Alif | الف
مجددِ دوراں ۔ سلطان العاشقین
مجددِ دوراں، امام الوقت، سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے انسانِ کامل اورسلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام ہیں۔ آپ مسندِتلقین و ارشادپر فائز صاحبِ مسمیّٰ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدی اور فقیر مالک الملکی ہیں جو فقرائے کاملین کا سب سے اعلیٰ وارفع مرتبہ ہے۔ قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہونے کی بنا پر آپ اس دور میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب وخلیفہ ہیں اور ان کے ورثۂ فقر کے وارث اور امانتِ الٰہیہ کے حامل فقیرِکامل ہیں۔ دنیائے فقر و تصوف میں آپ کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں اور آپ کی شان تسلیم شدہ ہے۔ آپ کی سب بڑی خدمت دینِ اسلام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے اس کی تجدید کرنا اور اس کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر شے خصوصاً انسان کی فطرت میں ارتقا رکھا ہے۔ جو شے یا قوم ارتقا کوقبول نہیں کرتی یا اس عمل سے نہیں گزرتی، نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ آج مسلم اُمہ کے زوال کی سب سے بڑی وجہ دینِ اسلام کو اس ارتقائی عمل سے محروم رکھنا ہے جو اس کی بقا کا تقاضا تھا۔ اسلام ہرگز جمود کی حوصلہ افزائی کرنے والا دقیانوسی مذہب نہیں ہے، اسلام تو انسان اور کائنات کی فطرت کے قریب ترین مذہب بلکہ فطرت کے عین مطابق ہے۔ علما کرام کی روایت پسندی اور شدت پسندی نے اسے جمود کا شکار بنا کر نئی نسل کو اس سے باغی کر دیا ہے۔
آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے اسی جمود کو توڑ کر دین کو جدیدیت میں اس طرح داخل کیا ہے کہ نہ صرف اس تیز ترین دور میں اس پر عمل کرنا آسان ہو گیا ہے بلکہ اسی پر عمل کرنے میں آسانی نظر آنے لگی ہے۔ نئی نسل کو دین پیارا لگنے لگا ہے اور اس سے محبت ہو گئی ہے جس کا ثبوت سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مریدین ہیں جن میں زیادہ تعداد نو جوانوں کی ہے جو دنیا کے ساتھ ساتھ دین میں بھی ترقی کر رہے ہیں۔ یہی وہ کارنامہ ہے جو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو سب سے ممتاز کرتا ہے۔
مظہرِحق ہونے کی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کی تعلیمات حکمت و معرفت کے اسرار کا خزانہ ہیں جن کا فیض سلسلہ سروری قادری میں جاری وساری ہے۔ آپ صرف اس دور کے انسانِ کامل ہی نہیں بلکہ ان تمام فقرائے کاملین کی سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی تعلیمات کی زندہ و روشن مثال بھی ہیں جن کی زندگی قدم بقدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی میں گزری اور جس کی بدولت وہ قربِ الٰہی کے اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچے۔ تمام مشائخ سروری قادری کی طرح آپ مدظلہ الاقدس کا وجودِ مسعود انوارِ حق کا انعکاس کرتا ہے جن کی مقنا طیسی کشش طالبانِ مولیٰ کو اپنے حصار میں لے کر راہِ حق کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی کرشماتی شخصیت جغرافیائی، ثقافتی، لسانی حدود کو پار کرکے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