کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan
قسط نمبر44 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
انسان حق تعالیٰ کی بندگی کی حجت سے تب تک فارغ نہیں ہو سکتا جب تک کوئی اسے معرفت اور نورِ حضورِ توحید کے سمندر میں غرق کرکے حق تعالیٰ میں مستغرق اور فنا فی اللہ نہیں کر دیتا۔ معرفت کی ابتدا میں عارفین معرفت کے اس سمندر میں بلبلے کی مثل ہوتے ہیں لیکن جب وہ معرفت کے اس سمندر میں گم اور غرق ہو کر فنا فی اللہ ہوتے ہیں تب وہ عارف باللہ بن جاتے ہیں۔ معرفت کے اس سمندر کو توحید کا مغز کہتے ہیں۔ پس جب وہ عارف کشف کی حالت میں معرفت کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے تو اس کی لطافت کے موافق اس کے سامنے معرفت کے جاودانی خزانے ہوتے ہیں۔ دیگر جاودانی لذات سے نفس سرور حاصل کرتا ہے لیکن معرفتِ ذات کی لذت سے روح کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے جو اس کا فیض، فضل اور فتح عطا کرتی ہے۔
قطعہ
از بستگیٔ خویش اگر وا گردی
بر رستگی خویش مہیا کردی
ترجمہ: اگر تو نے اپنی بندشوں سے آزادی حاصل کر لی تو گویا توُ اپنی ذات سے نجات حاصل کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
وا گرد بگرد خویش مانند حباب
تا وا گردی ز خویش دریا گردی
ترجمہ: اگر تو بلبلے کی مثل اپنی ہستی کو فنا کر دے تو توُ سمندر کی مثل (وسیع) ہو جائے گا۔
یہ فقر کے انتہائی مراتب ہیں۔ اکثر لوگ صرف فقر کے نام تک ہی پہنچے ہیں اور بعض فقر کے مرتبہ الہام تک اور بعض محض مرتبہ اقتدا تک پہنچے ہیں۔ بعض لوگوں نے (فقر کا نام استعمال کر کے) دنیاوی ترقی اور عز و جاہ کی خاطر طالب و مرید بنا لیے ہیں اور روضہ و خانقاہ تعمیر کر کے عوام میں مشہور ہو گئے ہیں۔ لیکن ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی ایسا ہوتا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدد سے فقر کی تمامیت تک پہنچا ہو۔ میرا یہ قول میرے حال کے مطابق ہے کہ جو عالم تمام علوم حاصل کر چکا ہو اُسے ہی فقیر کہتے ہیں کیونکہ اس کے تصرف میں اٹھارہ ہزار عالم ہوتے ہیں اور وہ صفتِ کریم کا حامل ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (سورۃ الحجرات۔13)
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔
جان لو کہ فقر کے تین حروف ہیں ف، ق، ر۔ حرف ’ف‘ سے طالب دونوں جہان کی فکر سے فارغ ہوتا ہے یعنی فنائے نفس۔ حرف ’ق‘ سے طالب نفس پر قہر ڈالتا ہے اور اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ حرف ’ر‘ سے طالب راہِ راستی پر ہوتا ہے اور ہمیشہ اللہ کی ذات میں مستغرق رہتا ہے۔ لیکن جو فقر کے ان مراتب پر پہنچ کر بھی دنیا سے میل جول رکھے اور فقرِ محمدی کو ترک کر دے تو وہ دنیا اور فرعون کے مراتب کو اختیار کر لیتا ہے تب وہ حرف ’ف‘ سے فضیحتِ فرعون، حرف ’ق‘ سے قہر ِ خدا اور حرف ’ر‘ سے ابلیس مردود کی مثل راندہ اور رَدّ ہو جاتا ہے۔ جان لو کہ ظاہری اعمال اور ظاہری مراتب سے نفس طاقتور ہو جاتا ہے اگرچہ ساری زندگی رات دن ریاضت میں گزاری جائے (نفس طاقتور ہی رہتا ہے) اور باطنی اعمال سے نفس مرتا ہے اگرچہ ظاہری طور پر طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔ جان لو کہ فقرِ محمدی اور معرفتِ توحیدِ الٰہی ہی مکمل طاعت و بندگی ہے جبکہ مرتبۂ دنیا، عز وجاہِ دنیا سراسر مردار اور گندگی ہے کیونکہ فقیری اور درویشی انبیا کی سنت ہے۔
حکایت:
روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑجنہوں نے اپنی زندگی سفر میں گزاری اور کسی ایک جگہ یا ایک مکان میں سکونت اختیار نہ کی‘ ایک روز برہنہ سر اور پاؤں جا رہے تھے کہ آپ کی امت کے چند لوگ آپ کے پاس آئے اور عرض کی یا عیسیٰ ؑ ! ہم پر لازم ہے کہ دین کے قواعد اور شرائط سیکھیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں آئے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ کی خاطر ایک مکان تعمیر کریں۔ جناب عیسیٰ ؑ نے فرمایا شرط یہ ہے کہ جو جگہ میں دکھاؤں وہاں مکان تعمیر کیا جائے۔ لوگوں نے یہ بات قبول کر لی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس جگہ اشارہ کیا جہاں دریا گہرا اور تیزی سے رواں تھا۔ یہ ماجرا دیکھتے ہی سب حیران رہ گئے اور بولے کہ اس بہتے دریا میں مکان کیسے تعمیر کیا جا سکتا ہے؟ جناب عیسیٰؑ نے فرمایا اے بے خبر اور نادانو! کیا تمہیں دریائے موت اس سے کمتر دکھائی دیتا ہے!
جوابِ مصنف:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت اس ظاہری دریا پر کشتیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر سارے دریا پر پل بنا سکتے ہیں اور پھر اس پر ایک مکان تعمیر کر کے اس جگہ مقیم بھی ہو سکتے ہیں۔ زندہ دل انسان کو موت کا کیا خوف؟ بلکہ ملک الموت حضرت عزرائیلؑ زندہ دل اولیا سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وحدتِ ربانی سے جذب کی ایک نگاہ عزرائیلؑ پر ڈالیں تو اسکے پَر جلا دیں۔ لیکن دل اس گہرے اور تیز رواں دریا سے زیادہ گہرا ہے جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قلزم کا خطاب دیا ہے اور دریائے قلزم توحید کا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ جان لو کہ امتِ محمدیہ اس دل کے قلزم پر تصور اسمِ اللہ ذات سے عمارت تعمیر کر کے اسے نورِ معرفتِ الٰہی سے آراستہ کرتے ہیں اور پھر اس میں سکونت اختیار کر کے اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں اور دل کے اس دریا کو توفیقِ الٰہی کی بدولت حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ جو قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ کہہ کر مردوں کو ڈھائی گھنٹے کے لیے زندہ کرتے تھے لیکن امتِ محمدیہ کے حقیقی اولیا نظر سے مردہ دل کو زندہ کرتے ہیں جو ابد الآباد تک نہیں مرتا۔
بیت:
عیسویؑ دم زندہ گرداند نہ دل
ہر کہ زندہ دل شود ہرگز نمیرد جاودان
ترجمہ: حضرت عیسیٰ ؑ کے دم (پھونک) سے دل زندہ نہیں ہوتے تھے کیونکہ جو دل زندہ ہو جائے وہ ہرگز نہیں مرتا بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
جان لو کہ امتِ محمدیہ کے اولیا کے لیے موت نہیں ہے بلکہ وہ تو حق تعالیٰ سے ملاقات کرتے ہیں کیونکہ وہ فنا فی اللہ اور فنا فی الذّات ہوتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ بَلْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنَ الدَّارِ اِلَی الدَّارِ
ترجمہ: بیشک اولیا اللہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتے ہیں۔
بیت:
حق ز شہ رگ قرب چوں گویند دور
یک دمی باحق برم وحدت حضور
ترجمہ: حق تعالیٰ تو شہ رگ سے بھی قریب ہے اسے دور کیوں سمجھتے ہو۔ میں ایک دم میں تجھے وحدت میں حق تعالیٰ کے حضور لے جا سکتا ہوں۔
جو فنا فی التوحید اور نورِ معرفتِ الٰہی میں غرق ہو جائیں وہ ظاہر و باطن میں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ وہ زیر ِ خاک ہی ہوں۔ لوگوں کی نظر میں وہ مردہ ہوتے ہیں۔ موت ان کی زندگی کے لیے ایک حجاب ہے۔اور ان کی زندگی اس موت میں ہے جو بے حجاب دیدار اور اجر عطا کرتی ہے۔ ابیات:
نیم کباب کہ در ہنگام سوختن گریم
چو کاغذیم کہ در سوزش است خندہ ما
ترجمہ: میں کباب نہیں ہوں کہ جلتے وقت گریہ کروں۔ میں تو اس کاغذ کی مثل ہوں جو جلتے ہوئے بھی مسکراتا ہے۔
باھوؒ چوں نہ خندم راہِ من دیدار شد
چوں نہ گرید آں کہ بامردار شد
ترجمہ: اے باھوؒ! میں کیوں نہ مسکراؤں کہ میں تو دیدار کرتا ہوں اور وہ کیوں نہ گریہ کریں جو مردار کے ساتھ ہیں۔
مطلب یہ کہ دیدار آیات اور احادیث سے ثابت ہے اور جو اس میں شک کرے وہ کافر اور ابلیس کا ساتھی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (سورۃ یونس۔62)
ترجمہ: خبردار! بے شک اولیا اللہ کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
خوف اور ڈر کا تعلق تو دل کی موت سے ہے جبکہ نجات تو زندہ دل کی ہے جو تصور اسمِ اللہ ذات سے دائمی حیات پاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا
ترجمہ: مرنے سے قبل مر جاؤ۔
اَلْمَوْتُ جَسْرٌ یُوْصِلُ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ
ترجمہ: موت ایک ایسا پل ہے جو حبیب کو حبیب سے ملاتا ہے۔
اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ
ترجمہ: نیند موت کی بہن ہے۔
اے مردہ دل اور باطنی طور پر معرفتِ توحیدِ الٰہی سے بے خبر انسان سن! مراقبہ خواب سے غالب تر ہے۔ دیدار کی شرح یہ ہے کہ مراقبہ میں غرق کے دوران روحانی جسم اس نفسانی جسم سے باہر آ جاتا ہے۔ یہ مراتب اسمِ اللہ ذات کے تصور سے حاصل ہوتے ہیں جو محض اللہ کا فیض و فضل اور مرشد کامل کی عطا ہے اور اس کے لیے حوصلہ وسیع ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کے مراتب کا حامل طالب اسمِ اللہ ذات میں غرق ہو کر حق تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ الغرض صاحبِ اشتغالِ اللہ دو زانو بیٹھ کر سر کو جھکائے مراقبہ میں مستغرق ہوتا ہے تو آنکھیں بند کر کے تصور اسمِ اللہ ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو تصور اسمِ اللہ ذات کی تاثیر سے باطن میں ہی آخرت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس کا جسم دار الفنا سے دار البقا کی طرف یوں چلا جاتا ہے گویا کہ مردہ جو جان سے بے جان ہو گیا ہو اور اس وقت ازلی حقائق اور روح کی حقیقت اس پر واضح ہو جاتی ہے اور اسمِ اللہ ذات کی تاثیر سے صاحبِ استغراق جان کنی کی تلخی کے سارے احوال یوں دیکھ لیتا ہے گویا وہ اصل میں مر چکا ہو۔ اس وقت ایک غسال آتا ہے اور اسے غسل دیتا ہے جس کے بعد لوگ جمع ہو کر اس کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد اس کے سر اور دماغ میں ایک وسیع ہڈی‘ جسے ولایت الابن کہتے ہیں جو آسمان اور زمین سے زیادہ وسیع ہے‘ میں اسکی روح کو لے جایا جاتا ہے اور فرشتے اس سے ستر ہزار سوال و جواب کرتے ہیں اور وہ لمحہ بھر میں ان کے جواب دیتا ہے۔ اس کے بعد اسے قبر میں مقامِ لحد میں اتارا جاتا ہے جو زمین اور آسمان سے بھی بے حد وسیع ہے۔ اس وقت فرشتے منکر نکیر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے سوال و جواب کرتے ہیں جس سے فارغ ہونے پر منکر نکیر کہتے ہیں:
نَمْ فِی النَّوْمِ کَنَوْمِ الْعُرُوْسِ
ترجمہ: دلہن کی نیند سو جا۔
پھر ایک فرشتہ آکر اسے دلہن کی نیند سے اٹھاتا ہے اور اپنی انگلی کو قلم، تھوک کو سیاہی اور منہ کو دوات اور کفن کو کاغذ بناتا ہے اور اس کی نیکی و بدی کے اعمال کفن کے کاغذ پر لکھ کر اس کے دستخط کرواتا ہے اور کفن کے کاغذ پر لکھے ان اعمال کا تعویذ بنا کر اس کے گلے میں ڈالتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔ قبر میں پڑے اسے ہزاروں سال اور بے شمار صدیاں گزر جاتی ہیں۔ پھر صورِ اسرافیلؑ کی آواز اس کے کانوں میں سنائی دیتی ہے اور لوگ زمین سے گھاس کے طرح باہر نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اٹھارہ ہزار عالم حساب کے لیے میدانِ قیامت میں حاضر ہو جاتے ہیں اور اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں تھما دئیے جاتے ہیں اور ان اعمال کو وزن کی خاطر ترازو پر رکھا جاتا ہے اور پھر ان کو پل صراط سے گزار کر جنت میں داخل کیا جاتا ہے:
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۔لا وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (سورۃ الفجر۔29-30)
ترجمہ: پس میرے بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہو جا۔
پھر وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست ِ مبارک سے شرابِ طہور پیتا ہے اور وہ شراب پیتے وقت کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتا ہے اور حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پانچ سو سال رکوع میں اور پانچ سو سال سجدہ میں رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ سجدہ سے اٹھتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں اصحابِ رسول کے پیچھے کی صف میں دیدارِ ربّ العالمین سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب ان انتہائی مراتب پر طریقِ تحقیق سے لقائے ربّ العالمین سے مشرف ہو کر واپس ہوش میں آتا ہے تو اس صورت جس کی مثل کوئی شے نہیں، اس بے مثل و بے مثال غیر مخلوق صورت کی مثال نہیں پیش کر پاتا۔ وہ جس وقت بھی باطن میں غرق اور متوجہ ہوتا ہے تو دیدار سے مشرف ہوتا ہے اور کسی بھی حال میں لمحہ بھر کے لیے بھی دیدار اور مشاہدئہ تجلیات کی لذات سے فارغ نہیں رہتا۔ اگرچہ ظاہر میں وہ عوام کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے لیکن باطن میں دائمی حضوری میں ہوتا ہے۔ اے خام! یہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کے مراتب ہیں جو عارف واصل کو اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے کامل مرتبہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ مراتب آیاتِ کلامِ الٰہی اور شریعتِ محمدی کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔
مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانُہٗ
ترجمہ: جس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا پس تحقیق اس کی زبان گونگی ہو گئی۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: جو اس (دنیا) میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔
یہ ان علما عامل کے مراتب ہیں جو فقرا کے ہاتھ پر بیعت ہوتے ہیں۔ بیت:
خندہ بر سینہ صافان می کنی ہشیار باش
ہر کہ بر آئینہ خندد رویش خندی خود کند
ترجمہ: تو باطن صفا فقرا پر ہنستا ہے۔ ہوشیار رہ کیونکہ جو آئینہ پر ہنستا ہے وہ اپنا مذاق خود اڑاتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُ الْفُقَرَآئِ
ترجمہ: قوم کا سردار فقرا کا خادم ہوتا ہے۔
پس دیگر لوگوں کی کیا مجال کہ ان کے سامنے دم ماریں۔ جو ان کے سامنے دم مارے وہ دونوں جہان میں خراب حال اور پریشان رہتا ہے۔ ابیات:
فقر را بہ شناس عارف با نظر
نظر فقرش بہ بود از سیم و زر
ترجمہ: عارفین فقر کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتے ہیں۔ فقر کی نظر سونا و چاندی سے بہتر ہے۔
او نہ بیند فقر را آں زرد رو
زانکہ او را زر کشد باخجل سو
ترجمہ: جو زرد چہرے والے ہیں وہ فقر کو نہیں پا سکتے کیونکہ زر نے ان کے چہرے کو (زرد کر کے) شرمندہ کر دیا ہے۔
دل کسی را بستہ شد با زر زوال
کور چشمی کے ببیند حق وصال
ترجمہ: جس کے دل کو زَر کی ہوس نے باندھ رکھا ہو وہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اندھے کیسے حق کا وصال حاصل کر سکتے ہیں۔
باھوؒ بہر از خدا وصلش نما
وصل حاصل میشود از مصطفیؐ
ترجمہ: اے باھوؒ! خدا کی خاطر اس کے وصال کا راستہ دکھا جو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوتا ہے۔
اے عزیز! بندے اور خدا کے درمیان پیاز کے پردہ کی مثل پردہ ہے۔ اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو اللہ بے نیاز ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ جو مرشد تصور اسمِ اللہ ذات کے حاضرات سے حضوری کے ابتدائی و انتہائی مراتب نہیں کھولتا اسے مرشد نہیں کہا جا سکتا اس لیے خام اور ناقص مرشد سے تلقین لینا سراسر حرام ہے۔ کیونکہ ہزاروں کتابیں ایک نکتہ میں سما سکتی ہیں لیکن وہ ایک نکتہ ہزاروں کتابوں میں نہیں سما سکتا۔ وہ نکتہ علم چون و چرا میں مشغول نہیں کرتا۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ کا فضل اور رحمت دل کی بیداری کے لیے ہے اور دل رحمت اور فضل سے عظیم ہے۔ دل اسے کہتے ہیں کہ جس کے گرد عرش اور کعبہ طواف کریں۔ یہ صاف دل کے مراتب ہیں۔
(جاری ہے)