کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation

Rate this post

کلید التوحید (کلاں)  | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation

آخری قسط                                                 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

جان لو کہ کامل عامل منتہی صاحبِ دعوت وہ ہے کہ اس کے طالبان بھی پہلے ہی روز دعوت کے عامل اور کامل بن جائیں۔ وہ نر شیر کی مثل پہلوان اور قبر پر سواری کرنے والا ہوتا ہے اور زمین و آسمان میں اوپر نیچے جو کچھ بھی ہے وہ سب کی حقیقت سے باخبر ہوتا ہے۔ جان لو کہ کلامِ الٰہی کو پاک صاف ہو کر پڑھنا چاہیے اور صرف پاک آدمی ہی اسے پڑھنے کے لائق ہوتا ہے کیونکہ جو پاک کلامِ الٰہی کو ناپاکی کی حالت میں پڑھے وہ دیوانہ ہو جاتا ہے اور پریشان رہتا ہے۔ پاک کون ہے اور نجس کسے کہتے ہیں؟ جان لو کہ نفسِ امارہ ناپاک ہے اور شیطان کا بھی بادشاہ ہے اور ناپاک شیطان اور مردار کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور مردار کا طالب کتا ہوتا ہے۔ لیکن جو دل ہمیشہ ذکرِ اللہ میں مشغول رہتا ہو وہ پاک ہے اور دل کی انتہائی پاکی کی بدولت روح بھی پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ اسمِ اللہ پاک تر ہے اور یہ پاک دل اور پاکیزہ روح کو سر سے قدم تک نورِ الٰہی میں ڈھال دیتا ہے اور ابدی حیات عطا کرتا ہے۔ صرف ایسا ہی پاکیزہ وجود قبر پر سوار ہو کر دعوت پڑھنے کے لائق ہے۔ صرف وہی مرشد لائقِ ارشاد ہے جو معرفتِ الٰہی تک پہنچاتا ہے۔ 

ابیات:

خام از رجعت شود خانہ خراب
کامل از دعوت شود مطلب بیاب

ترجمہـ خام کو دعوت پڑھنے سے رجعت ہوتی ہے اور وہ برباد ہو جاتا ہے جبکہ کامل کو دعوت پڑھنے سے اس کا مطلب حاصل ہوتا ہے۔

ہر کہ شد واقف بجان اہل القبور
جثہ آں را پاک گردد خاص نور

ترجمہ: جو اہلِ قبور ارواح سے واقف ہو جائے اس کا وجود پاک ہو کر خاص نور بن جاتا ہے۔

باھوؒ دعوت قبر مشکل کشا
از قبر حاصل شود نور صفا

ترجمہ: اے باھوؒ! قبر پر دعوت پڑھنے کا عمل مشکل کشا ہے کیونکہ اس سے ایسا نور حاصل ہوتا ہے جو باصفا بنا دیتا ہے۔

جاننا چاہیے کہ اہلِ قبر روح کا روحانی وجود ہمیشہ اس کی قبر پر ایسے سوار رہتا ہے جیسے کوئی گھوڑے پر سوار ہو۔ معلوم ہوا کہ اس کی قبر اس کے لیے سواری کی مثل ہے۔ اگر روحانی دنیا سے باایمان رخصت ہوا ہو تو وہ سعید ہے اور اس کا مقام علیین ہے اور اس کے مراتب، نظر اور جمعیت عرش سے بالاتر ہیں اور وہ انبیا واولیا سے ان کی مجلس میں ہم کلام ہوتا ہے لیکن اگر روحانی شقی ہو تو اس کا مقام سجین ہے۔ اور اس کا مرتبہ تحت الثریٰ ہے اور اس کے پائوں کے نیچے آتشِ دوزخ ہوتی ہے جس سے اُسے عذاب دیا جاتا ہے۔ دن رات اس کا وجود اس آگ سے ایسے جوش میں رہتا ہے جیسے آگ کے اوپر دیگ رکھی ہو۔ پس اگر کوئی شخص قبر پر سوار ہو اور روحانی کے ساتھ قرآنِ عظیم پڑھے تو اگر روحانی عذاب یافتہ ہے تو قرآن پڑھنے کی برکت سے عذاب سے نجات پاتا ہے اور وہ روحانی سے اپنے مطالب حاصل کرتا ہے۔ اور اگر روحانی بزرگ ہو اور وہ شخص اس بزرگ کی قبر پر سوار ہو کر اس کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھے تو قرآن پڑھنے کی برکت سے وہ انبیا و اولیا اللہ کی مجلس میں پہنچ جاتا ہے اور قرآن پڑھنے سے اس کے مراتبِ عزت و فخر زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ بزرگوں کی قبر کے ادب کا خیال رکھنا لازم اور قبر پر سوار ہونا بے ادبی ہے تو ایسا کہنے والا اس روحانی کے احوال سے واقف نہیں بلکہ وہ نفسانی ہے۔ اسے جواب دو کہ قبر بہتر ہے یا قرآن؟ قرآن کے مطابق قبر کمتر ہے اور قرآن بہتر ہے۔ لہٰذا کمتر قبر پر بہتر قرآنِ مجید پڑھنے میں کوئی برائی نہیں۔ بلکہ قرآن پڑھنے کی برکت سے کمتر بھی بہتر ہو جاتا ہے اور قرآن پڑھنے والا بزرگ کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے۔ دعوت پڑھتے وقت اہل ِ قبور روحانی سے دعوت پڑھنے والے کو الہام ہوتا ہے اور وہ جواب باصواب پاتا ہے اور قرآن کی زبان میں یا غیب کی زبان سے اسے جواب ملتے ہیں یا دل کو دل سے دلیل ہوتی ہے یا روح کو روح سے خیال حاصل ہوتا ہے یا سِرّ سے سِرّ کو وھم ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ 
ترجمہ: جب تم اپنے امور میں پریشان ہو جائو تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔

پس احوالِ قبور کی اس حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے جو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری میں پہنچ گیا ہو اور اولیا اللہ کی ارواح سے ملاقات کرتا ہو اور اسے مجلسِ محمدیؐ کی حضوری سے دعوتِ قبور پڑھنے کی اجازت حاصل ہوئی ہو اور اس کا یہ عمل حضوری کا حامل ہوتا ہے اور وہ دعوت پڑھنے والا انبیا اور اولیا کی مجلس میں مشہور ہوتا ہے۔  ابیات:

اولیا را قبر ہم چو جسم و جان
اولیا را در قبر خفتہ بدان

ترجمہ: اولیا کی قبر ان کے لیے ایسے ہے جیسے روح کے لیے جسم۔ اس لیے انہیں اپنی قبر میں سویا ہوا سمجھ۔

خفتگان را از قبر بیدار کن
ہم سخن با ہم کلامی یار کن

ترجمہ: ان سوئے ہوئے اولیا کو قبر میں بیدار کر کے ان سے ہمکلام ہو اور ان سے دوستی کرو۔

دل ز دل سخنی شود با ہم کلام
ایں چنیں سخنش ز الہامی کلام

ترجمہ: تیرا دل ان کے دل سے ہمکلام ہو گا اور یہ بات چیت الہامی طور پر ہوگی۔

چوں درآید سخن روحانی بدل
اولیائش زندہ جانی زیر گل

ترجمہ: جیسے ہی تیرا دل روحانی کی گفتگو سننے لگے تو جان لو کہ وہ قبر زندہ قلب والے ولی کی ہے۔

وقت مشکل یاد کن از عہد او
طرفہ زد حاضر شود تو روبرو

ترجمہ: تو مشکل وقت میں انہیں یاد کر اور انہیں ان کا وعدہ یاد دلا تو وہ پلک جھپکنے میں تیرے روبرو حاضر ہو جائیں گے۔

صد ہزاران با مؤکل گرد گرد
ایں چنیں دعوت بود تاثیر ورد

ترجمہ: دعوت پڑھنے کی تاثیر یہ ہوگی کہ ہزاروں مؤکلات تیرے اردگرد جمع ہو جائیں گے۔

با تو گویم بشنو اے اہل یقین
لاتخف باشد روحانی تہ زمین

ترجمہ: اے اہلِ یقین! سن میں تجھ سے مخاطب ہوں۔ روحانی اپنی قبور میں لاخوف ہوتے ہیں۔

روح بالا عرش قالب زیر خاک
احتیاجی نیست روضہ جان پاک

ترجمہ: ان اولیا کی روح عرش سے بھی اوپر جبکہ جسم زیرِ زمین یعنی قبر میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی پاک جان کو کسی روضے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

گم قبر گم نام بی نام و نشان
جثہ را با خود برند صاحب عیان

ترجمہ: ان کی قبر اور نام گمشدہ یعنی اگر وہ بے نام و نشان بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ صاحبِ دیدار ہوتے ہیں جو اپنے وجود کو اپنے ساتھ (لامکان میں) لے جاتے ہیں۔

باھوؒ ازیں بہ نباشد باشرف
الف اللہ بس ترا زیں یک حرف

ترجمہ: اے باھوؒ! تیرے لیے بس ایک حرف یعنی اسمِ اللہکا الف ہی کافی ہے کہ اس سے بہتر کوئی شرف نہیں۔

جان لو کہ تصرف تین طرح کے ہیں تصرفِ دنیا کو بھی لوگ خزانہ سمجھتے ہیں اور تصرفِ عقبیٰ کو بھی لوگ خزانہ سمجھتے ہیں جبکہ عارف باللہ فقیر کی نظر میں یہ دونوں تصرف ہی مصیبت ہوتے ہیں کیونکہ غیر ماسویٰ اللہ کی طرف رجوع کرنا رجعت و زوال کا باعث ہے۔ صاحبِ وصال عارف باللہ کا کوئی بھی طالب اپنے مقصد و مطلب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک مرشد اس طالب کی طرف توجہ نہ کرے۔ اگر مرشد ناقص ہو تو طالب کو ایک ہفتہ کی توجہ سے اس کے مقصود تک پہنچاتا ہے اور اگر مرشد کامل ہو تو طالب کے لیے تین دن رات کی توجہ کافی ہے اور اگر مرشد مکمل ہو تو طالب کے لیے مرشد کی ایک دن اور رات کی توجہ ہی کافی ہے اور اگر مرشد اکمل ہوتو طالب کے لیے مرشد کی ایک گھڑی کی توجہ کافی ہے لیکن اگر مرشد سروری قادری جامع ہو تو طالب کے لیے اس جامع مرشد کی پل بھر کی توجہ ہی کافی ہے۔ صاحب ِ حضور مرشد کی توجہ اور دعوتِ قبور کا عمل تاقیامت نہیں رکتا۔ جان لو کہ سب سے پہلی شرط یہی ہے کہ جس کا باطن معمور ہو وہی دعوتِ قبور پڑھنے کے لائق ہوتا ہے کیونکہ ان قبور سے اللہ کا قرب، معرفت اور حضوری حاصل ہوتی ہے۔ جان لو کہ دعوت میں مزید سات خزانے ہیں اور یہ خزانے اللہ کے حکم اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اوّل خزانہ یہ ہے کہ کلامِ خدا اور دعائے سیفی کے ساتھ دعوت پڑھنے سے تانبے کی مثل وجود سونے کی مانند قیمتی ہو جاتا ہے جبکہ بعض کی نظر کیمیا ہو جاتی ہے۔ دوم خزانہ یہ ہے کہ دل کو قبور سے حاصل ہونے والے جواہرِ علم سے جمعیت حاصل ہوتی ہے۔ سوم خزانہ یہ ہے کہ قبور سے حاصل ہونے والے علم کے فیض سے روح فرحت پا لیتی ہے۔ چہارم خزانہ یہ ہے کہ نفس پاکی و پاکیزگی کی صفت اختیار کر لیتا ہے۔ پنجم خزانہ یہ ہے کہ علمِ غیب حاصل ہوتا ہے۔ ششم خزانہ یہ ہے کہ وجود سے غفلت کی نیند ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ ہفتم خزانہ یہ ہے کہ توفیقِ الٰہی حاصل ہوتی ہے لیکن ان چار طرح کی رجعت سے باخبر رہو۔ علما کو علم کے خلاف عمل کرنے سے رجعت ہوتی ہے۔ فقیر کو اسمِ اللہ ذات کے خلاف کرنے سے رجعت ہوتی ہے اور وہ جو بھی بات کرتا ہے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہے۔ جاہل کو دل کی سیاہی کی وجہ سے رجعت ہوتی ہے اور غنی کو مال کی زیادتی کے باعث رجعت ہوتی ہے۔ جان لو کہ جو شخص دعوت کو اللہ کی خاطر نہیں بلکہ امرا و بادشاہ سے ملاقات کی غرض سے پڑھے تو وہ دعوت اسے امرا و بادشاہ تک ہی پہنچاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی دعوت جاری نہیں ہوتی بلکہ دعوت کی راہ ہی بند ہو جاتی ہے۔ لیکن جو شخص حکمِ خدا سے دعوت پڑھے تو وہ صاحبِ دعوت راہِ حق کو پسند کرنے والا ہوتا ہے اور وہ راہ اس پر اوّل سے آخر تک کبھی بند نہیں ہوتی۔ اور جو اس کو دین اور دنیا کے لیے پڑھے اس کی ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور مشکلات میں بھی دعوت اس کی مدد کرنے سے عاجز نہیں آتی۔ چالیس روزہ چلوں کی ریاضت سے اولیا اللہ کی قبر پر ایک رات دعوت پڑھنا بہتر ہے۔ اگر کوئی دولت و نعمت حاصل کرنا چاہے اور یہ چاہتا ہو کہ بغیر کسی محنت و تکلیف کے بزرگی اور دینی و دنیوی خزائنِ الٰہی حاصل کر لے اور نفسِ امارہ اس کی قید میں آ جائے اور شیطان ملعون دفع ہو جائے اور تمام عالم اس کے حکم کے تحت آ جائے اور چھوٹی و بڑی تمام مخلوقات مسخر ہو کر اس کی طرف رجوع کریں اور وہ قرآن سے اسمِ اعظم پا لے اور مؤکلات سے بذریعہ الہام علمِ تکثیر، علمِ تاثیر اور علمِ روشن ضمیر، علم ِکیمیا نظیر حاصل کرے اور ان سے مشکلات کے حل کے لیے نقش لکھنے کا طریقہ اور علم سیکھے اور مجلس ِ محمدیؐ کی حضوری سے مشرف ہو اور اصحاب کبارؓ اسے سرفراز فرمائیں تو اس کے لیے اس طالب ِ مولیٰ کو وسیع حوصلہ کا حامل ہونا چاہیے تاکہ اسرارِ ربانی کا حامل ہو سکے اور کسی کو وہ اسرار نہ بتائے۔ تب مرشد اسے حضوری کے ذریعے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور زیر ِ زمین سونا و چاندی کے جتنے بھی اللہ کے پوشیدہ خزانے ہیں اور جتنے خزانے زمین کے اوپر ہیں سب بیک وقت اس پر روشن اور واضح ہو جاتے ہیں بلکہ یہ تمام خزانے اللہ کے حکم سے اس کے تصرف میں آ جاتے ہیں۔ جو فقر کے ان مراتب پر پہنچ جائے اس کا دل غنی ہو جاتا ہے اور وہ مجلس ِ محمدیؐ کی دائمی حضوری میں پہنچ کر الفقر لایحتاج کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ظاہری طور پر وہ عاجز اور دردر سوال کرنے والا گدا نظر آتا ہے جبکہ باطن میں وہ صاحب ِ معرفت اور واصل باللہ ہوتا ہے۔ یہ مراتب اور درجاتِ حضوری اولیا اللہ کی قبر کی ہم نشینی میں دعوت پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ دعوت تیغ ِ برہنہ کی مثل ہے اگر خام اسے پڑھے تو یہ تیغ گویا کسی اناڑی کے ہاتھ میں ہے جسے وہ کسی طرف بھی گھما سکتا ہے اور اگر کامل اس دعوت کو پڑھے تو وہ اس تلوار کو ہاتھ میں لیتے ہی موذی، منافق اور دین ِ محمدیؐ کے دشمن کو قتل کر دیتا ہے۔ جان لو کہ پاکی ٔ وجود کی اساس جس کی بدولت زندگی و موت میں وجود پاک رہتا ہے‘ یہ ہے کہ اسمِ j ذات کو باطنی تفکر سے دل پر لکھا جائے۔ جیسے ہی مشق کی کثرت سے دل پر اسم ِjذات نقش ہو جاتا ہے تو اسے مقامِ حی ّ و قیوم حاصل ہوتا ہے اور دل سے بلند آواز آتی ہے ’’یا حیّ یا قیوم‘‘۔ اس کے بعد دل پر اسم ِk لکھنا چاہیے جس سے طالب دعوتِ قبور پڑھنے کے لائق بنتا ہے۔ جان لو کہ دعوتِ قبور پڑھنے والا چار حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا یا کہ دعوت پڑھنے والے کو رجعت ہو جاتی ہے یا اگر کسی کے لیے پڑھی جائے توترقی ٔ درجات اور جمعیت کی جاودانی دولت حاصل ہوتی ہے یا وہ رجعت کھا کر خراب حال ہو جاتا ہے یا یہ کہ دعوت پڑھنے والا یا جس کے لیے دعوت پڑھی جا رہی ہو دونوں رجعت کھا کر خراب حال ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کامل صاحب ِ دعوت وہ ہے کہ جب وہ دعوت پڑھے یا جس کے لیے دعوت پڑھی جا رہی ہو دونوں کو جمعیت اور دونوں جہانوں میں ترقی عطا ہوتی ہے۔ زندہ دم اور زندہ قلب صاحب ِ دعوت کی دعوت تب رواں ہوتی ہے جب وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت کے بعد پڑھی جائے اور جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت طلب کیے بغیر دعوت پڑھی جائے تو دعوت پڑھنے والا خراب حال ہو جاتا ہے۔ جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضوری سے اجازت حاصل کر کے اس طریقے سے دعوت پڑھتا ہے تو اسے انتہائی درجے کا وھم عطا ہوتا ہے کیونکہ فقیر کی توجہ اور وھم تمام جہان پر محیط ہوتا ہے۔ اسی لیے صاحب ِ دعوت جب دعوت ختم کرتا ہے تو چار باطنی لشکر جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مد ِ نظر ہوتے ہیں‘ اس کی حفاظت کی غرض سے اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں اگرچہ وہ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ وہ چاروں باطنی لشکر یہ ہیں اوّل لشکر جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں منظور ہوتا ہے۔ دوم لشکر جو مجلس ِ محمدی کی حضوری میں منظور ہوتا ہے۔ سوم لشکر مؤکلات اور فرشتوں اور ان کے تابع جنوں کا ہوتا ہے۔ چہارم لشکر شہدا کی ارواح کا ہوتا ہے۔ ایسے ولی کے پاس ہر طرح کے ہتھیار ہوتے ہیں جیسا کہ تیغ ِ برہنہ، نیزہ، تیر و کمان، چاقو، خنجر اور بندوق۔ اور یہ سب ہتھیار اس کی نظر کے ساتھ ہوا میں معلق ہوتے ہیں۔ اگر وہ کسی پر غضبناک ہو تو اسے غیب سے ایسا زخم لگتا ہے جو کبھی ٹھیک نہیں ہوتا اور اسی زخم سے وہ مر جاتا ہے۔ لیکن بہتر وہی ہے جو مخلوقِ خدا کا بوجھ اٹھائے اور اسے تنگ نہ کرے بلکہ سنت کے مطابق یہ اس کے منہ سے یہی دعا نکلے: 
اَللّٰھُمَّ اِھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ 
ترجمہ: اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ بے خبر ہیں۔

 لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔    
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
بیت:

ایں کتابی تم ختم گنج بے شمار
گنج از گنجش برآید شہسوار

 ترجمہ: (اللہ کے) بے شمار خزانوں سے بھرپور یہ جامع کتاب مکمل ہوئی۔ اس سے خزانے صرف شہسوار ہی حاصل کر سکیں گے۔ 

(ختم شد)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں