Alif | الف
بابِ فقر۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
تاریخِ اسلام میں جب بھی عشق و رفاقتِ مصطفیؐ، شجاعت و بہادری اور ذہانت و فطانت کا ذکر کیا جائے تو ایک نام نمایاں ہو گا اور وہ نام فاتحِ خیبر، بابِ فقر خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ ربّ تعالیٰ کی طرف سے وہ انعام یافتہ ہستی ہیں جو عشقِ مصطفیؐ سے سرشار ہیں۔ آپؓ کی ساری زندگی آقائے دوجہان کی رفاقت میں گزری۔ آپؓ نے کمسنی میں ہی رفاقتِ یار کا سہرا پہنا اور شجاعت و بہادری اور وفا و قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وفا و عشق کی مثالی زندگی گزاری، اسی لیے آپؓ کو فقر کی امانت کا مختار بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فقر ہیں توحضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ۔ آپؓ کی ذاتِ بابرکت کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپؓ کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’علیؓ کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے‘‘۔
امیر المومنین امام المتقین، مشکل کشا، شیرِخدا، امام العارفین، تاجدارِ اولیا، رفیقِ پیغمبر، فاتحِ خیبر کی بلندشان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: من کنت مولا فھذا علی مولا ترجمہ’’جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علیؓ مولیٰ ہے‘‘۔ (ترمذی 3713)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت اُمّ سلیمؓ سے فرمایا ’’بلاشبہ علیؓ کا گوشت میرا گوشت ہے اور اس کا خون میرا خون ہے۔ اس کا رتبہ میرے نزدیک وہی ہے جو حضرت موسیٰؑ کے نزدیک حضرت ہارون ؑکا تھا۔‘‘ (کنز العمال 32933)
پھر ایک اور مقام پر فرمایا ’’علیؓ مجھ سے ہے اور میں علیؓ سے ہوں‘‘۔ (ترمذی3712)
جتنے مناقب حضرت علیؓ ابن ابی طالب کے بارے میں احادیثِ نبویؐ میں موجود ہیں کسی اور صحابیٔ رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ آپؓ کی امتیازی صفات اور کمالات کے بارے میں لکھنا ایسا ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ حضرت علیؓ 30 عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق آپؓ 12 یا 13 رجب بروز جمعتہ المبارک پیدا ہوئے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ مبارکہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ آپؓ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اس لئے آپؓ کو مولودِ کعبہ بھی کہا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ شرف پہلے کسی کو نہیں بخشا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور اپنی زبان چوسنے کیلئے ان کے منہ میں رکھی۔ آپ کرم اللہ وجہہ کا نام مبارک ’’علی‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تجویز فرمایا۔ آپؓ کے القاب اسد اللہ، حیدر اور مرتضیٰ اور کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ تراب کے معنی مٹی کے ہیں ابوتراب یعنی مٹی کا باپ۔
خداکی سب سے بڑی نعمت اور سعادت جو آپ کرم اللہ وجہہ کو حاصل ہوئی وہ یہ تھی کہ حضرت علیؓ کی تربیت و پرورش خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی۔ حضرت علیؓ جس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سرپرستی میں آئے اس دن سے لیکر شہادت کی رات تک کسی وقت اور کسی بھی لمحہ دفاعِ رسالت اور دینِ الٰہی سے پیچھے نہیں ہٹے۔
بے شمار فضیلتوں کے ساتھ ساتھ یہ فضیلت بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حصہ میں آئی کہ سیدۃ النساء حضرت فاطمہؓ جو محبوبِ خداکی سب سے محبوب اور لاڈلی صاحبزادی اور خاتونِ جنت ہیں، کا نکاح آپ کرم اللہ وجہہ سے ہوا۔ یہ امتیاز بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حاصل ہو اکہ آلِ نبیؐ اولادِ علیؓ ہے۔ تمام لوگوں کی اولاد یا نسل اس شخص کی پشت میں رکھی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پشت میں رکھا۔ حضرت فاطمتہؓ الزہرا سے حضرت علیؓ کی اولاد آلِ رسولؐ ہے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے چلی۔ آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیتؓ میں بھی شامل ہیں بلکہ آپؓ کا پورا گھرانہ ہی اہلِ بیتؓ ہے۔
