Alif | الف
لایحتاج فقیر کے تصرفات
لایحتاج فقیر اُسے کہتے ہیں جو طریقِ افسانہ نہیں جانتا نہ ہی طریقت کو قصہ کہتا ہے بلکہ جس طالب مرید پر مہربان ہوتا ہے اُسے تلقین کے آغاز میں ہی دو مراتب پر پہنچا دیتا ہے، اوّل ظاہر میں بیشمار خزانوں پر تصرف سے غنایت اور باطن میں بغیر کسی تکلیف کے ہدایت اور دائمی حضوری۔ جو عاملِ دعوت و شہسوارِ قبور ظاہری علم سے دعوت کا عمل کرتا ہے اور دورانِ عمل قرآن پڑھتا ہے وہ روشن ضمیر ہو جاتا ہے۔ اُسے علمِ کیمیا اکسیر پر تصرف حاصل ہو جاتا ہے جس کی بدولت پہاڑوں پر پڑے سنگِ پارس اس سے مخفی و پوشیدہ نہیں رہتے۔ اس قدر تصرف کی بدولت بیشمار خزانے اس کی نظر اور عمل میں ہوتے ہیں اور وہ مشرق تا مغرب تمام بادشاہوں کو ادنیٰ غلام کی مثل خرید سکتا ہے۔ پیر مرشد اور استادِ کامل کے حکم و اجازت اور اس طریق و عمل سے تصرف کی توفیق یقینا ایک ہفتہ میں حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ مرتبہ اس طالب کو حاصل ہوتا ہے جس کا دل غنی ہو۔ جو دل دنیا سے سرد ہو جائے وہ جملہ غیر انسانی خواہشاتِ نفس سے نجات پا لیتا ہے۔ دوم مرتبہ یہ کہ باطن میں تصور اسمِ اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ سے طالبِ مولیٰ کے ہفت اندام سر سے پاؤں تک نور بن جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ اللہ کی نظر اور رحمت میں منظور اور صاحبِ حضور بن جاتا ہے۔ دیدارِ حضوری کے انوار کا اس پر اثبات ہوتا ہے جس کی بدولت وہ فنا فی اللہ ذات ہو جاتا ہے۔ جو علمِ تصور سے عین بعین فنا فی اللہ کا سبق پڑھتا ہے اس کے سامنے اللہ کی ذات بے حجاب ہو جاتی ہے پھر بندے اور ربّ کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا۔ جو پیر و مرشد شہسوارِ قبور کے عملِ دعوت پر تصرف اور تصور اسمِ اللہ ذات سے حضوری کا علم نہیں جانتا اور نہ ہی ان دونوں مراتب پر پہنچاتا ہے تو ایسا مرشداحمق ہے جو خود کو پیر و مرشد کہلواتا ہے۔ طالب ِحق کو اس ناقص سے دور اور بیزار رہنا چاہیے اور ہزار بار استغفار کرنی چاہیے۔
(اقتباس از ’’دیدار بخش (کلاں)‘‘ تصنیف ِلطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ)