1,368

تزکیہ نفس کا نبوی طریق–tazkia-e-nafs-ka-nabvi-tareeq

تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق

تحریر:سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن

نفس اور امراضِ نفس

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلب ِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ، شہوتِ عزوجاہِ دنیا، زنا، مال، دولت اور زر پرستی،طمع، حرص، لالچ، جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی، غفلت، تکبر، انانیّت، عُجب یعنی خود پسندی،فخرو غرور، بُخل، غیبت، عصبیّت، قوم پرستی، قبیلہ پرستی ،مسلک یا فرقہ پرستی، ظلم و تشدد، اپنے اپنے علاقہ، قبیلہ اور قوم کی محبت، اپنے مذہبی، سیاسی رہنمائوں کی محبت‘ خواہ شیطان کے چیلے ہوں، نفس کے امراض ہیں۔ یاد رہے شیطان بھی نفس ہی کو استعمال کرکے برائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔نفس کاتزکیہ ہو سکتا ہے لیکن شیطان کا تزکیہ ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اسی انسان کو کامیاب قرار دیا ہے جو نفس کا تزکیہ کرکے اِن امراض سے نجات حاصل کر لیتا ہے اور اُس کی عبادت ہی مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 قَدۡ  اَفۡلَحَ  مَنۡ  تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾ (سورہ اعلیٰ۔14)
ترجمہ: فلاح پاگیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا۔
قَدۡ  اَفۡلَحَ  مَنۡ  زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾ (سورہ الشمس۔9)
ترجمہ: فلاح پاگیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا۔
نفسانی خواہشا ت کے پیچھے بھاگنا دراصل نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے نفسانی خواہشات (برائیوں، بیماریوں) کی اتباع کرنا شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے شرکِ عظیم قرار دیا ہے قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ  اِلٰـہَہٗ  ہَوٰىہُ o(الجاثیہ23)
ترجمہ: کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود (خدا)بنا رکھا ہے۔
 اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ (الفرقان۔ 43)
ترجمہ: کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود (خدا)بنا رکھا ہے ۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے :

میں جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

حضور ِاکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے نفس سے جنگ کرکے اِس کاتزکیہ کرنے کو جہادِ اکبر کا نام دیا ہے اور جب نفس اِن تمام بیماریوں اور بتوں سے نجات پا لیتاہے تو اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے۔
جب تک یہ سب بیماریاں، برائیاں ، خواہشات، شہوات باطن سے نکل نہیں جاتیں اس وقت تک نفس کا تزکیہ نہیں ہو سکتا اورجب نفس کا تزکیہ مکمل ہو کر انسان ان تمام برائیوں سے نجات پاکر پاک ہو جاتا ہے تو اس کا قلب(باطن) انوارِ الٰہی سے جگمگا اٹھتا ہے اور پھر وہ خالص اپنے ربّ کی عبادت میں مصروف ہوجاتا ہے ۔
لیکن یہ نفس کیا ہے؟
ﷲ تعالیٰ نے انسانی نفس کو بڑا عجیب بنایا ہے۔ یہ خواہشات کی آماجگاہ ہے، ہر طرح کی بُری خواہشات اور باغیانہ خیالات اسی میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی انسان کو اﷲ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی کے متعلق ابھارتا ہے اور یہی شہوت کے وقت حیوانوں جیسی حرکتیں کرتا ہے۔ غصہ میں درندوں کی طرح اظہارِ وحشت کرتاہے، جب بھوکا ہوتا ہے تو حلال و حرام کی تمیز کھو دیتا ہے اور جب سیر ہوتا ہے تو باغی، سرکش اور متکبرہو جاتا ہے۔ مصیبت کے وقت بے صبروں کی طرح آہ و زاری کرتا ہے غرضیکہ انسان کا نفس کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا۔انسان کو ہر وقت نت نئے فتنوں میں مبتلا کرنے کے درپے رہتا ہے اور جو اس کو قابو میں لاتا ہے وہی ’’وصالِ الٰہی‘‘ کی منزل تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس کو مارنا بڑا ہی مشکل ہے اور نفس کا مرنا ہی دل کی حیات ہے۔ نفس کیا ہے؟ نفس انسانی بدن میں ایسا چور ہے جو انسان کو ﷲ تعالیٰ  کی طرف مائل نہیں ہونے دیتا۔ نفس بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجابِ اکبر ہے۔ انسانی وجود کے لئے نفس اور شیطان دو ایسی قوتیں ہیں جو ہمیشہ فطرتِ انسانی کو گناہوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ شیطان جب آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے لعنتی ہوا تو اُس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی دشمنی اور اس کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جب آدم علیہ السلام کا بت تیار ہو چکا تو شیطان نے حسد اور نفسانیت کی وجہ سے اس پر تھوک دیا۔ یہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام کے ناف کے مقام پر جا پڑی جس سے آدم کے وجود میں نفس کی بنیاد پڑی۔ نفس شیطان کا قدیمی ہتھیار ہے اور وہ بنی آدم کے وجود میں نفس کے اِسی مورچے سے زہر بھرے تیر چلا کر انسان کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر یہی نفس شیطان کے اثر سے نکل کر بنی آدم کے کنٹرول میں آ جائے تو ﷲ اور بندے کے درمیان سے حجاب اٹھ جاتا ہے۔ نفس کے چارمراتب ہیں۔ جوں جوں طالب مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ’’ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات‘‘ میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ ہو تا چلا جاتا ہے۔ اول نفس ِامارہ ہوتا ہے۔ اسے نفس ِ امارہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ہر وقت برائی کا امر کرتا ہے۔
جیسا کہ اﷲ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے:
 اِنَّ  النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ۔ (سورہ یوسف۔53)
ترجمہ: بیشک نفس ِ امارہ بُرائی کا امر کرتا ہے۔
یہ نفس کفار‘ مشرکین‘ منافقین ‘فاسقین‘ فاجر اور دنیا دار لوگوں کا ہوتا ہے۔ اگر اس کی اصلاح اور تربیت نہ کی جائے تو یہ اپنی سرکشی ،بغاوت اور طغیان میں ترقی کرتا ہے اور انسان سے حیوان‘ حیوان سے درندہ بلکہ مطلق شیطان بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں نفس کی باطنی بیماری لاعلاج ہو جاتی ہے اور وہ بالآخر ہلاک ہو جاتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نفسِ امارہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
1۔ نفس (امارہ) مملکت ِوجود میں بادشاہ ہے اور شیطان اس کا وزیر اعظم جو ہر وقت مصلحت اندیشی اور خود پرستی کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
2۔ نفس (امارہ) کے تین حروف ہیں ’ن‘ ’ف‘ ’س‘۔ حرف ’ن‘ سے نیت ِ بد‘ نالائق‘ ناطالب ‘ ایمان کش‘ ناقص اور ناپسند۔ حرف ’ف‘ سے فریبی‘ فتنہ پرور‘ فضیحت پسند‘ فساد کش اور فاجر۔ حرف ’س‘ سے سخت‘ آہن و سنگ سے زیادہ سخت مخالف ِرحمن۔ یہ حقیقت نفس ِ امارہ کی ہے جس کے مالک کفار، منافق، کاذب اور ظالم دنیا دار لوگ ہیں۔
3۔ ایک پنجابی بیت میں نفس ِامارہ کے بارے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

صورت نفس امارہ دِی، کوئی کتا گلر کالا ھُو
کوکے نوکے لہو پیوے، منگے چرب نوالا ھُو
کھبے پاسوں اندر بیٹھا، دِل دے نال سنبھالا ھُو
ایہہ بدبخت ہے وَڈّا ظالم باھُوؒ، ﷲ کرسی ٹالا ھُو

