بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

4.6/5 - (37 votes)

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
    Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر 13                                                       مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

خاص بندوں کا اللہ سے تعلق

فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی اُن مشکلات، بیماریوں اور تکالیف سے ضرور گزارتا ہے جن سے وہ عام بندوں کو گزارتا ہے۔ اگر نہ گزارے پھر تو عام لوگ خاصوں سے افضل ہو جائیں۔ اس لیے وہ اپنے خاص بندوں پر عام بندوں والی مشکلات ڈالتا ہے۔

پاکستان سپر پاور بنے گا

فرمایا: ہم علمِ غیب تو نہیں جانتے لیکن ایک وقت آئے گا جب پاکستان بھی سپر پاور بنے گا۔ فوراً تو نہیں لیکن آہستہ آہستہ ایسے حالات بنتے جائیں گے۔آج کل عرب پاکستان کو کچھ سمجھتے نہیں لیکن وہ وقت بھی آئے گا جب یہ پاکستان کے گھٹنے پکڑیں گے۔

خیر سے شر اور شر سے خیر

فرمایا: اللہ جب چاہتا ہے کسی کی غلطی سے ایسا موقع نکال دیتا ہے جس سے وہ اپنے بندے کو فائدہ دے دیتا ہے جیسے انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو اللہ نے پاکستان کے لیے خیر نکال دی۔ اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے:
یخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ     (سورۃ الروم۔ 19)
ترجمہ: وہی (اللہ) ہے جو زندہ کو مردہ میں سے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے۔
وہی شر میں سے خیر کو نکالتا ہے اور خیر میں سے شر کو۔

تمام اہم کام حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل سے

فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی آل سے بہت محبت ہے۔ اس لیے جتنے بھی اہم کام ہوں گے وہ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل سے کروائیں گے۔
مزید فرمایا: لوگ آجکل حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل کو ہی یزید کہہ رہے ہیں (معاذاللہ)۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل یزید ہو سکتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تو فرمایا کہ حوضِ کوثرپر قرآن اور اہلِ بیتؓ اکٹھے آئیں گے۔
جیسے اب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل کے خلاف ہیں اِسی طرح حضرت امام مہدیؑ کے خلاف بھی سب سے پہلے مسلمانوں کا گروہ ہی کھڑا ہوگا۔ 

اللہ کے اصول

فرمایا: قدرت کے اصول ایک جیسے ہیں، وہ کبھی نہیں بدلتے۔ اللہ فرماتا ہے:
لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ  (سورۃ یونس۔ 64)
ترجمہ: اللہ کی باتیں بدلتی نہیں۔
اللہ کے اصول انسان کے لیے بھی وہی ہیں جو قوموں کے لیے ہیں یعنی جس بات کی وجہ سے وہ قوموں کو عروج دیتاہے اسی بات کو اگر انسان اپنائے تو اسے بھی عروج عطا کرتا ہے۔

دین کیا ہے؟

کسی نے پوچھا دین کیا ہے؟ فرمایا: اصل دین یہ ہے کہ انسان اپنے مرتبے کو پہچانے اور پھر اسے حاصل کرے۔ انسان کی اصل روحِ قدسی ہے، روح کی یہ حالت عالمِ لاھوت میں ہوتی ہے۔ اب فلاح یہ ہے کہ انسان عالمِ ناسوت سے باطنی طور پر سفر کرتا ہوا عالمِ لاھوت پہنچ جائے۔ یہی انسان کی اصل ہے۔ اسی مرتبے کے متعلق  حدیثِ  قدسی میں اللہ فرماتا ہے:
انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔
اسی مرتبے کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔
الطاف حسین حالی نے بھی اس مرتبے کی طرف اشارہ فرمایا:

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

دل سے کیا مراد ہے؟

کسی نے پوچھا کہ کیا یہ دل معرفت حاصل کرتا ہے جو سینے میں ہے؟ فرمایا: دل، من یا قلب سے مراد یہ دل نہیں جو سینے میں ہے۔یہ تو جانوروں اور مرُدوں میں بھی ہوتا ہے۔ دل سے مراد روح ہے، باطن سے مراد بھی روح ہے۔ روح ہی اللہ کی معرفت حاصل کرتی ہے۔ پیر محمد عبدالغفور شاہ صاحبؒ کے متعلق فرمایا کہ پیر محمد عبدالغفور شاہؒ صاحب جلالی تھے۔ 