آپ کرم اللہ وجہہ کی بہادری اور شجاعت میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ ہر معرکہ میں حضرت علیؓ نے اپنی شجاعت و بہادری اور فدا کاری کا لوہا منوایا اور بدر واُحد، خندق و حنین اور خیبر میں اپنی جرأت و بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپؓ کی شجاعت کا اعتراف کرتے ہوئے آپؓ کو حیدر کرار اور آپؓ کی شمشیر کو ذوالفقار کے خطاب سے نوازا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قابلِ فخر ورثہ ’’فقر‘‘ کے وارث، امین، اسے زندہ رکھنے والے اور اُمت کی طرف منتقل کرنے والے ہیں۔ یہ عظیم ورثہ جس پر آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فخر کیا آپؓ کے حصہ میں آیا۔ حضرت عبداللہ بن حکیمؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے شبِ معراج وحی کے ذریعے مجھے حضرت علیؓ کی تین صفات کی خبر دی کہ وہ تمام مومنین کے سردار ہیں، متقین کے امام ہیں اور نورانی چہرے والوں (اہلِ فقر) کے قائد ہیں۔‘‘ (امام طبرانی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بے پایاں شجاعت کے مالک، بابِ فقر اور دیگر عظیم اوصاف کے ساتھ علم و فضل کے میدان میں بھی بہت بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ آپؓ کی علمی رفعتوں اور عظمتوں کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے‘‘۔ (المستدرک 4637,4638,4639)
اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تمام کائنات کے ظاہری و باطنی علوم سے مشرف فرمایا۔ فقر میں علم سے مراد علم معرفتِ الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو جاننے اور پہچاننے، اللہ کی رضا، اللہ کی تخلیقات کو جاننے کا علم ہے۔ جس کو معرفتِ الٰہی حاصل ہوجائے اس سے دنیا کا کوئی علم بھی مخفی نہیں رہتا۔ آپؓ نے فرمایا ’’مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حروفِ مقطعات حمعسق کی تفصیل میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تعلیم کردیا‘‘ آپؓ نے مزید فرمایا ’’لوگو! مجھ سے آسمان کے راستے پوچھو، میں ان کو زمین کے راستوں سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔‘‘
آپؓ کو علمِ کلام،علمِ صرف ونحو، علمِ تجوید، علمِ طب، علمِ تاریخ،علمِ حساب، علمِ تعبیر رؤیا، علمِ نجوم، علمِ فقہ، علم الاعداد غرضیکہ ہر طرح کے علم خاص طور پر علمِ فقر جوان تمام علوم کا جامع اور ماخذ ہے، پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان سب علوم کیلئے آپؓ کے استاد خود آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں جو کہ علم و معرفت اور ہدایت کا سر چشمہ ہیں۔ حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کے ساتھ برگزیدہ کیا اور علیؓ کو علم و شجاعت و فصاحت کے ساتھ ممتاز فرمایا اور ہمارے لیے اپنے پاک ناموں سے دو نام مشتق کیے پس اللہ تعالیٰ محمود ہے اور میں محمد ؐ ہوں اور اللہ تعالیٰ ’اعلیٰ‘ ہے اور یہ علیؓ ہے۔‘‘ حضرت علیؓ کی راہنمائی کے بغیر کوئی بھی علمِ معرفت کے شہر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ہر طالبِ مولیٰ کیلئے راہِ فقر میں کامیابی کیلئے اس دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔
21رمضان المبارک 40 ہجری کو اس دنیا فانی کو خیرباد کہتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ابنِ ملجم نے17 رمضان المبارک کو امیر المومنین کی پیشانی پر زہر آلود خنجر سے وار کیا۔ وار اِس قدر شدید تھا کہ آپؓ زخمی ہو گئے اور جامِ شہادت نوش کر کے واصل باللہ ہوئے۔
(اقتباس:ماہنامہ سلطان الفقر لاہور ، مضمون: بابِ فقر۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ، شمارہ جون 2018)