سلطان العاشقین کی قلمی خدمات کا تعارف Sultan-ul-Ashiqeen Ki Qalmi Khidmaat ka Ta’aaruf

5/5 - (1 vote)

سلطان العاشقین کی قلمی خدمات کا تعارف
 Sultan-ul-Ashiqeen Ki Qalmi Khidmaat ka Ta’aaruf

تحریر: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اورموجودہ امام ہیں۔ آپ ایک روحانی ہستی ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی اور تخلیقی شخصیت بھی ہیں۔ بچپن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس نے مختلف رسائل اور اخبارات کے لیے مضامین لکھنے کا آغاز فرما دیا تھا۔ آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ آپ کی ان ادبی و تخلیقی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ تھے اس لیے نومبر 2001ء میں اصلاحی جماعت کا شعبہ نشرواشاعت جس کی بنیاد 1994ء میں رکھی گئی تھی، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے سپرد کر دیا۔ 

مسندِتلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے طالبانِ مولیٰ پر نہایت کرم نوازی فرماتے ہوئے فقر و تصوف کے اہم موضوعات پر بذاتِ خود کتب تصنیف فرمائی ہیں جو تحریر میں نہایت خوبصورت اور انداز میں جامع ہیں۔ سلطان الفقر پبلیکیشنز اب تک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی 24 کتب شائع کر چکا ہے۔ ذیل میں ان کتب کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

شمس الفقرا

شمس الفقرا تعلیماتِ فقر کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی مکمل سوانح حیات تحریر کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں سب سے پہلے اصطلاحاتِ فقر بیان کی گئی ہیں تاکہ باقی ابواب کو سمجھنا آسان ہو سکے اور اس کے بعد مختلف موضوعات پر 42 ابواب تحریر کیے گئے ہیں جن کے نام یہ ہیں: فقر، طالبِ مولیٰ، عرفانِ نفس، اسمِ اللہ ذات، مرشد کامل اکمل، عشقِ حقیقی، مجلسِ محمدیؐ، دیدارِ الٰہی، انسانِ کامل، شان سلطان الفقر، توحید، الہام، کشف، وہم، علمِ دعوت، فضائل اہلِ بیتؓ، فضائلِ صحابہؓ کرام، سیدّنا غوث الاعظمؓ، سلسلہ سروری قادری، شریعت، نفس، ترکِ دنیا، ریاکاری، اخلاصِ نیت، تسلیم و رضا، توکل، حضورِ قلب، تکبر‘ فخر‘ غرور اور عجز و انکساری، وفا اور قربانی، توفیقِ الٰہی، کلمہ طیب،فکر، تفکر اور مراقبہ، استقامت، مرتبہ فنا فی الشیخ، فنا فی اسمِ محمدؐ، فنا فی اللہ، تجلی، جمعیت، علم، تخلیقِ خیر و شر، یقین، ظاہر و باطن، غنایت، شہوات اور نفس کے امراض۔ 

ان تمام ابواب میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فقر و تصوف کے ہزاروں موضوعات کی قرآن و حدیث اور صوفیا و فقرا کی تعلیمات کی روشنی میں وضاحت فرمائی ہے اور تمام روحانی سلاسل سے تعلق رکھنے والے مشائخ اور علما کرام کے حوالہ جات بھی فراہم کیے ہیں۔ اگر طالبِ مولیٰ خلوصِ نیت سے اس ایک کتاب کا مطالعہ کر لے تو یہ کتاب اسے تصوف کی ہزاروں کتب کے مطالعہ سے بے نیاز کر دے گی اور ان کے لیے راہِ فقر پر سفر کرتے ہوئے اللہ کا قرب اور وصال پانا آسان ہو جائے گا۔ یہ کتاب ہر مقام و مرتبہ کے طالب کی ہر مقام پر رہنمائی کرتی ہے۔سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شمس الفقرا کا انگلش ترجمہ   Sufism-The Soul of Islam کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے ترجمہ پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ یہ ادبی لحاظ سے بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہو۔ بلاشبہ یہ کتاب انگلش قارئین کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔ 

