کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation
قسط نمبر43 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
حدیث نمبر 21
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ وَ مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا فَھُوَ مَعَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ط
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو کسی قوم سے مشابہت رکھے گا وہ اسی میں سے ہو گا اور جو کسی شے سے محبت رکھے گا تو قیامت کے روز اس شے کے ساتھ ہی ہوگا۔‘‘
حدیث نمبر 22
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لِاَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لِلْخَادِمِ فِیْ خِدْمَۃِ الْمُؤْمِنِ مِثْلُ اَجْرِالصَّائِمِ بِالنَّھَارِ وَ الْقَائِمِ بِاللَّیْلِ وَ مِثْلُ اَجْرِ الْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لَا تُرَدَّ دَعْوَتُھُمْ وَ مِثْلُ اَجْرِ الْحَاجِّ وَالْعُمَرَ وَ مِثْلُ اَجْرِ الْمُبْتَلِ وَ مِثْلُ اَجْرِ کُلَّ بَازٍ فِی الْاَرْضِ فَطُوْبٰی لِلْخَادِمِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ لِلْخَادِمِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفَاعَتُہٗ فِی النَّاسِ مِثْلُ غَنَمَ رَبِیْعٍ وَ مُضَرَ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَلَیْکَ وَسَلَّمْ فَاِنْ کَانَ الْخَادِمُ فَاجِرًا قَالَ یَا اَنَسُ خَادِمُ السُّوْٓئُ اَفْضَلُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ اَلْفِ عَابِدٍ مُجْتَھِدٍ وَ مَنْ یَعْلَمُ مُحْتَسِبُ وَ لِلْخَادِمِ مِثْلُ اَجْرٍ مَّنْ یَّخْدَمُہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ یُّنْقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ ط
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’مومن (فقیر) کے خادم کے لیے دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کے برابر اجر ہے۔ نیز فقیر کے خادم کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں جتنا اجر ہے جن کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ فقیر کے خادم کو حج و عمرہ کرنے والوں اور زاہدوں کے برابر اجر ملتا ہے اور ان کے لیے زمین پر موجود ہر شہباز کے برابر اجر مقرر ہے۔ قیامت کے روز اس خادم کے لیے خوشخبری ہوگی اور اس کی شفاعت دیگر لوگوں (کے حق) میں قبیلہ ربیع اور مضر کی بکریوں کی تعداد کے برابر قبول ہوگی۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! اگر وہ خادم فاجر ہو تو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے انسؓ! ایسا گناہگار خادم اللہ کے نزدیک ہزار عابدوں اور مجتہدین اور حساب جاننے والوں سے افضل ہے اور خادم کے لیے مخدوم کے برابر اجر ہے اور اس کے اجر میں کسی بھی چیز سے کوئی کمی نہ ہوگی۔‘‘
حدیث نمبر 23
عَنِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ اَفْضَلُ الْاَشْیَآئِ ثَلٰثَۃٌ اَلْعِلْمُ وَ الْفَقْرُ وَ الزُّھْدُ ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ’’تین چیزیں تمام اشیا سے افضل ہیں علم، فقر اور زہد۔ــ‘‘
حدیث نمبر 24
جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلَ اللّٰہِِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الْفَقْرُ قَالَ خَزَانَۃٌ مِّنْ خَزَائِنِ اللّٰہِ تَعَالٰی ثُمَّ قَالَ مَا الْفَقْرُ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐقَالَ کَرَامَۃٌ مِّنْ کَرَامَاۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَا یُعْطِیْہِ اللّٰہُ اِلَّا نَبِیًّا مُّرْسَلًا اَوْ وَلِیًّا مُّخْلِصًا وَ اَجْرُ الْعَبْدِ الْکَرِیْمِ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا کہ فقر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقر اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔‘‘ اس شخص نے پھر پوچھا یا رسول اللہ! فقر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقر کراماتِ الٰہی میں سے ایک کرامت ہے جو اللہ مرسلین انبیا اور مخلص اولیا کے سوا کسی کو عطا نہیں فرماتا اور کریم انسان کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘
حدیث نمبر 25
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کَلَامُ الْفُقَرَآئِ کَلَامُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ مَنْ یَّتَھَاوَنَ بِکَلَامِھِمْ فَقَدْ تَھَاوَنَ بِکَلَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ مَنْ عَادِیَ الْفُقَرَآئِ کَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِیَّاھُمْ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقرا کا کلام اللہ کا کلام ہے۔ جس نے ان کے کلام کی اہانت کی گویا اس نے اللہ کے کلام کی اہانت کی اور جو فقرا سے دشمنی رکھے گا اللہ تعالیٰ ان (دشمنوں سے نبٹنے) کے لیے کافی ہوگا۔ــ‘‘
حدیث نمبر 26
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْفُقَرَآئِ عَلَی الْاَغْنِیَآئِ کَفَضْلِیْ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ ھُوَ الْفَقِیْرُ الَّذِیْ لَا یَعْلَمُ النَّاسُ بِجُوْعِہٖ وَ مَرْضِہٖ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقرا کی اغنیا پر فضیلت ایسے ہے جیسے میری فضیلت تمام مخلوقِ خدا پر ہے اور فقیر وہ ہے جو اپنی بھوک اور بیماری کے باوجود لوگوں سے واقف نہ ہو (یعنی کسی بھی حالت میں مخلوق کی طرف متوجہ نہ ہو)۔
حدیث نمبر 27
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللّٰہُ کُلُّ خَلْقٍ مِنْ طِیْنِ الْاَرْضِ وَ خَلَقَ الْاَنْبِیَآئَ وَ الْفُقَرَآئَ مِنْ طِیْنِ الْجَنَّۃِ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدِ اللّٰہِ فَلْیُکْرِمُ الْفُقَرَآئِ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا اور انبیا و فقرا کو جنت کی مٹی سے پیدا کیا۔ پس جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کا حقیقی بندہ بن جائے وہ فقرا کی عزت کرے۔‘‘
حدیث نمبر 28
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَلْاَغْنِیَآئُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ھُوَ الْفُقَرَآئِ وَ لَوْ لَا الْفُقَرَآئُ لَھَلَکَ الْاَغْنِیَآئُ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اغنیا صرف دنیا میں ہی غنی ہیں آخرت میں وہ محتاج ہوں گے۔ اگر فقرا نہ ہوتے تو اغنیا ہلاک ہو چکے ہوتے۔‘‘
حدیث نمبر 29
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مِثْلُ الْفُقَرَآئِ مَعَ الْاَغْنِیَآئِ کَمِثْلِ الْعَصَآئِ بِیَدِ الْاَعْمٰی۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقرا کی اغنیا کے ساتھ مثال ایسے ہی ہے جیسے لاٹھی کی اندھے کے ساتھ (یعنی اغنیا فقرا کے ایسے محتاج ہیں جیسے اندھا لاٹھی کا)۔‘‘
حدیث نمبر 30
قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ لَعْنَ اللّٰہُ مَنْ اَکْرَمَ غَنِیًّا لِغِنَآئِہٖ وَ لَعْنَ اللّٰہُ مَنْ اَھَانَ فَقِیْرًا لِفَقْرِہٖ وَ یُسَمّٰی فِی السَّمٰوٰتِ عَدُوًّا اللّٰہِ وَ عَدُوَّ الْاَنْبِیَآئِ وَ لَا یَسْتَجَابُ لَہٗ دَعْوَۃٌ وَ لَا یُقْضٰی لَہٗ حَاجَۃٌ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ان پر اللہ کی لعنت ہے جو اغنیا کی عزت ان کی غنایت (توانگری) کے باعث کرتے ہیں اور ان پر بھی اللہ کی لعنت ہے جو فقرا کی اہانت ان کے فقر کے باعث کرتے ہیں۔ ایسے شخص کو آسمانوں میں اللہ اور انبیا کا دشمن سمجھا جاتا ہے جس کی نہ کوئی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حاجت پوری کی جاتی ہے۔‘‘
حدیث نمبر 31
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمَلٰٓئِکَۃَ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلْفُقَرَآئِ وَ یَشْفَعُوْنَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لِمَنْ شَفَعَ لَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مَآ اَحْسَنَ حَالَہٗ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک ملائکہ فقرا کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے قیامت کے روز شفاعت کریں گے اور جس کے لیے ملائکہ شفاعت کریں اس کا کیا ہی عمدہ حال ہوگا۔‘‘
حدیث نمبر 32
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَنْظُرُ اِلَی الْفُقَرَآئِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مِائَۃِ مَرَّۃٍ فَیَغْفِرْلَھُمْ بِکُلِّ نَظْرٍ سَبْعَ خَطِیْئَۃٍ ط
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ فقرا کی طرف ایک دن میں پانچ مرتبہ (رحمت کی نگاہ سے) دیکھتا ہے اور ہر نظر میں ان کی سات خطائیں معاف فرماتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر 33
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَلْفَقْرُ ذِلَّۃٌ فِی الدُّنْیَا وَ عِزَّۃٌ فِی الْاٰخِرَۃِ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقر دنیا میں ذلت جبکہ آخرت میں عزت کا باعث ہو گا۔‘‘
حدیث نمبر 34
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مَنْ اَذٰی مُؤْمِنًا فَقِیْرًا بِغَیْرِحَقٍ فَکَاَنَّمَا ھَدَمَ الْکَعْبَۃَ وَ قَتَلَ اَلْفَ مَلَکٍ مِّنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔
ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس نے کسی مومن فقیر کو ناحق اذیت دی تو گویا اس نے کعبہ کو منہدم کیا اور ایک ہزار مقرب ملائکہ کو قتل کیا۔‘‘
حدیث نمبر 35
قَالَ الرَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حُرْمَۃُ الْمُؤْمِنُ الْفَقِیْرِ عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی اَعْظَمُ مِنْ سَبْعَ السَّمٰوٰتِ وَ سَبْعَۃِ الْاَرْضِیْنَ وَ الْجِبَالِ وَ مَا فِیْھَا وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’مومن فقیر کی حرمت اللہ کے نزدیک سات آسمانوں اور سات زمینوں، پہاڑوں اور ان کے مابین جو کچھ ہے‘ ان سب سے اور مقرب ملائکہ سے بڑھ کر ہے۔‘‘
حدیث نمبر 36
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لِلْجَنَّۃِ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ سَبْعَۃٌ عَنْھَا لِلْفُقَرَآئِ وَ وَاحِدٌ لِلْاَغْنِیَآئِ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے سات فقرا کے لیے اور ایک اغنیا کے لیے ہے۔‘‘
حدیث نمبر 37
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بِالْعُلَمَآئِ وَ الْفَقَرَآئِ فَالْعُلَمَائُ وَرَثَتِیْ وَ الْفُقَرَآئُ اَحِبَّائِیْ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک اللہ علما اور فقرا کی بدولت میری اُمت پر (خاص) نظر کرتا ہے پس علما میرے وارث اور فقرا میرے احباب ہیں۔‘‘
حدیث نمبر 38
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سِرَاجُ الْاَغْنِیَآئِ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ حُبُّ الْفُقَرَآئِ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقرا کی محبت دنیا اور آخرت میں اغنیا کے لیے چراغ کی مانند ہے۔‘‘
