قیامت اور اسکی نشانیاں
Qiyamat Aur Us Ki Nishaniyan
تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور
قیامت (The Day Of Judgement) اسلامی عقائد کا ایک لازمی اور بنیادی جزو ہے۔ یہ محض ایک دینی و مذہبی تصور نہیں بلکہ کائنات کے اس حتمی اور فیصلہ کن انجام کی حقیقت ہے جب موجودہ دنیا کا نظام مکمل طور پر لپیٹ دیا جائے گااور پھر سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔یومِ حساب یا روزِ جزا (قیامت) کی یہی یقین دہانی مسلمانوں کو اس دنیا میں اخلاقی اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں قیامت کا ذکر بیشتر آیات میں کیا گیا ہے جس میں اس کی اہمیت، ہولناکی اور حتمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ (سورۃ البقرۃ۔ 177)
ترجمہ: نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے۔
قیامت کے معنی قائم ہونا اور کھڑے ہونا کے ہیں چونکہ اس دن تمام مردے زندہ ہو کر کھڑے ہو جاہیں گے اس لیے اس کو قیامت کہتے ہیں۔اصطلاحِ شرع میں قیامت نام ہے اس شدید و بھیانک زلزلے اور جاں گداز ہنگامے کا جو اللہ ربّ العزت کے حکم سے حضرت اسرافیل ؑ کے صور پھونکنے پر برپا ہو گا، جس کے سبب یہ فانی و عارضی دنیا درہم برہم ہو کر ختم ہو جائے گی اور ایک دوسری دائمی و باقی دنیا یعنی آخرت کا آغاز اور ایک نئے لافانی و جاودانی نظام کی شروعات ہو گی، تمام اوّلین و آخرین زندہ ہوکر حساب و کتاب کے لیے اپنے خالق و مالک مولیٰ کی بارگاہ ِ عالی میں پیش کیے جائیں گے تاکہ ان کا حساب لے کر ہر ایک اچھے برے دنیوی اعمال کا بدلہ جنت اور دوزخ کی شکل میں عطا کر دیا جائے۔
قرآنِ کریم میں قیامت کے لیے مختلف اسما کا ذکر کیا گیاہے جو اس دن کی اہمیت اور مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔
1 ۔الساعۃ ( مقررہ گھڑی ) :
اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(سورۃ غافر۔ 59)
ترجمہ:بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ لا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ط کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ( سورۃ روم ۔آیت 55)
ترجمہ: اور جس دن قیامت برپا ہو گی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھے۔
2۔ یوم العبث ( اُٹھنے کا دن ):
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ ز فَہٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ الروم۔ 56)
ترجمہ: اور جنہیں علم اور ایمان سے نوازا گیا ہے ( ان سے) کہیں گے: درحقیقت تم اللہ کی کتاب میں (ایک گھڑی نہیں بلکہ) اٹھنے کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، سو یہ ہے اٹھنے کا دن، لیکن تم جانتے ہی نہ تھے۔
3۔ یوم الدین ( بدلے اور جزا و سزا کا دن ) :
مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ (سورۃ فاتحہ ۔ 3)
ترجمہ: روزِ جزا کا مالک ہے ۔
4۔یوم التناد (پکار کا دن ):
وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ (سورۃ غافر۔ 32)
ترجمہ: اور اے قوم! میں تم پر چیخ و پکار کے دن (یعنی قیامت) سے خوف زدہ ہوں۔
5۔ دارالقرار (ٹھہرنے کا دن) :
یٰقَوْمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ ز وَّ اِنَّ الْاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ ( سورۃ غافر۔39)
ترجمہ: اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چندروزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔
6۔ یوم الفصل (فیصلے کا دن):
ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (سورۃ الصافات۔21)
ترجمہ:(کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
7۔یوم الجمع ( اکٹھا ہونے کا دن ):
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ کَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَ مَنْ حَوْلَہَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ۔ (سورۃ الشوریٰ۔7)
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے اِردگرد رہتے ہیں ڈر سنا سکیں، اور آپ جمع ہونے کے اُس دن کا خوف دلائیں جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اُس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگا۔
8۔ یوم الحساب ( حساب کتاب کا دن ):
ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَومِ الْحِسَابِ (سورۃصٓ۔ 53)
ترجمہ:یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا روزِ حساب کے لیے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
9۔ یوم الوعید ( وعید کا دن ):
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ۔(سورۃ قٓ۔ 20)
ترجمہ: اور صور پھونکا جائے گا ، یہی (عذاب) وعید کا دن ہے۔
10۔یوم الخلود ( ہمیشگی کا دن ):
ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ۔( سورۃقٓ۔ 34)
ترجمہ: اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشگی کا دن ہے۔
11۔یومُ الخروج (نکلنے کا دن):
یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۔ (سورۃ قٓ۔ 42)
ترجمہ: جس دن لوگ سخت چنگھاڑ کی آواز کو بالیقین سنیں گے، یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہو گا۔
12۔الواقعۃ (واقعہ ہونے والی ) :
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۔(سورۃ الواقعہ ۔1)
ترجمہ: جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہو جائے گی۔
13۔الطامۃ الکبریٰ ( بڑا ہنگامہ ):
فَاِذَا جَآئَتِ الطَّآمَّۃُ الکُبْرٰی۔(سورۃ النازعات۔ 34)
ترجمہ: پھر اس وقت (کائنات کے) بڑھتے بڑھتے (اس کی انتہا پر ) ہر چیز پر غالب آجانے والی بہت سخت آفت (قیامت) آئے گی۔
14۔ القارعۃ(کھڑ کھڑانے والی یا دلوں کو دہلا دینے والی ):
اَلقَارِعَۃُ (سورۃ القارعۃ ۔1)
ترجمہ: (زمین و آسمان کی ساری کائنات کو ) کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک ۔
15۔الحاقۃ ( ایک بڑی حقیقت والی ):
اَلْحَآقَّۃُ۔لا مَا الْحَآقَّۃُ۔ج وَ مَآ اَدْرٰکَ مَا الْحَآقَّۃُ۔ (سورۃالحاقۃ۔ 1-3)
ترجمہ: یقینا واقع ہونے والی گھڑی۔ کیا چیز ہے یقینا واقع ہونے والی گھڑی۔ اور آپ کو کس چیز نے خبردار کیا کہ یقینا واقع ہونے والی (قیامت) کیسی ہے۔
16۔الآزِفَۃِ ( قریب آنے والی ):
اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ (سورۃ النجم۔57 )
ترجمہ: آنے والی (قیامت کی گھڑی) قریب آپہنچی۔
17۔ الصَاخَّۃ ( کان پھاڑ دینے والی آواز ):
فَاِذَا جَآئَتِ الصَّآخَّۃُ(سورۃعبس ۔ 33)
ترجمہ: پھر جب کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی ۔
18۔یوم الحسرۃ (حسرت کا دن ) :
وَ اَنذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ م وَ ہُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّ ہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ (سورۃ مریم ۔39)
ترجمہ:اور آپ انہیں حسرت (و ندامت) کے دن سے ڈرائیے جب (ہر) بات کا فیصلہ کر دیا جائے گا، مگر وہ غفلت (کی حالت )میں پڑے ہیں اور ایمان لاتے ہی نہیں۔
19۔الدار الاخرۃ (آخرت کا گھر):
وَ مَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّ لَعِبٌ ط وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ (سورۃ العنکبوت ۔ 64)
ترجمہ: اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے ، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی ( صحیح) زندگی ہے۔ کاش !وہ لوگ (یہ راز) جانتے ہوتے ۔
اس کے علاوہ قیامت کے لیے استعمال ہونے والے چند نام یہ ہیں یوم عظیم ( بہت بڑا دن)، یوم عسیر ( سخت مشکل دن)، یوم الآخرۃ (آخرت کا دن )، یوم الحشر ( جمع ہونے کا دن ) وغیرہ۔ (اقتباس:قیامت اور اس کی علامت )
قیامت کی قسمیں
قیامتِ صغریٰ :
یہ ہر انسان کی اپنی موت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
جو مر گیا گویا اس کی قیامت قائم ہو گئی کیونکہ آدمی مرتے ہی عالمِ آخرت میں داخل ہو جاتا ہے ۔(حلیۃ الاولیا)( قیامت اور اس کی علامات )
قیامتِ کبریٰ:
وہ بھیانک و خوفناک ہنگامہ ہے جو حضرت اسرافیل علیہ السلام کے صور پھونکنے پر برپا ہو گا اور وہ عظیم الشان دن ہے جس میں تمام لوگ حساب کتاب کے واسطے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔
قیامتِ کبریٰ کا علم:
قیامت کب آئے گی؟ متعین طور پر اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ، علمِ قیامت سِرٌّ مِنْ اَسْرارِ اللّٰہ یعنی ’’اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک رازہے‘‘ اور ان علومِ غیب میں سے ہے جن کو اللہ ربّ العزت نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔جیسا کہ سورۃالاعراف میں اللہ پاک فرماتا ہے :
