راہِ فقر میں مرشد پر یقین
Raah-e-Faqr mein Murshid par yaqeen
حصہ اوّل تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
جس طرح ایک انسان تب تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایمان باللہ، ایمان بالرسل، آسمانی کتب، ملائکہ، آخرت اور تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ اِسی طرح اگر مرشد پر ہی یقینِ کامل حاصل نہ ہو تو وہ طالب ہی نہیں۔ جیسے کوئی انسان نماز پڑھے، حج ادا کرے لیکن اللہ پر یقین نہ ہو، رسولؐ پر ایمان نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں۔ اِسی طرح اگر مرشدپریقین نہیں تو بیشک لاکھ جتن کر لے، راہ چلنا تو دور کی بات وہ طالب ہی نہیں۔ کسی نے سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے دریافت کیا کہ مرشد پر یقین مشکل کیوں ہے؟ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:
دراصل مرشد طالب کی اپنی ہی طرح نظر آتا ہے، اس لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں کے لیے یقین کرنااس لیے مشکل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُنہی میںسے تھے اور اُنہی جیسے تھے۔
طالب مرشد کے احوال اور مراتب کو اپنے احوال اور مراتب سے جانچنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ مرشد کی شان سے حجاب میں رہتا ہے۔
ایک اور موقع پر سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الاقدس سے پوچھا گیا کہ کئی مرتبہ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ مرشد طالب کو اپنے آپ یقین کروا دیتا ہے اور طالب کبھی اس میں کمزوری دکھا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا:
اسکی وجہ یہ نفس ہے کیونکہ یہ درمیان میں حائل ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:
جب تک اس راہ میں مشاہدہ نہ ہو چلنا نہیں چاہیے لیکن جب مشاہدہ ہو جائے تو پھر طالب کے لیے ضروری ہے کہ چلے۔
اگر طالب مرشد پر یقین نہ کرے تو اس کا نتیجہ مرشد سے جدائی ہے۔ سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اگر طالب مرشد پراعتراض کرے تو اس کو مرشد اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے سے دور کر دیاتھا۔
ایک طالب کا نور مرشد کے نور سے ہوتا ہے، اس لیے اگر مرشد پر ہی یقین نہ ہو تو سارا سفر رک جاتا ہے۔ یہ راہ یقین کی راہ ہے۔ اگر یقین ہی نہیں تو کیسا سفر؟ اب مرشد کی تلاش کا حکم اللہ نے قرآن میں فرمایا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنْوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (سورۃ المائدہ۔ 35)
ترجمہ:اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تا کہ تم فلاح پا سکو۔
اب اگر وسیلہ پر ہی یقین نہ ہو تو لاکھ اس راہ کے لوازمات پورے کر لیے جائیں، اس راہ میں ہر طرح کا جہاد کر لیا جائے وہ سب بے فائدہ ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ۔ (سورۃالحجر۔99)
ترجمہ: اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہو حتیٰ کہ آپ کو یقینِ کامل حاصل ہو جائے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
اصل یقین است گر شود
کارِ توُ از ہفت فلک بہ گزرد
ترجمہ: اصلی سرمایہ یقین ہے اگر یہ تجھے حاصل ہو جائے تو توُ ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل جائے۔ (کلید التوحید کلاں)
حضرت شاہ محمد ذوقیؒ نے ارشاد فرمایا:
ایک روز حضرت خواجہ نظام الدین اولیا اپنے مریدوں کے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں لڑکے کھیل رہے تھے۔ جب حضرت نے ان کو دیکھا تو آپ پر ایک حالت طاری ہوگئی اور وہیں ٹھہر گئے۔ آپ کے ٹھہر جانے پر تمام مجمع وہیں رُک گیا۔ یہ دیکھ کر کھیلتے لڑکے (کھیل چھوڑ کر) منتشر ہونے کو تھے کہ حضرت امیر خسروؒ نے اپنی دستار مبارک اُتار کر لڑکوں کے سامنے پھینک دی اور ہاتھوں اور پاؤں سے چلنے لگے اور لڑکوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ہوگئے۔ اس سے لڑکے منتشر ہونے سے رُک گئے اور پہلے کی طرح کھیلتے رہے۔ جب حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی وہ کیفیت جاتی رہی تو حضرت امیر خسروؒ نے اپنی دستار اٹھائی اور اپنے شیخ کے ساتھ چلنے لگے۔ یہ حکایت بیان فرماکر حضرت شاہ محمد ذوقیؒ نے فرمایا کہ یہ پگڑی پھینک دینا اور بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک ولی اللہ کے شایانِ شان نہ تھا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لڑکوں کے منتشر ہونے سے شیخ کے حال میں فرق آئے گا، جس سے ان کو بھی تکلیف ہوگی اور مریدوں پر بھی اسکا اثر پڑے گاتو آپ نے یہ حرکت کی جس سے لڑکے کھیل میں مشغول رہے اور شیخ کے حال میں فرق نہ آیا۔
اس کے بعد فرمایا کہ اولیا کرام کی حرکات کو دیکھ کر بسااوقات اعتراض نہیں کرنا چاہیے ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ بعض اوقات ان حضرات کو بہت ذلیل کام کرنا پڑتے ہیں مثلاً جب ان کو کثرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص طوائف کے پاس مست بیٹھا ہے، تو وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر اس کا کانٹا بدل دیا جائے تو اس کا کام بن جائے گا۔چنانچہ وہ وہاں چلے جاتے ہیں اور اپنا کام کر کے واپس آجاتے ہیں۔ اب ان کا طوائف کے پاس جانا ایک فعل مستحسن ہے۔
پھر فرمایا کہ اولیا کرام کے ظاہری افعال پر اعتراص نہیں کرنا چاہیے۔ فرمایا: حضرت قطب صاحبؒ کے وصال کے بعد جب حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ مسندِخلافت پر متمکن ہوئے توسلطان غیاث الدین بلبن نے آپ کو دعوت دی۔ جب آپ محل کے اندر داخل ہوئے اور ایک طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو بادشاہ کی لڑکی نظر آئی۔ اسے دیکھ کر آپؒ نے نگاہ نیچی کرلی۔ اس کے بعد دوبارہ لڑکی کی طرف دیکھا اور پھر نظر نیچی کرلی۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد آپ اپنے مکان پر واپس چلے گئے۔ اب بادشاہ کو خیال ہوا کہ حضرت نے دو دفعہ میری لڑکی کی طرف دیکھا، ممکن ہے پسند آگئی ہو۔ وزیرکے ذریعہ پیغام بھیجا ’’اگر میری لڑکی آپ کو پسند ہو تو میں اُسے آپ کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کرتا ہوں۔‘‘
حضرت بابا صاحب نے بادشاہ کی درخواست کو منظور کر لیااور شادی ہوگئی۔ وزیر کے دل میں خطرہ آیاکہ یہ کیسے بزرگ ہیں کہ غیر محرم عورت کو دو دفعہ خلافِ شرع دیکھا اور جب بادشاہ نے دعوتِ نکاح دی تو فوراً قبول کر لی۔ حضرت بابا صاحب نے اس سے کہا ’’اے وزیر! جب میں بادشاہ کے محل میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فرید! اِدھر دیکھو۔میں نے دیکھا ایک حسین لڑکی کھڑی تھی۔ دیکھ کر میں نے نگاہ نیچی کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا:کیسی ہے؟
میں نے عرض کیا:یا اللہ! تیری مخلوق ہے، نہایت خوبصورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:کیا اس کے ساتھ شادی کروگے؟
میں نے عرض کیا:یا باری تعالیٰ! ایک بار دیکھاہے۔ اگر اجازت ہو تو ایک دفعہ اور دیکھ لوں۔
فرمایا:دیکھ لو!
میں نے دوبارہ دیکھ کر عرض کیا: مجھے پسند ہے!
یہ سن کر وزیر کے دل سے شبہ دور ہوا اور سارا ماجرا بادشاہ کو سنایا۔ بادشاہ سن کر بہت خوش ہوا اور شکر بجا لایا کہ میری لڑکی کو حق تعالیٰ نے حضرت بابا صاحب کے لیے پسند فرمایا۔ (تربیت العشاق)
اگر مرشد سے کوئی ایساکام سرزد ہو یا ایسی بات ان کی زبان مبارک سے نکلے جو آپ کو یقین ہو کہ غیر شرعی ہے تو اس پر بھی ہرگز اعتراض نہ کریں۔ حضرت بایزید بسطامیؒ سے پوچھا گیا کہ عارف باللہ سے بھی صدور عصیان ہوتا ہے؟
فرمایا: ہاں ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا (سورۃالاحزاب۔38)
ترجمہ: اور اللہ کاحکم فیصلہ ہے جو پورا ہو چکا۔
یعنی اس پر حق پہلے ہی مقدر ہو چکا جس کا وقوع ضروری ہے۔ (تفسیر روح البیان)
ملفوظاتِ مہریہ میں ہے کہ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ اپنے آپ کو ابنِ عربیؒ کی صحبت سے منع کر رہے تھے۔ بظاہر یہ عمل غلط لگ رہا تھا لیکن جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: آپؒ کا کلام نہایت بلند و عمیق ہے، ہر شخص میں اس کے سمجھنے کی قابلیت نہیں ہوتی، اس لیے منع کرتا ہوں کہ بھٹک نہ جائیں۔
انسان جب مرشدپر یقین کرتا ہے تو بعض اوقات لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔ جیسے جب حضرت نوحؑ کو اللہ نے کشتی بنانے کا حکم دیا تو لوگ مذاق اڑانے لگے کہ کشتی کی کیا ضروت، کوئی ایسا طوفان نہیں آئے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:
وَ یَصْنَعُ الْفُلْکَ قف وَ کُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِہٖ سَخِرُوْا مِنْہُ (سورۃ ھود۔38)
ترجمہ: اور نوح (علیہ السلام) کشتی بناتے رہے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے ان کا مذاق اڑاتے۔
راہِ فقر پر انسان جو قربانیاں دیتا ہے ،جو جدوجہد کر تا ہے اس کا مقصد بھی یقین حاصل کرنا ہے۔ حضرت بایزید بسطامیؒ سے پوچھا گیا: ’’آپ نے تیس برس میں کیا کیا ریاضتیں کیں؟‘‘
آپ نے فرمایا:میری ادنیٰ ریاضت کا تم یقین نہیں کروگے اور اگر اعلیٰ ریاضت کی کیفیت بیان کروں تو تم سن نہیں سکوگے۔
اس نے عرض کیا:اچھا ادنیٰ ریاضت کے متعلق بیان فرمائیے۔
آپ نے فرمایا:ایک روز میرے نفس نے پلاؤ کھانے کی خواہش کی لیکن میں اسکی مخالفت کرتا رہا۔ جب نفس نے بہت مجبور کیا تو میں نے کہا اچھا تیری یہ خواہش پوری کئے دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ کوئی اور خواہش نہ کرو گے۔ جب نفس نے مان لیا تو میں نے پلاؤ پکوا یا اور نفس سے کہا، اب کھا جتنی تیری مرضی ہے۔ پلاؤ کھانے کے بعد نفس نے کہا پانی۔ میں نے کہا: خبردار! اب کوئی خواہش نہ کرنا۔ تیرے ساتھ شرط ہوئی ہے۔ چنانچہ میں نے سال بھر اپنے نفس کو پانی نہ دیا۔
اس کے بعد فرمایا: ان مجاہدات کے بعد مجھےوَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (جو اس سے اس کی رگ جان سے زیادہ قریب ہے) کا یقین حاصل ہوا۔ اگر شروع ہی میں اسی بات کا یقین کر لیتا تو تیس سال اس قدر سخت مجاہدات نہ کرنے پڑتے۔
جب طالب کو مرشد پر یقینِ کامل حاصل ہو جاتا ہے پھر مرشد طالب کو گناہ سرزد کرنے سے بچا لیتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ سے کسی نے پوچھا: پیر کیسا ہونا چاہیے اور مرید کیسا ہونا چاہیے؟
آپؒ نے ایک خط دیا اور فرمایا:اسے لے کر لاہور چلے جاؤ اور یہ فلاں مرید کو دے دو۔
خط دیتے وقت آپ نے ہاتھ سے جس سمت اشارہ کیا، لاہور اس سمت نہ تھا بلکہ مخالف سمت میں تھا۔ آپؒ کامرید اسی سمت روانہ ہوا جس طرف حضرت حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒنے اشارہ فرمایا تھا۔ چنانچہ تھوڑی دیر میں اس نے اپنے آپ کو لاہور میں پایا۔ اور اُس آدمی کا پتہ لگا کر اس کے گھر پہنچا اور وہ خط اس کے حوالے کیا۔ اس نے خط پڑھا، خط میں لکھا تھا کہ دس ہزار روپے اس شخص کو دے دو۔ اور رات کے وقت اپنی لڑکی کو اس کے پاس بھیج دینا۔ وہ فوراً اٹھ گیا اور دس ہزار روپے لا کر اس کے سامنے رکھ دیئے، جب رات ہوئی تو لڑکی سے کہا:ان کی خدمت میں رہو اور جو حکم دیں اس پر عمل کرو۔چنانچہ وہ لڑکی جاکر اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے کہا:میری ٹانگیں دبا دو۔
وہ ٹانگیں دبانے لگی۔ کچھ دیر بعد شیطان نے غلبہ کیا اور برُہ نیت سے اس نے لڑکی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ جیسے ہی اس نے یہ حرکت کی، غیب سے ایک تھپڑ اس کے منہ پر لگا اور آواز آئی: ’’بدمعاش کیا کرتا ہے؟‘‘
اب اسے ہوش آگیا اور فوراً لڑکی کو رخصت کر دیا جب وہ واپس دہلی پہنچا تو سارا ماجرا حضرت نظام الدین اولیاسے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا:پیر ایسا ہونا چاہیے اور مرید اس جیسا ہونا چاہیے۔ (تربیت العشاق)
اگر طالب کو مرشد پر یقین نہ تو وہ اس کے احکامات پر دل سے عمل بھی نہیں کر پاتا۔ مولانا رومؒ اس سلسلہ میں ایک حکایت بیان کرتے ہیں:
کہتے ہیں کہ ایک شخص حج کے راستہ میں مصیبت میں پھنس گیا۔ پیاس کی شدت اس پر غالب آگئی اور وہ سخت بے تاب ہوا۔ اتنے میں اس نے دور ایک چھوٹا سا پرانا خیمہ دیکھا، وہاں گیا۔ ایک چھوٹی لونڈی پر نظر پڑی۔ اس نے اسے آواز دے کر کہا، میں مہمان ہوں اور وہیں اتر پڑا۔ پانی مانگا، انہوں نے پانی دیا جو آگ سے زیادہ گرم اور نمک سے زیادہ کھاری تھا۔ ہونٹوں سے لے کر گلے تک جہاں سے پانی گزرا سب کچھ جلاتا گیا۔ یہ مہمان بڑی محبت اور شفقت سے اس عورت کو نصیحت کرنے لگا۔ اس نے کہا: دیکھو تم نے مجھ مسافر کو جو آرام دیا ہے، اس سے میری شفقت جوش میں آگئی ہے، میں جو کچھ کہوں اسے اہمیت دیجئے۔ بغداد یہاں سے قریب ہے اور کوفہ راستہ ہی میں ہے۔ یہاں توآپ مصیبت میں گرفتار ہیں۔ آپ افتاں و خیزاں اپنے آپ کو وہاں تک پہنچا سکتے ہیں۔ وہاں میٹھا اور ٹھنڈا پانی بہت ہے۔ اور رنگ رنگ کے کھانے اور حمام بہت ہیں۔ مہمان نے ان شہروں کی نعمتیں، خوشیاں اور لذتیں گن ڈالیں۔ اتنے میں وہ عرب بھی آگیا جو اس عورت کا خاوند تھا۔ وہ چند جنگلی چوہے شکار کر کے لایا تھا اور عورت سے اس نے کہا کہ وہ انہیں پکائے۔ اس میں سے کچھ انہوں نے مہمان کو دیا۔ مہمان مصیبت اور بھوک کا مارا ہوا تو تھا ہی، اسے کھا گیا۔ اس کے بعد آدھی رات گئے وہ خیمہ سے باہر سو رہاتھا۔ عورت نے اپنے شوہر سے مخاطب ہو کر کہا، تم نے سنا اس مہمان نے ان شہروں کی کیا کیا تعریفیں کیں اور کیا کیا قصے سنائے؟ پھر وہ تمام گفتگو جو مہمان نے کی تھی، خاوند کے سامنے دہرائی۔ خاوند نے سب کچھ سن کر کہا ’’اے عورت خبردار! اس قسم کی باتیں نہ سنا کر۔ دنیا میں حاسد بہت ہیں۔ جب وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ آسائش اور امارت کی زندگی بسر کر رہا ہے تو حسد کرنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی بہانے اسے وہاں سے چلتا کریں اور اسے اس دولت سے محروم کر دیں۔‘‘
جس طرح اس عورت اور اس کے خاوند کو مہمان کی بات پر یقین نہ تھا، جسکی وجہ سے وہ دنیا کی نعمت حاصل نہ کر سکے۔ اِسی طرح اگر طالب کو مرشد پر یقین نہ ہو تو وہ فیوضِ باطنی سے محروم رہ جاتا ہے۔ اور اگر انسان تمام شکوک سے نکل کر یقین کر لے تو وہی شکوک اس کی طاقت بن جاتے ہیں۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
ظن کے فساد میں جو تحصیل ہوئی، وہ اس گھڑی اصلاحِ ظن کے لیے قوت بن جاتی ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ کسی دانا چور نے توبہ کر لی اور کوتوال بن گیا۔ چوری کی جن عیاریوں پر وہ عمل پیرا رہا تھا، وہ اس گھڑی احسان اور عدل میں اس کی قوت بن گئیں۔ اور اسے ان کوتوالوں پر فضیلت حاصل ہو گئی جو کبھی چور نہیں رہے تھے۔ اس لیے کہ یہ کوتوال جو چوریاں کرتا رہا تھا، چوروں کے طریقے جانتا ہے۔ چوروں کے احوال اس سے پوشیدہ نہیں رہتے۔
(دوسرا اور آخری حصہ اگلے شمارے میں)