نعمتِ الٰہی Nemat-e-Elahi
تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری
عام طور پر لوگ صرف دنیاوی مال و متاع اور آسائشوں کو ہی نعمت گردانتے ہیں جب کہ حقیقتاً ایسا ہرگز نہیں ہے: اگر آسائشِ دنیا، مال و دولت کی فراوانی اور عزّو جاہ نعمتِ الٰہی ہوتیں تو یہ سب اللہ پاک اپنے رسولوں، نبیوں اور محبوبین سے دور نہ رکھتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے فائدے اور راحت و سکون کے لیے جو چیزیں عطا کی ہیں مثلاً زندگی،صحت،عقل، ایمان، رزق، اولاد، بارش، الغرض زمین و آسمان کی سب سہولیات جو کہ انسان کو نفع پہنچاتی ہیں،تمام تر نعمتیں ہیں۔ پس دینِ اسلام کی تعلیمات کی رُو سے نعمت صرف مال و دولت کے حصول کا نام نہیں بلکہ ہر وہ چیز نعمت ہے جو دنیاوی اور اُخروی بھلائی کا سبب بنے۔ اللہ پاک اپنے بندوں پر اس قدر لامحدود نعمتوں کا نزول فرماتا ہے کہ ان کا شمار بھی ممکن نہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَ اٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ ط وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ ۔ (سورۃابراہیم۔34)
ترجمہ: اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا فرما دی جو تم نے اس سے مانگی، اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکرگزار ہے۔
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا ط اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل۔18)
ترجمہ:اگر تم اللہ کی نعمتیں گننے لگو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے۔ یقینا اللہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر خیر ہر لذت ہر سعادت بلکہ ہر مطلوب مؤثر نعمت ہے۔( احیاء العلوم)
حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کی رحمت و نعمت ہمہ وقت انسان کے ساتھ رہتی ہے لیکن وہ انہیں شمار ہی نہیں کرتا۔ اگر انسان غور کرے تو انسانی وجود کا مکمل تخلیق ہونا، تمام اعضا اور حواسِ خمسہ کا بہترین طریقہ سے کام کرنا، آسائش و ضروریات کا میسر ہونا، علم، عقل، فہم و فراست اور شعور ہونا، حق کو سمجھنا اور اسے پالینا،بے شمار گناہوں اور نافرمانیوں کے باوجود بھی نہ صرف عذابِ الٰہی سے محفوظ رہنا بلکہ ہمہ وقت رحمتِ الٰہی کا نزول رہنا یہ سب نعمتِ الٰہی ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن ۔ (سورۃ الرحمن)
ترجمہ: پس (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔ (صحیح بخاری 6412)
نعمتِ الٰہی کو اقسام میں تقسیم کرنا درحقیقت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بندہ ہر وقت اپنے ربّ کی عنایات اور نوازشوں میں گھرا ہوا ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے باہر نہیں۔ ان میں سے بعض نعمتیں ظاہری و عارضی ہیں اور بعض باطنی و دائمی ہیں۔ عقلمند و دانا انسان وہی ہے جو ان نعمتوں کو پہچان کر اللہ تعالیٰ کا صحیح معنوں میں شکر بجا لائے اور ان نعمتوں کو خالص اس کی رضا و قرب کے حصول کے لیے استعمال کرے۔
ظاہری وعارضی نعمتیں
یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا تعلق اس ظاہری مادی دنیا سے ہے اور انہیں حواسِ خمسہ سے محسوس کیا جا سکتا ہے اور یہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے لازم ہیں مثلاً صحت، طاقت، جوانی، عزت، مال و دولت، کاروبار، اولاد، خاندان، دنیاوی علم و حکمت اور تمام تر وسائل جو کہ زندگی بسر کرنے کے لیے درکار ہوں ۔انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ان نعمتوں کو اللہ کی عطا ہی تسلیم کرے ان پر ہرگز غرور نہ کرے اور ناہی ناشکری کی روش اختیار کرے بلکہ انہیں محض عارضی آزمائش کا ذریعہ سمجھے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ ٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ( سورۃ الانفال۔ 28)
ترجمہ:اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد توبس فتنہ (آزمائش) ہی ہیں اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس اجرِعظیم ہے۔
بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ انسان نعمتِ ظاہری کو نعمتِ باطنی و روحانی کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ جیسے صحت کو عبادتِ الٰہی میں، مال و دولت کو زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں اور علم و حکمت کو فروغِ دین میں استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ حدیثِ نبویؐ ہے:
دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ (مسند احمد)
باطنی و دائمی نعمتیں
یہ وہ نعمتیں ہیں جو قلب و روح کو روشن کرتی ہیں۔ ہدایت کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔ قرب و معرفتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ ان میں تقویٰ، حسنِ اخلاق،تزکیۂ نفس،محبتِ الٰہی کے حصول کے لیے غور و فکر اور ذکرِالٰہی کی توفیق، اخلاصِ نیت سے صوم و صلوٰۃ کی پابندی اور عرفانِ ذات کا حصول شامل ہیں۔
پس نعمتِ حقیقی وہی ہے جو انسان کو قرب و معرفتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کر دے۔ خواہ یہ ظاہری نعمتوں کے ذریعے سے ہی حاصل کی گئی ہو یا باطنی نعمتوں سے۔
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:مادی نعمتیں کشتی کی مانند ہیں جو آخرت کے سفر میں معاون ہیں لیکن روحانی نعمتیں مقصود بالذات ہیں۔
حضرت شیخ سعدیؒ نے ’’گلستان‘‘ میں فرمایا: دنیا کی نعمتیں سایہ کی مانند ہیں جو ٹل جاتا ہے۔ لیکن تقویٰ کی نعمت سایہ دار درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔
یہ کائنات اور اس کی تمام تر موجودات سب کی سب اللہ ربّ العزت کی تخلیق ہیں جو اس کی عظمت و حکمت کی نشانیاں اور اس کی کبریائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پس ان میں سے کسی بھی چیز یا نعمت کا انکار دراصل اس ذات کی عطا کا انکار ہے جو کہ نافرمانی و کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اس وقت آتا ہے جب انسان مسبب الاسباب (اللہ کی ذات پاک) کو فراموش کر کے ظاہری اسباب و نعمتوں پر تکیہ لگاتا ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر بندہ اپنے ہر عمل کو خالص اللہ کی معرفت و قرب کے حصول کے لیے وقف کر دے۔
نیت کا اخلاص، تزکیۂ نفس اور عرفانِ ذات کے حصول سے ممکن ہے جو کہ عظیم باطنی نعمتیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا ۔ (سورۃ الشمس۔ 9)
ترجمہ: یقینا وہ فلاح پا گیا جس (کے نفس) کا تزکیہ ہو گیا۔
تزکیۂ نفس سے مراد قلب ، باطن یا روح کا آلائشِ رذیلہ (جھوٹ،تکبر، حسد، کینہ اور بغض وغیرہ) سے پاک ہو کر اوصافِ حمیدہ میں تبدیل ہو جانا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نعمتِ حقیقی یعنی قرب و وصالِ الٰہی کے حصول کے لیے تزکیۂ نفس کس طرح ممکن ہوگا؟ اس ضمن میں امام الوقت، صاحبِ اسم و مسمّٰی مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
ظاہری عبادات کی کثرت سے نفس سرکشی اختیار کر کے تکبر و انانیت کی گرفت میں آجاتا ہے۔ مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات میں ترقی پانے سے نفس کا تزکیہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
پس موجودہ دور میں نفس،شیطان اور دنیا کے غلبے سے نجات پانے کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات ضروری ہے۔ دورِ حاضر میں صاحبِ مسمیّٰ مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا محور و مرکز ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات ہے ۔یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ آپ کی پاک ذات ہی وہ کامل مکمل ہستی ہے جو اس وقت اسمِ اللہ ذات کا فیض عطا کرنے والی مرکزِفیض و فقر کے طور پر جانی جاتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت و تعلیمات اور نگاہِ کرم کے بغیر اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کی کنہ اور مقصودِ حقیقی تک نہیں پہنچا جا سکتا جو کہ حقیقی نعمتِ الٰہیہ ہیں۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
استفادہ کتب:
تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین: ترتیب و تدوین مسز عنبرین مغیث
احیاء العلوم: تصنیف امام غزالیؒ