بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر : 16 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
ذکرِقلبی
کسی نے پوچھا کہ ذکر ِقلبی کیا ہے؟ فرمایا: اسمِ اللہ ذات ہی ذکرِقلبی ہے لیکن اسمِ اللہ ذات مرشد کے بغیر نہیں کھلتا چاہے بندہ کتنی کوشش کر لے۔ مرشد وہ ہونا چاہیے جو اسمِ اللہ میں کامل اور اس کا عامل ہو۔ کچھ لوگ پریکٹس کر کے جسم کے قلب کو حرکت دے لیتے ہیں،یہ شعبدہ بازی ہے، یہ ہرگز ذکر ِقلبی نہیں اور نہ قلب سے مراد یہ جسمانی قلب ہے۔ قلب تو روح کو کہتے ہیں۔
جدید تعلیم
فرمایا: جدید تعلیم یافتہ کہتے ہیں کہ مرشد کو چھوڑو، قرآن پڑھو۔ اب خود تو جتنی تعلیم حاصل کرتے ہیں استاد ہی سے کرتے ہیں۔ کیا کوئی صرف ایم بی بی ایس کی کتابیں پڑھ کر ڈاکٹر بن سکتا ہے؟ اگر دنیا میں استاد کے بغیر ڈاکٹر نہیں بنا جا سکتا تو پھر اللہ کی راہ کیسے استاد کے بغیر چلی جا سکتی ہے جہاں شیطان جگہ جگہ جال بچھا کر بیٹھا ہوا ہے۔
خانقاہ مسجد سے علیحدہ کیوں؟
کسی نے پوچھا خانقاہ کیا ہوتی ہے؟ فرمایا: خانقاہ کا مطلب ہے کہ جہاں ولی اپنا ڈیرہ لگا لے۔ پرانے زمانے میں صوفیا اپنا علیحدہ ڈیرہ لگا کر خانقاہ قائم کرتے تھے۔ خانقاہ مسجد سے علیحدہ ہوتی ہے۔مسجد کے آداب شریعت کے مطابق ہوتے ہیں جبکہ خانقاہ میں تربیت طریقت کے مطابق کی جاتی ہے۔
اللہ کو راضی کرنا
فرمایا: اصل چیز تو اسے راضی کرنا ہے، اگر وہ عبادت سے راضی ہوتا تو مکہ میں ساری عبادتیں فرض ہو جاتیں۔ مکہ والوں نے راضی کیا ہے، مدینہ والوں میں بھی جو اوّلین ہیں انہوں نے بھی عبادت و ریاضت نہ کی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راضی کیا۔ نماز تو ۲ ہجری میں فرض ہوئی۔ مسجدِنبویؐ کی تعمیر کے بعد مدینے والے دھڑا دھڑ مسلمان ہو گئے تھے، سارے قبیلے والے مسلمان ہو گئے تھے۔
بلھے شاہؒ نے ناچ کر منا لیا، یہ نہیں پتا وہ کس طرح راضی ہو۔ ہر بندے سے وہ مختلف طریقے سے راضی ہوتا ہے اورہر بار ایک ہی طریقے سے راضی نہیں ہوتا۔
سیدنا غوث اعظمؓ کے مجاہدات
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ جب بغداد تشریف لائے تو آپ کی عمر 18 سال تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی باطنی تربیت حضرت حماد بن دباسؒ نے کی۔ آپؓ نے تقریباً 25 سال ریاضتیں کیں۔ آپ ؓ نے شیطان کے بارے میں بھی ظاہری طور پر لکھا ہے، اس وجہ سے جب ایسے معاملات پیش آتے ہیں توفقر والے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ شیطان ہے۔ فقر والے کی قلبی کیفیت ہوتی ہے کہ گھر سے نکل کر کہیں دوڑ جائے۔ بے سکونی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔
اسباب سے رزق کی کوشش
فرمایا: رزق سب ہی اسباب سے حاصل کرتے ہیں لیکن فقیر کو پتا ہوتا ہے کہ اللہ نے بھجوایا ہے۔ دینے والے کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ اللہ نے بھجوایا ہے۔ دنیا دار سمجھتا ہے کہ اسباب ہی رازق ہیں۔ یہ شرک ہے۔ رازق تو اللہ ہے۔
17مئی2025ء بروز ہفتہ
حق پر ہونے کی نشانی
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے فرمایا: ایک نصیحت ہے یاد رکھنا کہ جب ایک انسا ن کے بہت زیادہ مخالف ہو جائیں تو سمجھ جاؤ کہ وہ حق پر ہے۔ اس لیے اپنے اردگرد دیکھو اور اس نشانی کی بنا پر جانچ لو کہ کون حق پر ہے۔ اللہ نے جو کروانا ہوتا ہے وہ کر کے رہتا ہے چاہے ساری دنیا اس کی مخالف ہو جائے۔
اسٹیبلشمنٹ
بہت کم ممالک ایسے ہیں جہاں اسٹیبلشمنٹ فوج ہے۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی ہے۔ پاکستان کی بیوروکریسی بھی شروع میں اقتدار میں آگئی تھی۔ بعد میں پھر فوج آگئی۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے کبھی غلط فیصلہ نہیں کیا۔ 1965ء میں پاکستان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب امریکہ کی بجائے چائنہ کی طرف اپنا جھکاؤ رکھنا ہے۔ آج دیکھ لیں وہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ کو سب سے پہلے سلطنتِ عثمانیہ نے دریافت کیا تھا۔ انہوں نے اس کو ’’دولت ِدریں‘‘ کا نام دیا تھا۔ دولتِ دریں کا مطلب ہے چھپی ہوئی دولت۔
پاکستان اور انڈیا کی جنگ
بات چل نکلی پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کی طرف تو فرمایا: پاکستان انڈیا سے کوئی جنگ نہیں ہارا، جس طرح ان کا میڈیا ابھی پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ ان کو فتح ہوئی ہے اسی طرح انہوں نے 1965,1949اور1971ء میں پروپیگنڈا کیا۔جہاں تک 1971ء کی بات ہے توپاکستان اس فرنٹ پر اس لیے کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ لوجسٹک کے مسائل تھے۔ کس طرح یہاں سے مسلسل اسلحہ اور ایمونیشن جا سکتا تھا؟ جب جنگ ہوتی ہے تو لوجسٹک اچھی ہونا ضروری ہے۔ جبکہ اِس فرنٹ پر پاکستان کامیاب رہا۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان نے چونڈہ میں کافی علاقہ قبضہ میں لے لیا تھا پھر جب انڈیا ’’یو این UN ‘‘ کے پاس گیا تو پاکستان نے یہ علاقے واپس کر دیے۔
پاکستان میں سکون ہے
بات چل نکلی Two Nation Theory یعنی دو قومی نظریہ کی طرف تو فرمایا کہ ہمارے والد صاحب کہتے تھے کہ ہندو ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے، جس گلاس کو مسلمان ہاتھ لگا لیں اس میں وہ کچھ پیتے نہیں تھے، ہم نے گنوایا تو بہت کچھ ہے لیکن ادھر (پاکستان میں) سکون ہے۔ کوئی تو وجہ تھی کہ اللہ نے ملاوں کے بجائے قائدِاعظم کو چن لیا تھا۔
مشیت
بات مشیت کی طرف چل نکلی تو فرمایا صوفیا تو اللہ کی مشیت سمجھتے ہی ہیں لیکن کچھ علما بھی اللہ کی مشیت کو سمجھتے ہیں۔ کچھ عام لوگ بھی اللہ کی مشیت کو سمجھتے ہیں۔
4جولائی 2025ء ۔جمعتہ المبارک
بنی اسرائیل پر انعامات کی وجہ
8 محرم الحرام کو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضری کاموقع ملا۔آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کوئی سوال ہے تو پوچھو؟ کسی نے عرض کی کہ بنی اسرائیل پر اتنے انعامات کی وجہ کیا تھی؟
فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے عاشق تھے، اللہ کی رضا پر تھے۔ انہی کی وجہ سے ان پر اتنی عنایات کی گئیں۔ قرآن میں ہے:
ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ (سورۃ الجمعہ ۔4)
ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔
اللہ کے نور کی صورت
