اللہ کی صحبت ALLAH KI SOHBAT

5/5 - (29 votes)

اللہ کی صحبت Allah ki Sohbat 

تحریر: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

سلطان الفقر سوم سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ’’الرسالۃ الغوثیہ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا:
یَا غَوْثَ الْاَعْظَمُ قُلْ لِاَصْحَابِکَ وَ اَحْبَابِکَ مَنْ اَرَادَ  مِنْکُمْ صُحْبَتِیْ فَعَلَیْہِ بِالْفَقْرِ ثُمَّ فَقْرِ الْفَقْرِ ثُمَّ فَقْرِ عَنْ فَقْرِ الْفَقْرِ فَاِذَا تَمَّ فَقْرُھُمْ فَلَاھُمْ اِلَّا اَنَا
ترجمہ: اے غوث الاعظمؓ! اپنے اصحاب اور اپنے احباب سے کہہ دو کہ تم میں سے جو کوئی میری صحبت چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ پھر فقر الفقر اختیار کرے اور پھر فقر الفقر سے فقر اختیار کرے۔ جب ان کا فقر مکمل ہو جاتا ہے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ 

اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام صرف چند مخصوص لوگوں یا جماعتوں کے لیے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا غوث الاعظمؓ کے تمام اصحاب و احباب کو دعوت دینے کا کہا ہے۔ اصحاب سے مراد ہیں وہ جو صحبت میں رہتے ہوں یا صحبت سے مستفید ہوئے ہوں۔لہٰذا اس سے ساتھی، دوست، شاگرد اور خدمتگار مراد لیے جا سکتے ہیں جبکہ احباب سے سب حلقہ ارادت مراد ہیں یعنی سیدنا غوث الاعظمؓ کے چاہنے والے۔ اس میں اہل و عیال بھی شامل ہیں اور تمام عزیز و اقارب بھی۔ سیدنا غوث الاعظمؓ کے مریدین اور عقیدتمند اور آپؓ سے نسبت رکھنے والے سب حلقہ احباب میں شامل ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا کہ جو اللہ کی صحبت چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ 

فقر وہ باطنی راستہ یا طریق ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور وِصال پاتا ہے۔ اس سے اگر اللہ کے دیدار کا علم یا راستہ مراد لیا جائے تو بے جا نہ ہوگا جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’فقر دیدارِ الٰہی کا علم ہے‘‘(عین الفقر)۔ فقر وہ نعمت ہے جس کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا باطنی ورثہ قرار دیا اور اس پر فخر فرمایا اور دیگر انبیا پر اپنے افتخار کا باعث قرار دیا۔ 

ایک حدیثِ مبارکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے اللہ کا خزانہ قرار دیا۔ ارشادِ نبویؐ ہے:
اَلْفَقْرُ کَنْزٌ مِنْ کُنُوْزِ اللّٰہِ تَعَالٰی ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
ذیل میں فقر کے متعلق اولیائے کاملین کے چند اقوال تحریر کیے جا رہے ہیں تاکہ فقر کا مفہوم بھی واضح ہو جائے اور اس مرتبہ سے آگاہی بھی حاصل ہو جائے۔

’’فقر نامہ امام جعفر صادق علیہ السلام‘‘ جو کہ سوال و جواب کی صورت میں لکھا گیا ہے، میں درج ہے کہ آپ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی یا ربّ العالمین سب کائنات میں سے تجھے کون عزیز ہے؟ تو جواب ملا  اَنْتَیعنی توُ (محمدؐ) عزیز ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر عرض کی تو جواب آیا  یَا مُحَمَّدُ کُلُّھُمْ یَطْلَبُوْنَ رِضَائِیْ وَ اَنَا اَطْلُبُ رِضَائَکَ      ترجمہ:’’ اے محمدؐ! سب میری رضا کے طالب ہیں اور میں آپ کی رضا کا طالب ہوں۔‘‘ تیسری دفعہ عرض کی تو جواب آیا  اَلْفُقَرَآئُ اَحِبَّائِیْ (ترجمہ: فقرا میرے دوست ہیں) پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر اختیار کیا اور فقیری کا تاج زیبِ سرِ مبارک فرمایا۔

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو بادشاہت کو ٹھوکر مار کر فقر کے راہی بنے تھے، فرماتے ہیں ’’فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ انہیں عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ ‘‘

حضرت شاہ سید کمال قادری کیتھلیؒ فرماتے ہیں ’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع میں فقر سے بڑھ کر اور کوئی اتباع نہیں‘‘۔ 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (محک الفقر کلاں)
تمام پیغمبروں نے فقر کے مرتبہ کی التجا کی لیکن نہیں ملا۔ صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہوا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی امت کے سپرد کیا۔ یہ فقرِ محمدیؐ محض فیض ہے۔ (امیر الکونین) 

علامہ اقبالؒ ضربِ کلیم میں فقر کے متعلق فرماتے ہیں:

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روحِ قرآنی
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار
اسی مقام سے آدم ہے ظلِ سبحانی

میرے مرشد کریم سلطان الفقر ہفتم، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
فقر وہ راہ ہے جو بندے کو اللہ سے ملا دیتی ہے۔

فقر وہ مرتبہ ہے جہاں پر انسان ہر قسم کی حاجات سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے مدِنظر رہتی ہے۔ اس لیے ہر حال میں تقدیرِالٰہی سے موافقت اختیار کیے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قرب کے سوا نہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتا ہے اور نہ اللہ کے غیر سے کچھ مطلب رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشا و رضا میں مداخلت کو گناہ سمجھتا ہے۔ اس لیے قرب و حضور کے سوا کچھ نہیں مانگتا۔ 

فقر کا راستہ مشاہدے کا راستہ ہے اور حق الیقین تک صرف مشاہدے کے ذریعے ہی پہنچا جاسکتا ہے۔

مختلف اولیا کرام کے اقوال سے فقر کی اہمیت اور فضیلت تو معلوم ہو گئی اور یہ بھی پتا چل گیا کہ فقر وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کی انتہا تک لے جاتا ہے اور ماسویٰ اللہ ہر شے سے لایحتاج بنا دیتا ہے۔ پس لازم ہے کہ فقر کے راستہ پر چلتے ہوئے طالب اپنی آرزوئیں، خواہشات، شہوات، ضروریات، فکریں، پریشانیاں سب بھول جائے حتیٰ کہ اپنی ہستی کو فراموش کر دے اور غیر ماسویٰ اللہ جو بھی ظاہری و باطنی محبت و تعلق ہے اس سے کنارہ کشی کر لے اور مرشد کی صحبت اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی بدولت باطنی و روحانی منازل طے کرے۔ وصالِ حق کے لیے تین مراتب کا حصول بہت ضروری ہے اوّل فنا فی الشیخ، دوم فنا فی الرسولؐ، سوم فنا فی اللہ۔

 حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مریدوں کے تین مراتب ہیں۔ پہلا مرتبہ فنا فی الشیخ ہے۔ جب شیخ کی صورت مرید کے تصور میں رہتی ہے تو وہ جس طرف بھی نظر کرتا ہے اسے شیخ کا تصرف ہی نظر آتا ہے۔ دوسرا مرتبہ فنا فی اسمِ محمد ہے۔ اس مرتبہ پر جب مرید کو صورتِ اسمِ محمد کا تصور حاصل ہوتا ہے تو تمام ماسویٰ اللہ اس کے وجود سے نکل جاتے ہیں۔ وہ جس طرف بھی دیکھتا ہے اسے مجلسِ محمدی ؐ ہی نظر آتی ہے۔ تیسرا مرتبہ فنا فی اللہ ہے۔ جب مرید کو اسمِ اللہ ذات کا تصور حاصل ہو جاتا ہے تو اس کا نفس مکمل طور پر مر جاتا ہے۔ وہ جس طرف بھی دیکھتا ہے اسمِ اللہ ذات کے انوارکی بے شمار تجلیات سے مشرف ہوتا ہے۔ اس مرتبہ کو لامکان کہتے ہیں۔ (شمس العارفین)

مرتبہ فنا فی الشیخ

فنا فی الشیخ راہِ فقر کے عظیم الشان مقامات میں سے ہے۔ فنا فی الرسولؐ ہو کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پا لینے اور فنا فی اللہ بقاباللہ ہو کر اللہ کی پاک ذات کو اپنی ذات میں حق الیقین سے پا لینے سے قبل فنا فی الشیخ کی منزل طے کرنا ناگزیر ہے۔ راہِ فقر کے طالبوں کے لیے فنا فی الشیخ کا مقام ہمیشہ سے بہت پرُکشش لیکن پرُاسراریت کا حامل رہا ہے کیونکہ شیخ (مرشد) ان کو اپنے سامنے جیتے جاگتے گوشت پوست کے وجود کے ساتھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کے وجود میں فنا ہونے کا تصور طالب کے وہم و فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ لیکن طالب میں مرشد کے شدید عشق کا جذبہ اسے شیخ کی ذات میں فنا ہونے کے لیے دن رات بے چین و بے قرار بھی رکھتا ہے۔ فقر میں سب سے مشکل کام اور ہر جدوجہد کا حاصل فنا فی الشیخ ہی ہے۔ شیخ چونکہ پہلے ہی فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے مقام پر ہوتا ہے اس لیے فنا فی الشیخ کے مقام تک رسائی کے بعد فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا کچھ خاص مشکل نہیں رہتا۔ اصل ہمت اور کوشش فنا فی الشیخ کے مقام تک پہنچنے کے لیے ہی کی جاتی ہے۔

فنا فی الشیخ حقیقتاً کیا ہے؟ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سر سے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جب تک مرشد سے اس قدر شدید عشق نہ ہوگا، طالب کی اپنی ہستی فنا ہوگی اور نہ ہی اس میں مرشد کی ذات آئے گی۔ جس طالب کو مرشد سے ’’عشق‘‘ نہ ہوگا وہ مرشد پر اپنی ہستی لٹا دینے سے بھی دریغ کرے گا اور اطاعت میں بھی کمی و کوتاہی رہ جائے گی۔ پس فنا فی الشیخ کے اعلیٰ ترین مقام تک رسائی مشکل ہو جائے گی اور جو فنا فی الشیخ کی ابتدائی منزل تک نہ پہنچ پائے گا اس کا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا ناممکن ہے یعنی طالب کی اللہ کی ذات کو پانے کی آرزو کبھی تکمیل کو نہ پہنچ سکے گی۔ مرشد کے شدید عشق کے حصول سے قبل طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم ’توحیدِ مطلب‘ تک ضرور بالضرور پہنچے۔

 حضرت شاہ سید محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ توحیدِ مطلب کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
اپنے شیخ کی جانب یکسوئی، اس سے انتہا درجہ کی محبت اور جان و مال سے بھی زیادہ اسے عزیز رکھنا اور یہ سمجھنا کہ گو دنیا میں ہزاروں لاکھوں بزرگ ہوں مگر میرا مطلب میرے ہی شیخ سے حاصل ہوگا اور میرے فتح ٔباب یعنی ہر مشکل اور ہر دروازے کو   کھولنے کی کنجی میرے ہی شیخ کے ہاتھ میں ہے، توحیدِ مطلب کے نام سے موسوم ہے۔ اخذِ فیضان کے لیے توحیدِ مطلب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جب تک اپنے شیخ کے ساتھ اس نوع کی یکسوئی کا تعلق پیدا نہ ہوگا اخذِ فیضان نہ ہو سکے گا۔ 

دوئی بمذہبِ عشاقِ معنوی کفر است
خدا یکے و پیمبر یکے و پیر یکے

ترجمہ: حقیقی عشاق کے مذہب میں دوئی کفر ہے۔ اللہ بھی ایک ہے، پیغمبر بھی ایک ہے اور پیر ِ کامل بھی ایک ہے۔(سرّ ِ دلبراں)

توحیدِ مطلب پر پہنچنے کے لیے انتہائی ضروری کام خدمت اور اطاعتِ مرشد ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورۃ النسائ۔59)
ترجمہ: اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور اس کی جو تم میں سے اولی الامر ہو۔ 

اس آیت میں اولی الامر سے مراد وہ کامل اکمل مرشد ہے جو فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہو، جس کا قدم قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہو اور جو حقیقتاً اللہ کا خلیفہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب ہو کیونکہ صرف اسی کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوگا۔ بعض لوگ اولی الامر سے مراد دنیاوی حکمران بھی لیتے ہیں حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاوی حکمرانوں کے نہ اعمال اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف سے دئیے گئے احکام اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں۔ جس کا حکم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے متصادم ہو وہ ہرگز اولی الامر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ مرشد کامل اکمل ہی وہ حقیقی اولی الامر ہے جس کی اطاعت کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔ 

فنا فی الشیخ کے تین مراتب ہیں 

(۱)تصورِ شیخ کا حصول
 (۲)رابطۂ شیخ
(۳)فنا فی الشیخ

تصورِ شیخ:

طالب کسی لمحے اور کسی پل بھی تصورِ شیخ سے خالی نہ رہے بلکہ ہر وقت اپنے مرشد کامل کا نورانی وجود اپنے اردگرد محسوس کرے۔ یہ نورانی وجود نہ صرف ہر لمحے شیطان سے اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اپنے وجود کے احساس کے ذریعے اسے ہر طرح کے ظاہری و باطنی گناہ سے روکے رکھتا ہے۔ 

سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
عارف ہر گھڑی دو آنکھوں سے متردد رہتا ہے۔ (الفتح الربانی)

یہ دو آنکھیں مرشد کامل اکمل کی ہوتی ہیں جو ہر دَم اسے دیکھ رہی ہوتی ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلا کر طالب کو گناہ سے روکتی ہیں کیونکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اگر کوئی اسے دیکھ رہا ہو تو وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہے۔ مرشد کی ہر لمحہ اس کے اندر اور اس کے اردگرد موجودگی کا احساس اُسے ظاہری گناہوں سے بھی روکتا ہے اور باطنی گمراہ کن خیالات سے بھی بچاتا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ اسے یہ یقین بھی حاصل ہو جاتا ہے کہ مرشد اس کے تمام نیک و بد خیالات اور ارادوں سے بھی آگاہ ہے۔ پس اس طرح مرشد کامل اپنا تصور اور اپنے قرب کا احساس دے کر طالب کو ہر طرح کے ظاہری و باطنی گناہوں سے بچالیتا ہے۔ 

جب طالب فنا فی الشیخ کے اس ابتدائی درجہ میں ترقی کرتا ہے تو تصورِ شیخ اس پر اس قدر غالب آجاتا ہے کہ نماز اور رکوع و سجود میں بھی اس کی نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ ایسے میں کچھ طالب گھبرا جاتے ہیں اور اسے شرک خیال کر کے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اس مسئلے کو بڑے اچھے انداز میں حل فرمایا ہے۔ آپؒ کے ایک مرید نے آپؒ کو خط لکھا کہ اس کا تصورِ شیخ اس حد تک غالب آچکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے اور اگر فرضاً نفی کرے تو بھی حقیقتاً نفی نہیں ہوتا یعنی نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب میں لکھا ’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحبِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے۔ تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (شیخ) مسجود الیہ ہے مسجود لہٗ نہیں (یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے)۔ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی)۔اس قسم کا ظہور سعادت مندوں کو ہی میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے) اپنا وسیلہ جانیں اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں نہ کہ اس بدنصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو (اللہ تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کے وسیلے سے) بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلۂ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔‘‘ (مکتوب نمبر30۔ دفتر دوم، حصہ اوّل،صفحہ101)

رابطۂ شیخ:

اگر طالب تصورِ شیخ کے حصول کے بعد اس میں کسی قسم کا شک نہ کرے اور انتہائی محبت اور ذوق و شوق سے اس تصور میں محو رہے اور اس پر استقامت اختیار کرے تو جلد ہی باطن میں اس کا رابطہ اپنے شیخ سے استوار ہو جاتا ہے یعنی طالب و مطلوب، عاشق و معشوق، مرید و مراد میں گفتگو اور ہم کلامی کا ایک انتہائی پرُلطف اور سحر انگیز سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں طالب کی روح اپنے مرشد کی روح میں فنا ہونے کے سفر کا آغاز کرتی ہے یعنی روحانی طور پر یکتائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نور سے نور ملتا ہے اور بغیر آواز کے روحانی و نورانی گفتگو جاری ہو جاتی ہے۔ مرشد کامل سے باطنی رابطہ استوار ہونے سے طالب کو مرشد کی باطنی صحبت میسر آجاتی ہے اسی باطنی رابطے کے دوران مرشد طالب کو وہ علمِ لدنیّ عطا کرتا ہے جو فقہ و شریعت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ 

اس باطنی رابطے کے دوران مرشد کامل طالب میں اپنی صفات بھی منتقل فرماتا ہے اور حدیثِ مبارکہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ  ترجمہ’’اخلاقِ الٰہیہ سے متخلق ہو جاؤ‘‘ کے مطابق اخلاق و صفاتِ الٰہیہ کی طالب میں نمود کرتا ہے۔ جس قدر مرشد اور طالب کا رابطہ مضبوط اور کامل ہوتا ہے اتنی ہی صفاتِ مرشد مرید میں منتقل ہوتی ہیں حتیٰ کہ طالب صفات و ذاتِ مرشد کا آئینہ بن جاتا ہے۔

فنا فی الشیخ:

جب طالب کا باطن رضائے حق کے مطابق سنور جاتا ہے تو اس کے ظاہر کو سنوارا جاتا ہے۔ طالب باطنی طور پر مرشد کا آئینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہری جسم میں بھی مرشد کا عکس بن جاتا ہے۔ فنا فی الشیخ کی یہ کیفیت محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہے کہ طالب کو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا چہرہ اس کا نہیں بلکہ اس کے مرشد کا ہے، اس کی آنکھیں حقیقتاً اس کے مرشد کی آنکھیں ہیں، اس کے ہاتھ پیر حتیٰ کہ پورا جسم اس کے مرشد کا ہے۔ پس طالب کی روح کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھی مرشد کے جسم میں فنا ہو جاتا ہے اور مقامِ فنا فی الشیخ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اس مقام کے متعلق فرماتے ہیں:
مرتبۂ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم اور مرشد کا جسم ایک ہو جائیں۔ (نورالہدیٰ کلاں)
مرتبہ فنا فی الشیخ کا مقام عالمِ لاھوُت (واحدیت) ہے۔

مرتبہ فنا فی الرسول

فنا فی الشیخ کے مقام میں کاملیت کے حصول کے بعد طالب جیسے ہی اپنے شیخ کی ذات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تحقیقاً پا لیتا ہے تو فنا فی الرسول کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ فنا فی الرسول کا مقام عالمِ یاھوُت (وحدت) ہے۔ 

مرتبہ فنا فی اللہ

فنافی الرسولؐ ہونے کے بعد جب طالب اپنے شیخ کی ذات میں اللہ کی ذات کو تحقیق کر لیتا ہے تو فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔ فنا فی اللہ کا مقام عالمِ ھاھویت (احدیت) ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
راہِ فقر میں یہ آخری مقام ہے۔ فنا فی اللہ سے مراد طالب کا بشریت اور روحانیت (ظاہر و باطن) میں اس طرح فانی ہونا ہے کہ اَنا، عقل، نفس، دنیا و عقبیٰ اور احوال و مقامات فانی ہو جائیں اور ماسویٰ اللہ کا مکمل طور پر نسیان ہو جائے۔ یعنی بندہ مقامِ ربوبیت میں اس طرح غرق ہو کہ نہ تو اپنا اور نہ ہی موجودات کا وجود اس کی نظر میں باقی رہے۔ اسی کو غرقِ توحید کہتے ہیں اور ایسے سالک کو عارف اللہ کہا جاتا ہے۔  (شمس الفقرا)

مرتبہ بقا باللہ

فنا فی اللہ بھی کامل مرتبہ نہیں۔ اس کے بعد بقاباللہ کا مرتبہ آتا ہے جو کہ انتہائی اور کامل ترین مرتبہ ہے جس کے بارے میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اس مرتبہ میں طالب فنا سے بھی فانی ہو جاتا ہے۔ جب طالب مقامِ فنا فی اللہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہو کر دوبارہ بقا کی حالت میں آتا ہے تو اسے بقا باللہ یا عارف باللہ کہا جاتا ہے۔ یہاں پر انسان کامل ہو کر تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوتا ہے اور وہ اللہ کی سماعت سے سنتا اور اللہ کی بصارت سے دیکھتا ہے۔ اس مقام پر طالبِ مولیٰ باطن میں مقامِ ربوبیت پر اور ظاہر میں مقامِ عبودیت پر ہوتا ہے۔ (شمس الفقرا)

پس فقراختیار کرنے سے مراد فنا فی الشیخ ہونا، فقر الفقر اختیار کرنے سے مراد فنا فی الرسول ہونا اور فقر الفقر سے فقر اختیار کرنے سے مراد فنا فی اللہ ہونا ہے۔ جس کے بعد بقا باللہ کا مرتبہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سیدنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا ’’جب فقر مکمل ہو جاتا ہے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے‘‘۔ کیونکہ فقر کی تمامیت پر پہنچ کر انسان عین وہی ذات بن جاتا ہے جسے انسانِ کامل بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور اس زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب یا خلیفہ ہوتا ہے جسے امامِ زمانہ اور امام الوقت بھی کہتے ہیں۔ 

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کامل صاحبِ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:

  جاودانی التجائی با فقر باشد تمام
احتیاج از کس نہ باشد فقر لایحتاج نام

ترجمہ: فقر جب کامل ہو جاتا ہے تو اسے التجا و التماس کی قطعاً حاجت نہیں رہتی اور نہ وہ کسی سے غرض رکھتا ہے کہ اس کا نام ہی لایحتاج فقر ہے۔ (محک الفقر کلاں)

انسانِ کامل کے بارے میں کپتان ڈبلیو بی سیال لکھتے ہیں:
مقام فنا فی اﷲ میں رہ کر بحرِذات و صفاتِ الٰہی میں غوطے لگا کر بندۂ مومن بمصداق حدیثِ قدسی ’’بِیْ یَسْمَعْ وَ یُبْصِرُ‘‘حق تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوتاہے ۔اس مقام کی طرف ایک اور حدیث سے بھی اشارہ ہوتاہے جس میں کہاگیا ہے تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ   (اﷲ کی صفات سے متصف ہوجاؤ)۔ جب صفاتِ الٰہی سے بندۂ مومن متصف ہوکر واپس بقا کی حالت کی طرف آتاہے تو بحیثیت انسانِ کامل خلافتِ الٰہیہ کا تاج اس کے سر پر رکھا جاتا ہے اور یہ مقام انسانی عروج کا بلند ترین مقام ہے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاصہ ہے۔ یہ عبدیت کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ فنا میں رہ کر آدمی ہمیشہ کیلئے غرق ہوجاتا ہے۔ (روحانیت اور اسلام)

حضرت شاہ سید محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’انسانِ کامل تمام موجودات کا خلاصہ ہے۔ باعتبار اپنی عقل اور روح کے اُمُّ الکتاب ہے، باعتبار قلب کے لوحِ محفوظ ہے، باعتبار اپنے نفس کے محو و اثبات کی کتاب ہے۔ انسانِ کامل ہی صحفِ مکرمہ اور یہی وہ کتابِ مطہر ہے جس سے کوئی چیز نہیں چھوٹی۔ اس کے اسرار و معانی کو سوائے ان لوگوں کے جو حجاباتِ ظلماتی سے پاک ہوں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔‘‘ (سِرّ دلبراں)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل کی راہنمائی کے بغیر ناممکن ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے قرب و وصال کی راہ چونکہ شریعت کے دروازہ سے ہو کر گزرتی ہے اس لیے شریعت کے دروازے کے دونوں طرف شیطان اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت بیٹھا ہے۔ اوّل تو وہ کسی آدم زاد کو شریعت کے دروازے تک آنے ہی نہیں دیتا اگر کوئی باہمت آدمی شریعت (نماز، روزہ ، زکوٰۃ، حج) کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے تو شیطانی گروہ اسے شریعت کی چوکھٹ پر روک رکھنے کی کوشش کرتاہے اور اسے شریعت کی ظاہری زیب و زینت کے نظاروں میں محو رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ شریعت کی روح تک کسی کو نہیں پہنچنے دیتا۔ (شمس الفقرا)

لیکن وہی شخص کامیاب ہے جو شیطان کے بہکاوے میں نہ آئے اور نہ ہی فقر کے راستے سے برگشتہ ہو بلکہ فقر کے راستے کو اختیار کرے اور اللہ کی پہچان حاصل کر کے اپنے مقصدِ حیات میں کامیابی حاصل کرے۔

فقر کے راستے پر چلنے اور فنا کے تمام مراتب حاصل کرنے کے لیے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کے دامن سے وابستہ ہونا ضروری ہے کیونکہ مرشد کامل کے وسیلے کے بغیر انسان نہ تو فقر کے راستہ پر چل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مقام و مرتبہ پا سکتا ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے پہلے فنا فی الشیخ کا مرتبہ پانا ضروری ہے اور اس کے بعد ہی فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقاباللہ کے مرتبہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ عبادت و ریاضت کے ذریعے انسان فنا فی اللہ بقاباللہ کے مقام تک رسائی کسی صورت میں نہیں کر سکتا۔ 

سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ مرشد کامل اکمل کے متعلق فرماتے ہیں:
تم کسی ایسے شیخِ کامل کی صحبت اختیار کروجو حکمِ خداوندی اور علمِ لدنیّ کا واقف کارہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔جو کسی فلاح والے کو نہیں دیکھے گا فلاح نہیں پا سکتا۔تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
مرشد کامل اکمل باطن کی ہر منزل اور ہر راہ کا واقف ہوتا ہے۔ باطن کی ہر مشکل کا مشکل کشا ہوتا ہے ۔ مرشد کامل توفیقِ الٰہی کا نام ہے، جب تک توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو کوئی کام سر انجام نہیں پاتا۔ مرشد کامل کے بغیر اگر تُو تمام عمر بھی اپنا سر ریاضت کے پتھر سے ٹکراتا رہے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گاکہ بے مرشد و بے پیر کوئی شخص خدا تک نہیں پہنچ سکا۔ مرشد کامل اکمل جہاز کے دیدہ بان معلم کی طرح ہوتا ہے جو جہاز رانی کا ہر علم جانتا ہے اور ہر قسم کے طوفان وبلا سے جہاز کو نکال کر غرق ہونے سے بچا لیتا ہے ۔ مرشد خود جہاز، خود جہاز ران ہوتا ہے (سمجھ والا سمجھ گیا)۔ (عین الفقر)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

سے روزے سے نفل نمازاں، سے سجدے کر کر تھکے ھوُ
سے واری مکے حج گزارن، دِل دِی دوڑ ناں مکے ھوُ
چِلے چلیہے جنگل بھونا، اِس گل تِھیں ناں پکے ھوُ
سبھے مطلب حاصل ہوندے باھوؒ، جد پیر نظر اِک تکے ھوُ

مفہوم:مرشد کامل اکمل کی راہبری و راہنمائی کے بغیر معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے ہزاروں نوافل ادا کیے، سینکڑوں مرتبہ سجدہ میں سر رکھ کر التجا کی، حج ادا کیے، چالیس چالیس روز چلہ کشی بھی کی اور پھر جنگلوں میں تلاشِ حق کے لیے بھی پھرتے رہے لیکن ناکام رہے اور معرفتِ الٰہی سے محروم رہے لیکن جب میں نے مرشد کامل کی غلامی اختیار کی اور میرے مرشد کامل نے ایک نگاہِ فیض مجھ پر ڈالی تو میں نے اپنی منزلِ حیات کو پا لیا۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

ناں ربّ عرش معلی اُتے، ناں ربّ خانے کعبے ھوُ
ناں ربّ علم کتابیں لبھا، ناں ربّ وِچ محرابے ھوُ
گنگا تیر تِھیں مول نہ مِلیا، مارے پینڈے بے حسابے  ھوُ
جد دا مرشد پھڑیا باھوؒ، چھٹے کل عذابے ھوُ

مفہوم:میں نے اللہ تعالیٰ کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا ٹھکانہ نہ ہی عرشِ معلی پر اور نہ ہی خانہ کعبہ میں ہے ۔نہ ہی کتابوں کے مطالعہ میں اور علم حاصل کرنے میں ہے اور نہ ہی مساجد و محراب اور عبادت گاہوں میں ہے اور نہ ہی جنگلوں میں جا کر زہد و ریاضت کرنے میں ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کا ٹھکانہ مرشد کامل اکمل (صاحبِ راز) کے سینے میں ہے۔ میں نے جب سے مرشد کا دامن پکڑا ہے تلاشِ حق تعالیٰ کے لیے میری ساری مشقتیں اور پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

شیخ محمد ہاشمیؒ فرماتے ہیں ’’کسی ایسے شیخ کے دستِ اقدس میں ہاتھ دو جو باحیات ہو، عارف باللہ مخلص اور صادق ہو، علمِ صحیح اورذوقِ سلیم کا مالک ہو، اِس نے منازلِ سلوک کو کسی مرشد کامل کے ہاتھ پر طے کیا ہو، طریقت کے راستہ کے پیچ وخم جاننے والاہو تاکہ تجھے اس راستہ میں آنے والی مصیبتوں، پریشا نیوں اور ہلاکت سے بچائے اور ماسویٰ اللہ سے فرار کی تعلیم دے۔ نفس کے عیوب کو ختم کرے اور جب تجھے اس کا عرفا ن حاصل ہو جا ئے تو توُ اس سے محبت کرنے لگے اور جب توُ اُس سے محبت کرنے لگے گا تو اس کے احکام کی بجاآوری میں ہچکچا ہٹ نہیں کر ے گا اور اس طرح وہ تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچادے گا ۔‘‘

حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’پیرِکامل کی صحبت اور غلامی کے بغیر کوئی شخص صوفی اور عارف باللہ نہیں بن سکتا۔ (کشف المحجوب)

حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توحید، رسالت، عقائد، زہدوتقویٰ، مکا شفات، ذکر، اذکار وغیرہ کی درستی کے لیے شیخِ کامل کا ہو نا ضروری ہے اور راہ ِسلوک کا ایک سفر بھی شیخ کے بغیر طے کرنا ممکن نہیں۔ فرماتے ہیں خواہ کتناہی زاہداور عابد کیوں نہ ہو وہ شیطان کے پھندوں سے نہیں بچ سکتا، یہ علم سلسلہ وار بزرگوں سے چلا آرہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ کسی شیخِ کامل سے ذکر کا صحیح طریقہ سیکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ طریقہ سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے اوراس تعلیم کی ابتدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شروع ہوتی ہے اور شیخِ کامل نائبِ رسول ہوتا ہے اور مریدین کو راہِ حق (صراطِ مستقیم) دکھاتا ہے۔ آپؒ نے اپنی تعلیمات میں اس با ت پر بہت زور دیا ہے کہ جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہوتا ہے۔ (شمائمِ امدادیہ)

دورِ حاضر کے مجدد، نائبِ رسولؐ، آفتابِ فقر، شانِ فقر، سلطان الفقر ہفتم، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ کی نگاہِ کامل سے اب تک دنیا بھر سے لاکھوں مرد و خواتین فیضیاب ہوئے ہیں اور مسلسل ہو رہے ہیں۔ متلاشیانِ حق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ خانقاہ سلطان العاشقین میں حاضر ہو کر مرشد کامل اکمل کی صحبت سے فیضیاب ہوں، جب وہ مرشد کی روحانی تربیت سے تمام روحانی مراتب و مقامات طے کر لیں گے تو اللہ کی صحبت میں پہنچ جائیں گے۔

استفادہ کتب:
۱۔ شمس الفقرا  ۲۔ ابیاتِ باھوؒ کامل  ۳۔فقر نامہ امام جعفر صادقؓ   ۴۔ الرسالۃ الغوثیہ۵۔ شمس العارفین   ۶۔ نور الہدیٰ کلاں  ۷۔محک الفقر کلاں  ۸۔سرِّ دلبراں

 

14 تبصرے “اللہ کی صحبت ALLAH KI SOHBAT

  1. سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ مرشد کامل اکمل کے متعلق فرماتے ہیں:
    تم کسی ایسے شیخِ کامل کی صحبت اختیار کروجو حکمِ خداوندی اور علمِ لدنیّ کا واقف کارہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔جو کسی فلاح والے کو نہیں دیکھے گا فلاح نہیں پا سکتا۔تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)

  2. فقر وہ باطنی راستہ یا طریق ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور وِصال پاتا ہے

  3. دورِ حاضر کے مجدد، نائبِ رسولؐ، آفتابِ فقر، شانِ فقر، سلطان الفقر ہفتم، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ کی نگاہِ کامل سے اب تک دنیا بھر سے لاکھوں مرد و خواتین فیضیاب ہوئے ہیں اور مسلسل ہو رہے ہیں۔ متلاشیانِ حق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ خانقاہ سلطان العاشقین میں حاضر ہو کر مرشد کامل اکمل کی صحبت سے فیضیاب ہوں، جب وہ مرشد کی روحانی تربیت سے تمام روحانی مراتب و مقامات طے کر لیں گے تو اللہ کی صحبت میں پہنچ جائیں گے۔

  4. اللہ کی صحبت حاصل کرنے کے لیے فقر اختیار کرنا چاہیے اور فقر سلطان العاشقین کی ذات سے ملے گا

  5. فقر وہ باطنی راستہ یا طریق ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور وِصال پاتا ہے

  6. فقر کے راستے پر چلنے اور فنا کے تمام مراتب حاصل کرنے کے لیے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کے دامن سے وابستہ ہونا ضروری ہے کیونکہ مرشد کامل کے وسیلے کے بغیر انسان نہ تو فقر کے راستہ پر چل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مقام و مرتبہ پا سکتا ہے

  7. کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
    وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روحِ قرآنی

  8. راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (محک الفقر کلاں)

  9. متلاشیانِ حق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ خانقاہ سلطان العاشقین میں حاضر ہو کر مرشد کامل اکمل کی صحبت سے فیضیاب ہوں، جب وہ مرشد کی روحانی تربیت سے تمام روحانی مراتب و مقامات طے کر لیں گے تو اللہ کی صحبت میں پہنچ جائیں گے۔❤️🌹

اپنا تبصرہ بھیجیں