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّی ج لَا یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَآ اِلَّا ہُوَ ط ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً ط یَسَئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا ط عِنْدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ الاعراف ۔ 187)
ترجمہ: یہ (کفار) آپ سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے؟ فرما دیں کہ اس کا علم تو صرف میرے ربّ کے پاس ہے، اسے اپنے (مقررہ) وقت پر اس (اللہ) کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین (کے رہنے والوں) پر شدائد و مصائب کے خوف کے باعث بوجھل (لگ رہی) ہے۔ وہ تم پر اچانک (حادثاتی طور پر )آجائے گی، یہ لوگ آپ سے (اس طرح) سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، فر ما دیں کہ اس کا علم تو محض اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔
سورہ لقمان میں ارشاد ہوا ہے :
اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (سورۃ لقمان ۔34)
ترجمہ: بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔
سورۃالاحزاب میں ارشاد ہوا ہے :
یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ ط وَ مَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا ۔ (سورۃ الاحزاب ۔ 63)
ترجمہ:لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہو۔
اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا۔لا وَّ نَرٰہُ قَرِیْبًا ۔ ( سورۃالمعارج ۔ 6,7)
ترجمہ:بے شک وہ (تو) اس (دن) کو دور سمجھ رہے ہیں۔اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں۔
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مجھے اور قیامت کو ان دونوں کی طرح بھیجا گیا ہے اور اپنی دونوں انگلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں پھیلا دیتے۔ (صحیح بخاری۔6505،صحیح مسلم، 7404)
مجھے قیامت کی آمد آمد پر بھیجا گیا ہے۔
علاماتِ قیامت کی دو قسمیں
اشراطِ صغریٰ (چھوٹی علامات) :
یہی وہ نشانیاں ہیں جو قیامت سے پہلے مختلف زمانوں میں رونما ہو ں گی اور عادی قسم کی ہوں گی جیسے علم کا اٹھ جانا، جہالت کا دور دورہ ہونا وغیرہ۔
اشراطِ کبریٰ (بڑی علامات):
یہ وہ بڑے بڑے امورہیں جو قربِ قیامت کے وقت ظاہر ہوں گے اور غیر عادی قسم کے ہوں گے جیسے دجال کا ظہور ، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، یاجوج ماجوج کا خروج، سورج کا مغرب سے نکلنا وغیرہ۔ (قیامت کی نشانیاں ، صفحہ نمبر 79)
قیامت کی علاماتِ صغریٰ
یہاں قارئین کے لیے قیامت کی چند اہم علاماتِ صغریٰ پیش کی جارہی ہیں :
1۔نبی کریمؐ کی بعثت :
نبی کریمؐ نے خبر دی کہ آپؐ کی بعثت قربِ قیامت کی دلیل ہے ۔
حدیث شریف میں ارشاد ہے:
مجھے اور قیامت کو ان دونوں کی طرح بھیجا گیا ہے اور اپنی دونوں انگلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں پھیلا دیتے۔ (صحیح بخاری، 6505)
2۔نبی کریمؐ کی وفات :
حضرت عوف بن مالکؓ فرماتے ہیں :
میں نبی کریم ؐ کے پاس گیا جبکہ آپؐ اپنے خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ میں اجازت لے کر اندر جا بیٹھا توآپؐ نے ارشاد فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو جن میں سے پہلی تمہارے نبی کی وفات ہے۔ ( صحیح بخاری۔ 3176)
3۔بیت المقدس اور قیصر و کسریٰ کی فتح :
علاماتِ صغریٰ میں سے ایک علامت بیت المقدس کی فتح ہے جیسا کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لو ان میں سے ایک بیت المقدس کی فتح کو آپؐ نے شمار فرمایا۔( صحیح بخاری، 3176)
چنانچہ بیت المقدس دو دفعہ فتح ہوا، ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دورِ خلافت میں اور ایک مرتبہ سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب الملک الناصر کے زمانے میں۔ (قیامت اور اس کی علامت، صفحہ نمبر 59)
حدیث شریف میں بیان ہوا ہے :
رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’ جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ (فارس کا بادشاہ) پیدا نہ ہو گا اور جب قیصر (روم کا بادشاہ) مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (صحیح بخاری ۔3121)
4۔جھوٹے مدعیانِ نبوت کی کثرت:
قیامت کی علاماتِ صغریٰ میں سے ایک علامت یہ ہے کہ بکثرت جھوٹے مدعیانِ نبوت ظاہر ہو ں گے ۔ اور یہ فتنہ ہم ہر دور میں کسی نہ کسی شکل و صورت میں دیکھتے آ رہے ہیں ۔ بخاری شریف میں ہے :
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تقریباًتیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہولیں ۔ ان میں ہر ایک کایہی گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے ۔ (بخاری۔ 3609)
ترمذی کی حدیث ہے :
رسولؐ اللہ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں اور بتوں کی برستش کریں۔اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے (دعویدار) نکلیں گے ، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے ، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی (دوسرا) نبی نہیں ہو گا ۔ (ترمذی۔2219)
5۔بکثرت فتنوں کا ظہور :
حدیث پاک کے مطابق قیامت کی ایک علامت بکثرت فتنوں کا ظہور ہے، قیامت سے پہلے پے درپے امڈتے فتنوں کا سیلاب ہو گا ، ایک فتنہ ابھی ختم نہ ہو پائے گا کہ دوسرا سر اُٹھا لے گا۔ ایسے خطرناک فتنے جنم لیں گے کہ حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز کرنا مشکل ہو جائے گا ، لوگوں کے ہوش گم ہو جائیں گے۔ ایسی نازک صورتِ حال پیدا ہو جائے گی کہ آدمی کا ایمان متزلزل ہو جائے گا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بیشک قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اتنے سیاہ کالے جیسے اندھیری رات (یعنی حق اور باطل گڈ مڈ ہو جائے گا) آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر۔ شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر۔ اس میں بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کی نسبت بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ سو اپنی کمانوں کو توڑ دینا اور تانتوں کو کاٹ پھینکنا اور اپنی تلواروں کو پتھروں پر مارنا (اور کند کر لینا) اگر کوئی تم پر چڑھ آئے تو حضرت آدم ؑ کے بہتر بیٹے کی مانند ہو جانا۔‘‘( سنن ابی داؤد۔ 4259)
6۔جاہل و رَیاکار عابد۔۔۔ بد عمل قاریٔ قرآن :
قیامت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جاہل و ریاکار عبادت گزار ہوں گے جو عبادت توخوب کریں گے لیکن شریعت و سنت سے عدم واقفیت کی بنا پر ان کی اکثر عبادتیں سنت و شریعت کے خلاف ہوں گی اور دل میں اخلاص نہ ہونے کے سبب اپنی عبادتوں کا لوگوں پر اظہار کریں گے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں :
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا :آخری زمانے میں جاہل عبادت گزار اور فاسق قاری ہوں گے ۔ ( مستدرک۔ 7883)
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں رسولؐ اللہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا’’کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے تمہارے متعلق مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ ضرور بتائیں ۔ آپؐ نے فرمایا ’’شرکِ خفی، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح ۔ 5333)
قیامت کی مزید علاماتِ صغریٰ
حدیث شریف میں بیان ہوا ہے :
رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ (دینی) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا ۔ اور (اعلانیہ ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ (صحیح بخاری۔ 80)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
زمانہ باہم قریب ہو جائے گا (وقت بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہو گا)، علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے، دلوں میں بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہو گا۔‘‘
صحابہ کرامؓ نے پوچھا :ہرج کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا ’’قتل و غارت گری۔ ‘‘ ( صحیح بخاری۔ 157)
سات سلطان الفقر ہستیاں :
خاتم النبییٖن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال مبارک سے لے کر قیامت تک سات ہستیاں ایسی ہیں جو سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ اس راز سے سب سے پہلے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے پردہ اٹھایا۔ آپؒ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف رسالہ روحی شریف میں ان ارواح کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ان میں ایک خاتونِ قیامت (فاطمۃ الزہراؓ ) کی روح مبارک ہے۔ ایک حضرت خواجہ حسن بصری ؓ کی روح مبارک ہے ۔ ایک ہمارے شیخ، حقیقتِ حق، نورِ مطلق، مشہود علی الحق حضرت سید محی الدین عبدالقادر جیلانی محبوبِ سبحانیؓ قدس سرہٗ العزیز کی روح مبارک ہے۔ اور ایک سلطانِ انوار سرّ السرمد حضرت پیر عبد الرزاقؒ فرزندِ پیر دستگیر (قدس سرہٗ العزیز) کی روح مبارک ہے۔ ایک ھاھویت کی آنکھوں کا چشمہ سرّ اسرار ذاتِ یاھو، فنا فی ھو فقیر باھو (قدس سرہٗ العزیز) کی روح مبارک ہے اور دو ارواح دیگر اولیا کی ہیں۔ ان ارواحِ مقدسہ کی برکت و رحمت سے ہی دونوں جہان قائم ہیں۔ جب تک یہ دونوں ارواح وحدت کے آشیانہ سے نکل کر عالمِ کثرت میں نہیں آئیں گی قیامت قائم نہیں ہو گی۔ ان کی نظر سراسر نورِ وحدت اور کیمیائے عزت ہے۔ جس طالب پر ان کی نگاہ پڑ جاتی ہے وہ مشاہدۂ حق تعالیٰ ایسے کرنے لگتا ہے گویا اس کا سارا وجود مطلق نور بن گیا ہو۔ انہیں طالبوں کو ظاہری ورد و وظائف اور چلہ کشی کی مشقت میں ڈالنے کی حاجت نہیں ہے۔ (رسالہ روحی شریف )
مندرجہ بالا بیان میں پانچ ارواحِ مقدسہ کا واضح ذکر کیا گیا لیکن دو سلطان الفقر اروواح کے نام صیغہ ٔ راز میں رکھے گئے۔قارئین کو بتاتے چلیں کہ ان دو سلطان الفقر ارواح ( سلطان الفقر ششم اورسلطان الفقر ہفتم ) کا ظہور بھی اس عالمِ ناسوت میں ہو چکا ہے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علیؒ کی روح مبارک عالمِ وحدت سے عالمِ ناسوت میں 14اگست 1947ء کو بشری صورت میں جلوہ افروز ہوئی۔ آپؒ کا وصال مبارک 26 دسمبر 2003ء بمطابق 2 ذیقعد 1424ھ بروز جمعتہ المبارک ہوا۔ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس 19 اگست1959ء کواس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہوئے۔ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے انسانِ کامل، سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل ہیں۔
نوٹ :(قیامت کی علاماتِ صغریٰ کی تعداد جو احادیث کی روشنی میں بیان ہوئی ہیں وہ متعدد ہیں ۔ اس مضمون میں تمام کا ذکر کرنا ممکن نہیں اس لیے چند کاذکر کیا گیاہے۔ )
قیامت کی علاماتِ کبریٰ
1۔حضرت امام مہدی کا ظہور :
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے آخر میں مہدی نکلے گا۔اللہ تعالیٰ ان پر برسات نازل فرمائے گا، زمین اپنی جڑی بوٹیاں اور تمام پودے اُگا دے گی، وہ پاک صاف مال (اللہ کی راہ میں) دے گا۔ مویشیوں کی کثرت ہو گی، امت کی عزت ہو گی اور وہ سات یا آٹھ برس رہے گا۔ (المستدرک حاکم۔ 8673)
اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : جی ہاں ، وہ برحق ہے اور وہ فاطمہ کی اولاد میں سے ہو گا۔ ‘‘ (المستدرک حاکم۔8671)
2۔دجال کا نزول:
حضرت سمرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دجال کا خروج ہونے والا ہے، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اس پر ایک موٹا ناخنہ ہو گا، وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست اور مردوں کو زندہ کر دے گااور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں، جو شخص یہ اقرار کر لے گا تو میرا ربّ ہے وہ فتنہ میں پڑ گیا اور جس نے یہ کہا کہ میرا ربّ اللہ ہے وہ آخر دم تک اسی پر برقرار رہے تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہے گا اور اس کے بعد اسے کسی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا نہ ہی اسے کوئی عذاب ہو گا، اور دجال زمین میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہو گا، پھر مغرب کی جانب سے حضرت عیسیٰ ؑ (کا نزول ہو گا اور وہ) تشریف لائیں گے، وہ نبیؐ کی تصدیق کریں گے اور ان کی ملت پر ہوں گے، وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قریب آجائے گی۔ (مسند احمد۔ 20413)
نبی کریمؐ نے فرمایا ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تقریباًتیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں ۔ ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ (صحیح بخاری ۔ 3609)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے ’’اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری۔1377)
3۔حضرت عیسیٰؑ کا نزول:
حضرت عیسیٰؑ کا زمانہ امن و سلامتی اور خوشحالی کا زمانہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس میں موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا ، زمین اپنے پھلوں اور برکتوں کو باہر نکال دے گی، مال کی بہتات ہو گی، کینہ اور باہمی بغض و حسد اور نفرت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (قیامت کی نشانیاں ، صفحہ 390)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابنِ مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے ۔ وہ صلیب کو تور ڈالیں گے ، سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے ۔ اس وقت مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا۔ (صحیح بخاری۔ 2222)
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر (قائم رہتے ہوئے ) لڑتا رہے گا، وہ قیامت کے دن تک ( جس بھی معرکے میں ہوں گے) غالب رہیں گے، کہا: پھر عیسیٰ ابنِ مریم اتریں گے تواس طائفہ (گروہ) کا امیرکہے گا: آئیں ہمیں نماز پڑھائیں ، اس پر عیسیٰؑ جواب دیں گے: نہیں ، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو ۔ (صحیح مسلم۔ 395)
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے :
وَ اِنَّہٗ لَعِلمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوْنِ ط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ ( سورۃ الزخرف۔61)
ترجمہ:اور بیشک وہ (عیسٰی علیہ السلام جب آسمان سے نزول کریں گے تو قربِ) قیامت کی علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا، یہ صراطِ مستقیم ہے۔
4۔یاجوج ماجوج کا خروج:
قرآنِ کریم میں حضرت ذوالقرنین کے قصے میں ان کا ذکر آتا ہے ، جنہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار (سد) بنا دی تھی تاکہ یاجوج ماجوج لوگوں پر حملہ نہ کرسکیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے:
قَالُوْا یٰذَاالْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَہَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَہُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَا مَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ رَدْمًا۔ (سورۃ الکہف ۔94-95)
ترجمہ: انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج نے زمین میں فساد بپا کر رکھا ہے تو کیا ہم آپ کے لئے اس (شرط) پر کچھ مالِ (خراج) مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار بنا دیں۔(ذوالقرنین نے) کہا: مجھے میرے ربّ نے اس بارے میں جو اختیار دیا ہے (وہ) بہتر ہے، تم اپنے زورِ بازو (یعنی محنت و مشقت) سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔
یاجوج ماجوج کا خروج قربِ قیامت کی علامت میں سے ہے ۔
ارشاد ہوا ہے:
حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ۔ (سورۃ الانبیا۔ -97 96)
ترجمہ:یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے اتر آئیں گے۔اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے:) ہائے ہماری شومئی قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسولؐ اللہ نے فرمایا:
یاجوج ماجوج روزانہ (دیوار) کھودتے ہیں حتیٰ کہ جب (اتنی کم موٹی رہ جاتی ہے کہ)انہیں سورج کی روشنی (اس کے آر پار) نظر آنے کے قریب ہوتی ہے تو ان کا افسر کہتا ہے: واپس چلو، اس (باقی دیوار) کو ہم کل کھود ڈالیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے پھر پہلے سے بھی انتہائی سخت کر دیتا ہے ۔ جب ان کا مقرر وقت آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی منشا ہو گی کہ انہیں لوگوں تک پہنچنے دے تو وہ کھودیں گے ، جب وہ سورج کی روشنی دیکھنے کے قریب ہوں گے تو ان کا افسر کہے گا :چلو ، اس کو ہم کل کھود لیں گے ان شاء اللہ ۔ وہ اللہ کی مرضی کا ذکر کریں گے تو (اس کی یہ برکت ہو گی کہ )جب (صبح کو ) واپس آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے جیسی چھوڑ کر گئے تھے ۔ وہ اسے کھود کر لوگوں کے سامنے نکل آئیں گے ، پانی پی کر ختم کر دیں۔ لوگ ان سے بچاؤ کے لیے قلعہ بند ہو جائیں گے ۔ تب وہ کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو زیر کر لیا اور آسمان والوں پر غالب آگئے۔ تب اللہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا جن سے وہ ہلاک ہو جائیںگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور ان پر چربی چڑھ جائے گی۔ ( ابنِ ماجہ۔ 4080)
یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت سے پہلے ایک بہت بڑا فتنہ اورآزمائش ہو گا، جس سے مومنین کو بچانے کے لیے حضرت عیسیٰؑ کوہِ طور پر پناہ لیں گے اور ان کی ہلاکت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک کیڑے کے ذریعے ہو گی۔
صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں اس کا ذکر ہے:
اللہ کے نبی حضرت عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی گڑ گڑا کر دعائیں کریں گے تواللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج ) پر ان کی گردنوں میں کیڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح (یکبارگی) اس کا شکار ہو جائیں گے ، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی اتر کر ( میدانی) زمین پر آئیں گے تو انہیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی جو ان کی گندگی اور بدبو سے بھری ہوئی نہ ہو۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کے جیسی لمبی گردنوں کی طرح پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا،جا پھینکیں گے ۔ ( صحیح مسلم ۔ 7373)
5۔قیامت بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی:
صحیح مسلم کی طویل حدیث کا تسلسل ہے :اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا، وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ گدھوں کی طرح (بر سر عام) آپس میں اختلاط کریں گے تو انہی پر قیامت قائم ہو گی۔( صحیح مسلم ۔ 7373)
حضرت عقبہؓ نے فرمایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے ’’میری امت کے ایک گروہ کے لوگ مسلسل اللہ کے حکم پر لڑتے رہیں گے اور ان کی مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔‘‘ حضرت عبد اللہؓ نے کہا: بالکل صحیح، پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو کستوری کی خوشبو کی طرح (خوشبودار) اور لمس ریشم کی طرح ہو گا ، وہ کسی بھی ایسے انسان کو ، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، نہیں چھوڑے گی، اس (کی روح) کو قبض کر لے گی ، پھر بدترین لوگ رہ جائیں گے اور انہی پر قیامت قائم ہو گی۔ (صحیح مسلم ۔4957)
6۔قیامت کن لوگوں پر قائم ہو گی؟
(قیامت کے قریب ) اللہ تعالیٰ تیس سال تک عورتوں کے رحم بند کر دے گا۔ کوئی عورت بچہ نہیں جنے گی اور زمین پر کوئی بچہ نہیں ہو گا۔ یہ سب حرامی لوگ ہوں گے ، سب شریر ترین لوگ ہوں گے ۔ انہی لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔(المستدرک،8590)
7۔قیامت کی دس بڑی نشانیاں :
قیامت کی دس بڑی علامات کا ذکر صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے جسے حذیفہ بن اسید غفاری ؓ نے روایت کیا ہے ۔
حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ہم بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپؐ نے ان کا ذکر کیا:دخان (دھواں)، دجال، دابۃُالارض (زمین کا جانور)، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، نزولِ عیسیٰؑ ابنِ مریم، یاجوج ماجوج، مشرق میں زمین کا دھنسنا، مغرب میں زمین کا دھنسنا، جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا، یمن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو میدانِ حشر کی طرف ہانکے گی۔ (صحیح مسلم ۔7285)
حاصلِ کلام:
قیامت کا دن اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا اٹل وعدہ اور حتمی فیصلہ ہے جس کی تصدیق یہ تمام نشانیاں کر رہی ہیں۔ وہ چھوٹی نشانیاں جو ہمارے اردگرد کا فی حد تک پوری ہو چکی ہیں اور وہ بڑی نشانیاں جو وقت کے پردے کے پیچھے منتظر ہیں ۔ قیامت کی تمام چھوٹی اور بڑی نشانیاں ایک واضح دعوت ہے کہ یہ دنیا کی رنگینی اور فانی زندگی ایک مقررہ انجام کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ دنیاوی خواہشات میں غرق ہو کر ہم اکثر اس آخری حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں ۔ قیامت کی جو اوّلین نشانی ہے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت و وصال ہے۔ اس نشانی کو پورا ہوئے پندرہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ اس دورانیہ میں قیامت کی بیشتر چھوٹی علامات ظاہر ہو چکی ہیں۔ جبکہ بڑی علامات ظاہر ہونی ہیں جس میں مسلمانوں کا عروج و زوال شامل ہے۔ جیسا کہ احادیث کی روشنی میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مسلمانوں نے عظیم عروج اور ترقی حاصل کرنی ہے اوراس کے بعد زوال کا دور شروع ہو گا۔ زوال کے دور میں دنیا پستی و گمراہی کی تصویر پیش کر رہی ہو گی کیونکہ دنیا میں کوئی مسلمان اور مومن موجود نہیں ہو گااور قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی ۔اگر ہم تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو کسی بھی قوم نے ترقی اور عروج و زوال کا سفر یک دم طے نہیں کیا بلکہ یہ صدیوں اور سالوں کا سفر ہے ۔ مسلمانوں کا عروج و زوال دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب ہو گا ، تاریخ کے صفحوں پر یہ عروج و زوال کی د استان کب اور کس وقت ظاہر ہو گی اورمکمل ہو گی اور دنیا کب اپنے آخری اختتام کو پہنچے گی اس کا حتمی علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ لیکن ایک قیامت ایسی ہے جو ہرانسان پرکسی بھی لمحہ ظاہرہو سکتی ہے وہ انسان کی اپنی ’’موت‘‘ہے ۔ اس قیامت کا مزہ ہر انسان نے چکھنا ہے اس لیے ضروری ہے کہ زادِ راہ تیار کیا جائے۔ ہر انسان نے اپنی زندگی میں ہی فتنہ دجال کا بھی سامنا کرنا ہے۔ دجال کا ظہور صرف قربِ قیامت کی نشانی ہی نہیں بلکہ باطنی جہاد کی طرف اشارہ ہے جس میں کامیاب ہونے والاہی حقیقی مومن کہلائے گا۔ فتنہ دجال سے مراد خدائی دعویٰ ہے۔ قارئین کرام!خواہشاتِ نفسانی کی پیروی بھی فتنہ دجال ہی ہے ۔ اگرکوئی دنیاوی مال سے اس قدر محبت رکھے کہ اسی کو اپنا خدا بنا لے تو یہ شرکِ خفی ہے اگرکوئی اپنی اولاد سے اس قدر محبت کرے کہ اس کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ کی محبت اور واحدانیت کو فراموش کر دے تو کیا یہ فتنہ دجال نہیں ؟؟ اللہ پاک نے اس فتنہ کے متعلق قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے :
اَفَرَئَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھَوٰہُ ( سورۃ الجاثیہ ۔ 23)
ترجمہ:کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ۔
خاتم النبییٖن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد امتِ مسلمہ کو اس فتنہ سے بچانے اور اصلاح و تربیت کے لیے اللہ نے ’’ولایت‘‘ کے سلسلہ کا اہتمام فرمایا ہے۔ اولیا کاملین تزکیۂ نفس کے ذریعہ امتِ مسلمہ کو اس فتنہ سے محفوظ فرماتے ہیں اور صراطِ مستقیم دکھاتے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ فریضۂ حق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نائب، مرتبہ انسانِ کامل سے سر فراز، امام سلسلہ سروری قادری، سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس سر انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے قیامت ( موت) اپنی آغوش میں لے جائے ہر مومن و مسلمان کو آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنا تزکیۂ نفس کروانا چاہیے ۔ حق کا دروازہ کھلا ہے، امان کا راستہ آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت کر کے حاصل ہو سکتا ہے۔
استفادہ کتب:
قیامت اور اس کی علامات : مؤلف مولانا امان احمد قاسمی
قیامت کی نشانیاں : مؤلف شیخ یوسف بن عبد اللہ الوابل ۔ مترجم: مولانا محمد مقیم فیضی
Interesting blog
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت مضمون ھے
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں رسولؐ اللہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا’’کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے تمہارے متعلق مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ ضرور بتائیں ۔ آپؐ نے فرمایا ’’شرکِ خفی، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح ۔ 5333) ❤️🌹
Inspirational article 👍👍👍
قیامت سے پہلے اللہ کے حضور پیش ہونے کی تیاری کر لینی چاہیے
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا :آخری زمانے میں جاہل عبادت گزار اور فاسق قاری ہوں گے ۔ ( مستدرک۔ 7883)
ایک قیامت ایسی ہے جو ہرانسان پرکسی بھی لمحہ ظاہرہو سکتی ہے وہ انسان کی اپنی ’’موت‘‘ہے ۔ اس قیامت کا مزہ ہر انسان نے چکھنا ہے اس لیے ضروری ہے کہ زادِ راہ تیار کیا جائے۔
بہت خوب
ترجمہ: نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے۔
اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(سورۃ غافر۔ 59)
ترجمہ:بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے۔
Behtreen article
Informative article
یومِ حساب یا روزِ جزا (قیامت) کی یہی یقین دہانی مسلمانوں کو اس دنیا میں اخلاقی اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے