سبق آموز حکایات Sabaq Amoz Hikayat
مراسلہ : وقار احمد ارشاد سروری قادری
زہرِقاتل مشورہ
ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا:
اے فرعون! تو اسلام قبول کر لے۔ اس کے عوض تیری آخرت تو بہتر ہو ہی جائے گی مگر دنیا میں بھی تجھے چار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ تو علی الاعلان اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔ وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا، پستی میں جن و انس، شیاطین اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور بیابانوں کا بھی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت غیر محدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص و ہر مکان کا نگہبان ہے۔ عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا محافظ ہے۔ نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا، سرکشوں پر حاکم اور ان کی سرکوبی کرنے والا ہے۔
فرعون نے کہا ’’وہ چار چیزیں کونسی ہیں، آپ (علیہ السلام) مجھے بتلائیں، شاید ان عمدہ نعمتوں کے سبب میرے کفر کا شکنجہ ڈھیلا ہو جائے، میرے اسلام لانے سے سینکڑوں کے کفر کا قفل ٹوٹ جائے اور وہ مشرف بہ اسلام ہو جائیں۔ اے موسیٰ علیہ السلام! جلد ان نعمتوں کے متعلق بیان کرو، ممکن ہے کہ میری ہدایت کا دروازہ کھل جائے۔‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم ِالٰہی سے فرمایا’’اگر تو اسلام قبول کرلے تو پہلی نعمت تجھے یہ ملے گی کہ تو ہمیشہ تندرست رہے گا اور کبھی بھی بیمار نہیں ہوگا۔ اپنے خانۂ تن میں تعلقِ خداوندی کا ایسا خزانہ دیکھے گا جس کو حاصل کرنے کے لئے تو اپنی تمام خواہشاتِ نفسانیہ کو مرضیاتِ الٰہیہ کے تابع کرنے کے لئے مجاہدات میں جان تک دینے کو تیار ہو جائے گا۔ اس سے جو دولت تمہیں ملے گی وہ رشک ِہفت اقلیم ہوگی۔ خواہشات کے اَبر کو پھاڑنے کے بعد مہتابِ حقیقی کا نور تاباں مست کر دیتا ہے۔
اے فرعون! جس طرح ایک کیڑے کو ہرا پتا اپنے اندر مشغول کر کے انگور سے محروم کرتا ہے اسی طرح یہ دنیائے حقیر تجھے اپنے اندر مشغول کر کے مولائے حقیقی سے محروم کئے ہوئے ہے اور تو کیڑے کی طرح لذائذِجسمانیہ میں مصروف ہے۔
تیسری نعمت تجھے یہ عطا ہوگی کہ ابھی تو ایک ملک کا بادشاہ ہے۔ اسلام لانے کے بعد تجھے دو ملک عطا ہوں گے۔ یہ ملک تجھے اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے کی حالت میں ملا ہے۔ اطاعت کی حالت میں کیا کچھ عطا ہوگا! جس کے فضل نے تجھے تیرے ظلم کی حالت میں اس قدر دیا ہے تو اسکی عنایت ،وفا کی حالت میں کس درجہ تک ہو گی۔۔۔
اور چوتھی نعمت یہ ملے گی کہ تو ہمیشہ جوان رہے گا اور تیرے بال بھی کالے رہیں گے۔‘‘
یہ باتیں سن کر فرعون کا دل بہت متاثر ہوا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا’’اچھا !میں اپنی اہلیہ سے مشورہ کرلوں۔ ‘‘ اس کے بعد وہ گھر گیا اور حضرت آسیہ (علیہ السلام) سے اس معاملے میں گفتگو کی۔
حضرت آسیہؑ کا جواب مولانا روم ؒنے بڑے پیارے انداز میں بیان فرمایا:
باز گفت او ایں سخن با آسیہ
گفت جاں افشاں بریں اے دل سیہ
ترجمہ:فرعون نے اپنی بیوی آسیہؑ سے جب یہ ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہاـارے اس وعدہ پر جان قربان کر دے۔
وقت کشت آمد زھے پر سود کشت
ایں بگفت و گریہ کرد و گرم گشت
ترجمہ: کھیتی تیار ہے اور نہایت مفید ہے۔ اب تک جو وقت گزرا ہے سب بے فائدہ گزرا ہے۔
یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگیں۔ پھر انہوں نے کہا ’’تجھے مبارک ہو۔ آفتاب تیرا تاج ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تیری برائیوں کی پردہ پوشی کی اور تجھے دولت ِباطنی دینا چاہتے ہیں۔ گنجے کا عیب تو معمولی ٹوپی چھپا سکتی ہے، مگر تیرے عیوب کو تو حق تعالیٰ کی رحمت چھپانا چاہتی ہے۔ میری تو رائے یہ ہے کہ تجھے کسی سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تجھے تو اس مجلس میں فوراً اس دعوتِ حق کو خوشی خوشی قبول کر لینا چاہیے تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو دعوت تمہیں دی ہے ،کوئی ایسی ویسی بات تو نہ تھی جس میں تو مشورہ ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ یہ تو ایسی بات تھی کہ سورج جیسی رفیع المرتب مخلوق کے کان میں پڑتی تو سر کے بل اس کو قبول کرنے کے لئے آسمان سے زمین پر آجاتا۔ اے فرعون !یہ عنایت تجھ پر خدا کی ایسی ہے جیسے ابلیس پر رحمت ہونے لگے۔ یہ حق تعالیٰ کا معمولی کرم نہیں کہ تجھ جیسے سر کش اور ظالم کو یاد فرمارہے ہیں۔ ارے مجھے تو یہ تعجب ہے کہ اس کے کرم کو دیکھ کر خوشی سے تیرا پتہ کیوں نہیں پھٹ گیا اور وہ برقرار کیسے رہا ۔۔۔اگر تیرا پتہ خوشی سے پھٹ جاتا تو دونوں جہان سے تجھے حصہ مل جاتا۔ دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں نجات ہوتی۔ اللہ والوں کے آنسو جوز مین پر گرتے ہیں فرشتے ان کو اپنے منہ اور پروں پر ملتے ہیں اور اللہ تعالیٰ شہیدوں کے خون کے برابر انہیں وزن کرتے ہیں۔ ‘‘
حضرت آسیہؑ نے فرعون سے کہا’’تو پس و پیش نہ کر۔ ایک قطرے کو فورا ً بہادے اور اپنے نفس کو جھکا دے، تکبر کے باعث اعراض نہ کر تاکہ دریائے قربِ حق سے تو مشرف ہو جائے۔ دولت ِعظمیٰ اس قطرے کو ملتی ہے جسے خود سمندر طلب کرے۔ یہ تجھ پر نہایت ہی شفقت ہے کہ تجھے اس اصرار کے ساتھ بلایا جا رہا ہے، دریائے رحمت خود تجھے بلا رہا ہے، تو کیوں دیر کرتا ہے؟ جلد اپنے آپ کو انکے ہاتھ فروخت کر دے۔ اگر تو بے دست و پا ہے، اپنی ذاتی سعی سے اس دریا تک نہیں پہنچ سکتا تو اپنے آپ کو حکم ِموسیٰ علیہ السلام کا بالکل مطیع کر دے۔ جن انعامات کا تجھ سے وعدہ کیا جا رہا ہے، تو ان پر بدگمانی مت کر، انہیںفریب و دھوکہ مت سمجھ، بلکہ ان انعامات کو جلد حاصل کر، تاکہ تو کہیں غلط بینی سے دھوکہ کھا کر برباد نہ ہو جائے۔۔۔ اپنی گردن خدا کے سامنے جھکا دے ۔اس کی بشارت سے خوش ہو جا۔ کب تک سرکشی کرتا رہے گا اور گردن تکبر سے اونچی رکھے گا۔ تو قف مت کر، جلد محبوب ِحقیقی سے مل جا۔ وہ خالق و مالک تجھے تیرے گناہوں پر شرمندہ نہیں کر رہا تو اسکا شکر ادا کر، خدا تجھے اپنے فضل سے اپنے تک رسائی کا راستہ دے رہا ہے تو دوڑ کر جا۔ دیکھ تو سہی اے فرعون! اس قدر تیرے کفرِ عظیم کے باوجود اس کا اکرام تجھے کیونکر قبول کر رہا ہے، کیا یہ انعام اور عطائے شاہی قابلِ قدر نہیں؟ ایسا عجیب بازارکس کے ہاتھ لگتا ہے کہ ایک گل کے عوض گلزار ملتا ہو اور ایک دانے کے عوض سو درخت ملتے ہوں۔۔۔۔ اس سوز و گداز کے ساتھ حضرت آسیہ ؑ نے رغبت دلائی کہ جلد از جلد وہ رجوع اِلی اللہ کرے۔‘‘
فرعون نے وہی الفاظ پھر سے دہرائے ’’اچھا ہم اپنے وزیر ہامان سے بھی مشورہ کرلیں۔ ‘‘
حضرت آسیہؑ نے کہا ’’اس سے بیان نہ کرو وہ اس کا اہل نہیں۔ بھلا اندھی بڑھیا باز شاہی کی قدر کیا جانے۔‘‘
نااہل کے وزیر بھی نا اہل ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ہم جنس سے ہی مشورہ لینا پسند کرتا ہے۔ الغرض فرعون نے ہامان سے ساری باتیں کہہ دیں اور اس سے مشورہ مانگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟
ہامان یہ باتیں سن کر لال پیلا ہو گیا،غم و غصے میں آکر اس نے اپنا گریبان چاک کر ڈالا، شور مچانا اور رونا دھونا شروع کر دیا، اپنی دستار کو زمین پر پٹخ دیا اور کہا :