مجتبیٰ آخر زمانی

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی دوسری اہم تصنیف ’’مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ ہے جس میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے تمام سروری قادری مشائخ کے سوانح حیات پر تحقیق کر کے حقائق کو جمع کیا اور انہیں اسقدر خوبصورت انداز میں بیان فرمایا کہ ان عظیم ہستیوں کی بلند شان کو اس سے بہتر انداز میں بیان کرنا کسی اور کے لیے ممکن نہیں۔ اس کتاب میں مشائخ سروری قادری کی ولادت سے لے کر وصال تک حیاتِ مقدسہ کے ہر ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے تاکہ طالبانِ مولیٰ کو ان مقدس ہستیوں کے متعلق جاننے کا موقع ملے اور وہ ان مقربینِ الٰہی ہستیوں کی پیروی سے اللہ کا قرب پا سکیں۔ 

ان مشائخ میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ، سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ، شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ، سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ شامل ہیں۔ مشائخ سروری قادری کی سوانح حیات پر اس سے پہلے کوئی بھی مستند، کامل اور جامع کتاب موجود نہیں۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ The Spiritual Guides of Sarwari Qadri Order کے نام سے شائع کیا جا چکا ہے۔

حقیقتِ محمدیہ

خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بلند شان اور سیرتِ مطہرہ کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر بلند مقام و مرتبہ سے نوازا ہے جو عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی شان کو بلند فرمایا ہے اور ہر لمحہ اسے بلند سے بلندتر کرتا جا رہا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بلند مقام و مرتبہ اور حقیقت سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دوسرا آگاہ نہیں۔ بقول شاعر:

خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفیؐ جانے
مقامِ مصطفیؐ کیا ہے محمدؐ کا خدا جانے

اس بات کی تصدیق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بھی فرمائی ہے ’’میری حقیقت میرے اور میرے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘

حقیقتِ محمدیہ کتاب میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باطنی حیات اور حقیقت کے ان پہلوئوں سے نقاب کشائی کی ہے جن پر اب تک کوئی بھی جامع تحریر موجود نہیں۔ صوفیا کرام نے حقیقتِ محمدیہ پر اپنی تصانیف میں اشارۃً ذکر تو کیا ہے لیکن اس کو وضاحت کے ساتھ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بیان فرمایا ہے۔ اُردو زبان سے ناآشنا اور متلاشیانِ حق کی سہولت کے لیے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے اس کتاب کا انگلش ترجمہ The Mohammadan Reality کے نام سے شائع کیا۔

حقیقتِ عید میلاد النبیؐ

اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا ’’اے محبوب اگر آپؐ کو پیدا نہ کرتا تو یہ کائنات بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘اپنے محبوب کی ولادت کی خوشی میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف خود جشن منایا بلکہ ملائکہ اور دیگر مخلوقات نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت کے بابرکت روز اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں چراغاں کیا اور عرش و فرش والوں نے خوشیاں منائیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ مبارکہ میں بھی اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی اہلِ عشق نے نہایت ہی عقیدت اور محبت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت کا جشن منایا۔ 

تاہم دورِ حاضر میں نافہم لوگ اپنی لاعلمی اور کم عقلی کے باعث اسے بدعت قرار دیتے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے عید میلاد النبیؐ کا جشن منانے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ’’حقیقتِ عید میلاد النبیؐ‘‘ کے نام سے کتاب تحریر فرمائی جس کے مطالعہ سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ عید میلاد النبیؐ کا جشن منانا باعثِ صد رحمت و سعادت ہے اور عید میلاد النبیؐ کا جشن نہ صرف عالمِ اسلام میں بلکہ دنیا بھر میں منایا جاتا رہا ہے۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ Celebration of Mawlid Al-Nabi کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور آپؓ کے اصحاب کا میدانِ کربلا میں کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپؓ نے اپنی جان کی قربانی سے دینِ محمدیؐ کو بقا عطا کی۔ اپنی نگاہوں کے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو قربان ہوتے دیکھنا کوئی معمولی بات نہیں، مگر سیدّ الشہدا امام عالی مقامؓ کے قلب پر اس وقت کیا گزری ہوگی جب اپنے ہی ہاتھوں سے نہ صرف اپنے بیٹوں بلکہ بھتیجوں، بھانجوں، بھائیوں اور دیگر اصحاب کے بے جان وجود اٹھائے ہوں گے اور بالآخر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتؓ سے بغض رکھنے والے نافہم اور جاہل لوگوں نے واقعہ کربلا کے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور یہ کہنے لگے کہ یہ خلافت کے لیے دو شہزادوں کی جنگ ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ’’سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف فرمائی جس میں واقعہ کربلا کے اصل حقائق کو نہ صرف کھول کر بیان فرمایا بلکہ حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے اصحابؓ کے عشق کی داستان کو بھی منفرد انداز میں بیان فرمایا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں یزید بدبخت کے ظلم و ستم اور دورِ حاضر میں ترویج پانے والے یزیدی نظریات کو واضح کیا ہے۔ 

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی سیرت اور کربلا میں آپ کا کردار راہِ سلوک پر چلنے والے طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعل ِراہ ہے۔ کتاب کا انگلش ترجمہ Imam Hussain and Yazid کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

خلفائے راشدین

اصحابِ کبارؓ امت کا بہترین طبقہ ہیں جن کی پیروی کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لازم قرار دیا۔اصحابِ کبارؓ میں فضیلت اور مرتبہ کے اعتبار سے خلفائے راشدین سب سے زیادہ بلندمرتبہ ہیں جنہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور دینِ اسلام کی خاطر گھربار کا نذرانہ بھی پیش کر دیا اور عشق و وفا کی ایسی لازوال مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ 

 سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کی خلفائے راشدین سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے خلفائے راشدین کے فضائل و مناقب پر ’’خلفائے راشدین‘‘ کے نام سے کتاب تحریر فرمائی اور اس کتاب کی تحریر میں خلفائے راشدین کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عشق کے جذبہ کو ملحوظِ خاطر رکھا تاکہ ان خلفائے راشدین نے عشقِ مرشد کی جو داستانیں رقم کیں ان کا احاطہ بھی کیا جا سکے۔ اس کتاب کی ایک اہم اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں خلیفہ راشد پنجم سیدّنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ کی سیرتِ مطہرہ کو بھی شامل کیا گیا ہے کیونکہ اگر حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ کو خلیفہ راشد تسلیم نہ کیا جائے اور آپؓ کی چھ ماہ کی خلافت کو نظرانداز کیا جائے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کی تردید ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’میرے بعد خلافت تیس سال قائم رہے گی۔‘‘

کتاب کا انگلش ترجمہ The Rashidun Caliphate کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔ 

فضائل اہلِ بیتؓ و صحابہ کرامؓ(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اہلِ بیتؓ سفینہ نوح کی مانند اور صحابہؓ کرام ستاروں کی مانند ہیں۔ اہلِ بیتؓ و صحابہ کرامؓ کی محبت سے قلوب کو سرشار کرنا ایمان میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے ضروری ہے کہ ان مقدس ہستیوں کی سیرتِ مطہرہ سے راہنمائی حاصل کریں کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی اتباع کا حکم دیاہے۔ 

ان عظیم شخصیات کی بلند شان اور فضیلت سے آگاہی کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے ’’فضائل اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرامؓ‘‘ کے نام سے کتاب طبع کی ہے جس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ان عظیم ہستیوں کے فضائل و مناقب کو بیان کیا گیا ہے۔

کتاب کا انگلش ترجمہ Prophet’s People of the Cloak and Companions- A Guiding Light for Muslims کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ امام الاولیا اور نائبِ رسولؐ ہیں۔ آپؓ کی نظرِکرم کے بغیر کسی کو ولایت نہیں مل سکتی۔ آپؓ کی حیاتِ مطہرہ اور تعلیمات میں طالبانِ مولیٰ کے لیے کامل راہنمائی موجود ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے نہایت عرق ریزی اور مستند کتابوں کے حوالہ جات سے سیدّنا غوث الاعظمؓ کی حیاتِ مبارکہ پر جامع کتاب تصنیف فرمائی ہے جس میں نہ صرف سیدّنا غوث الاعظمؓ کی حیاتِ مطہرہ کے تمام گوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے بلکہ کتاب کے دوسرے حصہ میں سیدّنا غوث الاعظمؓ کی تعلیمات کو مختلف موضوعات کے لحاظ سے بھی ترتیب دیاگیا ہے۔ کتاب کا انگلش ترجمہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

سلطان باھوؒ

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ بطور شاعر اور صوفی دنیا بھر میں معروف ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے عقیدتمند بھی پوری دنیا میں موجود ہیں لیکن وہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت، آپؒ کے بلند مرتبہ اور سیرتِ مطہرہ سے مکمل طور پر آگاہی نہیں رکھتے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سلسلہ سروری قادری کے امام ہونے کے ناتے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح حیات پر ایک مستند اور جامع کتاب ’’سلطان باھوؒ‘‘ کے نام سے تحریر کی۔ بلاشبہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی سوانح حیات پر اس سے زیادہ مستند، مکمل اور جامع کتاب پہلے شائع نہیں کی گئی۔ اس کتاب میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ بھی Sultan Bahoo کے نام سے شائع ہو چکا ہے جو دنیا بھر میں بے حد مقبول ہوا۔

ابیاتِ باھوؒ کامل

ابیاتِ باھوؒ دنیا بھر میں مشہور اور علمی و ادبی حلقوں میں بہت معروف ہیں اور یہ ابیات تمام ادبی و روحانی محافل میں پڑھے جاتے ہیں۔ بہت سے مصنفین اپنی تصانیف میں ان ابیات کو بطور حوالہ بھی درج کرتے ہیں۔ یہ پنجابی ابیات قرآن و حدیث کے عین مطابق ہیں۔

ابیاتِ باھوُ پر اب تک بیشمار کتب شائع ہو چکی ہیں اور اس دوران ان لوگوں نے، جو حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات سے ناواقف تھے، ابیات کے متن میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دیں اور کچھ کم فہم لوگوں نے اپنی طرف سے ابیات بھی گھڑ لیے جو کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ 

آپؒ کے روحانی وارث اور سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے تمام 201 ابیاتِ باھوؒ پر کامل تحقیق کر کے ان کے متن کو درست کیا اور اسے ابیاتِ باھوؒ کامل کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے مشکل الفاظ کے معانی اور جامع شرح بھی تحریر کی گئی ہے۔ کتاب کے شروع میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح حیات اور تعلیمات پر ایک تحقیقی مقالہ بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ ابیات کو سمجھنا آسان ہو۔ یہ مستند کتاب علمی و ادبی حلقے میں بے پناہ مقبول ہوئی اور سلطان الفقر پبلیکیشنز کو اس کاوش پر خصوصی پذیرائی بھی ملی۔

اس کتاب کا انگلش ترجمہ Sultan Bahoo – Punjabi Poetry کے نام سے شائع کیا جا چکا ہے جس میں ابیات اصل رسم الخط یعنی شاہ مکھی میں، پھر گرمکھی میں، پھر رومن میں اور انگلش ورس English verseمیں لکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد جامع شرح اور آخر میں گلوسری یعنی لغت بھی تینوں رسم الخط میں تحریر کی گئی ہے۔

فقرِاقبالؒ

علامہ اقبالؒ جنہیں حکیم الامت اور شاعرِمشرق بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اُمتِ محمدیہ بالخصوص نوجوانوں میں خودی کی پہچان اور روح کی بیداری کے احساس کو پیدا کیا۔ علامہ اقبال ؒکے کلام پر اب تک بیشمار کتب شائع ہو چکی ہیں لیکن سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے علامہ اقبالؒ کے کلام کو ایک منفرد نگاہ سے دیکھا اور علامہ اقبالؒ کے فقر پر مشتمل کلام کو مختلف موضوعات کے تحت جمع کیا جیسا کہ فقر، طالبِ مولیٰ، عرفانِ نفس، عشقِ حقیقی، مرشد کامل، اسمِ اللہ ذات، دیدارِ الٰہی اور انسانِ کامل۔ 

عوام الناس چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ورثۂ فقر سے ناواقف ہیں اس لیے اقبالؒ کے فقر پر مبنی کلام کو کوئی سمجھ نہ سکا اور نہ ہی اس پر مزید کوئی کام کیا لیکن سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے نہایت عرق ریزی سے ایک منفرد انداز سے ایک کتاب ترتیب دی جس میں نہ صرف فقر و تصوف کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا بلکہ ان سے متعلق اقبال کے فارسی اور اردو اشعار کو بھی درج کیا۔ فقرِاقبالؒ کتاب میں فارسی کلام کا اردو ترجمہ کر دیا گیا ہے جبکہ اردو شاعری میں موجود شرح طلب اصطلاحات کی حواشی میں شرح کر دی گئی ہے۔ 

اس کتاب کا انگلش ترجمہ Iqbal and Faqr کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

سوانح حیات سلطان التارکین حضرت سخی سلطان  سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سلسلہ سروری قادری کس طرح جاری ہوا اور امانتِ فقر کس کو منتقل ہوئی اس کے متعلق لوگ ناواقف تھے اس لیے دربار پر موجود صاحبزادگان سے ہی حصولِ فیض کے لیے رجوع کرتے جبکہ معرفتِ الٰہی کا حصول مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کی صحبت اور توجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مطہرہ پر تحقیق کے بعد ایک جامع کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ہے ’’سوانح حیات سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ۔‘‘اس کتاب کی بدولت عوام الناس حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سلسلہ کے امام اور مرشد کامل اکمل حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کی ذاتِ مطہرہ سے واقف ہوئے۔اس کتاب کا انگلش ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے جس کا نام ہے:

Life History of Sultan-ul-Tarikeen Hazrat Sakhi Sultan Sayyid Mohammad Abdullah Shah Madni Jilani Rehmat-ul-Allah Alayh 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سے انتہائی قرب کی بدولت ان کی سیرتِ مطہرہ کے ہر پہلو سے واقف تھے اس لیے مرشد کے وصال کے فوراً بعد ہی اپنے مرشد کی سوانح حیات پر کام شروع کر دیا اور اپنے مرشد کریم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ سے عشق کی بنا پر ایک بہترین اور جامع کتاب ’’سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ۔ حیات و تعلیمات‘‘ کے نام سے تحریر کی جس میں نہ صرف سیرتِ مطہرہ بلکہ آپؒ کی تعلیمات کو بھی شامل کیا گیا۔ 

اس کتاب کے مطالعہ سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ کے تمام پہلوؤں اور تعلیمات کے متعلق کامل معلومات حاصل ہوتی ہیں۔بلا شبہ اولیا کرام کی حیات و تعلیمات، ان کی بلند شان اور کرامات کے متعلق جاننے کے شائقین کے لیے یہ کتاب بے مثال تحفہ ہے۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ بھی شائع کیا جا چکا ہے جس کا نام ہے:

Sultan-ul-Faqr VI Sultan Mohammad Asghar Ali-Life and Teachings 

کلام مشائخ سروری قادری

اولیا کاملین کا کلام اور ان کی تصانیف الہامی ہوتی ہیں اسی وجہ سے عالمگیر شہرت رکھتی ہیں۔ یہ عارفانہ کلام اسرارِ الٰہی کا خزینہ ہوتا ہے۔ عارفانہ کلام میں غور و فکر کرنے پر ہزاروں اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر پنجم حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ سے لے کر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ تک تمام سروری قادری مشائخ کے کلام کو جمع کیا اور محنتِ شاقہ سے اس کے متن کو درست کر کے لغت کے ساتھ شائع کیا جبکہ اس سے قبل یہ کلام صرف مخصوص حلقہ تک محدود تھا۔

ارکانِ اسلام پر کتب

بطور مسلمان ارکانِ اسلام پر ایمان اور ان کی ادائیگی ازحد ضروری ہے لیکن عوام الناس ان ارکان کی فرضیت کے مقاصد سے ہی ناواقف ہیں جیسا کہ نماز کی فرضیت کا مقصد معراج اور دیدارِ الٰہی ہے، زکوٰۃ کی فرضیت کا مقصد دل سے مال کی محبت کو کم کرکے اللہ کی محبت پیدا کرنا ہے، روزہ کی فرضیت کا مقصد باطن کی صفائی اور تقویٰ کا حصول ہے، حج کی فرضیت کا مقصد شعائر اللہ کی زیارت کے ساتھ ساتھ صاحبِ خانہ کعبہ کی حضوری، مشاہدہ اور مکاشفہ ہے۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے طالبانِ مولیٰ کو ارکانِ اسلام کی فرضیت کے حقیقی مقصد سے روشناس کرانے کے لیے ارکانِ اسلام پر چار مختصر کتب حقیقتِ نماز، حقیقتِ روزہ، حقیقتِ زکوٰۃ اور حقیقتِ حج تحریر فرمائیں۔ ان کتب کے مطالعہ سے طالبانِ مولیٰ راہنمائی حاصل کر کے اپنی فرض عبادات کو اس کی مکمل روح کے ساتھ ادا کر کے اللہ کا قرب اور رضا حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کتب کے انگلش تراجم شائع کرنے کا اعزاز بھی سلطان الفقر پبلیکیشنز نے حاصل کیا ہے۔جن کے نام ہیں:

Fasting – Sharia & Spirituality
The Spiritual Reality of Prayer (salat)
The Spiritual Reality of Zakat
The Spiritual Reality of Hajj

نفس کے ناسور اور تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق

راہِ فقر پر طالبانِ مولیٰ کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹیں ان کا اپنا نفس پیدا کرتا ہے۔ نفس کی چالیں اور بیماریاں کونسی ہیں ان کے متعلق آگاہی اور ان کے تدارک کا طریقہ جاننا بہت ہی ضروری ہے۔ اگر طالبِ مولیٰ نفس کی بیماریوں کے متعلق نہ جانتا ہو اور نہ ہی ان سے نبٹنے کے طریقہ سے آگاہ ہو تووہ کبھی بھی راہِ حق پر ترقی نہیں کر سکتا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ایک کتاب تحریر فرمائی جس کا نام ہے ’’نفس کے ناسور‘‘۔ اس کتاب میں نفس کی تمام بیماریوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے طالبانِ مولیٰ پر خصوصی کرم نوازی فرماتے ہوئے ’’تزکیۂ نفس کے نبویؐ طریق‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی تاکہ نفس کی بیماریوں سے آگاہ ہو کر طالبانِ مولیٰ تزکیۂ نفس کے نبویؐ طریق کو اختیار کریں، مرشد کامل کی صحبت میں رہ کر نفس کی بیماریوں سے نجات حاصل کریں۔

ان دونوں کتب کے انگریزی تراجم Purification of Innerself in Sufism  اور  The Prophetic Way of Purgation of the Innerself کے نام سے شائع کیے جا چکے ہیں۔ 

حقیقت اسمِ اللہ ذات

اسمِ اللہ ذات ہی اسمِ اعظم ہے جو ہر مشکل کی چابی ہے۔ اسمِ اعظم کو تلاش کرنے کی خاطر اولیا کرام نے سالہا سال ریاضتیں اور مجاہدات کیے تب جا کر اسمِ اللہ ذات حاصل ہوا۔ تاہم موجودہ دور میں عوام الناس اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات سے ہی ناواقف ہیں کجا کہ اسمِ اعظم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے جب اسمِ اللہ ذات کا فیض ہر کسی کے لیے کھول دیا تو عوام الناس کو اسمِ اعظم سے روشناس کرانے کے لیے ’’حقیقت اسمِ اللہ ذات‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر فرمائی جس میں مختلف سلاسل کے اولیا کاملین کے اقوال کی روشنی میں اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات کو بیان کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ ذکر و تصور کی اہمیت اور ان کے باہمی تعلق کے متعلق بھی بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔

اس کتاب کا انگلش ترجمہ The Divine Reality of Ism e Allah Zaat کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

مرشد کامل اکمل

دورِ حاضر میں لوگ مرشد کامل اکمل کی اہمیت سے انجان ہیں بلکہ مرشد کی صحبت کو اہم ہی نہیں سمجھتے اور محض قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنا کافی سمجھتے ہیں جبکہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن و حدیث میں ہی مرشد کامل اکمل کی صحبت اور وسیلہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ جس طرح کوئی بھی علم یا ہنر استاد کے بغیر نہیں سیکھا جا سکتا بالکل اسی طرح اللہ کے قرب اور معرفت کی باطنی راہ پر چلنے کے لیے بھی ایک استاد یعنی مرشد کامل اکمل کی ضرورت ہے۔ 

اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ’’مرشد کامل اکمل‘‘ کے نام سے کتاب تحریر فرمائی جس میں مرشد کامل اکمل کی ضرورت، اس کی اہمیت، اس کے وسیلہ سے اللہ کی معرفت اور قرب حاصل کرنے کے متعلق قرآن و حدیث اور فقہا و فقرا کے اقوال کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی بیعت جیسے اہم موضوع کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ سلطان الفقر پبلیکیشنز نے اس کتاب کا انگلش ترجمہ The Perfect Spiritual Guide کے نام سے شائع کیا ہے۔

رسالہ روحی شریف

رسالہ روحی شریف جو کہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی نہایت ہی اہم اور مشہور کتاب ہے جس میں وحدت الوجود کے اہم اور دقیق نکات کو اس قدر جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے کوئی بھی اس خوبصورت انداز میں وحدت الوجود کو بیان نہیں کر سکا۔ ان دقیق نکات کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے بذاتِ خود اس کتاب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ قارئین کی آسانی کے لیے اس پر اعراب بھی لگائے کیونکہ یہ کتاب روحانی ترقی کے لیے بطور وظیفہ بھی پڑھی جاتی ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کے متعلق فرمایا ہے ’’اگر کوئی ولیٔ واصل عالمِ روحانی (کے مراتبِ سلوک) یا عالمِ قدس (ملکوت) کے مراتب میں رجعت کھا کر اپنے مقام سے گر جائے تو اس پاک کتاب کو وسیلہ بنا لے تو یہ اس کے لیے مرشد کامل اکمل ہے۔‘‘

 سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے کتاب میں موجود شرح طلب اصطلاحات کی نہایت جامع شرح بھی تحریر فرمائی جسے کتاب کے آخر میں حواشی کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین کتاب کو اس قدر خوبصورت انداز میں شائع کرنا بلاشبہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کاطالبانِ مولیٰ پر احسانِ عظیم ہے۔سلطان الفقر پبلیکیشنز نے اس اہم ترین کتاب کو آرٹ پیپر پر شائع کیا۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ اور شرح بھی پہلی مرتبہ سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

حاصل تحریر:

طالبانِ مولیٰ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ان کتب کو خلوص اور محبت سے ضرور پڑھیں تاکہ وہ معرفتِ الٰہی کے اسرارو رموز سے واقف ہو سکیں اور راہِ فقر و تصوف پر آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبانِ مولیٰ اور عقیدتمند آپ کی نورانی صحبت سے مستفیض ہو سکیں۔آمین ثم آمین

 

اپنا تبصرہ بھیجیں