شفقت و رحمت REHMAT O SHAFQAT
تحریر: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
اللہ تعالیٰ مخلوق پر بہت مہربان ہے اور اس نے سب کو بخشنے اور ان کی خطاؤں کو درگزر فرما کر ان پر شفقت فرمانے کے بہت سے وسیلے پیدا کر رکھے ہیں کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ کسی صورت ہی سہی لیکن انسان اللہ کی طرف مائل ہو جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کر کے انسان کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور اپنے عذاب اور جہنم کی وعید کے ذریعے متنبہ کر کے بھی اپنی طرف آنے کی تلقین کی ہے اور اپنے دیدار اور قرب کی خوشخبری دے کر بھی اپنی طرف مائل کیا ہے۔ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ کوئی بھی طریقہ استعمال کر لے لیکن اللہ کے قرب اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرے کیونکہ یہ سب اس کی بخشش اور عطا کے بہانے ہیں۔ انسان خطائوں کا پتلا ہے اور برائی کی طرف مائل بھی جلد ہو جاتا ہے لیکن احساس ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتاہے اور توبہ کرتے ہوئے اپنی خطائوں پر معافی کا طلبگار ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات بہت ہی شفیق و مہربان ہے اس لیے وہ سب کو معاف فرما دیتا ہے چاہے کوئی دیر سے اس کی طرف رجوع کرے یا جلد، توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔
حضرت صفوان بن عسالؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: مغرب میں ایک کھلا دروازہ ہے اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے۔ یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا جب تک سورج اُدھر سے نہ نکلے۔ جب سورج اُدھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا۔ (ابنِ ماجہ۔4070)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا لیکن توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہے۔ (ابودائود۔4689، مسند احمد6644) (دونوں احادیث کے راوی سیدنا ابوہریرہؓ ہیں)
فقیر ِکامل چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہو چکا ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لاتعداد صفات میں سے عفو اور درگزر کی صفت بہت اہم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسانوں کی غلطیوں، خطاؤں اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور اپنی صفتِ رؤف اور صفتِ رحیم کے تصرف سے مخلوق پر شفقت اور رحم فرماتا ہے۔ فقیر ِ کامل بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم کی ایک صورت ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر شفقت و رحمت کے واسطے مقرر فرماتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ (سورۃ الانبیا۔ 107)
ترجمہ: اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
اس طرح فقیر ِکامل بھی فنا فی الرسولؐ اور فنا فی اللہ ہونے کی بنا پر تمام صفاتِ الٰہیہ اور خلقِ محمدیؐ سے متصف ہوتا ہے اسی لیے وہ مخلوق پر شفقت فرماتا ہے اور انہیں کبھی آزار نہیں پہنچاتا بلکہ ان کے لیے مغفرت اور اللہ کی رحمت کا وسیلہ ہوتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقیرِکامل وہ ہے جو ظاہری و باطنی طور پر صاحبِ گنج، صاحبِ تصور اور صاحبِ تصرف ہو اور ہر قوت کا حامل ہو لیکن پھر بھی مخلوق کو تنگ نہ کرے بلکہ ان کی ملامت برداشت کرے اور ان کا بوجھ اٹھائے۔ (کلید التوحید کلاں)
باھوؒ ہر کہ بیند عین را عفو العباد
عارفان از عفو باطن شد آباد
ترجمہ: باھوؒ جو عین حق دیکھ لیتا ہے وہ لوگوں کی خطائوں سے درگزر کرتاہے کیونکہ عارفین عفو کی صفت سے اپنے باطن کو آباد کرتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)
سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ الرسالۃ الغوثیہ میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا:
یَا غَوْثَ الْاَعْظَمُ طُوْبٰی لَکَ اِنْ کُنْتَ رَؤُفًا عَلٰی بَرِیَّتِیْ ثُمَّ طُوْبٰی لَکَ اِنْ کُنْتَ غَفُوْرًا لِبَرِیَّتِیْ
ترجمہ: اے غوث الاعظمؓ! تیرے لیے طوبیٰ ہے اگر تو میری مخلوق پر شفقت کرے اور پھر تیرے لیے طوبیٰ ہے اگر تو میری مخلوق کو معاف کرے۔
طوبیٰ سے مراد ہر طرح کی خوشحالی، عیش و عشرت اور خوشی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰی لَھُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ۔ (سورۃ الرعد۔29)
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لیے طوبیٰ (عیش و مسرت) ہے اور وہ عمدہ ٹھکانہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کو طوبیٰ کی بشارت دی کہ مخلوق کی خطائوں اور گناہوں سے درگزر کرو اور ان پر شفقت کرو۔
سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے اعلیٰ ترین مقامِ ولایت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ نہ صرف یہ کہ آپؓ ازل سے اس مقام پر فائز تھے بلکہ اس دنیا میں آکر بھی آپؓ نے شدید ترین مجاہدات اور عبادات کیں۔ اس اعلیٰ مقام کے باوجود اللہ انہیں طوبیٰ کی بشارت اس شرط کے ساتھ دے رہا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق سے درگزر کریں اور اس سے شفقت کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے کس قدر محبت ہے۔ کوئی خواہ کس قدر عبادات کرے، اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے اگر وہ اللہ کی مخلوق کو تکلیف پہنچائے گاتواللہ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔یہاں ’مخلوق‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے نہ کہ مومن و مسلمان کا یعنی خواہ کافر ہو یا مسلمان، نیک ہو یا گناہگار، انسان ہو یا جانور سب پر شفقت کرے۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’میں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ تمام جہانوں سے مراد اُن جہانوں میں رہنے والی مخلوقات بھی ہیں۔
حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو چابک سے مار رہا تھا کہ اچانک میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی اے ابو مسعود جان لو! میں غصے کی وجہ سے وہ آواز پہچان نہ سکا۔ جب وہ آواز دینے والا میرے قریب ہوا تو میں نے پہچانا کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما رہے تھے اے ابومسعود جان لو! اے ابو مسعود جان لو۔ حضرت ابو مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے چابک پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے ابو مسعودؓ! جان لو کہ جتنا تم اس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے‘‘۔ حضرت ابومسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی میں آئندہ کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ (سنن ابو داؤد۔5159)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا۔ جب اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا تو رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے سر پر دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! یہ اونٹ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے ؟اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔ (سنن ابو داؤد۔2549)
یہ توحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شفقت اور مہربانی کے دو واقعات ہیں۔ تاریخ ایسے اَن گنت واقعات سے بھری ہوئی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نہ صرف انسانوں پر بلکہ دیگر مخلوقات پر بھی بے انتہا شفقت فرمایا کرتے تھے۔
فقیر کا مخلوق میں فقر کا فیض عام فرمانا اس کی شفقت کی بہترین صورت ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان طالبِ مولیٰ بن کر فقر کی راہ اختیار کریں اور اپنا مقصدِحیات یعنی معرفتِ الٰہی حاصل کر کے دنیا کی امتحان گاہ سے فلاح یافتہ رخصت ہوں۔ پس فقر میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے اور اس کا قرب و وِصال بھی، جسے اللہ تعالیٰ کا وصال مل جائے اس سے بڑھ کر نعمت کیا ہو سکتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مَنْ طَلَبَ شَیْئًا فَلَا تَجِدْہُ خَیْرًا وَ مَنْ طَلَبَ الْمَوْلٰی فَلَہُ الْکُلُّ
ترجمہ: جو شخص کسی شے کی طلب کرتا ہے وہ اس میں کبھی بھلائی نہیں پاتا جو شخص اللہ کی طلب کرتا ہے اس کے لیے سب کچھ ہے۔
دورِ حاضر میں فقر کا فیض عام فرمانے والی واحد ہستی سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ نے فقر کا فیض دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے۔ آپ کی خانقاہ ’’سلطان العاشقین‘‘ کے دروازے رنگ و نسل، ذات پات اور مذہب و ملت سے بالاتر ہر خاص و عام مردو خواتین کے لیے کھلے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس بیعت اور بغیر بیعت کے اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کا تصور، سلطان الاذکار ھوُ اور اسمِ محمدؐ کی لازوال نعمت سے نواز کر طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس ، تصفیۂ قلب اور تجلیہ روح جیسے مراتب سے گزارتے ہیں جس کا مقصدطالبانِ حق کو باطن کے اعلیٰ ترین مقام دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کے حصول کے قابل بنانا ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وقت کے ولیٔ کامل سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زیرسرپرستی ہم سب کو اپنی کامل ترین معرفت عطا فرمائے۔ آمین
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت مضمون ھے
ترجمہ: اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ ❤️🌹
Very interesting blog
سلطان العاشقین مخلوق پر بہت مہربان ہیں اسی لیے فقر کا فیض ہر کسی کے لیے عام فرما دیا ہے
ِکامل بھی فنا فی الرسولؐ اور فنا فی اللہ ہونے کی بنا پر تمام صفاتِ الٰہیہ اور خلقِ محمدیؐ سے متصف ہوتا ہے اسی لیے وہ مخلوق پر شفقت فرماتا ہے
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وقت کے ولیٔ کامل سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زیرسرپرستی ہم سب کو اپنی کامل ترین معرفت عطا فرمائے۔ آمین
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ (سورۃ الانبیا۔ 107)
ترجمہ: اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کو طوبیٰ کی بشارت دی کہ مخلوق کی خطائوں اور گناہوں سے درگزر کرو اور ان پر شفقت کرو
بہت بہترین مضمون ہے
اللہ تعالیٰ کی ذات بہت ہی شفیق و مہربان ہے اس لیے وہ سب کو معاف فرما دیتا ہے چاہے کوئی دیر سے اس کی طرف رجوع کرے یا جلد، توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔ ❤
❤️
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا لیکن توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہے۔ (ابودائود۔4689، مسند احمد6644) (دونوں احادیث کے راوی سیدنا ابوہریرہؓ ہیں)
Bht zabrdast
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا لیکن توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہے۔ (ابودائود۔4689، مسند احمد6644) (دونوں احادیث کے راوی سیدنا ابوہریرہؓ ہیں)
فقیر کا مخلوق میں فقر کا فیض عام فرمانا اس کی شفقت کی بہترین صورت ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان طالبِ مولیٰ بن کر فقر کی راہ اختیار کریں اور اپنا مقصدِحیات یعنی معرفتِ الٰہی حاصل کر کے دنیا کی امتحان گاہ سے فلاح یافتہ رخصت ہوں۔ پس فقر میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے اور اس کا قرب و وِصال بھی، جسے اللہ تعالیٰ کا وصال مل جائے اس سے بڑھ کر نعمت کیا ہو سکتی ہے۔