حدیث نمبر 39
قَالَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ دَوْلَتِ الْاَغْنِیَآئِ لَا بَقَائِھَا وَ دَوْلَۃُ الْفُقَرَآئِ لَا فَنَائِھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اغنیا کی دولت کو بقا حاصل نہیں لیکن فقرا کی دولت کے لیے قیامت کے روز فنا نہیں ہوگی۔‘‘
حدیث نمبر 40
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ بِہٖ اَفْتَخِرُّ عَلٰی سَائِرِ الْاَنْبِیَآئِ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ ط
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر کی بدولت مجھے تمام انبیا پر فخر حاصل ہے۔‘‘
بیت:
فقر فخری آں فقر حق فیض بر
طالبان را برد با حق یک نظر
ترجمہ: وہ فقر باعثِ فخر ہے جوحق کا فیض عطا کرتا ہے اور طالبوں کو ایک ہی نظر میں حق تک پہنچا دیتا ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلِیْہٖ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ َ یا اَبا ذَرٍّ غَفَارِیْ تَمْشِیْ وَحْدَکَ فَاللّٰہُ تَعَالٰی فِی السَّمَآئِ فَرْدٌ وَّ اَنْتَ فِی الْاَرْضِ فَرْدٌ کُنْ فَرْدًا یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ وَ یُحِبُّ الْجَمَالِ قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ یَا اَبَا ذَرٍّ اَتَدْرِیْ مَا غَمِّیْ وَ فِکْرِیْ وَ لِاَیِّ شَیْئٍ اِشْتِیَاقِیْ فَقَالَ اَصْحَابَہٗ اَخْبَرْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ بِغَمِّکَ وَ فِکْرِکَ وَ اِشْتِیَاقِکَ ثُمَّ قَالَ آہْ آہْ آہْ وَ اَشَوْقَاہُ اِلٰی لِقَآئِ اِخْوَانِیْ تَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ شَأْنُھُمْ کَشَانِ الْاَنْبِیَآئِ وَ ھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ بِمَنْزِلَۃِ الشُّھَدَآئِ یَفِرُّوْنَ مِنَ الْاٰبَآئِ وَ الْاُمَّھَاتِ وَ الْاِخْوَانِ وَ الْاَخْوَاتِ وَ الْاَبْنَآئِ ابْتِغَآئِ لِمَرْضَاتِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ ھُمْ یَتْرُکُوْنَ الْاَمْوَالَ لِلّٰہِ وَ یُبَدِّلُوْنَ اَنْفُسَھُمْ بِالتَّوَاضُعْ وَ لَا یَرْغَبُوْنَ فِی الشَّھْوَاتِ وَ حَصُوْلِ الدُّنْیَا یَجْتَمِعُوْنَ فِیْ بَیْتٍ مِّنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ مَغْمُوْمِیْنَ وَ مَحْزُوْنِیْنَ مِنْ حُبِّ اللّٰہِ وَ قُلُوْبُھُمْ اِلَی اللّٰہِ وَ اَرْوَاحُھُمْ مِنَ اللّٰہِ وَ عَمَلُھُمْ لِلّٰہِ اِذَا مَرَضَ وَاحِدٌ مِّنْھُمْ ھُوَ اَفْضَلُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ عِبَادَۃِ اَلْفِ سَنَۃٍ وَ اِنْ شِئْتَ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّ ! قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ مِنْھُمْ یَمُوْتُ فَھُوَ کَمَنْ مَاتَ فِی السَّمَآئِ لِکَرَامَتِھِمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اِنْ شِئْتَ اَنْ اَزِیْدَکَ یَا اَبَاذَرٍّ قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ مِنْھُمْ یُؤْذِیْہِ قُمْلَۃٌ فِیْ ثِیَابِہٖ فَلَہٗ عِنْدَ اللّٰہِ اَجْرَ سَبْعِیْنَ حَجَّۃٍ وَّ عُمْرَۃٍ وَّ کَانَ لَہٗ اَجْرٌ مَنْ اَعْتَقَ اَرْبَعِیْنَ رَقَبَۃً مِنْ اَوْلَادِ اِسْمَاعِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمْ بِاَثْنٰی عَشْرَ اَلْفَ دِیْنَارٍ وَّ اِنْ شِئْتَ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّ قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ مِنْھُمْ یَذْکُرُ اَھْلُ الْوُدِّ ثُمَّ یَخْتِمُ یُکْتَبُ لَہٗ بِکُلِّ نَفَسٍ اَلْفَ دَرَجَۃٍ اِنْ شِئْتَ اَنْ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّقَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ مِنْھُمْ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ یَعْبُدُ اللّٰہَ فِیْ جَبْلِ الْعَرَفَاتِ لَہٗ ثَوَابُ مِثْلِ عُمْرِ نُوْحٍ اَلْفَ سَنَۃٍ وَ اِنْ شِئْتَ اَنْ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّ قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ مِنْھُمْ لَہٗ تَسْبِیْحَۃٌ خَیْرٌ لَّہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ اَنْ یَّصِیْرَ مَعَہٗ جِبَالِ الدُّنْیَا ذَھَبًا وَّ فِضَّۃً وَھَبَھَا وَ اِنْ شِئْتَ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّ قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ یَنْظُرُ اِلٰی اَحَدِھِمْ اَحَبُّ اِلَّی اللّٰہِ مَنْ یَنْظُرُ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَنْ نَّظَرَ اِلَیْہِ فَکَاَنَّمَا یَنْظُرُ اللّٰہِ وَمَنْ سَتَرَہٗ فَکَانَّمَا سَتَرَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَنْ اَطْعَمَہٗ فَکَانَّمَا اَطْعَمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَ اِنْ شِئْتَ اَزِیْدُکَ یَا اَبَاذَرٍّ قَالَ قُلْتُ بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَاحِدُ یَجْلِسُ اِلَیْھِمْ قَوْمٌ مُّعِزِّیْنَ مُثْقِلِیْنَ مِنَ الذُّنُوْبِ یُغْفَرُ مَا یَقُوْمُوْنَ مِنْ اَحَدٍ عِنْدَھُمْ اِلَّا الْمُخَفِّفِیْنَ فَاعْلَمْ اَنَّ اَرْبَابَ الْقُلُوْبِ یُکَاشِفُوْنَ بِاَسْرَارِ الْمَلَکُوْتِ تَارَۃً عَلٰی سَبِیْلِ الرُّؤْیَائِ الصَّالِحَۃِ وَ تَارَۃً فِی الْیَقْظَۃِ عَلٰی سَبِیْلِ کَشَفِ الْمَعَانِیْ بِمُشَاہِدَۃِ اْلَامْثَلَۃِ کَمَا یَکُوْنَ فِی الْمَنَامِ وَ ھٰذَا مِنْ اَعْلَی الدَّرَجَاتِ وَ ھِیَ دَرَجَاتِ النُّبُوَّۃِ الْعَالِیَۃِ کَمَا اَنَّ الرُّؤْیَآئِ الصَّالِحَۃِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّۃِ اَرْبَعِیْنَ وَھِیَ مِنَ النُّبُوَّۃِ فَاِیَّاکَ وَ اِنْ کَانَ خَطَائُکَ یَکُوْنُ مِنَ الْعِلْمِ وَ اِنْ کَانَ کُلُّ مَا جَاوَزَ حَدَّ قَصُوْرِکَ قَضِیَّۃٌ ھَلَکَ الْمُتَّخِذَ بَعِیْنٍ وَالْجَھْلُ خَیْرُ مِّنْ عَقْلٍ یَدْعُوْنَ بِہٖ اِلَی الْاِنْکَارِ مِنْ ھٰذَہِ الْاُمُوْرِ الْاَوْلِیَآئِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَنْ اَنْکَرَ ذَالِکَ الْاَوْلِیَائِ لَزِمَہٗ اِنْکَارُ الْاَنْبِیَآئِ وَکَانَ خَارِجًا مِّنَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے ابوذر غفاریؓ اکیلے چلا کرو۔ اللہ آسمانوں میں تنہا ہے اور تم زمین پر تنہا ہو لہٰذا تنہا ہی رہو۔ اے ابوذرؓ! بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے ابوذرؓ! کیا تمہیں میرے غم و فکر سے آگاہی ہے کہ میں کس چیز کے لیے مشتاق ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مجھے اپنے غم و فکر اور اشتیاق سے آگاہ فرمائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’آہ آہ آہ! میرا اشتیاق میرے ان بھائیوں سے ملاقات کے لیے ہے جو میرے بعد آئیں گے۔ وہ انبیا جیسی شان کے مالک ہوں گے اور اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ شہدا جیسا ہو گا۔ وہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور بیٹوں سے دور رہیں گے اور اللہ کی خاطر اپنا مال و دولت ترک کریں گے اور اپنے نفسوں کو تواضع سے بدل دیں گے اور شہوات اور حصولِ دنیا کی طرف راغب نہیں ہوں گے اور حبِ الٰہی کی بدولت اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر میں غمگین اور افسردہ جمع ہوں گے۔ ان کے قلوب اللہ کی طرف راغب ہوں گے، ان کی ارواح اللہ کی جانب سے ہوں گی اور ان کے اعمال اللہ کی خاطر ہوں گے۔ جب کوئی ان میں سے بیمار ہوگا تو وہ بیماری اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کی عبادت سے افضل ہو گی۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کے نزدیک ان کی بزرگی اس قدر ہے کہ اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے گا تو گویا آسمان والوں میں سے کوئی فوت ہو گیا ہو۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’کیوں نہیں‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر ان میں سے کسی کو کوئی جوں لباس میں گھس کر کاٹے گی تو اللہ کے نزدیک اس (تکلیف) کا اجر ستر حج اور عمرہ کے برابر ہو گا اور ان کے لیے اولادِ اسماعیل سے چالیس غلام آزاد کرانے جتنا اجر ہو گا اور ہر غلام کی قیمت بارہ ہزار دینار ہوگی۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’کیوں نہیں‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب ان میں سے کوئی اہلِ محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے جو سانس لے گا تو ہر سانس کے بدلے اس کے لیے ایک ہزار درجات لکھے جائیں گے۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ حضرت ابوذرؓ نے عرض کی ’’کیوں نہیں‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر ان میں سے کوئی جبلِ عرفات پر عبادتِ حق کی غرض سے دو رکعت نماز ادا کرے گا تو اس کے لیے حضرت نوح ؑ کی ایک ہزار سالہ عمر جتنا ثواب ہوگا۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر ان میں سے کوئی تسبیح کرے گا تو وہ تسبیح قیامت کے روز اس بات سے بہتر ہوگی کہ دنیا کے پہاڑسونا و چاندی کے بن کر ان کے ساتھ چلتے اور وہ انہیں خیرات کر دیتا۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر کوئی ان کی طرف دیکھے گا تو اللہ پاک کو یہ بات بیت اللہ کی طرف دیکھنے سے زیادہ پسند ہو گی اور جس نے انہیں دیکھا اس نے گویا اللہ پاک کو دیکھا، جس نے انہیں لباس پہنایا گویا اس نے اللہ پاک کو لباس پہنایا اور جس نے انہیں کھانا کھلایا گویا اس نے اللہ پاک کو کھانا کھلایا۔ اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو میں مزید بیان کروں۔‘‘ عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مزید ارشاد فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر کوئی ایسا شخص ان کے ساتھ بیٹھے گا جو انتہائی گنہگار ہو اور گناہوں سے مغلوب ہو تو اس شخص کے اُٹھنے سے پہلے سوائے کبیرہ گناہوں کے اس کے دیگر تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ پس جان لو کہ اربابِ قلوب کبھی سچے خوابوں میں اسرارِ ملکوت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو کبھی بیداری میں مشاہدہ سے ان پر معانی منکشف ہوتے ہیں جیسا کہ نیند کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اور یہ نبوت کے اعلیٰ درجات میں سے ہے کیونکہ بے شک سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ پس اگر تم کوئی خطا کرو تو وہ تمہارے اپنے علم کے (ناقص ہونے کے) باعث ہوگی اور اگر تمہارے قصور کی حد تجاوز کر جائے تو تمہارے لیے قضا ہے جبکہ اس میں پڑے رہنے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ ایسی عقل سے جہالت بہتر ہے جو اولیا اللہ کے ان امور سے انکار کی طرف لے جائے اور جس نے ان اولیا کا انکار کیا تو وہ لازمًا انبیا کا منکر ہوگااور وہ دین سے مکمل طور پر خارج ہو جائے گا۔‘‘