کی بدولت آدمی کے مرتبہ پر پہنچا۔
اے باھوؒ! اللہ میرے نزدیک ہے، اسے دور کیوں کہتا ہے! میں پلک جھپکنے میں تجھے نورِ ذات تک پہنچا سکتا ہوں۔
جو ظاہری طور پر علم میں مشغول ہو وہ اللہ کے ذکر، فکر، استغراق اور معرفت کی باطنی راہ سے بے خبر اور محروم رہتا ہے۔ 

رضائے الٰہی

امامِ اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے منصبِ قضاکو قبول و اختیار نہ کیا اور اپنی جان رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دی۔
جو فقیر ظاہری طور پر عبادت میں مشغول نہ ہو وہ علما کے نزدیک بظاہر گناہگار ہوتاہے جبکہ علما جو کہ ظاہری عبادت میں ہی مشغول رہتے ہیں وہ فقرا کے نزدیک باطنی طور پر گناہگار ہوتے ہیں۔
فقیر باطن میں حضرت خضر علیہ السلام کے مرتبہ پر ہوتے ہیں جن کا قصہ سورۃ الکہف میں بیان ہوا ہے کہ خضر علیہ السلام نے کشتی توڑی، بچہ قتل کیا اور دیوار کو تعمیر کر دیا۔ 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں