سبق آموز حکایات- Sabaq Amoz Hikayat
مراسلہ : وقار احمد ارشاد سروری قادری
آنکھوں کی طلب
کوہِ طور پرتجلیٔ الٰہیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرۂ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ علیہ السلام کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کی کہ مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اس قوی نور کا پردہ بن جائے اور آپ کی مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔ حکم ہوا ’’ اپنے اس کمبل کا نقاب بنا لو جو کوہ ِطور پر آپؑ کے جسم پر تھا۔ جس نے طور کی تجلی کو برداشت کیا ہوا ہے۔ اے موسیٰؑ! اس کمبل کے علاوہ اگر کوہِ قاف بھی آپ ؑ کے چہرہ کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہ ِطور پھٹ جائے گا۔‘‘ الغرض حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے منع فرما دیا۔
آپ علیہ السلام کی اہلیہ حضرت صفورہ علیہا السلام آپؑ کے حسنِ نبوت پر عاشق تھیں۔ نقاب، جواَب نظروں کے درمیان حائل ہو گیا تھا وہ اس سے بے چین ہو گئیں۔ جب صبر کے مقام پر عشق نے آگ لگا دی تو آپؑ نے اسی شوق اور بے تابی سے پہلے ایک آنکھ سے موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کے نور کو دیکھا، اس سے ان کی اس آنکھ کی بینائی سلب ہو گئی۔ اس کے بعد بھی ان کو صبر نہ آیا، دل اور آنکھوں کی طلب اور بڑھ گئی۔ تجلیاتِ طور کا نظارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے پر دیکھنے کے لئے دوسری آنکھ بھی کھول دی، وہ بھی بے نور ہو گئی۔
عاشقہ صادقہ حضرت صفورہؑ سے ایک عورت نے پوچھا’’ کیا تمہیں اپنی آنکھوں کے بے نور ہو جانے پر کچھ حسرت و غم ہوا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’مجھے تو یہ حسرت ہے کہ ایسی سو ہزار آنکھیں اور بھی عطا ہو جائیں تو میں ان سب کو محبوب کے چہرہ ٔتاباں کے دیکھنے میں قربان کر دیتی۔‘‘
حضرت صفورہ ؑنے فرمایا’’میری آنکھوں سے نور تو چلا گیا مگر آنکھوں کے حلقے کے ویرانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کا خاص نور سما گیا ہے۔‘‘
حق تعالیٰ کو حضرت صفورہ ؑ کی یہ سچی چاہت اور تڑپ، یہ کلام، یہ عشق کا مقام، یہ دل اور آنکھوں کی طلب پسند آگئی۔ خزانۂ غیب سے پھر ان کی آنکھوں کو ایسی بینائی کا نور اور تحمل بخش دیا گیا جس سے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ ٔتاباں کو دیکھا کرتی تھیں۔
درسِ حیات:
طلب صادق ہو تو خدا کی مددپہنچ جایا کرتی ہے۔
روحانی بیماری
حضرت شعیب علیہ السلام کے زمانے میں ایک آدمی اکثر یہ کہتا رہتا تھا کہ مجھ سے بے شمار گناہ اور جرم سرزد ہوتے رہتے ہیں لیکن اللہ کے کرم سے میری گرفت نہیں ہوتی۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے جب اس کی یہ باتیں سنیں تو فرمانے لگے:
’’ارے بے وقوف! تو صراطِ مستقیم سے بھٹک گیا ہے۔ تیری مثال اس سیاہ دیگ کی سی ہے جس پر اُسی کا رنگ چڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح تیرے اعمالِ بد نے تیری روح کی پیشانی بے نور کر دی ہے۔ تیرے قلب پر اتنا زنگ چڑھ گیا ہے کہ تجھے خدا کے بھید دکھائی نہیں دیتے۔ جو بدنصیب گناہ میں آلودہ ہو اور اوپر سے اس پر اصرار کرے تو اس کی عقل پر خاک پڑ جاتی ہے۔ اسے کبھی توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ اسے گناہ کے کاموں میں لذت ملنے لگتی ہے، وہ شخص گمراہ اور بے دین ہو جاتا ہے۔ اس میں حیا اور ندامت کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام کی یہ باتیں سن کر اس شخص نے کہا :آپ علیہ السلام نے بجا فرمایا۔ لیکن یہ تو بتائیے کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کا مواخذہ کرتا ہے تو اس کی علامت کیا ہے؟
بارگاہِ خداوندی سے ارشاد ہوا’’ میں ستار العیوب ہوں، البتہ اس کی گرفت کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ یہ نماز، روزے کی پابندی کرتا ہے، زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے۔ لمبی لمبی دعائیں بھی مانگتا ہے اور نیک عمل بھی دکھاوے کے لئے کرتا ہے لیکن اس کی روح کو اِن عبادتوں اور نیکیوں سے ذرّہ برابر بھی لذت نہیں ملتی۔ ظاہر میں اس کی عبادت اور نیکیاں خشوع و خضوع سے لبریز ہیں لیکن باطن میں پاک نہیں۔ اس کو کسی عبادت میں بھی روحانی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے درخت میں اخروٹ تو اَن گنت لگے ہوں مگر ان میں مغز نہ ہو۔ عبادت اور نیکیوں کا پھل پانے کے لئے ذوقی درکار ہے۔‘‘
جب اس شخص کو اپنے باطن کا پتہ چلا اور اپنی روحانی بیماری معلوم ہوئی تو وہ بہت حیران و پریشان ہوا۔
درسِ حیات:
انسان اس خوش فہمی میں نہ ر ہے کہ اس کی بدعملی اور غلط کاری پر اس کی گرفت نہیں ہوتی۔ گرفت کا انداز مختلف قسم کا ہوتا ہے۔
شیخی خور
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک سفلے اور شیخی خور آدمی کو کہیں سے دنبے کی چکی کا ایک ٹکڑا مل گیا۔ وہ روزانہ صبح اُٹھتے ہی اپنی مونچھیں دنبے کی چکی سے چکنی کر کے اکڑاتا اور امیروں اور دولت مندوں کی محفل میں جا کے بیٹھتا اور اکڑ کر بار بار کہتا: آج تو بڑے مرغن کھانے کھائے ہیں۔۔۔ بہت مزا آیا۔ لوگ اس کی بات کا یقین کرلیتے۔
جب جب وہ شخص اپنی جھوٹی امیری کا ڈھنڈورا پیٹتا، اس کا معدہ اللہ سے دُعا کرتا کہ یا اللہ اس شیخی خور کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کر دے۔ آخر اللہ نے اس کے معدے کی فریاد سن لی اور ایک روز اس کمینے شخص کے مکان میں ایک بلی گھس آئی اور دنبے کی چکی کا ٹکڑا منہ میں دبا کر بھاگ گئی۔
اس شخص کے بچے نے دولت مندوں کی محفل میں جا کر اونچی آواز میں باپ کو اطلاع دی کہ دنبے کی چکی کا وہ ٹکڑا جس سے آپ روزانہ اپنی مونچھیں چکنی کیا کرتے تھے، ایک بلی منہ میں دبا کر لے گئی ہے۔ میں نے اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی مگر وہ بھاگ گئی۔
بچے کے یہ کلمات سننے تھے کہ اس آدمی کا رنگ فق ہو گیا۔ محفل میں بیٹھے تمام لوگ بڑے حیران ہوئے، بعض تو بے اختیار ہنس پڑے۔ مگر کسی نے اس سے کچھ نہ کہا۔ وہ خود ہی اتنا شرمندہ تھا کہ کسی سے آنکھیں نہ ملا سکا۔ ان لوگوں نے اس کی ندامت دور کرنے کے لیے اس کی خوب دعوتیں کیں، اسے خوب کھلا پلا کر اس کا پیٹ بھرا۔ اس نے لوگوں کا ایسا رویہ دیکھا تو شیخی چھوڑ کر سچائی کو اپنا لیا۔
درسِ حیات:
جھوٹ بہت بڑی لعنت ہے۔