فرمایا: اللہ نے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور کی مثال بیان کی ہے:
اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ لا یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓئُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۔ (سورۃ النور۔35)
ترجمہ: اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا، روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے، جو نہ شرقی ہے نہ غربی، قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے اگرچہ اُسے آگ نہ چھوئے۔ نور پر نور ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔
پہلے انبیا کی صورت میں اللہ کا نور آتا تھا اور جو اللہ کی طلب رکھتے تھے انہیں اپنے نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا یعنی انبیا کی طرف بھیج دیتا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے، تو جو اس وقت اللہ کی طلب رکھنے والے تھے، ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد اللہ کا نور اولیاکی صورت میں جلوہ گر ہوا۔ اب جو اللہ کی طلب کرتا ہے اللہ ان کی رہنمائی اولیا کی طرف فرما دیتا ہے۔
دیدارِ الٰہی
کسی نے سوال کیا کہ دیدار ممکن ہے؟ فرمایا: انبیا کو جو معجزات حاصل ہوتے ہیں وہ اس نبی کی امت میں چلتے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰؑ مردہ کو زندہ اور کوڑھ کے مریض کو ٹھیک کرتے تھے تو ان کی امت کے اولیا بھی کرتے تھے، ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معراج کی رات دیدار کا تحفہ ملا، اس لیے وہ امت کو بھی حاصل ہے۔
25جولائی 2025ء جمعتہ المبارک
صفائی نصف ایمان ہے
فرمایا:کچھ لوگ صفائی کا خیال نہیں رکھتے، اتنا اتنا عرصہ نہاتے نہیں۔ ایمان تو صفائی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: صفائی نصف ایمان ہے۔
صفائی سے برکت آتی ہے۔ طالب کو گند سے نحوست ہوتی ہے۔
سب کچھ ان کا ہے
بات چل نکلی کہ مسجدِزہراؓ بہت شاندار ہے۔ فرمایا: ہم نے اپنے حضور (سلطان الفقر ششمؒ) کو جگہ خریدکر دی تو حضور نے دنیا میں اتنا عطا کیا ہے ۔ ہم بھول گئے کہ ہم نے لے کر دی ہے۔ اس کے بدلے میں جو جو عطا کیا سب آپ کے سامنے ہے۔
جب ہم حضرت پیر عبداللہ شاہ صاحبؒ کا دربار پاک بنوا رہے تھے تو لوگ کہتے تھے کیوں بنوا رہے ہو؟ لوگ ہم پر حیران ہوتے تھے۔ ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں کہ پیسے لگ رہے ہیں۔ اب انہوں نے اس کے بدلے اتنا کچھ عطا کر دیا کہ جس کی حد نہیں۔
فرمایا: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے ’’ہم نے ہر کسی کا احسان اتار دیا سوائے ابوبکر صدیقؓ کے۔‘‘ اسی طرح ہمارے مرشد کریم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ اوچھالی شریف میں فرمایا ’’ہم نے سب کے احسان اتار دیئے لیکن بھائی نجیب کا احسان نہیں اتارا۔‘‘
اللہ احسان نہیں رکھتا
فرمایا: اللہ پاک کسی کا احسان نہیں کھتا۔ جو اللہ کو دیتا ہے اللہ اس کو بڑھا چڑھا کر واپس دیتا ہے۔ اللہ کو ایسا تو نہ سمجھو کہ تم اس کے لیے قربانی دو اور وہ تمہیں کچھ عطا نہ کرے۔ اللہ اس کو دیتا ضرور ہے۔
توکل
