بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر : 14 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
جولائی 2020
کیا توکل میں جدو جہد ہوتی ہے؟
کسی نے سوال پوچھا ’’کیا توکل میں جدوجہد نہیں ہوتی یا توکل میں جدوجہد کو چھوڑ دیا جاتا ہے؟‘‘
فرمایا: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک قول نقل کیا ہے کہ فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے۔ یہ سوال میری اس بات سے لیا گیا کہ میں نے کہا ’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کوجب نبوت ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا کا کام چھوڑ دیا۔ جب فقیر کو مسندِتلقین و ارشاد ملتی ہے تو وہ دنیا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
ایک تو یہ بات یاد رکھیں کہ دنیا کا کام کرتے ہوئے اللہ کی طرف دھیان رہنا چاہیے، دوسرا آپ غور کریں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کا کام چھوڑ دیا توکیا ان کی زندگی میں جدوجہد نہیں تھی! ان کی دنیا سے سو گنا زیادہ جدوجہد دین کے کاموں میں تھی۔ جب مرشد تلقین و ارشادکی مسند پر بیٹھتا ہے تو وہ دین کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس کا ایک ایک لمحہ جدوجہد میں ہوتا ہے، ایک ایک لمحہ کام میں صرف ہوتا ہے۔ مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ دین کے نام پر جا کر سکون سے گھر بیٹھ گئے اور توکل کر لیا کہ اللہ روزی بھیج رہا ہے۔ نہیں نہیں!دین میں تو سو گنا زیادہ جدوجہد ہوتی ہے، ایک ایک پل بوجھ اُٹھانا پڑتاہے۔ اور پھر دنیا میں تو رشتہ داریاں نبھائی جا سکتی ہیں منافقت سے لیکن دین میں تو نہیں ہو سکتا۔
جدوجہد تو زندگی کا حصہ ہے۔ جب آپ ظاہری زندگی میں جدوجہد کرتے ہیں لیکن (اللہ کے سوا) کسی پہ بھروسہ کر لیتے ہیں، اپنی محنت پر، اپنے جسم پر، یہ غلط ہے۔لیکن جدوجہد تو کرنی پڑتی ہے۔
تو سوال یہ کیا گیا تھا کہ جب وہ (مرشد) کمانا چھوڑ دیتے ہیں تو ان کو پھر بھی اللہ رزق بھیجتا ہے۔ تو بھائی وہ جدوجہد دین کے لیے کر رہے ہوتے ہیں، ان کی ساری توجہ دین کے کام میں صرف ہو رہی ہوتی ہے، نہ دن کو سکون ہوتاہے نہ رات کو سکون ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبح سے لے کر شام تک اور پورے 23 سال کام کیا ہے۔ کوئی لمحہ ایسا بتا دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فارغ گزرا ہو۔ ۔۔ اِسی طرح تلقین و ارشاد میں مرشد کا حال ہوتاہے۔میں سروری قادری مرشد کی بات کر رہا ہوں ،اس کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔
حضورِ قلب
’’حضور‘‘ کے معنی حاضر ہونے کے ہیں اور ’’حضوری‘‘ اللہ کے سامنے حاضر ہونا اور ’’قلب‘‘ یعنی اندر سے۔ باطن کا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا یہ ’’حضورِ قلب‘‘کہلاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان رہنا یہ حضور ِقلب کہلاتا ہے یعنی ہر وقت اس کے بارے میں سوچتے رہنا یہ حضورِ قلب کہلاتا ہے۔ جہاں تک قرآن پاک کی بات ہے سورۃ المومنون کی آیت نمبر ایک اور دو میں ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ ۔ (سورۃ المومنون ۔2,1)
ترجمہ: فلاح پا گئے وہ مومنین جو اپنی نماز خشوع یعنی حضورِ قلب سے ادا کرتے ہیں۔
مومن کا لفظ استعمال ہوا ہے ،مسلمان کا نہیں ہوا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
دل کی حضوری کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
یعنی حضورِقلب کے بغیر یا اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
نماز مومنین کی معراج ہے۔
یعنی جیسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج کر کے آئے تھے تو مومنوں کی معراج نماز ہے۔ معراج والی نماز مومن کی ہے مسلمان کی نہیں ہے۔ اب مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟ اس کو بھی ہم قرآن سے دیکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے یعنی مالِ غنیمت بانٹ رہے تھے کہ کچھ اعرابی لوگ یعنی دیہاتی لوگ آئے جو ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا ’’آقا! ہم بھی مومن ہیں اس لیے ہم پر بھی عنایت فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوسرے مومنین پر فرما رہے ہیں۔‘‘
ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر حاضر ہوئے:
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُم ط (سورۃالحجرات ۔14)
ترجمہ: یہ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان والے ہیں (یعنی مومن ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے فرما دیں تم ایمان والے نہیں ہو (یعنی تم مومن نہیں ہو، تم نے ابھی زبانی کلمہ پڑھا ہے، اقرار باللسان کیا ہے) بلکہ یہ کہو کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں، ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔
یعنی کہ تم ابھی صرف مسلمان ہو مومن نہیں بنے ہو، ابھی تم اقرار باللسان پہ ہو، ابھی تصدیق بالقلب کے مرتبہ پر نہیں پہنچے۔ مومن اور مسلمان کا یہ فرق سورۃ الحجرات میں ہے۔ اللہ پاک نے اسی وقت بیان کر دیا تھا۔ اقبالؒ نے کہا ہے:
بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو توُ تو بے حضور نہیں
حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
باجھ حضوری نہیں منظوری، توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھوُ
روزے نفل نماز گزارن، توڑے جاگن ساریاں راتاں ھوُ
باجھوں قلب حضور نہ ہووے، توڑے کڈھن سے زکاتاں ھوُ
باجھ فنا ربّ حاصل ناہیں باھوؒ، ناں تاثیر جماعتاں ھوُ
دیکھ لیں وہ کہہ رہے ہیں نہ زکوٰۃ کا کوئی فائدہ ہے حضوری کے بغیر، نہ روزے کا نہ نماز کا نہ حج کا۔ کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اب ایسے امام کو ہم کہاں تلاش کریں جو ہمیں حضوری سکھا سکے۔ اقبالؒ کہتے ہیں:
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
تو نے مجھ سے امامت یعنی امام کی حقیقت پوچھی ہے ،اللہ پاک تجھے میری طرح اپنے رازوں سے آگاہ کرے۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
جس زمانے میں تو ہے اس زمانے میں حق کا امام وہی ہے جو تجھے اردگرد سے بیزار کر دے۔ اس سے تجھے نفرت دلا دے، تیرا دل اس سے اُکتا جائے۔
یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ کیا تھا، اقبالؒ اسی کو بیان کر رہے ہیں۔ پھر کہتے ہیں:
موت کے آئینے میں دکھا کر تجھے رخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
’’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘ کے مرتبے پر پہنچا کر، یار کا چہرہ دکھائے کہ تجھے مرنا آسان لگتا ہو زندگی تیرے لیے دشوار ہو جائے۔
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
تجھے زیاں کا احساس دے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے، میں نے کچھ نہیں کیا۔ مومن تو بیچارہ مسکین سا عاجز سا ہوتا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں، اور کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں نے کیا کام کیا کچھ بھی نہیں کیا، میں تو ایسے ہی زندگی گزار رہا ہوں، کچھ نہیں کر رہا ہوں۔ ’’سان‘‘ کہتے ہیں چھری کو تیز کرنے والا جو آلہ ہوتا ہے۔جب چھری کو سان پہ تیز کیا جاتا ہے تو آپ کو پتہ ہے شعلے نکلتے ہیں۔ فقر کی سان پہ رکھ کر تجھے تلوار کی مانند بنا دے۔
تو یہ (گفتگو) تو امام اور حضور ِقلب کے بارے میں تھی۔یہ آپ کو اچھی طرح سمجھ آگیا ہوگا۔ پھر میں آپ کو آسان الفاظ میں بیان کر دیتا ہوں۔ قلب کہہ لیں، باطن کہہ لیں، اندر کہہ لیں۔ اندر سے ہر وقت اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر رہنے کو، اللہ پاک کے بارے میں سوچنے کو، اللہ کی طرف دھیان رہنے کو ’’حضورِ قلب‘‘کہتے ہیں اور جو ہر وقت باطن میں اللہ پاک کو دیکھتے ہیں وہ اعلیٰ ترین درجے کا حضورِ قلب ہے۔
آخر میں میں دو چار باتیں کر دیتا ہوں اس سے آپ اگر سمجھ جائیں غور و فکر کر کے۔ صرف سنیں نہ، غور و فکر کر کے سمجھ جائیں تو بڑی مہربانی آپ کی۔ اقبالؒ حضورِ قلب کے بارے میں نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فقر میں تو ہر وقت حضورِ قلب ہوتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
شوق ترا گر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
یعنی اگر نماز میں تجھے دیکھنا ہی نہ ہو تو میرا کھڑا ہونا یعنی قیام کرنا وہ بھی اندھا پن ہے اور سجدے کرنا بھی اندھا پن ہے۔
اقبالؒ کا ایک اورشعر ہے:
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں
اے اللہ پاک کی ذات! میں تیرا انتظار کر رہا ہوں۔ تو لباسِ مجاز میں کبھی نظر آ۔ ــ’’ لباسِ مجاز‘‘ وہ ہوتا ہے جو نظر آتا ہو جیسے آپ نظر آتے ہیں، کوئی بھی انسان نظر آتا ہے، اس کو کہتے ہیں لباسِ مجاز۔ انسان کو بھی لباسِ مجاز ملا ہوا ہے، یہ گوشت کا جو جسم ہے اصل تو اس کا اندر ہے ناں روح ہے جو۔تو اگر سامنے نظر آجائے میری تو پیشانی میں ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیرے قدموں میں رکھوں اور اٹھاؤں نہ۔ ٹھیک ہے!
وحدت الوجود اور وحدت الشہود
یہ تو تھی بات حضورِ قلب کی۔ اب میں بات کرتا ہوں حضرت شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی ؒجنہیں دوسری صدی کا مجدد تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وحدت الوجود کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور اس کے مقابلے میں وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا۔ وحدت الشہود یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کا ظل ہے، سایہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے نور سے ہیں اس کے وجود کا حصہ ہیں یہ وحدت الوجود ہے۔ انہوں نے وحدت الوجود کی سختی سے مخالفت کی لیکن ’’ابنِ عربی‘‘ کی کبھی مخالفت نہیں کی جبکہ وحدت الوجود کے سب سے بڑے امام تو وہی تھے، جنہوں نے تحریری طور پر سب کچھ بیان کیا۔ تو انہوں (حضرت مجدد الف ثانیؒ) نے وحدت الوجود کی مخالفت کی۔ آپ کی ذات اہلِ شریعت کے فرقوں میں بھی متفق علیہ ہے اور جو جدید دینی عالم ہیں، ماڈرن دینی عالم جنہوں نے دنیا کا علم بھی حاصل کیا اور دین کا بھی علم حاصل کیا ان میں بھی آپ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اقبالؒ نے آپ پر ایک نظم بھی لکھی ہے بانگِ درا میں، اور سلاسل میں بھی آپ کو تسلیم کیا جاتاہے۔ آپ کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ برصغیر سے باہر جو نقشبندی ہیں وہ وحدت الوجود کو مانتے ہیں اور بر صغیر کے اندر جو ہیں وہ وحدت الشہود کو مانتے ہیں اور وحدت الشہود کو آپ نے وحدت الوجود کے مقابلے میں کھڑا کیا۔ اس پہ میری ایک طویل بحث ہے توحید کے باب میں (کتاب) شمس الفقرا میں۔ اور ثابت کیاکہ اصل توحید وحدت الوجود ہے۔ ان کے نزدیک توحید وحدت الشہود تھی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ اپنے مریدین کو خط میں جواب دیا کرتے تھے۔ خط کے ذریعے لوگ سوال پوچھا کرتے تھے اور خط کے ذریعے جواب جایا کرتے تھے۔ اس وقت واٹس ایپ نہیں ہوتا تھا نا اور نہ ہی فون ہوتا تھا تو خط کے ذریعے جواب دیا جاتا تھا۔ آپ کے مکتوبات چھپے ہوئے ہیں پرنٹڈ ہیں اور بازار میں ملتے ہیں۔ مکتوب نمبر 30، دفتر دوم، حصہ اوّل، صفحہ نمبر 101 میں ان کے مرید نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کو خط لکھا کہ ’’اس کا تصورِ شیخ یعنی مرشد کا تصور اس حد تک غالب آ چکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے‘‘ یعنی جب نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے شیخ یعنی مرشد کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ اگر فرضاً نفی کرے تو حقیقت میں نفی نہیں ہوتی یعنی کہ میں گردن جھٹک کر یا ذہن جھٹک کر اسے سامنے سے ہٹانے کی کوشش کروں تو وہ میری نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا تو میں کیا کروں۔
اب مرید پریشان ہے کہ میں سجدہ کر رہا ہوں شیخ کے سامنے، میں قیام کررہا ہوں شیخ کے سامنے۔ تو یہ سب کیا ہے؟ تو آپ پھر جواب دیتے ہیں، یہ کسی عام بندے کا مکتوب نہیں ہے یاخط نہیں ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب لکھا۔ یہ اس ہستی کا خط ہے جس کو شریعت کا منبع سمجھا جاتا ہے برصغیر میں۔ وہ جواب دیتے ہیں’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحبِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتاہے۔احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے۔‘‘
یعنی جس میں یہ آ جاتی ہے اور شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے اس کے تمام کمالات کو جذب کر لیتا ہے اور جلدی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایساطالبِ حق ہزاروں میں سے ایک آدھا ہوتا ہے۔ آپ پھر آگے کیا فرماتے ہیں غور سے سنیے گا:
’’تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (یعنی شیخ یا مرشد) مسجود علیہ ہے مسجود لہٗ نہیں(یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے) ۔محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں خرابی واقع نہیں ہوتی)۔‘‘
یعنی تمہیں تصور ِشیخ سے کیا ہو گیا ہے؟ نماز پڑھتے ہوئے آگے دیوار ہوتی ہے، صف ہوتی ہے، آگے بندے کھڑے ہوتے ہیں، ان کے پیروں میں سجدہ کرتے ہو ان سب چیزوں کی نفی کیوں نہیں کرتے؟ اس کی نفی کیوں کر رہے ہو؟ پھر فرماتے ہیں: ’’اس قسم کا ظہور تو سعادت مندوں کو میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو اپنا وسیلہ (وسیلہ سے مراد ہے اللہ تک پہنچنے اور پہچاننے کا وسیلہ) جانے اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہے (یعنی 24 گھنٹے اپنا دھیان اور اپنے خیالات اندر سے مرشد کی طرف متوجہ رہیں) نہ کہ اس بدنصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلہ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔
میں نے پہلے کہا تھا یہ مکتوب نمبر 30 ہے، دفتر دوم ہے اور حصہ اوّل ہے۔ صفحہ نمبر 101 ہے۔ مکتوب نمبر ایک ہی ہوتا ہے۔ ہر کتاب میں 30مکتوب کو ڈھونڈ لیں۔ کتابیں چھاپتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ جلدیں زیادہ کر دیں لیکن مکتوب کا نمبر ایک ہی ہوتا ہے وہ 30 ہی ہوگا۔ آپ مزید اپنے مکتوب نمبر 187 میں فرماتے ہیں:
’’شیخ کا تصور ذکرِالٰہی سے زیادہ منافع بخش اور بہتر ہے۔‘‘
یہ میں نے ان کی بات کی ہے جو اہلِ شریعت میں سب فرقوں میں یکساں مانے جاتے ہیں اور جدید علما بھی ان کو مانتے ہیں۔ اقبالؒ نے ان کے حق میں لکھا ہے۔ ان کی قبر پر حاضر ہو کر انہوں نے ایک نظم بھی لکھی ہے اور یہ اہل ِسلاسل میں بھی مانے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مخالفت نہیں ہے۔ انہوں نے صرف وحدت الوجود کی مخالفت کی ہے کیونکہ اصل میں ایک فتنہ پیدا ہو گیا تھا۔ ہندوؤں میں فنا نہیں ہے حلول ہے اور حلول توحید میں حرام ہے۔ اس فتنے میں اورنگزیب عالمگیر کا بڑا بھائی جس کا نام دارا شکوہ تھا، اس گروہ کا سرپرست تھا۔ تو اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے اور شریعت کو قائم رکھنے کے لیے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا اور اس پہ میں نے تفصیل سے بحث کی ہوئی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حضرت شیخ اکبر ابنِ عربی کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کی عظمت کے ہمیشہ قائل رہے۔ آپ کا قول ہے:
ہم تو ان کے دسترخوان کے جوٹھے ٹکڑے کھانے والے ہیں۔
اب آپ پر ہے کہ اس کو حضور ِقلب سے کیسے ملاتے ہیں۔ آپ سوچیں اور غور و فکر کریں۔
(جاری ہے)