تفسیر سورۃ الضُّحٰی Tafseer surah al-Zuhaa
تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
( اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والاہے)
وَ الضُّحٰی ۔ لا وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ لا مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی۔ط وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ ط وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ ط اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ص وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی۔ص وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔ ط فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۔ ط وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ۔ ط وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔
ترجمہ: قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)۔ (یا: قَسم ہے وقتِ چاشت (کی طرح آپ کے آفتابِ رِسالت کے بلند ہونے) کی (جس کے نور نے گمراہی کے اندھیروں کو اجالے سے بدل دیا) ۔ اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ آپ کے ربّ نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہے۔ اور بیشک (ہر) بعد کی گھڑی آپ کے لئے پہلے سے بہتر (یعنی باعثِ عظمت و رفعت) ہے۔ اور آپ کا ربّ عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ (اے حبیب!) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزز و مکرّم) ٹھکانا دیا۔ یاکیا اس نے آپ کو (مہربان) نہیں پایا پھر اس نے (آپ کے ذریعے) یتیموں کو ٹھکانا دیا۔ اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیا۔ یا اس نے آپ کو بھٹکی ہوئی قوم کے درمیان (رہنمائی فرمانے والا) پایا تو اس نے (انہیں آپ کے ذریعے) ہدایت دے دی۔ اور اس نے آپ کو (وصالِ حق کا) حاجت مند پایا تو اس نے (اپنی لذتِ دید سے نواز کر ہمیشہ کے لئے ہر طلب سے) بے نیاز کر دیا۔ یا اس نے آپ کو (جواد و کریم) پایا تو اس نے (آپ کے ذریعے) محتاجوں کو غنی کر دیا۔سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ اور (اپنے دَر کے) کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔ا ور اپنے ربّ کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریں۔
ان تینوں تراجم میں یَتِیْمًا کو فَاٰوٰی کا، ضَآلًّا کو فَھَدٰی کا اور عَآئِلًا کوفَاَغْنٰی کا مفعولِ مقدم قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر، القرطبی، البحر المحیط، روح البیان، الشفاء اور شرح خفاجی)
سورۃوالضحیٰ قرآنِ مجید کی ترانوے (93) سورۃ ہے اور یہ مکی سورتوں میں سے ہے۔ اس میں11 (گیارہ) آیات ہیں۔ اس سورۃ کا نام ’’والضحیٰ‘‘ یعنی ’’چاشت کا وقت ‘‘ یا ’’دن کی روشنی‘‘ہے۔اس کا شانِ نزول جو مختلف تفاسیر میں بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے :
مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرچند روز ( دس سے بھی زیادہ ایام) وحی نہ آئی جب آپؐ نے مشرکین کے سوال پر انشاء اللہ تعالیٰ نہ کہا ۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ مشرکینِ مکہ نے یہودِ مدینہ کی طرف سے پیغام بھیجا کہ کوئی ایسی تجویز بتائیں جس سے محمدؐ عربی کو لاجواب کر سکیں۔ یہود نے پٹی پڑھائی کہ ان سے اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے قصے اورروح کی حقیقت کا سوال کرو۔ اگر وہ اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے قصے بتا دیں اور روح کی حقیقت بتانے سے معذوری کا اظہار کر دیں تو یقین کرو کہ وہ نبی صادق ہیں ۔
لہٰذا آپؐ کے پاس مشرکین آئے اور یہ تینوں سوال کیے ۔ آپؐ نے فرمایا: کل آنا ۔ آپ نے انشااللہ نہ کہا۔ اس پر چند روز وحی رُک گئی ۔ مشرکین نے کہا حضرت محمدؐ کے ربّ نے ان کو چھوڑ دیا ہے اور ان سے ناراض ہو گیا ہے ۔اس کے بعد یہ سورۃ نازل ہوئی۔(تفسیر روح البیان ،، تفسیرِقرطبی)
تفسیر روح البیان میں اس سورۃ کا ایک اور شانِ نزول بیان ہوا ہے :
حضور نبی پاکؐ کے دولت کدہ میںکتیا کا بچہ داخل ہو گیا اور آپؐ کی چارپائی کے نیچے مر گیا۔ آپؐ پر چند روز کے لیے وحی نہ آئی۔ ایک دن آپؐ نے اپنی خادمہ خولہؓ کو فرمایا کہ میرے گھر پر کیا حادثہ گزرا کہ جبرائیل ؑنہیں آرہے ۔بی بی خولہ ؓ نے جھاڑو دیا تو چارپائی کے نیچے کتیاکا بچہ مرا ہوا پایا، اسے جھاڑو سے باہر نکالا۔ بی بی خولہ ؓ نے اسے دیوار سے باہر پھینک دیا۔ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حیا سے کانپنے لگے اور کاندھا مبارک تھر تھر ایا۔اِسی اثنا میں آپ پر وحی کا نزول ہوا۔ اس سے آپؐ کی کپکپی بدستورجاری رہی اور حضرت خولہ ؓ سے فرمایا : اے خولہ! مجھے کمبل اوڑھا دے۔ اس کے بعد آپ پر اللہ تعالیٰ نے یہی سورۃ اُتاری ۔ جب جبرائیل ؑ حاضر ہوئے آپؐ نے ان سے تاخیر کا سبب پو چھا تو عرض کی کہ ہم اس گھر میں نہیں آتے جس میں کتا یا تصویر وغیرہ ہو۔ (تفسیر روح البیان ، تفسیرِقرطبی )
مسند احمد میں ہے کہ حضور ؐ بیمار ہو گئے اور ایک دو راتوں تک آپؐ تہجد کی نماز کے لیے نہ اُٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیتیں ( سورۃ والضحیٰ ) نازل ہوئی۔’’ کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابو لہب کی بیوی اُمِّ جمیل تھی‘‘۔( تفسیر ابنِ کثیر)
روایت ہے کہ آپؐ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا : ( پراپگنڈہ کیا) کہ محمد ؐ چھوڑ دئیے گئے۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ والضحیٰ کی) آیت مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ’’نہ تو تیرے ربّ نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے ‘‘ نازل فرمائی ۔ ( ترمذی 3345)
تفسیر سورۃ والضحیٰ
وَ الضُّحٰی۔ لا وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ لا مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی۔
ترجمہ: قسم ہے چاشت کے وقت کی ( جب آفتاب بلند ہو جائے)۔ اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے۔ آپ کے ربّ نے ( جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے ) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی ( جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے ) ناراض ہوا ہے۔
تفسیر:یہاں اللہ تعالیٰ دن کی روشنی اور چاشت کے وقت کی قسم کھا رہا ہے۔یہ قسم اس بات کا اشارہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اندھیرے کو دُور کرتی ہے، اِسی طرح وحی کی روشنی بھی اندھیرا دور کرے گی۔ بعض مفسرین نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روشن چہرے اور آپ ؐ کی رسالت کے نور سے بھی تعبیر کیا ہے۔
سَجٰی کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب رات تاریکی کے ساتھ چھا جائے اور ہر چیز پر سکون طاری ہو جائے۔ دن کی روشنی کے بعد رات کی تاریکی کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کاخالق ہے اور وحی کا رُک جانا بھی حکمت پر مبنی عارضی کیفیت تھی ۔
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ( آپ کے ربّ نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے)۔ یہ آیت کفار کے طعنوں کا جواب ہے جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہوا ہے ۔
ملا علی قاریؒ ’’والضحٰی ‘‘ اور’’وا لیل‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس سورۃ کا نزول جس مقصد کے لیے ہوا ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ کہا جائے کہ ضحٰی میں آ پؐکے چہرۂ انور اور ’’لیل ‘‘میں آپ ؐ کی مبارک زلفوں کی طرف اشارہ ہے۔( حسن سراپا ئے رسولؐ ۔ صفحہ80)
امام زر قانیؒ تحریر فرماتے ہیں:
ضحٰی سے مراد آپ ؐ کا روئے انور اورلیل سے مراد آپؐ کی مبارک زلفیں ہیں ۔ ( حسن سراپا ئے رسولؐ ۔صفحہ80)
تفسیر ’’ جواہر القرآن ‘‘ میں درج ہے :
الضحٰی ۔ چاشت کا وقت ۔ دن کا اجالا ۔ سجیٰ ۔ ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے ۔ روزِ روشن اور شبِ تاریک شاہد اور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ آپؐ کو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہو گیا ہے جس طرح دن کا اجالا اور رات کی تاریکی یکساں نہیں ہیں اسی طرح تمام حالات یکساں نہیں کبھی قبض اور کبھی بسط، کسی وقت آسودگی اور کسی وقت تنگی ہوتی ہے۔ یہی حال وحی کا ہے کہ کبھی آتی ہے اور کبھی نہیں آتی۔ (جواہر القرآن۔ 1380 صفحہ نمبر )
وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ ط وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔
ترجمہ: اور بے شک ( ہر) بعد کی گھڑی آپ کے لیے پہلے سے بہتر (یعنی باعثِ عظمت و رفعت) ہے۔ اور آپ کا ربّ عنقریب آپ کو ( اتنا کچھ ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔
تفسیر: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بشارت عطا کی ہے کہ ہر آنے والی گھڑی ، ظاہری و باطنی مقام پچھلے سے زیادہ بلند ہو گا اور ساتھ اگلی آیت میں محبت کا اظہار فرماتا ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔
تفسیر جلالین میں بیان ہوا ہے :
آپ کی بعد کی حالت پہلی حالت سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے۔ یعنی یہ وقفہ( فترتِ وحی) تنزل و انحطاط کا باعث نہیں بلکہ آپؐ کے لیے عروج و ارتقا کا عظیم ذریعہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ گو ابتدا میں آپؐ کی بے سروسامانی رہی ہے ساری قوم مخالف اور حالات ناسازگار ۔ بظاہر کامیابی کے آثار دُور دُورتک معلوم نہیں ہوتے۔ مکہ میں اسلام کی شمع ٹمٹما رہی ہے اور اس کو بجھا دینے کے لیے ہر طرف ہواؤں کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ مگر پریشان نہ ہوں کہ آپؐ کا مستقبل نہایت روشن و تابناک ہے۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ثابت ہو گا۔ اسلام کا نور پھیلتا چلا جائے گا اور آپؐ کا نام بلند ہوتا جائے گا۔ چنانچہ ابنِ عباس ؓ کی روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش ہوئیںجو میرے بعدمیری اُمت کو حاصل ہونے والی ہیں۔ جس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔ تب حق تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بھی بہتر ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رفعت دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا سلسلہ آخرت تک چلتا رہے گا۔جبکہ ساری اولادِ آدم آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گی۔ (کمالین ترجمہ و شرح تفسیر جلالین ۔جلد ہفتم ، صفحہ 828)
تفسیر مظہری میں ہے :
اللہ آپؐ کو بکثرت عنایات سے نوازے گا دشمنوں پر فتح، اقتدارِ کامل، مومنوں کی کثرت، تمام عالم میں دین کی اشاعت، آخرت میں شفاعت، کثرتِ ثواب اور ایسی ایسی نعمتیں کہ ان کی حقیقت سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں ۔ درجاتِ قرب میں سب سے اونچا درجہ اور سب سے بڑی نعمت یہ کہ کمالِ نبوت کے درجہ کے مطابق اللہ پاک اپنے دیدار سے نوازے گا۔
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: میری اُمت میں سے اگرایک بھی دوزخ میں رہ گیا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔ حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ( اور اللہ ان کو بخش دے گا) یہاں تک کہ میرا ربّ ندا دے گا محمدؐ! کیا تو اب راضی ہو گیا؟ میں عرض کروں گا:ہاں میرے ربّ میں راضی ہو گیا ۔ (تفسیر ِمظہری ( اردو) جلد بارھویں، صفحہ 290)
تفسیر ابنِ عربی میں بیان ہوا ہے وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی یعنی پچھلی حالت وہ تجلی ہے جو احتجاب اور شدتِ شوق کے بعد آپ پر ظاہر ہوئی اور جو پہلی حالت سے اس لیے بہتر ہے کہ آپ کی دوسری حالت میں وجودِ بقیہ کے ساتھ تلوین سے اور ظہورِ انائیت سے آپ میں کوئی چیز باقی نہیں ۔
اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ ص وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی۔ص وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔
ترجمہ: ( اے حبیب !) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزز و مکرم ) ٹھکانہ ( مقام) دیا۔ اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیا ۔اور اس نے آپ کو ( وصالِ حق کا ) حاجت مند پایا تو اس نے ( اپنی لذت دید سے نواز کر ہمیشہ کے لیے ہر طلب سے ) بے نیاز کر دیا ۔
تفسیر:ان آیات میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اپنی نوازشات اورنعمتیں یاد کرائی ہیں تاکہ آپ کو تقویت ملے۔
حالتِ یتیمی میں پناہ دینا
تفسیر ابنِ کثیر میں بیان ہوا ہے آپؐ کی یتیمی کی حالت میں خدائے تبارک تعالیٰ نے آپؐ کی حفاظت کی اور جگہ عنایت فرمائی ۔ آپؐ کے والد کا انتقال توآپؐ کی پیدائش سے قبل ہی ہو چکا تھا،بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا۔ چھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ والدہ کے انتقال کے بعد آپؐ اپنے دادا کی کفالت میں آ گئے لیکن جب آپؐ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو سر سے دادا کا سایہ بھی اُٹھ گیا۔ اب آپؐ اپنے چچا ابو طالب کی پرورش میں آئے۔ ابوطالب دل و جان سے آپؐ کی نگرانی اور امداد کرتے رہے، آپؐ کی بے حد عزت و توقیر کرتے۔ قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنے نفس کو بطور ڈھال پیش کر دیا کرتے تھے کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت مخالف تھے بلکہ دشمنِ جان ہو گئے۔ ہجرت سے کچھ پہلے آپؐ کے چچا ابوطالب بھی وفات پاگئے۔ لہٰذا سفہا و جہلائے قریش آپؐ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگارِ عالم نے آپؐ کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپؐ کا انصار بنا دیا۔ انصارِ مدینہ نے نہ صرف آپؐ کوبلکہ آپؐ کے ساتھیوں کو بھی پناہ دی، مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں ۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت ، احسان اور اکرام سے تھا۔ ( تفسیر ابنِ کثیر )
اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ اس آیت میں اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب کے شان و رتبہ کی بات کی ہے ۔ بظاہر تو یتیم پیدا فرمایا لیکن اپنے محبوب کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا اور قیامت تک کے لیے اپنے محبوب کا ذکر بلند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دنیا میں ہی معزز و مکرم مقام و رتبہ عطا نہ کیا بلکہ آپؐ کی نبوت تمام نبیوں پر افضل و ممتاز ہے۔ آپ ؐ کی بشریت کی بات کی جائے یا نورانیت کی، نبوت کی بات کی جائے یا معجزات کی، ظاہری مقام کی بات کی جائے یا باطنی گویا ہر لحاظ سے اعلیٰ اور افضل ہیں۔
فرمانِ مصطفیؐ ہے :
میں ہی اگلوں پچھلوں میں سب سے زیادہ اللہ کے ہاں عزت والا ہوں ، فخر نہیں ہے۔( ترمذی ، دارمی ، مشکوٰۃ ص ۵۱۳)
میں ہی تمام رسولوں کا قائد (سردار) ہوں گا ،فخر نہیں ہے ۔ (مشکوٰۃ ص ۵۱۴ ‘ عن جابر)
ہدایت کا راستہ عطا کرنا
جب نبی اکرمؐ کی بعثت ہوئی اس وقت عرب خاص طور پر شہر مکہ اخلاقی انحطاط اور شدید جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپ ؐ مکہ کے بت پرستی اور مشرکانہ رسم و رواج سے شدید بیزاری محسوس کرتے تھے۔ اس فاسد ماحول سے دور رَہ کر یکسوئی، خلوت اور حق کی جستجو کے لیے آپ ؐ غارِ حرا تشریف لے جاتے۔ چالیس سال کی عمر میں ایک دن غارِ حرا میں ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ آپؐ پر پہلی وحی نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔اس کی روشنی سے آپؐ نے اپنے اصحابؓ کی تربیت فرمائی اور مسلمانوں نے اسی قوتِ ایمانی سے فتح حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ نے ایک بھٹکی ہوئی قوم کو وجودِ محمدؐ اور نورِ محمد ؐ کے ذریعے ہدایت عطا کی۔جیساکہ اللہ تعالیٰ سورۃ النورکی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے :
اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ لا یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓئُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ( سورۃ النور ۔ 35)
ترجمہ:اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدؐ کی شکل میں دنیا میں روشن ہے)اس طاق ( نما سینہ اقدس ) جیسی ہے جس میں چراغ ہے ۔ ( وہ ) چراغ، فانوس (قلبِ محمدی ؐ ) میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس ( نورِ الٰہی کے پرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن ہوا ہے، وہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی ( بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالمگیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل ( خود ہی) چمک رہا ہے اگر چہ ابھی اسے آگ نے چھوا بھی نہیں ۔ (وہ) نور کے اوپر نور ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور تک پہنچا دیتا ہے اور اللہ لوگوں ( کی ہدایت ) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے ۔ اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔
فقر و غنا
قرآنِ کریم کی آیت وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔ میں فقر و غنی کا ذکر کیا ہے ۔ اس آیت میں شانِ مصطفیؐ کے دو پہلو بیان کرنا مقصود ہے، ایک کا تعلق ظاہر سے ہے اور دوسرے کا باطن سے ۔
عرفِ عام میں فقر سے مراد حاجت مندی و تنگ دستی وغیرہ ہے ۔ آپ ؐ کے پاس کوئی مال نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت خدیجہ ؓ کے ذریعہ آپؐ کو غنی کر دیا ۔عارفین فقر کو حاجت مندی کے معنی میں استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیک فقر سے مراد وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق خاتم النبییٖن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر میرا فخر ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الا قدس اپنی تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں لکھتے ہیں :
فقر وہ مرتبہ ہے جہاں پر انسان ہر قسم کی حاجت سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے مدِنظر رہتی ہے اس لیے ہر حال میں تقدیر ِالٰہی سے موافقت اختیار کیے رکھتا ہے ۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ ’روحِ قرآنی
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ غنایت کی اصطلاح اپنی تعلیمات میں اکثر فرماتے ہیں اور اس سے مراد دنیا و عقبیٰ کی تمام نعمتوں سے دل کی سیری اور طمانیت ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصنیف مبارکہ ’’نور الہدیٰ ‘‘ میں فرماتے ہیں :
جمعیت کسے کہتے ہیں ؟ جمعیت سے مراد ہے کہ ہر مطلوبہ چیز اور مرتبہ خواہ اس کا تعلق مرتبۂ ذات سے ہو یا صفات سے، سب درجات محنت و رنج کے پالینا اور تمام خزائنِ الٰہی پر تصرف حاصل کر لینا ۔ (نور الہدیٰ)
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب خاتم النبییٖن حضرت محمدؐ کوظاہر و باطن دونوں لحاظ سے فقر و غنا سے نوازا۔
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۔ط وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ۔ط وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ۔
ترجمہ: سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ اور ( اپنے دَر کے ) کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔ اور اپنے ربّ کی نعمتوں کا ( خوب) تذکرہ کریں۔
ان آیات میں یتیم اور سائل کے احکام کا ذکر کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میںاللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے محبوب پر کئے گئے فضل کا ذکر کیا ہے وہاں حکم فرما رہا ہے کہ آپؐ بھی کسی یتیم پر سختی نہ کریں اور سائل کو مت جھڑکیں ۔ یتیم کی کفالت ، اس کے مال کی حفاظت ، اس کی عزت کرنا اور سائل کو نہ جھڑکنا اور اس کا حق ادا کرنا ایک بنیادی دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ سائل سے مراد سوالی ہے خواہ وہ ظاہری ضرورت کے لیے سوال کرے یا کوئی طالبِ مولیٰ باطنی مقام و مرتبہ کا سوال کرے۔
دیگر قرآنی آیات اور احادیث میں بھی یتیموں اور حاجت مندوں کے متعلق واضح احکامات دئیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ج وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ لا وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ(سورۃ البقرۃ۔177)
ترجمہ: نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور ( اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور( غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کر دے۔
رسول اللہؐ نے فرمایا :
مسکین کو کھا نا کھلاؤ ، سائل کو مت جھڑکو ، خواہ وہ گھوڑے پر ہی کیوں نہ آیا ہو۔ ( سنن ابی داؤد 1665)
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لانا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار اور اَن گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ شکر ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کی محبت اور رضا کا سبب بنتا ہے جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے :
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ۔ (سورۃابراہیم ۔7)
ترجمہ:اور ( یاد کرو ) جب تمہارے ربّ نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناسخت ہے۔
قلبی شکر یہ ہے کہ دل سے اس بات کا احساس اور اعتراف کرنا کہ یہ نعمت صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ لسانی شکریہ ہے کہ زبان سے اللہ کی تعریف و ثنا کرنا اور نعمتوں کا ذکر کرنا۔
جسمانی شکر یعنی ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا ، مثلاً آنکھوں سے حلال چیزیں دیکھنا، کانوں سے اچھی باتیں سننا اور جسم کو اللہ کی عبادت اور جائز کاموں میں مصروف رکھنا۔
نعمت کے اظہار کی صورت
ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے۔ نعمتِ ہدایت کا اظہار اس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتلایا جائے، نعمتِ قرآن کا اظہار اس طرح ہو کہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات پھیلائی جائیں۔ (کمالین ترجمہ و شرح تفسیر جلالین ، جلد ہفتم ، صفحہ 730)
ہر نعمت کا شکر واجب ہے اور شکرِنعمت کا معنی ہے نعمت کو منعم کی مرضی کے مطابق صرف کرنا لہٰذا نعمتِ مالیہ کا شکریہ ہو گاکہ اخلا ص کے ساتھ مال کو راہِ حق میں خرچ کیا جائے اور نعمتِ بدنیہ کا شکر یہ ہو گا کہ فرائض ( بدنیہ ) کو ادا کیا جائے اور معصیت سے پر ہیز رکھا جائے اور علم و عرفان کی نعمت کا شکریہ ہو گاکہ دوسروں کو سکھایا اور ہدایت دی جائے۔ ( تفسیر ِ مظہری، صفحہ 294)
تفسیر قرطبی(جلد دہم) میں بیان ہوا ہے :
اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو نعمتیں نازل کی ہیں شکر اور ثنا کے ذریعے انہیں عام کرو ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اور ان کا اعتراف یہ بھی شکر ہے ۔ ابنِ ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہواما بنعمۃ ربک فحدث سے مراد قرآن ہے ۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے یعنی جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ خطاب رسولؐ اللہ کوہے اور حکم آپ کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے ہے ۔ ( تفسیر قرطبی۔ صفحہ 401)
سورۃوالضحیٰ قرآنِ کریم کی ان مبارک سورتوں میں سے ہے جو تسکین قلب اور روحانی تقویت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ سورۃ ایسے مشکل وقت میں نازل ہوئی جب وحی کا نزول عارضی طور پر تھم گیا تھااور کفار نے آپؐ کو طعنہ دیا کہ آپؐ کے ربّ نے آپؐ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے بے پناہ محبت، رحمت اور آئندہ ظاہری و باطنی کامیابیوں، نعمتوں اور عطاؤں کی بشارت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ امتِ مسلمہ کو بھی یتیموں اور سائلوں کے حقوق کا خیال رکھنے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔
استفادہ کتب:
شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
تفسیرِ مظہری :تالیف حضرت علامہ قاضی محمد ثنا اللہ عثمانی مجددی پانی پتی ؒ ( جلد بارھویں)
تفسیر کمالین شرح اردوتفسیر جلالین : تفسیر علامہ جلال الدین محلی ؒ و علامہ جلال الدین سیوطی ؒ ، شرح : حضرت مولانا محمد نعیم دیوبندی صاحب
تفسیر ابن العربی: مترجم علامہ صائم چشتیؒ
تفسیر جواہر القرآن :حضرت مولانا حسین علیؒ
تفسیر ابن کثیر: مترجم خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھیؒ
تفسیر روح البیان از علامہ الشیخ اسماعیل حقی البروسوی
تفسیر قرطبی : جلد دہم ، مترجمین مو لانا ملک محمد بوستان ، مولانا سید محمد اقبال شاہ گیلانی ، مولانا محمد انور مگھالوی ، ،مولانا شوکت علی چشتی
بہت خوبصورت اور معلوماتی مضمون
ماشاءاللہ بہت خوبصورت مضمون ھے
Superb explanation
بیشک اللہ پاک اپنے محبوب سے شدید عشق فرمانے والا ہے ❤️🌹
بے شک اللہ پاک اپنے محبوبؐ سے بے پناہ محبت فرماتا ہے۔
Awesome
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے
اچھی تفسیر لکھی، گڈ
سورۃوالضحیٰ قرآنِ کریم کی ان مبارک سورتوں میں سے ہے جو تسکین قلب اور روحانی تقویت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ سورۃ ایسے مشکل وقت میں نازل ہوئی جب وحی کا نزول عارضی طور پر تھم گیا تھااور کفار نے آپؐ کو طعنہ دیا کہ آپؐ کے ربّ نے آپؐ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے بے پناہ محبت، رحمت اور آئندہ ظاہری و باطنی کامیابیوں، نعمتوں اور عطاؤں کی بشارت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ امتِ مسلمہ کو بھی یتیموں اور سائلوں کے حقوق کا خیال رکھنے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے
سائل سے مراد سوالی ہے خواہ وہ ظاہری ضرورت کے لیے سوال کرے یا کوئی طالبِ مولیٰ باطنی مقام و مرتبہ کا سوال کرے۔
فرمانِ مصطفیؐ ہے :
میں ہی اگلوں پچھلوں میں سب سے زیادہ اللہ کے ہاں عزت والا ہوں ، فخر نہیں ہے۔( ترمذی ، دارمی ، مشکوٰۃ ص ۵۱۳)
بہت عمدہ تحریر
مسند احمد میں ہے کہ حضور ؐ بیمار ہو گئے اور ایک دو راتوں تک آپؐ تہجد کی نماز کے لیے نہ اُٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیتیں ( سورۃ والضحیٰ ) نازل ہوئی۔’’ کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابو لہب کی بیوی اُمِّ جمیل تھی‘‘۔( تفسیر ابنِ کثیر)
بہت اچھا بلاگ ہے بہت راہنمائی ہوئی اس سے
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ ’روحِ قرآنی