بات توکل کی طرف چل نکلی تو فرمایا: حضرت ابوذر غفاریؓ ایک ٹائم کا کھانا کھاتے اور دوسرے کا پتا نہیں ہوتا تھا۔
لنگر پاک
فرمایا: ہماری خانقاہ (خانقاہ سلطان العاشقین) کے لنگر میں اللہ نے بہت برکت ڈال دی ہے، انواع و اقسام کے کھانے پکتے ہیں، کچھ لوگ ابھی بھی ناشکری کرتے ہیں اور کھانے پر جھگڑتے ہیں۔ جس طرح کا لنگر ہم مریدی میں کھاتے تھے وہ ان کو پتا چلے تو خوشی خوشی کھائیں۔
عاشق کی خوراک
بات زیادہ کھانے کی طرف چل نکلی تو فرمایا: عاشق کی خوارک تو ایک روٹی بھی کافی ہوتی ہے، اس سے زیادہ وہ نہیں کھاتا۔ ہمارا کھانا دیکھ لو ہم تو ایک ہی روٹی کھاتے ہیں۔ عاشق کم کھاتا، کم بولتااور کم سوتا ہے۔
لغوی اور اصطلاحی معنی
ایک ہوتے ہیں لغوی معنی اور ایک ہوتے ہیں اصطلاحی معنی۔ جیسے صلوٰۃ کے لغوی معنی ’’دعا‘‘ کے ہیں جبکہ اصطلاحی وہ ہیں جو ہم دن میں پانچ مرتبہ مخصوص طریقے سے شریعت کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ اسے صلوٰۃ کہتے ہیں۔ جسے آپ نماز کہتے ہیں۔
اسی طرح صوم کے لغوی معنی ہیں ٹھہر جانا، رُک جانا۔ لیکن اصطلاحی معنی صبح سے شام تک کھانے اور جماع سے رک جانے کو صوم کہتے ہیں۔ یا شریعت نے جن باتوں سے منع کیا اس سے رک جانے کو صوم کہتے ہیں۔ جسے آپ روزہ کہتے ہیں۔ اس ماہ(رمضان) کو ماہِ صیام کہتے ہیں۔
اسی طرح حج کے لغوی معنی ہیں زیارت کرنا۔ لیکن اصطلاحی معنی ہیں کہ ذی الحج کے مخصوص دنوں میں منیٰ،عرفات، مزدلفہ اور خانہ کعبہ یا بیت اللہ میں جو عبادت کی جاتی ہے اس کو حج کہا جاتا ہے۔
اسی طرح تقویٰ کے لغوی معنی پرہیزگار کے ہیںلیکن اس کے اصطلاحی معنی ہیں اللہ کا قرب ۔ جو بندہ اللہ کے جتنا زیادہ نزدیک ہو گا وہ اتنا ہی متقی ہو گا۔
16جنوری 2026
منافق سے دین کی خدمت
کسی نے کہا کہ فلاں نیک کام اس بندے نے کیا ہے لیکن اب منافق ہے۔ فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’اللہ فاسق سے بھی دین کا کام لے لیتا ہے۔‘‘اسی طرح اللہ منافق سے بھی کام لے لیتا ہے۔
مشیت اور رضا میں فرق
فرمایا: مشیت اور چیز ہے، رضا اور چیز ہے۔ حضرت آدم ؑکا زمین پر آنا اللہ کی مشیت تھی، لیکن دانا کھانا اللہ کی رضا نہ تھی۔
17جنوری 2026ء
قابَ قوسین
کسی نے پوچھا کہ قرآن میں قابَ قوسین کا ذکر ہے ۔کیا اس طرح اللہ کو کوئی دیکھ سکتا ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھا؟ فرمایا: ایک ہے بالواسطہ اور ایک بلا واسطہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بلاواسطہ حاصل تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے واسطہ سے سب کچھ ملتا ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھے گا وہی اللہ کو دیکھے گا۔
18جنوری 2026
شرک
کسی نے شرک کے متعلق پوچھا تو فرمایا: کسی بھی چیز کی پرستش کرنے کو شرک کہتے ہیں۔ لوگ سیاستدانوں کی بھی پرستش کرتے ہیں، والدین بچوں کی پرستش کرتے ہیں۔ والدین بچوں کو اس لیے بھی پالتے ہیں کہ بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنیں۔ جب یہ اللہ کو چھوڑ کر اولاد کو ربّ بناتے ہیں تواللہ بچوں کو ہی والدین کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔
(جاری ہے)