بیویوں کے حقوق

فرمایا: اسلام نے بیویوں کو بے پناہ حقوق دئیے ہیں۔ عورت کو روٹی دینا اور اس کی ضروریاتِ زندگی پوری کرنا مرد کا فرض ہے۔ عورت اگر اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے تواسکا معاوضہ اپنے خاوند سے لے سکتی ہے اور اگر وہ نہیں لیتی تو یہ اس کا احسان ہے۔ لوگ اسلام کے نام پر عورتوں کو گھرمیں بند کر دیتے ہیں جبکہ اسلام عورت کو گھر بند نہیں کرتا، اگر کرتا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ کے لیے حکم آتا۔ 

مزید فرمایا: عورت کو منہ پرہرگز نہیں مارنا چاہئے بلکہ مارنا ہی نہیں چاہیے۔ یاد رکھیں! اسلام میں عورت کے زیادہ حقوق ہیں۔ مرد کی کمائی پر بیوی کا حق ہے لیکن بیوی کی کمائی پر مرد کا حق نہیں۔ علما کرام ان چیزوں کو عوام سے چھپا کر رکھتے ہیں۔

صوفی اور عالم کی نماز میں فرق

فرمایا: صوفی اور عالم کی نماز میں ’’حضورِقلب‘‘ کا فرق ہے۔ جو نماز حضورِ قلب کے بغیر ہو وہ نماز لپیٹ کر منہ پر مار دی جاتی ہے۔ اولیا کرام یا صوفیاکرام اللہ کو دیکھ کر سجدہ کرتے ہیں جبکہ عالم اندھیرے میں سجدہ کرتے ہیں۔ اولیا کا سجدہ ’’سجدۂ دیدار‘‘ ہوتا ہے جبکہ عوام کا سجدہ ’’سجدۂ دیوار‘‘ ہوتا ہے۔

اللہ کو پاناہے تو بشر حافیؒ کے پاس جاؤ

کسی نے حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے علم کا ذکر کیا تو فرمایا: حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے پاس جب لوگ آتے تو آپؒ فرماتے ’’اگر علم چاہیے تو اِدھر رہو اور اگر اللہ چاہیے تو بشر حافیؒ کے پاس جاؤ۔‘‘

انسان قرآن کو کب سمجھتا ہے؟

کسی نے پوچھا کہ قرآن کی بہت سی آیات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ فرمایا: جب تک انسان اپنی ذات کی نفی نہیں کرتا تب تک وہ اللہ کی بات نہیں سمجھ سکتا۔ 

فیض کیسے ملتا ہے؟

کسی نے پوچھا کہ کونسا طالب مرشد سے فیض پاتا ہے؟

سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الاقدس نے فرمایا: حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ طالب کو ہوشیار ہونا چاہیے۔ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ طالب کو فطین ہونا چاہیے۔ پیر سید محمد بہادر علی شاہؒ صاحب اپنے مرشد پیر محمد عبدالغفور شاہؒ صاحب کے متعلق فرماتے ہیں:

پاون فیض جو ہن ہوشیار

یعنی وہ طالب فیض پاتے ہیں جو ہوشیار اور دانا ہوتے ہیں۔
کیونکہ مرشد نے زبان سے تو کچھ کہنا نہیں ہوتا۔ زبان سے تو دنیا کی باتیں ہوتی ہیں۔ 

دو قسم کے طالب

کسی نے پوچھا کہ بہت سے لوگ بیعت ہوتے ہیں لیکن فیض سب کو ایک جیسا نہیں ملتا؟ فرمایا:ایک ہوتا ہے بیعت ہونا اور اسمِ اللہ ذات لے لینا اور ایک ہوتا ہے اس راہ پر چل کر اسمِ اللہ ذات کی حقیقت حاصل کرنا۔ ان دونوں میں کافی فرق ہے۔ حقیقت تک پہنچنا ہی اصل فیض ہے۔

تسلیم و رضا

فرمایا: طالبِ حق کبھی گلہ نہیں کرتے نہ اللہ کا اور نہ مرشد کا۔ جو بھی حالات آ جائیں یار کی خوشی میں خوش رہتے ہیں اور ہمہ وقت سر جھکائے رکھتے ہیں۔ عاشق تو وہی ہے کہ جب معشوق قتل کرنا چاہے تو اپنا سر خود آگے کر دے۔ جیسا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خود کہا کہ آپ نے جو خواب دیکھا ہے یعنی مجھے ذبح کرنے کا، اس پر عمل کریں۔

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ امام الوقت اور اس دور کے انسانِ کامل تھے اور نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منصب پر فائز تھے اور انسانِ کامل کسی کی بیعت کر ہی نہیں سکتا۔ انسانِ کامل کی زبان کن کی زبان ہوتی ہے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہٗ دریائے فرات کو اشارہ کرتے تو وہ چل کر خیموں تک آجاتا، آسمان کو اشارہ کرتے تو بارش برسنے لگتی، کربلا کی ریت کو اشارہ کرتے تو اس کا طوفان یزیدی لشکر کو غرق کر دیتا ہے لیکن ایک طرف یہ سب کچھ تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رضا تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا۔ عاشقِ حقیقی وہی ہوتا ہے جو معشوق کے ہاتھوں اپنا قتل ہونا قبول کر لے اور باوجود تکالیف اور مصائب کے نہ تو راہ ِعشق سے منہ موڑے اور نہ ہی تسلیم و رضا کی راہ میں اس کے قدم ڈگمگائیں خواہ کروڑوں تلواریں اس کے جسم کو چھلنی کر دیں۔ عاشق جس طرف محبوب کی رضا دیکھتا ہے اسی طرف ہو جاتا ہے۔ ایک طرف اس طاقت اور تصرف کو دیکھتا ہے جو اللہ نے اس کو دیا ہے اور دوسری طرف اس کی رضا کو دیکھتا ہے۔ اس وقت اللہ کہتا ہے کہ میں منع نہیں کرتا، جو دل کرتا ہے اختیار کر لے اور عاشق’’ رضائے الٰہی‘‘ کو پسند کرتا ہے۔ رضا میں ہی سکون ہے، رضا میں ہی زندگی ہے، فقر کی منزل رضا ہی سے ہاتھ آتی ہے۔ یہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ کئی فقیر رضا کی منزل سے گر جاتے ہیں۔ جب تکلیف پہنچی تو گر گئے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں۔ لیکن امام عالی مقام جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ سب کو آپ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے ذبح کیا گیا، سب بچوں کو، بھائیوں کواور آخر میں آپؓ کی باری آئی۔ آسان تو یہ تھا کہ پہلے آپ رضی اللہ عنہٗ شہید ہوں اور بعد میں جو ہونا ہے ہوتا رہے۔ لیکن نہیں! رضا ئے الٰہی یہ ہے کہ پہلے سب آپ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے شہید ہوں اور پھر آخر میں آپؓ کی باری آئے تا کہ آپؓ سب بچوں، بھائیوں اور بھتیجوں کو سامنے ذبح ہوتے دیکھیں۔ یہ ہے رضا۔ ان حالات میں بندے کی برداشت ہی نہیں رہتی۔ بچے پیاسے تھے، پیاس سے مرنے کے قریب تھے۔ یہاں تو چھوٹے، چھوٹی والی انگلی سے اشارہ کرتے ہیں تو پانی زمین سے اُبل پڑتا۔ یہ پانی حاصل کرنا کونسی بڑی بات ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ خود کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی خاک ظاہر کرتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کلر کہار میں کنکری پھینکی اور چشمہ جاری ہو گیا اور اب تک جاری ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ کاواقعہ یہ ہے کہ ایک فقیر کلر کہار سے گزرا۔ اب میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا، اس کے بڑے پیروکار ہیں۔ لیکن ڈاکٹر الطاف علی نے نام لکھا ہوا ہے کتاب میں۔ میری کتاب میں بھی لکھا ہوا ہے لیکن میں نے ڈاکٹر الطاف علی کا ہی حوالہ دیا ہے۔ وہ فقیر وہاں سے گزرا تو وہاں ایک چشمہ تھا جہاں سے سارے کلر کہار کی آبادی پانی لاتی تھی۔ اس فقیر نے پانی مانگا تو عورتوں نے کہا: بابا جی! پانی کڑوا ہے۔ انہوں نے کہا: اگر کڑوا ہے توکڑوا ہی سہی۔ جب جا کر دیکھا تو سارا چشمہ کڑوا ہو چکا تھا۔ سارے گاؤں والے  بھاگے اور بزرگ کے پاس گئے اور عرض کی کہ عورتوں سے غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا میں کڑوے کو دوبارہ میٹھا نہیں کر سکتا،یہ ایک ہی ہستی کر سکتی ہے، وہ یہاں آئے گی کڑوے کو میٹھا کرنا اس کا کام ہے۔ اس وقت کا انتظار کرو۔ پھر ایک وقت حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اسی پہاڑی پہ گئے، روزے رکھے۔ رمضان شریف کے بعد لوگوں کو پتہ چلاکہ یہاں تو فقیر آیا ہے۔ انہوں نے میٹھے پانی کی درخواست کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک کنکری اٹھائی اور زمین پر ماری۔ کنکری جدھر لگی وہاں سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا اور آج تک جاری ہے۔ کلر کہار میں اس چشمہ سے جھیل بن گئی ہے۔ اب تو تفریح کاspot (مقام) بن گیا ہے۔ وہاں پہ کشتیاں چلتی ہیں، بچے سیر کرنے جاتے ہیں، سکولوں کے ٹرپ جاتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے معمولی سے غلام کر سکتے ہیں تو ان کے لیے کیا حیثیت رکھتا تھا۔ یہ ایک واقعہ میں نے بیان کیا ہے ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے لیے کون سا مشکل بات تھی کہ دریائے فرات کو بھی نہ بلاتے بلکہ زمین کو اشارہ کرتے تو زمین سے پانی نکل آتا، چشمہ جاری ہو جاتا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑھیاں رگڑنے سے چشمہ جاری ہو سکتا ہے توکیا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے اشارے سے نہیں ہو سکتا تھا؟ لیکن عشق جو تھا وہ یہ کہتا تھا کہ رضا پر سر تسلیم کر دے، لہٰذا آپ رضی اللہ عنہٗ نے سر تسلیم کر دیا۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہٗ کو تسلیم و رضا کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے ،شہنشاہ کہا جاتا ہے۔

یار سے کیا مراد ہے؟

فرمایا: یار سے مراد تینوں (مرشد، رسولؐ، اللہ) ہی ہیں لیکن یہ انسان کے مقام اور حال کے مطابق ہے۔ یہ اندر کی بات ہے۔ جب انسان فنا فی الشیخ ہوتاہے تو مرشد یار ہوتا ہے، جب فنا فی الرسول ہوتا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچ جاتا ہے تو پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یار ہیں اور جب فنا فی اللہ ہو کر اللہ تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ یار ہے:
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  (سورۃالمائدہ۔ 55)
ترجمہ:بے شک تمہارا (حقیقی مددگار اور)دوست تو اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہی ہے اور(ساتھ) ایمان والے ۔
آپ جس مقام پر ہیں وہی آپ کا یار ہے۔ یار کو محبوب بھی کہہ سکتے ہیں۔ نماز بھی تب قبول ہوتی ہے جب یار کی پہچان حاصل ہو جائے۔

فنا فی الشیخ کا مقام

فرمایا: اس حالت میں ہر طرف مرشد نظر آتا ہے۔ اپنے اندر بھی مرشد اور باہر بھی مرشد لیکن یہ حالت تب حاصل ہوتی ہے جب طالب اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے اور صدق سے مرشد کا دامن پکڑ لیتا ہے تو پھر یہ مرشد جیسا ہی ہو جاتا ہے۔ یہ فنا فی الشیخ ہی تو ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

ربّ ملیا انہاں نوں باھوؒ، جنہاں ترٹی چوڑ چا کیتی ھوُ

یعنی اللہ ان کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار لٹا دیں۔ یہ انہوں نے اپنے پاس سے نہیں کہا بلکہ یہ قرآن میں ہے۔ 
فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ(سورۃالنسا۔ 89)
ترجمہ: (اے محبوبؐ!) ان لوگوں کو اپنا ولی مت بنائیں جو اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار نہ قربان کر دیں۔ 

مزید فرمایا: جب تک دیکھنے والا ہے اور جسے دیکھا جا رہا ہے دو علیحدہ ہیں تو یہ دوئی ہے۔ یہ کامل مرتبہ نہیں ہے۔ وصال ہی یکتائی ہے۔

طالبِ حق

فرمایا: مرشد کے پاس طالب تو بہت ہوتے ہیں لیکن طالبِ حق تو کوئی کوئی ہوتا ہے۔ طالب کو صادق طالب بننا چاہیے اس کے لیے ضروری ہے کہ مرشد کی ظاہر و باطن میں اتباع کرے اور پھر اس پر قائم ہو جائے۔

 (جاری ہے)

 
 
 

14 تبصرے “بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

  1. فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

  2. حدیثِ قدسی میں اللہ فرماتا ہے:
    انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔

  3. سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الاقدس نے فرمایا: حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ طالب کو ہوشیار ہونا چاہیے۔

  4. سلطان العاشقین کے ملفوظات پڑھ کر سکون ملتا ہے

  5. کسی نے پوچھا کہ بہت سے لوگ بیعت ہوتے ہیں لیکن فیض سب کو ایک جیسا نہیں ملتا؟ فرمایا:ایک ہوتا ہے بیعت ہونا اور اسمِ اللہ ذات لے لینا اور ایک ہوتا ہے اس راہ پر چل کر اسمِ اللہ ذات کی حقیقت حاصل کرنا۔ ان دونوں میں کافی فرق ہے۔ حقیقت تک پہنچنا ہی اصل فیض ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں