باطن کی ویرانی Batin Ki Veraani
تحریر: مسز فقیہہ صابر سروری قادری
انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کا باطن ہے۔باطن انسان کی وہ اندرونی حقیقت ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔ یہ وہ مخفی جہان ہے جہاں انسان کا اصل انسان ہونا یا نہ ہونا طے پاتا ہے۔ ظاہر جسم، لباس، گفتگو اور حرکات کا نام ہے جبکہ باطن دل کی کیفیت، نیت کی سمت، روح کی حالت اور شعور کی گہرائی کا نام ہے۔ اسلام میں انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے باطن سے وابستہ ہے نہ کہ اس کے ظاہر سے۔
باطن کی ویرانی کسی ایک لمحے کی خرابی نہیں ہوتی نہ ہی یہ کسی بڑے گناہ کے اچانک ارتکاب سے جنم لیتی ہے۔ یہ ایک خاموش، مسلسل اور غیر محسوس سفرِزوال ہے جس میں انسان قدم بہ قدم اندر سے خالی ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے اپنا یہ خالی پن محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ یہی ہے کہ باطن مرتا ہے مگر انسان خود کو زندہ سمجھتا رہتا ہے۔
یہ زوال اس لمحے شروع ہوتا ہے جب انسان جان بوجھ کر سچ کو مؤخر کرتا ہے۔ وہ حق کو جھٹلاتا نہیں، صرف بعد میں ماننے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہی مؤخر کرنا دراصل باطن کی پہلی دراڑ ہے۔ ضمیر اس وقت ہلکی سی دستک دیتا ہے مگر انسان اسے وقتی مصلحت کہہ کر خاموش کرا دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ضمیر کی آواز کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
باطن کی ویرانی کسی ایک گناہ کا نتیجہ نہیں بلکہ غفلتوں کے تسلسل کا حاصل ہے۔ یہ ایک ایسی تباہی ہے جس میں انسان خود شریک ہوتا ہے مگر انجام کو تقدیر کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ جب تک ان اسباب کو پہچانا نہ جائے باطن کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔
باطن کی اصل ساخت نیت سے بنتی ہے۔ نیت وہ پہلا رُخ ہے جس پر دل مڑتا ہے اور دل جس سمت مڑ جائے اعمال اسی سمت بہنے لگتے ہیں۔ اس لیے باطن کی ویرانی کسی ظاہری گناہ سے پہلے نیت کے بگاڑ سے جنم لیتی ہے۔ جب نیت درست ہو توظاہری کمزور عمل بھی باطن کو زندہ رکھتاہے اور جب نیت ہی خراب ہو تو چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی باطن کو مزید ویران کر دیتا ہے۔
نیت کی خرابی یہ نہیں کہ انسان نیکی چھوڑ دے بلکہ اصل خرابی یہ ہے کہ انسان نیکی بھی اپنے لیے کرنے لگے۔ اللہ کے لیے کیا جانے والا عمل جب خود نمائی، پہچان، برتری یا مصلحت کے تابع ہو جائے تو وہ عمل بظاہر نیکی رہتا ہے مگر باطن کے لیے زہر بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت نور نہیں دیتی بلکہ دل کو سخت کر دیتی ہے، کیونکہ وہ بندگی نہیں رہتی، ایک خاموش سودا بن جاتی ہے۔
نیت کا فساد آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ ابتدا میں انسان اللہ کی رضا کو بھی شامل رکھتا ہے اور اپنی خواہش کو بھی۔ پھر رفتہ رفتہ اللہ کی رضا ایک جملہ بن جاتی ہے اور اصل محرک نفس کی تسکین ہو جاتا ہے۔ یہی آمیزش باطن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ انسان خود کو مخلص سمجھتا رہتا ہے جبکہ دل اندر سے بدل چکا ہوتا ہے۔ قرآن نے اسی کیفیت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ۔ (سورۃ البقرۃ۔9)
ترجمہ: وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
نیت کی خرابی کا سب سے خطرناک پہلو یہی خود فریبی ہے۔ انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کا باطن خالی ہو رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اعمال کی ایک فہرست موجود ہوتی ہے جس پر وہ مطمئن رہتا ہے۔
خاتم النبیٖیٖن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ (صحیح بخاری 1)
ترجمہ: اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اعمال کے وزن کو نیت سے مشروط کر کے دراصل باطن کی اصل کنجی بیان فرما دی۔ نیت دل کا رُخ ہے۔ اگر رُخ اللہ کی طرف نہ ہو تو دل کا سفر خواہ جتنا طویل ہو، منزل کبھی نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ نیت کی خرابی صرف ایک اخلاقی نقص نہیں بلکہ باطنی موت کا آغاز ہے۔
جب نیت بگڑ جائے تو ضمیر کمزور ہو جاتا ہے، گناہ قابلِ توجیہہ لگنے لگتا ہے اور حق کو ماننا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر انسان نیت کو درست کرنے کی بجائے عمل بڑھانے لگتا ہے حالانکہ باطن کی ویرانی عمل کی کمی سے نہیں بلکہ نیت کی کجی سے پیدا ہوتی ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:
بے شک جب بندہ اعمالِ صالح کرتا ہے تو فرشتے ان اعمال کو مہر بند دستاویزات میں درج کرنے کے لیے آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ پس ان دستاویزات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے ’’ان دستاویزات کو (نیکیوں سمیت) پھینک دو کیونکہ اس بندے نے ان میں درج اعمال کو میری رضا کے لئے سر انجام نہیں دیا۔‘‘ پھر فرشتوں سے فرماتا ہے ’’تم فلاں بندے کے لیے اتنی اتنی نیکیاں لکھ دو۔‘‘ فرشتے عرض کرتے ہیں ’’اے ہمارے ربّ! اس نے تو کوئی عمل نہیں کیا؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اس بندے نے اس عمل کی نیت کی تھی۔‘‘ (الکرامۃ فی حسنِ نیت)
اصل المیہ یہ ہے کہ نیت کی خرابی سب سے زیادہ چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ نہ لوگوں کو نظر آتی ہے نہ بسا اوقات خود انسان کو۔ اسی لیے صوفیائے کرام نے کہا کہ سب سے پہلے نیت کی نگرانی کروکیونکہ باطن وہیں سے بنتا اور بگڑتا ہے۔
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نیت کے معاملے میں دل پر نظر اس لیے فرماتا ہے کیونکہ دل ہی نیت کا مقام ہے۔ ہر شخص کو جزا اور سزا وہی ملے گی جیسی اس کی نیت ہوگی۔ (کیمیائے سعادت)
امام ابو خزیمہؒ کا قول ہے ’’اللہ تعالیٰ کی طرف دل سے توجہ کرنا نماز، روزہ جیسے ظاہری اعمال سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔‘‘ (قوت القلوب)
نیت کی درستی یعنی اخلاصِ نیت کے بارے میں سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے ربّ سے اپنے اعمال کے اجر کا طالب نہ ہو۔ اس لیے کہ جو شخص ثواب کی نیت اور عذاب کے خوف سے عبادت کرتا ہے اسکا اخلاص مکمل نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تو اپنی بھلائی کے لیے عبادت کی ہے۔ پس وہ ہر عمل جس میں توُ بدلے کا خواہشمند ہے وہ تیرے لیے ہے اور ہر وہ عمل جس سے مطلوب اللہ کی ذات ہو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جب تو عمل کرے اور اس کے بدلے کا طالب ہوگا تو اس کی جزا بھی مخلوق ہو گی (یعنی جنت) اور جب تو عمل خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کرے گا اس کی جزا اللہ کا قرب اور اسکا دیدار ہوگا۔ تیرے لیے بہتر ہے کہ تو عمل کا بدلہ نہ مانگ۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 4)
شیطان اخلاص کا سب سے بڑا دشمن ہے اس کی پوری کو شش ہوتی ہے کہ طالبِ مولیٰ کی نیت میں اخلاص پیدا نہ ہو اس لیے یہ دل میں وسوسے ڈال کر طالب کو شہرت اور ریاکاری کی طرف راغب کرتا ہے اور ہر لمحہ راہِ حق سے بھٹکانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اخلاصِ نیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
اخلاص بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ جس نے اخلاص پا لیا اس نے گویا نفس کو قابو کر لیا، جس نے نفس کو قابو کر لیا اُس نے اللہ کو راضی کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کائنات میں سب سے بڑی نعمت ہے۔
راہِ فقر میں نیت میں صدق اور اخلاص کا ہونا برسوں کا سفر مہینوں میں طے کر دیتا ہے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)
جب باطن اور ظاہر کے درمیان واضح فاصلہ پیدا ہوتا ہے تو نیت اللہ کی رضا کی بجائے نفس کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ بندہ گناہ کو حکمت کہتا ہے، کمزوری کو مصلحت اور بے حسی کو برداشت کا نام دے دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باطن مکمل طور پر ویران ہو جاتا ہے بغیر شور، بغیر نشان، بغیر احساسِ زیاں۔
باطن کی ویرانی سے نجات کیسے ملے؟
باطن کی ویرانی کا اصل سبب یہ نہیں کہ انسان کے پاس اعمال کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اعمال کی روح ختم ہو چکی ہے۔ انسان اصلاح کی باتیں بہت خوب کرتا ہے مگر خود کو ان سے مستثنیٰ سمجھتا ہے۔ وہ آئینہ دوسروں کو دکھاتا ہے، خود کو نہیں۔ یہی خود فریبی اس کے باطن کو ویران کرتی ہے۔ انسان اپنے اندر کی کیفیت کو درست طور پر پہچاننے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور ظاہر کو سنوارنے میں مصروف رہتا ہے مگر باطن کی سمت پر نظر رکھنا اس کے بس میں نہیں رہتا کیونکہ باطن کی خرابی اکثر نیکی کے پردے میں چھپی ہوتی ہے۔
جس طرح جسمانی(ظاہری) علاج کے لیے معالج کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح باطنی (یعنی روح کے) علاج کے لیے بھی معالج کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان خود اپنے باطن کا معالج نہیں بن سکتا کیونکہ نفس سب سے پہلے وہیں پردہ ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ (سورۃالقیامۃ۔14)
ترجمہ:بلکہ اِنسان اپنے (اَحوالِ) نفس پر (خود ہی) آگاہ ہوگا۔
یعنی انسان کو بظاہر اپنے نفس پر بصیرت دی گئی ہے۔لیکن آگے فرمایا:
وَّلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ۔ (سورۃالقیامۃ۔15)
ترجمہ: اگرچہ وہ اپنے تمام عذر پیش کرے گا۔
یعنی وہ بہانے بنا کر حقیقت چھپا لیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے انسانوں کو ذریعہ بنایا جو باطن کو پہچاننے اور سنوارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی ہستیاں مرشد کامل اکمل کہلاتی ہیں۔
مرشد کامل کی ضرورت صرف اس لیے نہیں کہ انسان دین کے بنیادی احکام سے ناواقف ہوتا ہے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ اپنے باطن کے فریب کو خود سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ نیت کی کجی، نفس کی آمیزش اور خودپسندی جیسی کیفیات اتنی باریک ہوتی ہیں کہ انسان انہیں اخلاص سمجھ بیٹھتا ہے۔ مرشد کامل کا کردار یہ ہے کہ وہ انسان کے ظاہر سے پہلے اس کے باطن کے رُخ کو درست کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ظاہر خودبخود درست ہوتا چلا جاتا ہے یعنی تبدیلی اندر سے رونما ہونا شروع ہوتی ہے اور ظاہر میں فرق نمایاں ہونے لگتا ہے۔اس کے برعکس علما کرام پہلے ظاہر پر توجہ دیتے ہیں اور اس کے مطابق باطن کو تابع کرنے پر زور لگا دیتے ہیں۔ ظاہر خواہ کتناہی خوشنما کیوں نہ ہو لیکن اگر باطن درست نہیں تو ایسی خوشنمائی بے کار و بے معنی ہے۔
باطن کا سب سے بڑا دشمن نفس ہے اور نفس کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہر عمل کے لیے دلیل اور جواز پیدا کر لیتا ہے۔ انسان جب تنہا اس کے مقابل کھڑا ہوتا ہے تو اکثر اسی کے فریب میں آ جاتا ہے۔ مرشد کامل کی موجودگی اس لیے ضروری ہے کہ وہ نفس کے اس فریب کو پہچان کر انسان کو اس سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس رہنمائی کے بغیر باطن کی اصلاح اکثر محض ایک گمان بن کر رہ جاتی ہے۔
صحبتِ مرشد کامل اکمل کی ضرورت
مرشدِ کامل سالک کو اس کے باطن کی اصل حالت دکھاتا ہے۔ انسان اپنے ظاہر کو دیکھ لیتا ہے مگر باطن کے عیوب اس پر مخفی رہتے ہیں۔ مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ریا، خودپسندی، ضد، حسد اور نفسانی میلانات واضح ہونے لگتے ہیں۔ یہ پہچان باطن کی ویرانی کے خاتمے کی پہلی سیڑھی ہے کیونکہ جس مرض کا شعور نہ ہو اس کا علاج ممکن نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
اچھے اور برُے دوست کی مثال کستوری والے اور بھٹی والے کی طرح ہے۔ کستوری والا یا تو تمہیں عطا کر دے گایا تم اس سے خرید لو گے، یا اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے۔ بھٹی والا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ کونسا دوست بہتر اور افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس کا دیدار تمہیں اللہ کی یاد دلا دے، جس کی گفتگو تمہارے عمل میں زیادتی کا باعث ہو اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد تازہ کرا دے۔(مجمع الزوائد 10)
حضرت امام فخرالدین رازی ؒ سورۃ الفاتحہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بعض بزرگوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ فرمایا تو اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا ’’صِرَاطَ الَّذِ یْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مرید کے لیے ہدایت اور مکاشفہ کے مقامات تک پہنچنے کا سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ کسی ایسے شیخِ کامل کی اتباع کرے جو اس کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرے اور گمراہی و ضلالت کے راستے سے بچائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر مخلوق پر نقص غالب ہوتا ہے اور ان کی عقول ادراکِ حق اور خطا و صحیح کے درمیان تمیز نہیں کر سکتیں۔ اس لئے ایسے شیخِ کامل کا ہونا ضروری ہے جس کی ناقص شخص اتباع کرے یہا ں تک کہ اس کی ناقص عقل شیخ ِکامل سے حاصل کردہ نور سے قوی و پختہ ہو جائے اور اس طرح وہ بھی مراتبِ سعادت اور کمالات کی بلندیوں پر فائز ہو جائے۔ (تصوف کے روشن حقائق)
صحبتِ مرشدکے متعلق سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
اے اللہ کے بندے! توُ اولیا کرام کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تو اس کو زندگی عطا کر دیتے ہیں اگرچہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ (الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ)
تم کسی ایسے شیخِ کامل کی صحبت اختیار کروجو حکمِ خداوندی اور علم لدنیّ کا واقف کارہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔ جو کسی فلاح والے کو نہیں دیکھے گا فلاح نہیں پا سکتا۔ تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)
اہلِ اللہ کے پاس بیٹھنا ایک نعمت ہے اور اغیار کے پاس بیٹھنا جو کہ جھوٹے اور منافق ہیں، ایک عذاب ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 55)
محبّ تو محبین کے پاس ہی جاتے ہیں تاکہ ان کے پاس اپنے محبوب کو پا لیں۔ اللہ تعالیٰ کو چاہنے والے اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو دوست بنا لیتا ہے اور ان کی مدد فرماتا ہے اور ان میں ایک کو دوسرے سے تقویت پہنچاتا ہے۔ پس وہ مخلوق کو دعوتِ الٰہی دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 17)
مرشد کامل اعمال کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے کارفرما نیت کو درست کرتا ہے۔ وہ سالک کو سکھاتا ہے کہ ہر عمل سے پہلے اور بعد میں اپنے باطن کو ٹٹولے۔ یوں آہستہ آہستہ نیت اللہ کی رضا کی طرف پلٹنے لگتی ہے اور باطن میں اخلاص کی بنیاد پڑتی ہے۔
مرشد کامل کی تربیت کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ باطن کو نفس کے اقتدار سے نکال کر اللہ کی اطاعت میں دے دیا جائے۔ مرشد کی رہنمائی میں سالک عاجزی سیکھتا ہے، اپنی رائے کو حقِ مطلق نہیں سمجھتا اور یوں باطن میں سختی ٹوٹنے لگتی ہے۔
مرشد کامل کی صحبت میں طالب سیکھتا ہے کہ عبادت صرف ادائیگی نہیں بلکہ باطنی حضوری کا نام ہے۔ اسکی عبادت محض عادت نہیں رہتی بلکہ باطن کی بیداری کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ جب عمل میں یہ کیفیت آتی ہے تو باطن کی ویرانی خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔ باطن کی اصلاح وقتی نہیں ہوتی۔ مرشد کامل طالب کو ٹھہراؤ اور استقامت سکھاتا ہے تاکہ وہ وقتی جوش کی بجائے مستقل مزاجی سے باطن کی حفاظت کرے۔ یہی استقامت باطن کو دوبارہ ویران ہونے سے بھی بچاتی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
سے روزے سے نفل نمازاں، سے سجدے کر کر تھکے ھوُ
سے واری مکے حج گزارن، دِل دِی دوڑ ناں مکے ھوُ
چِلے چلیہے جنگل بھونا، اِس گَل تِھیں ناں پکے ھوُ
سبھے مطلب حاصل ہوندے باھوؒ، جد پیر نظر اِک تکے ھوُ
مفہوم: مرشد کامل اکمل کی رہبری و رہنمائی کے بغیر معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے ہزاروں نوافل ادا کیے، سینکڑوں مرتبہ سجدہ میں سر رکھ کر التجا کی، حج ادا کیے، چالیس چالیس روز چلہ کشی بھی کی اور پھر جنگلوں میں تلاشِ حق کے لیے بھی پھرتے رہے لیکن ناکام رہے اور معرفتِ الٰہی سے محروم رہے لیکن جب میں نے مرشد کامل کی غلامی اختیار کی اور میرے مرشد کامل نے ایک نگاہِ فیض مجھ پر ڈالی تو میں نے اپنی منزلِ حیات کو پا لیا۔
ناں ربّ عرش معلی اُتے، ناں ربّ خانے کعبے ھوُ
ناں ربّ علم کتابیں لبھا، ناں ربّ وِچ محرابے ھوُ
گنگا تیر تِھیں مول نہ مِلیا، مارے پینڈے بے حسابے ھوُ
جد دا مرشد پھڑیا باھوؒ، چھٹے کل عذابے ھوُ
مفہوم: میں نے اللہ تعالیٰ کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا ٹھکانہ نہ ہی عرشِ معلی پر اور نہ ہی خانہ کعبہ میں ہے۔نہ ہی کتابوں کے مطالعہ میں اور علم حاصل کرنے میں ہے اور نہ ہی مساجد و محراب اور عبادت گاہوں میں ہے اور نہ ہی جنگلوں میں جا کر زہد و ریاضت کرنے میں ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کا ٹھکانہ مرشد کامل اکمل (صاحب ِراز) کے سینے میں ہے۔ میں نے جب سے مرشد کا دامن پکڑا ہے تلاشِ حق تعالیٰ کے لیے میری ساری مشقتیں اور پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)
مرشد کامل اکمل باطن کے عیوب ظاہر کرتا ہے۔نیت کو اللہ کی طرف موڑتا ہے۔نفس کے غلبے کو توڑتا ہے اور باطن کو ذکر و اخلاص سے آباد کرتا ہے۔ اسی لیے یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ باطن کی ویرانی کا علاج اعمال نہیں بلکہ مرشد ِکامل کی رہنمائی ہے۔ جہاں مرشد کامل کی رہنمائی نہ ہو، وہاں باطن ویرانی سے محفوظ نہیں رہتا اور جہاں مرشد کامل کی راہنمائی میسر آ جائے، وہاں ویران باطن بھی نور سے آباد ہو جاتا ہے۔ یہی باطن کی ویرانی کا علاج ہے، یہی نجات کا راستہ اور یہی دین کی اصل روح ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ کریم امتِ محمدیہ کوامامِ وقت کی پہچان نصیب فرمائے اور ہمیں سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی پاک صحبت عطا فرمائے تاکہ تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب حاصل ہو اور باطن کی ویرانی ختم ہو۔ آمین
استفادہ کتب:
۱۔الفتح الربانی: سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ
۲۔مجتبیٰ آخرزمانی: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۳۔ابیاتِ باھوؒ کامل (تحقیق، ترتیب و شرح): سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۴۔کیمیائے سعادت: امام محمد غزالیؒ
۵۔ماہنامہ سلطان الفقر لاہور: مضمون:اخلاصِ نیت کیوں ضروری ہے؟ شمارہ دسمبر 2021
۶۔ماہنامہ سلطان الفقر لاہور: مضمون:صحبتِ مرشد سے انحراف سفرِتباہی کا آغاز۔ شمارہ اپریل 2021