ہائے !حضور کی شان میں موسیٰؑ نے ایسی گستاخی کی (نعوذ بااللہ) ۔ آپ کی شان تو یہ ہے کہ تمام کا ئنات آپ کی مسخر ہے ۔مشرق سے مغرب تک سب آپ کے پاس خراج لاتے ہیں اور سلاطین آپ کے آستانہ کی خاک بخوشی چومتے ہیں۔ انہوں نے آپ کی سخت توہین کی ہے۔ آپ تو خود پوری دنیا کے لئے مسجود اور معبود بنے ہیں۔ آپ ان کی بات مان کر ایک ادنیٰ غلام بننا چاہتے ہیں۔ حضور اگر آپ کو اسلام کی دعوت قبول ہی کرنا ہے تو مجھے پہلے ہی مار ڈالیے تاکہ کم از کم میں آپ کی یہ تو ہین اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکوں۔ آپ میری گردن فوراً مار دیں۔۔۔ میں اس منظر کو دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ آسمان زمین بن جائے اور خدا بندہ بن جائے۔ ہمارے غلام ہمارے آقا بن جائیں۔‘‘
مولانا رومؒ یہاں اس ہامان بے ایمان کو مخاطب ہو کر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔
اے ہامان مردود! کتنی ایسی حکومتیں جو مشرق تا مغرب پھیلی ہوئیں تھیں مگر خدا کے قہر سے آج انکا نام و نشان نہیں ہے ۔جو ــ’’زہرِقاتل مشورہ‘‘ ہامان نے دیا اس کے بارے میں مولانا اظہار کرتے ہیں:
ایں تکبر زہر قاتل واں کہ ھست
از مئے پر زھر گشت آن کیج و مست
یہ تکبر جو ہامان میں تھا زہر ِقاتل تھا اور اسی زہر آلود شراب سے ہامان بدمست ہو گیا تھااور اس ملعون کے مشورے سے فرعون نے قبول حق سے انکار کر کے خود کو دائمی رسوائی اور عذاب کے حوالے کر دیا۔
جب فرعون ہامان کے بہکاوے میں آگیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دستِ مبارک پر دعوتِ حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ’’ہم نے تو بہت سخاوت اور عنایت کی تھی مگر صد افسوس یہ گوہر نایاب تیرے مقدر میں نہ تھے۔‘‘
درسِ حیات:
جاہل، احمق اور بدکردار سے اچھے مشورے کی توقع ہر گز نہ رکھو۔
اگر عورت بھی صاحبِ کردار ہے تو اس سے مشورہ کر لو، وہ تمہیں اچھا مشورہ دے گی۔
بے وقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے لیکن تنہائی سے بہتر ہے کہ اچھے لوگوں کی تلاش جاری رکھو۔۔۔یقینا تم ان تک پہنچ جاؤ گے۔
قیاس کا تر از و
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک دن بالا خانہ پر تشریف فرما تھے۔ نیچے سے ایک یہودی نے آپؓ کی طرف دیکھا تو کہنے لگا’’ کیا آپ کو اس کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حفاظت کا ذمہ دار ہے، اور کیا آپؓ کو حق تعالیٰ کی حفاظت پر اعتماد ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا’’ ہاں !وہ خالقِ حقیقی بچپن سے لے کر آخر تک انسان کا محافظ ہے۔‘‘
یہودی نے کہا ’’اگر آپؓ کو واقعی اس بات کا یقین ہے تو اپنے آپ کو بالا خانہ سے نیچے گرادیںتا کہ مجھے بھی معلوم ہو جائے کہ خدا آپ کی کیسے حفاظت کرتا ہے۔ پھر میں بھی آپؓ کا ہم عقیدہ ہو جاؤں گا۔ آپؓ کی یہ عملی دلیل میرے حسنِ اعتقاد کا سبب بن جائے گی۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا:
کے رسد مر بندۂ را کو باخدا
آزمائش پیش آرد ز ابتلا
ترجمہ:کب بندہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خدا کی آزمائش اور امتحان کی جرأت کرے۔۔۔
اے احمق نالائق!بندے کی کیا ہمت کہ وہ حق تعالیٰ کا امتحان لے۔ یہ بات تو صرف حق تعالی ہی کو زیب دیتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے تاکہ ہم اپنی حقیقت سے آگاہ رہیں اور اس کے عالم الغیب ہونے کے بارے میں ہمارا عقیدہ پختہ رہے۔
گر بیاید ذرّہ سنجد کوہ را
بر درد زاں کہ ترازوش ای فتیٰ
مفہوم: اگر پہاڑ کے دامن میں ایک ذرّہ پہاڑ کی بلندی کو دیکھ کر کہے کہ اچھا میں تجھے وزن کروں گا کہ تو کس قدر طول و عرض اور وزن والا ہے تو اس بے وقوف ذرّے کو سوچنا چاہیے کہ جب اپنی تر از و پر پہاڑ کو رکھے گا تو اس کی ترازو پھٹ جائے گی۔ اس وقت نہ یہ ذرّہ باقی رہے گا نہ اس کی ترازو سلامت رہے گی تو وزن کا خیال محض احمقانہ ہو گا۔
گر قیاس خود ترازو می تند
مرد حق را در ترازو می کند
مفہوم: ایسے احمق اپنے قیاس کے ترازو پر ناز کرتے ہیں اور اللہ والوں کو اپنے احمقانہ خیالی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چوں نگنجد او بمیزان خرد
پس ترازوے خرد را بر درد
ترجمہ:جب اللہ والوں کا بلند مقام ان بے وقوفوں کی ترازو میں نہیں سماتا تو خدا ان کی گستاخی کی نحوست اور شامت کے سبب ان کی ترازو ہی کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے اور پھر یہ کم ظرف لوگ حماقت در حماقت میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مولانا نصیحت فرماتے ہیں اگر اس قسم کے امتحان کا وسوسہ بھی آئے تو اس کو اپنی بدبختی اور ہلاکت کی علامت سمجھو اور پھر فوراً یہ تدبیر کرنی چاہئے:
سجدہ گہ را تر کن از اشک رواں
کاے خدایا وارھانم زیں گماں
ترجمہ:فوراً سجدہ میں گر جاؤ اور گریہ وزاری میں مشغول ہو کر خدا سے پناہ مانگو کہ اے ربّ ِغفور الرحیم!مجھے ایسے فاسد گمان و خیال سے خلاصی، رہائی اور معانی عطا فرما۔
درسِ حیات:
انسانی ذات محدود ہے اور خدا لا محدود۔ اگر محدود یعنی انسان لا محدود کا امتحان لینے کی کوشش کرے تو اسے حماقت اور بے وقوفی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
خدا کی کنہ و حقیقت انسانی عقل سے بہت بلند ہے، اتنی بلند کہ اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
مکمل سبق
ایک شہزادہ اپنے استادِ محترم سے سبق پڑھ رہا تھا۔ استادِ محترم نے اسے دو جملے پڑھائے ’’جھوٹ نہ بولو اور غصہ نہ کرو۔‘‘ کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کے لیے کہا۔ شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ہو سکا۔ دوسرے دن استادِ محترم نے سبق سنانے کو کہا پھر شہزادہ بولا استادِ محترم ابھی سبق یاد نہیں ہو سکا۔ تیسرے دن چھٹی تھی۔استادِ محترم نے کہا کل چھٹی ہے، سبق ضرور یاد کر لینا بعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔
چھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگردِ خاص سبق نہ سنا سکا۔ استادِ محترم یہ خیال کیے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ہے، غصے سے چلا اُٹھے اور طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ اتنے دنوں میں ابھی تک دو تین جملے یاد نہیں کر سکے۔۔۔
تھپڑ کھا کر شہزادہ ایک دفعہ تو گم صم ہو گیا اور پھر بولا استادِ محترم سبق یاد ہو گیا۔ استاد کو بہت تعجب ہوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ہورہا تھا، اب تھپڑ کھاتے ہی یکدم سبق یاد ہو گیا۔ شہزادہ عرض کرنے لگا ’’استادِ محترم آپ نے مجھے دو باتیں پڑھائی تھیں ایک جھوٹ نہ بو لواور دوسری بات غصہ نہ کرو۔جھوٹ بولنے سے تو میں نے اُسی دن تو بہ کر لی تھی مگر غصہ نہ کرو بہت مشکل کام تھا۔ بہت کوشش کرتا تھا، غصہ نہ آئے مگر غصہ آجاتا تھا۔
جب تک میں غصے پر قابو پانا نہ سیکھ جاتا کیسے کہہ دیتا کہ سبق یاد ہو گیا۔ آج جب آپ نے مجھے تھپڑ مارا اور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ ہے، اسی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غور کیا کہ مجھے غصہ آیا کہ نہیں ۔غور کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ مجھے غصہ نہیں آیا۔ آج میں نے آپ کا بتایا ہوا دوسرا سبق بھی بالکل سیکھ لیا ہے اور آج مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل سبق یاد ہو گیا ہے۔
درسِ حیات:
اے عزیز! ہمیں بھی چاہیے کہ جو قولِ زریں ہم لکھتے ،پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں ان پر عمل کریں۔ عمل سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ عمل سے ہی زندگی بنتی ہے۔