عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناحؒ
Azeem Rehnuma Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah
تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری
قائد اعظم محمد علی جناح ؒبرصغیر کی تاریخ کے ایک غیر معمولی سیاسی رہنما، ایک نامور قانون دان اور جدید مسلم قومیت کے ایک اٹل داعی تھے۔ اپنی بے پناہ مضبوط قوتِ ارادی، صداقت، ذہانت اور اصولی زندگی کے باعث انہیں یہ تاریخی مقام حاصل ہوا کہ وہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل کر سکیں جو دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی۔ اپنے غیر متزلزل عزم اور بے مثال قیادت کی بدولت وہ لاکھوں مسلمانوں کے لیے امید کی کرن بنے اور بالآخر بانیٔ پاکستان کی حیثیت سے ایک آزاد اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔ ان کی زندگی عزم و ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت داری کا ایک حسین امتزاج تھی جو انہیں تاریخ میں ایک منفرد اور عظیم المرتبت شخصیت بناتی ہے۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ ایک ایسے فرد تھے جنہیں قدرت نے ایک عظیم مقصد کے لیے چن لیا تھا۔ یہ ’’انتخاب‘‘ ان کی ذات میں ہمت، صداقت اور ناقابلِ تسخیر قوتِ ارادی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اس حوالے سے بانی و سرپرست ِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقرسلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
قائد اور لیڈر میں پہلی قسم ان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ ہیں کیونکہ فرمان ہے ’’اللہ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے‘ ‘اور قائد اعظم انہی میں سے تھے۔
برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائد اعظمؒ محمد علی جناح کو ایک مخصوص مقصد کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ محض ایک سیاسی تقرر نہیں تھا بلکہ ایک روحانی انتخاب تھا ۔ یہ پنہاں راز اللہ نے قوم کے مفکر اور دانائے راز علامہ محمد اقبالؒ پر ظاہر فرمایا۔ علامہ نے اپنی الہامی بصیرت کی روشنی میں اس بات کو یقینی طور پر پہچان لیا تھا کہ قائداعظمؒ کی ذات میں وہ غیر معمولی قیادت اور ایمانی قوت موجودہے جو ہندوؤں کی اکثریت کے درمیان مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست کے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہے۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور دانشور کے طور پر دنیا بھر میں عوام الناس اور اہلِ علم میں مقبول ہیں۔ آپؒ کی شہرت کی ایک وجہ آپ کا تصور ِ پاکستان ہے جو اللہ تعالیٰ نے رازِ پنہاں سے باخبر اپنے اس بندے کے دل پر اتارا اور اقبالؒ نے جب پورے برصغیر پر نظر ڈالی تو انہیں صرف ایک شخص محمد علی جناح نظر آیا جو اس تصور کو حقیقت کا رنگ دے سکتا تھا اور وقت نے اقبالؒ کے ان دونوں فیصلوں کو صحیح ثابت کیا۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
جس طرح ایک طالبِ مولیٰ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور دینِ محمدیؐ کے فروغ کے لیے چنا جاتا ہے، اِسی طرح قائداعظمؒ بھی ایک ایسی قوم کی بھلائی کے لیے منتخب ہوئے جو بطور قوم اپنی ساکھ کھو چکے تھے۔ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا قیام ان کی بقا، شناخت، اتحاد اور دین کے فروغ کے لیے ناگزیر تھا۔ قائد کے لیے پاکستان کی اہمیت دراصل ایک پاکیزہ مقصد کا حصول اور اللہ کی رضا تھی، جس کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کو نظم و ضبط اور استقامت سے وقف کر دیا۔ قائداعظمؒ کی اس جدوجہد میں طالبِ مولیٰ کے لیے رہنما اصول موجود ہیں :
محنت و لگن
قائداعظمؒ نے پاکستان کا حصول اللہ کی رضا جانا اور اس عظیم مقصد کے لیے انتھک محنت کی۔ اپنی قانونی صلاحیت، صحت اور ذاتی آسائشیں سب وقف کر دیں۔ اِسی طرح طالبِ مولیٰ کو بھی چاہیے کہ وہ رضائے الٰہی تلاش کرے اور اس کو اپنا مقصد بنا لے۔ کسی بھی مقصد میں عظمت تب ہی پیدا ہوتی ہے جب اسے دنیاوی لالچ اور نفسانی خواہشات سے پاک کر کے اللہ کی مرضی سے جوڑ دیا جائے ۔
استقامت کا جوہر
قائداعظمؒ کی استقامت ان کی شخصیت کا وہ بنیادی ستون ہے جو ان کے عظیم رہنما ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ قیامِ پاکستان کی پوری جدوجہد میں انہیں ہندوؤں اور انگریزوں کی سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ اغیار تو ایک طرف برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا ایک مخصوص گروہ بھی نہ صرف آپ کی مخالفت پر اُترآیا بلکہ آپ کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے آپ پرکفر کے فتوے لگا دیے تاکہ عوام کو آپ سے باغی کر دیا جائے۔ تاہم قائداعظم نے مضبوط قوتِ ارادی اور غیر متزلزل مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑی اور ایک الگ ریاست کی صورت میں فتح حاصل کی۔اس بات کی تصدیق سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے اس قول سے بھی ہوتی ہے:
قائدِ اعظمؒ کے عزم و ہمت اور بے پناہ قوتِ ارادی سے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت نصیب ہوئی۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
قائد کی اپنے مشن کے لیے استقامت اور ثابت قدمی طالبِ مولیٰ کے لیے عملی نمونہ ہے۔ جب ایک طالبِ مولیٰ باطنی سفر کا آغاز کرتا ہے تو اس کی راہ میں کئی مشکلات اور آزمائشیں آتی ہیں۔ سب سے پہلی مخالفت اُس کے اپنے گھر اور سب سے قریبی رشتہ داروں سے شروع ہوتی ہے۔ نفس و دنیا دو ایسے دشمن ہیں جو متحد ہو کر چاروں جانب سے حملہ کرتے ہیں ۔ کامیابی اُنہی طالبوں کو ملتی ہے جو ان شدید مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود کو پہنچتے ہیں۔
بے لوثی اور اخلاص
بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح کو ’’قائد اعظم ‘‘ کا عظیم لقب اسی لیے ملا کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کر دیا۔ اپنی صحت اور خون کے آخری قطرہ کو رضائے الٰہی کے حصول کے لیے وقف کر دیا۔ یہی جذبہ وہ عملی جہاد ہے جو طلب ِمولیٰ کی بنیاد ہے۔ جوطالب جتنا اخلاص سے اپنی منزل کی جانب بڑھتا ہے اتنی جلدی وہ کامیابی سے سرخرو ہوتا ہے۔ اپنی خواہشات کو رضائے مرشد پر قربان کرنے والا صادق طالب راہ ِ فقر پر کامیاب ہوتا ہے۔
قائد اعظم ؒ ۔۔۔۔ علامہ اقبالؒ کا خضرِوقت
علامہ اقبال ؒ نے اپنی نظم میں جس خضر ِ وقت کے ظاہر ہونے کا تذکرہ کیا ہے وہ قائداعظم کی شخصیت کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ فرماتے ہیں:
خضر وقت از دشتِ حجاز آید بروں
کارواں زیں وادی دور و دراز آید بروں
ترجمہ: سر زمینِ حجاز کے جنگل سے ایک خضرِوقت باہرآئے گا اور اس دور دراز وادی سے قافلہ باہر آئے گا۔
من بہ سیمائے غلاماں فر سلطان دیدہ ام
شعلہ محمود از خاک ایاز آید بروں
ترجمہ:میں نے غلاموں کی پیشانی سے بادشاہ کی شان و شوکت دیکھی ہے ۔ گویا کہ انقلابِ دوراں سے یہ ظاہر ہے کہ محمود غزنوی کا جوش و خروش ایاز کی خاک سے باہر آئے گا۔
سالہا سال در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں
( زبورِ عجم)
ترجمہ: کئی سال زندگی کعبہ اور بت خانہ میں روتی ہے تب بزمِ عشق سے ایک دانائے راز باہر آتا ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ کا شعر دراصل برصغیر کی تاریخ کے طو یل انتظار کی تفسیر ہے ۔ نرگس کی بے نوری پر رونا مسلمانوں کی صدیوں کی پستی، نااتفاقی اور مؤثر قیادت سے محرومی کی علامت ہے۔ اس طویل انتظار کے بعد علامہ اقبال نے جس ’ دیدہ ور‘ اور’ مردِ حق‘ کی آمد کا اشارہ دیا ، وہ یقینا کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ وہ ’ خضر ِ وقت ‘ یعنی قائد اعظمؒ محمد علی جناح تھے۔
جناب واصف علی واصفؒ قائد اعظم کے متعلق فرماتے ہیں :
صاحبانِ حال ۔۔۔۔ کے سلسلے میں قائد اعظم کی مثال سب سے اہم ہے ۔ وہ استقامت و صداقت کا پیکر قائد اعظم کہلانے کے لیے کوشش نہیں کر رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔ اس کے خلوص کو فطرت نے منظور کیا۔ اسے صاحبِ حال بنا دیا۔ فتویٰ اس کے خلاف تھا لیکن فطرت اور حقیقت اس کے ساتھ تھی۔ اسے قائد اعظم بنا دیا۔ اہلِ شرع کا ایک گروہ اس بات کو اور اس واردات کو نہ پہچان سکا۔ معترض رہا۔ اہلِ باطن پہچان گئے کہ یہ کسی کی نگاہ کی بات ہے ۔ یہ فیض ہے کسی ذات کا ۔۔۔۔۔ یہ نصیب کا فیصلہ ہے ۔۔۔۔ اہلِ باطن قائداعظم کے ساتھ ہو گئے۔ منزل مل گئی۔ ملک بن گیا۔ فتویٰ دینے والے آج تک نہ سمجھ سکے کہ یہ کیا راز تھا؟ قائدِ اعظم دلوں میں اُتر گئے اور مخالفین دلوں سے اُتر گئے۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
جس طرح ہمارے ہاں طریقت کے سلاسل ہیں چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی وغیرہ، اور ہر سلسلہ کا کوئی بانی ہے۔ اسی طرح قائد اعظم سے ایک نئی طریقت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ طریقت ہے ’’پاکستانی‘‘اس طریقت میں تمام سلاسل اور تمام فرقے شامل ہیں۔ ہر’ پاکستانی‘ پاکستان سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ہمارے لیے ہمارا وطن خاکِ حرم سے کم نہیں۔ اقبالؒ نے مسلمانوں کو وحدتِ افکار عطا کی اور قائد اعظم نے وحدتِ کردار۔ ( قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا روحانی پہلو ، صفحہ 64)
دینی بصیرت
قائد اعظم کی ساری سیاست دین کے تابع تھی۔ پاکستان ان کی دینی تربیت و بصیرت کی بنا پر احکم الحاکمین کی طرف سے بطور انعام عطا ہوا تھا جس کا اعتراف خود انہوں نے ان الفاظ میں کیا:
’’کیا کسی قوم پر اس سے بڑھ کر ( خدا کا) کوئی انعام ہو سکتا ہے؟ یہی وہ خلافت ہے جس کا وعدہ خدا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کیا تھا کہ اگر تیری امت نے صراطِ مستقیم کو اپنے لیے منتخب کر لیا تو ہم اسے زمین کی بادشاہت دیں گے۔ خدا کے اس عظیم انعام کی حفاظت ہر پاکستانی مرد و زَن، بچے، بوڑھے اور جوان پر فرض ہے۔ ( قائد اعظم کی زندگی کا روحانی پہلو، صفحہ 44)
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک ہے:
قائداعظمؒ کی قیادت کی صداقت نے مسلمانوں میں ایمانی توانائی کا شعور بیدار کیا۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
ایک مرتبہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائداعظمؒ سے دریافت کیا گیا کہ پاکستان کا آئین کس طرح کا ہو گا تو آپ نے جواب میں فرمایا :
’’میں کون ہوتا ہوں آپ کو آئین دینے والا۔ ہمارا آئین تو ہمیں آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی ہمارے پیغمبر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے دے دیا تھا۔ ہمیں تو صرف اس آئین کی پیروی کرتے ہوئے اسے نافذ کرنا ہے ۔ اور اس کی بنیاد پر اس مملکت میں اسلام کا عظیم نظامِ حکومت قائم کرنا ہے اور یہی پاکستان ہے ۔‘‘ (قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا روحانی پہلو، صفحہ نمبر 15)
پاکستان اور قائد اعظم
جس قوم کا سیاسی شیرازہ بکھرا ہوا تھا، قائد اعظم ان کے لیے ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی نمونہ بن کر سامنے آئے۔ قائد وہ لازوال میرِ کارواں ہیں جنہوں نے اپنی جہدِمسلسل سے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی قسمت کا رُخ موڑ دیا۔ اگر پاکستان ایک جسم ہے تو قائد اعظم اس کی رہنمائی کرنے والا ضمیر ۔ ان کے اصولوں کی پیروی ہی اس ملک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
پاکستان اور قائد اعظم ؒمحمد علی جناح کی ذات لازم و ملزوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہر سال قائد اعظم کا یومِ ولادت25 دسمبر ، یوم وفات 11 ستمبر اور پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست ہمیشہ ایک ہی دن آتے ہیں یعنی ہر سال ان تینوں تاریخوں پر ہفتے کا دن ایک ہی ہو گا۔ یہ قائدِ اعظم کی زندہ و تابندہ کرامت ہے ۔ اہلِ شعور کے لیے اشارہ کافی ہے۔
حاصلِ کلام:
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے فرامین اور دیگر مبصرین کے مطالعہ کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قائد اعظمؒ محمد علی جناح کی شخصیت بطور’’ منتخب‘‘ رہنما وہ مثال ہے جو ہر طالبِ مولیٰ کویہ سبق دیتی ہے کہ عزم کی پختگی اور مقصد کی پاکیزگی ہی دین و دنیا دونوں میں سب سے بڑی فتح کی ضامن ہے ۔دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور، مکار اور چالاک کیوں نہ ہو، جب اللہ تعالیٰ کی رضا شاملِ حال ہو اور انسان اپنے مقصد کے حصول پر ڈَٹ جائے تو( ان شا اللہ) کامیابی ضرور قدم چومتی ہے۔
استفادہ کتب:
۱۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین
۲۔قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا روحانی پہلو
قائدِ اعظمؒ کے عزم و ہمت اور بے پناہ قوتِ ارادی سے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت نصیب ہوئی۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
Very nice
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت مضمون ھے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
جس طرح ایک طالبِ مولیٰ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور دینِ محمدیؐ کے فروغ کے لیے چنا جاتا ہے، اِسی طرح قائداعظمؒ بھی ایک ایسی قوم کی بھلائی کے لیے منتخب ہوئے جو بطور قوم اپنی ساکھ کھو چکے تھے
اپنی بے پناہ مضبوط قوتِ ارادی، صداقت، ذہانت اور اصولی زندگی کے باعث انہیں یہ تاریخی مقام حاصل ہوا کہ وہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل کر سکیں جو دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی
جب اللہ تعالیٰ کی رضا شاملِ حال ہو اور انسان اپنے مقصد کے حصول پر ڈَٹ جائے تو( ان شا اللہ) کامیابی ضرور قدم چومتی ہے۔
قائداعظمؒ نے پاکستان کا حصول اللہ کی رضا جانا اور اس عظیم مقصد کے لیے انتھک محنت کی۔ اپنی قانونی صلاحیت، صحت اور ذاتی آسائشیں سب وقف کر دیں۔
دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور، مکار اور چالاک کیوں نہ ہو، جب اللہ تعالیٰ کی رضا شاملِ حال ہو اور انسان اپنے مقصد کے حصول پر ڈَٹ جائے تو( ان شا اللہ) کامیابی ضرور قدم چومتی ہے۔ ❤️🌹
No doubt Quaid e Azam was a great leader
سالہا سال در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں
( زبورِ عجم)
اللہ کی مہربانی اور قائد اعظم کی محنت اور صلاحیتوں سے یہ مملکت خداداد وجود میں آئی
قائد اور لیڈر میں پہلی قسم ان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ ہیں کیونکہ فرمان ہے ’’اللہ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے‘ ‘اور قائد اعظم انہی میں سے تھے
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
قائد اور لیڈر میں پہلی قسم ان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ ہیں کیونکہ فرمان ہے ’’اللہ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے‘ ‘اور قائد اعظم انہی میں سے تھے۔
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
پاکستان اور قائد اعظم ؒمحمد علی جناح کی ذات لازم و ملزوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہر سال قائد اعظم کا یومِ ولادت25 دسمبر ، یوم وفات 11 ستمبر اور پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست ہمیشہ ایک ہی دن آتے ہیں یعنی ہر سال ان تینوں تاریخوں پر ہفتے کا دن ایک ہی ہو گا۔ یہ قائدِ اعظم کی زندہ و تابندہ کرامت ہے ۔ اہلِ شعور کے لیے اشارہ کافی ہے۔
Ya Allah apna fazal farma 🤲 humaray gunah maaf farma 🤲
جس طرح ایک طالبِ مولیٰ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور دینِ محمدیؐ کے فروغ کے لیے چنا جاتا ہے، اِسی طرح قائداعظمؒ بھی ایک ایسی قوم کی بھلائی کے لیے منتخب ہوئے جو بطور قوم اپنی ساکھ کھو چکے تھے۔ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا قیام ان کی بقا، شناخت، اتحاد اور دین کے فروغ کے لیے ناگزیر تھا۔ قائد کے لیے پاکستان کی اہمیت دراصل ایک پاکیزہ مقصد کا حصول اور اللہ کی رضا تھی، جس کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کو نظم و ضبط اور استقامت سے وقف کر دیا۔