مفہوم:نفس ِامارہ کی صورت اور حالت اس سیاہ رنگ کے کتے کے بچے کی طرح ہے جو ہر وقت بھوک کے مارے ٹوں ٹوں کرتا رہتا ہے اور مزیدار اور لذیذ غذا کھانے پینے کو مانگتا رہتا ہے۔(اپنی خواہشات اور شہوات کی تکمیل کے لیے ہر وقت سر گردان رہتا ہے) یہ دل کے بائیں جانب مورچہ لگا کر بیٹھا ہوا ہے اور جب موقع ملتا ہے (دل ذکرِ اللہ  سے فارغ ہوتا ہے) حملہ شروع کر دیتا ہے۔ یہ نفس ایسا بدبخت اور ظالم ہے کہ ﷲ پاک ہی اس کے شر سے بچا سکتا ہے۔
اور اگر نفس کی اصلاح اور نیک تربیت شروع ہو جائے تو وہ بتدریج باطن میں عالم ِملکوت اور حیاتِ طیبہ کی طرف ترقی کرتا ہے اور اس انسان کا نفس امارہ سے لوامہ ہو جاتا ہے۔ لوامہ کے معنی ہیں ملامت کرنے والا۔ یعنی گناہ پر انسان کو اپنا نفس ملامت کرتا ہے اور پشیمانی دلاتا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تائید ِغیبی اور توفیق ِباطنی چونکہ ایسے نفس کے شامل ِحال رہتی ہے لہٰذا گناہ پر نفس انسان کو شرمسار کرتا رہتا ہے۔ ایسے نفس کو موت‘ روزِ قیامت اور حساب کتاب وغیرہ ہر وقت یاد رہتے ہیں۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبانی روزِ قیامت کے ساتھ ایسے نفس کی بھی قسم اٹھاتا ہے:
 لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِo وَلَآ  اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔(القیٰمَۃ 2-1)
ترجمہ:’’خبردار میں قسم کھاتا ہوں روزِ قیامت کی اور نیز قسم کھاتا ہوں نفس ِلوامہ ( گناہوں پر ملامت کرنے والے نفس) کی۔
اسکے بعد نفس کا جب تزکیہ ہوتا ہے تو وہ لوامہ سے ملہمہ ہو جاتا ہے۔ ایسا نفس گناہ کے ارتکاب سے پہلے اہل ِ نفس کو تائید ِ غیبی سے الہام کرتا ہے کہ خبردار! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو۔ گناہ سے باز آ جائو۔ ایسے نفس کا نقشہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے:
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰیo فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی (النّٰزعٰت41-40)
ترجمہ: ’’اور جو شخص قیامت کے روز اﷲ کے روبرو حساب کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اُس نے اپنے نفس کو شہوات اور خواہشا ت ِ نفسانی سے باز رکھا پس ایسے شخص کا ٹھکانہ بیشک بہشت ہے۔‘‘
یہ نفس ِملہمہ انسان کو ارتکابِ گناہ کے وقت تائید ِغیبی کے ذریعے یا الہام سے گناہوں اور غلط کاموں سے روکتا ہے اور یہ الہام مختلف طریقوں سے ہوا کرتا ہے۔ بعض دفعہ انسان کو صحیح دلیل اور خیال کے ذریعے گناہ سے روکتا ہے۔ بعض کو غیب سے الہام کے ذریعے بے صوت و آواز القا ہوتا ہے اور بعض دفعہ خواب کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے جس سے انسان کے دل میں خوفِ خدا موجزن ہو جاتا ہے اور انسان گناہ سے باز آ جاتا ہے۔ اس کے بعد جب نفس باطن میں ترقی اور عروج حاصل کرتا ہے اور اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو وہ ’’نفس ِمطمئنہ‘‘ ہو جاتا ہے۔ گویا نفس اس ازلی راہزن شیطان اور اپنے امراض سے نجات پا کر اپنی منزل دارالامان اور منزلِ حیات تک پہنچ کر اپنے مقصود کو پا لیتا ہے۔ جو مقامِ لاتخف ولاتحزن (خوف و غم سے امن کا مقام) ہے۔
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا  ہُمۡ  یَحۡزَنُوۡنَ ۔ (یونس۔62)
ترجمہ:بے شک اولیا ء کرام کو نہ تو کوئی غم ہوتا ہے اور نہ کوئی خوف۔
ایسے نفس والا سالک اﷲ تعالیٰ کا دوست اور مقرب بن جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اﷲ ایسے اہل ِ نفس ِ مطمئنہ کے حق میں فرماتا ہیں:

یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾ارۡجِعِیۡۤ  اِلٰی  رَبِّکِ رَاضِیَۃً  مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾فَادۡخُلِیۡ  فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾  (الفجر 30-27)

ترجمہ: ’’اے نفس ِمطمئنہ! لوٹ اﷲ تعالیٰ کی طرف ۔ ایسی حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہے اور تو اُس سے راضی ہے۔ پس میرے بندگانِ خاص کے حلقے میں شامل اور میری بہشت ِ قرب و وصال میں داخل ہو جا‘‘۔
ایسا پاکیزہ نفس انبیاء اور اولیاء کا ہوتا ہے۔ نفس کی یہ باطنی شخصیت بہت ارفع اور اعلیٰ ہوتی ہے۔ اور یہ تمام مراتب اسمِ  اللہ ذات کے ذکر اور تصور اور صحبت ِ مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ سے حاصل ہوتے ہیں ورنہ ظاہری عبادات سے نفس کو یہ مرتبہ اور مقام ہرگز حاصل نہیں ہوتا خواہ ساری عمر زہد و عبادت سے کمر کبڑی ہو جائے اور سوکھ کر کانٹا ہو جائے ۔ بلکہ ظاہری عبادت کی کثرت سے نفس سر کشی اختیار کر کے تکبر و انا نیت کی گر فت میں آ جاتا ہے۔ابلیس کی مثال آپ کے سامنے ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ نفس ِ مطمئنہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
 ’’نفس ِ مطمئنہ کے بھی تین حروف ہیں ’ن‘ ’ف‘ ’س‘ حرفِ ’ن‘ سے نالد یعنی دن رات خوفِ خدا میں رونے والا‘ نہی یعنی اﷲ تعالیٰ کی ممنوعہ باتوں سے پرہیز کرنے والا اور نیکی پھیلانے والا۔ نانِ حلال یعنی نیک کمائی کھانے والا‘ اطاعت بے ریا اختیار کرنے والا‘ ایمان کی سلامتی والا‘ ناصر التوفیق یعنی توفیق ِالٰہی سے مدد کیا ہوا اور ذکر ِفکر و اشغالِ اﷲ یعنی تصورِ اسمِ اللہ  ذات کی مدد سے مراقبہ و معرفت و مشاہدۂ نور میں مستغرق۔ نفس جب نورِ الٰہی میں غرق ہوتا ہے تو مغفور ہو کر نفس ِ مطمئنہ بن جاتا ہے کہ ﷲ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ حرف ’ف‘ سے فخر ِدین‘ کفر واسلام کے درمیان ’فرق‘ کرنے والا۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے ترجمہ: ’’ یہ اس لئے ہے کہ مومنوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا مولیٰ کوئی نہیں۔ ‘‘ اہل ِ نفس ِ مطمئنہ حق الیقین کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے اور صاحب ِ حق الیقین اسے کہتے ہیں کہ جسے استغراقِ حق حاصل ہواور وہ باطل کی طرف متوجہ نہ ہو۔ حق اسلام ہے اور باطل کفر ہے اسلام کی بنیاد فقر اور معرفت ِالٰہی ہے۔ کفرکی بنیاد درہم ِ دنیا ہے ، بدعت کی بنیاد حُبِّ دنیا ہے اور ہدایت کی بنیاد حُبّ ِالٰہی ہے ۔ اورحرف ’’س ‘‘ سے سر راستی ٔ راہ با استغراق الٰہ یعنی صراطِ مستقیم پر گامزن اور تصورِ اسمِ اللہ  ذات میں غرق ، بظاہر مشغول سجدہ سجود لیکن بباطن غرق فنا فی اللہ بامعبود ۔ ان صفات سے متصف نفس ِ مطمئنہ انبیاء و فقرا ء کا ہوتا ہے اور بہت کم صاحب ِ ولایت اولیاء کا ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 نفس ِمطمئنہ ایک سواری ہے جس کی رسائی رازِ الٰہی تک ہے اور یہ مشاہدہ توحید ِ حق تک پہنچاتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 تابع نفس (نفس ِمطمئنہ) پیاری جان سے بہتر دوست ہے۔ نفس کو احمق و بے تمیز لوگ کیا جانیں؟ (عین الفقر)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ  اپنے پنجابی بیت میں نفسِ مطمئنہ کے بارے فرماتے ہیں:

ایہو نفس اساڈا بیلی، جو نال اساڈے سِدّھا ھُو
زاہد عالم آن نوائے، جِتھے ٹکڑا ویکھے تِھدّا ھُو
جو کوئی اِس دی کرے سواری، اُس نام اَﷲُ دا لِدّھا ھُو
راہ فقر دا مشکل باھوؒ، گھر ما نہ سیرا رِدَھا ھُو

مفہوم:یہ نفس اب مطمئنہ ہو کر ہمارا دوست اور ساتھی بن چکا ہے اور اب ہمارے ساتھ صراطِ مستقیم پر ہے۔ جبکہ اسی نفس نے ’’امارہ‘‘کی حالت میں کئی عالموں‘ فاضلوں اور زاہدوں کو خواہشات کا غلام‘ مال و دولت اور شہرت کا حریص بنا دیا ہے۔ جس نے مرشد کامل سے اسمِ اللہ ذات  حاصل کر لیا تو اس کے ذکر اور تصور سے اس کا نفس امارہ سے مطمئنہ ہو گیا۔ فقر کے راستہ میں بڑے مشکل مراحل‘ منازل اور آزمائشیں ہیں یہ کوئی اماں جی کا گھر میں پکا پکایا حلوہ نہیں ہے کہ اسے آسانی سے کھا لیا جائے۔
دائرہ ’’ناسوت‘‘(عالم ِ خَلق) میں نفس ’’امارہ ‘‘ ہوتا ہے دائرہ’’طریقت‘‘ میں نفس ’’لوامہ‘‘ ہوتا ہے دائرہ’’حقیقت‘‘ میں نفس ’’مُلہمّہ ‘‘ہوتا ہے دائرہ ’’معرفت‘‘ (عالم ِ لاھُوت) میں نفس ’’مطمئنہ ‘‘ ہوتا ہے۔جیسے جیسے نفس کا تزکیہ ہوتا چلا جاتا ہے ساتھ ساتھ تصفیہ قلب ، تجلّیہ روح بھی ہوتا چلا جاتا ہے اور فقر کی منازل بھی طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا تفصیلاً تذکرہ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فرمایا ہے۔ اس کو ہم مختصراً ایک گوشوارہ کی صورت میں درج کر رہے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

تزکیہ نفس کے لیے صوفیا کرام اور علماء کرام بہت سے طریقوں، مشقوں، مشقتوں،چلہ کشی، مجاہدوں اور ریا ضتوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن تزکیہ نفس کے لیے وہی طریقہ سب سے اعلیٰ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے۔ تزکیہ نفس کے لیے اس سے اعلیٰ و ارفع طریقہ کوئی اور نہیں ہے۔

تزکیہ نفس کا نبوی طریق

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مجھے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہٗ ملے تو انہوں نے میری خیریت پوچھی کہ اے حنظلہ رضی اللہ عنہٗ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا کہ حنظلہ منافق ہوگیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں اور ان کی محفل میں حاضر ہوتے ہیں اور جب آپ جنت دوزخ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دل میں ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی یاد نہیں رہتا اور دل اللہ کی محبت اور عشق سے لبریز ہو جاتے ہیں لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی بارگاہ اور نظر کے سامنے سے ہٹ کر دنیاوی کاموں یعنی گھروں اہل و عیال اور مال و جائیداد میں مصروف ہو جاتے ہیں تو یہ حالت برقرار نہیں رہتی۔ دل میں اللہ سے محبت کی بھی وہ حالت نہیں رہتی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے جب یہ سنا تو فرمایابخداہماری بھی یہی حالت ہے۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ وہاں سے چلے اور رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے ؟۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب میں آپ کی نگاہ کے سامنے آپ کی بارگاہ میں ہوتا ہوں تو میرے ایمان کی حالت کچھ اور ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال اورکاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہمارے دل میںایمان کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں ہوتی ہے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہاری حالت ہمیشہ ایسی ہی رہے جیسی کہ میرے پاس اور میری محفل میں ہوتی ہے تو فرشتے آرام گاہوں اور راستوں میں تمہارے ساتھ مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ یہ گھڑی کبھی کبھی میسر آتی ہے ‘‘( یعنی یہ صرف میری صحبت اور نظر کے سامنے ہی میسر آتی ہے )۔

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ سے اپنی جان‘ مال اور اولاد سے زیادہ محبت نہیں رکھتا ۔تو یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا کہ حضور میں اپنے اندر یہ کیفیت محسوس نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ مبارک رکھ کر فرمایا اب تم کیا محسوس کرتے ہو؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ فوراً بول اٹھے کہ یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اب میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔

قرآن پاک میں تزکیہ نفس کے نبوی طریق کو یوں بیان فرمایا گیا ہے:

ہُوَ الَّذِیۡ  بَعَثَ فِی  الۡاُمِّیّٖنَ  رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ  یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ  اٰیٰتِہٖ  وَ  یُزَکِّیۡہِمۡ وَ  یُعَلِّمُہُمُ  الۡکِتٰبَ وَ  الۡحِکۡمَۃَ ٭۔ (الجمعہ۔2)
ترجمہ: ‘‘ وہی اللہ جس نے مبعوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) جو پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیاتِ قرآنِ پاک اور (اپنی نگاہ ِکامل سے ) ان کا تزکیہ نفس(نفسوں کو پاک) کرتا ہے اور کتاب کا علم اور حکمت ( علم ِ لد ّنی ) سکھاتا ہے‘‘۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرامؓ  کو قرآنِ پاک کی تعلیم دیتے پھر نگاہِ کامل سے ان کا تزکیہ فرماتے تاکہ اُن کے قلوب پاک ہو کر قرآن کے نور کو جذب کرنے کے اہل ہو سکیں۔اور پھر جب نفس کا تزکیہ ہوجاتا تو تصفیہ قلب خود بخود ہو جاتا اور جلوۂ حق آئینہ دِل میں صاف نظر آنے لگتا اور دِل جلوۂ حق کے لیے بے قرار رہنے لگتا۔ یہ بے قراری دراصل عشقِ الٰہی کا آغاز ہے اور یہ عشق و محبت کا شعلہ اچھی صحبت ہی سے بھڑکتا ہے اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت سے صحابہ کرامؓ کو ذکرِ اللہ نصیب ہوا اور ذکرِ اللہ (اسمِ اللہ  ذات) کے ذریعے اور حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے صحابہ کرامؓ کا ظاہر و باطن پاک و طاہر ہو گیا اور ان کے اندر معرفت ِ الٰہی کی سچی تڑپ پیدا ہوئی تو آقا دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لطف و کرم اور عطا کا پیالہ پلادیا اور اس کے پینے سے صحابہ کرامؓ کا یزکیھم کا مرحلہ طے ہو گیا اور نفوس کا تزکیہ ہو گیا اور جب نفس پاک ہوگئے تو اس قابل ہوگئے کہ انہیں یُعَلِّمُھُمْ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃَج کے مرحلے سے گزارا جائے ان کے دِل اتنے پاک اور وسیع ہوگئے کہ قرآنِ پاک اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حکمت کا شیریں اور خالص دودھ ڈال کر لبالب بھر دیا گیا۔
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتہٖ اور  یُزَکِّیْھِمْ  کے درمیان ’’و‘‘ ہے جو دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر رہی ہے اور قرآنِ پاک کی اس آیت ِ مبارک سے یہ بات بڑی اچھی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تزکیہ علیحدہ چیز ہے اور تعلیم ِ قرآن علیحدہ۔ کیونکہ اس آیت ِ مبارکہ میں یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتہٖ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صحابہ کرامؓ کو علم ِ قرآن یعنی ’’علم ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنا اور یزکیھم سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ‘‘ حالت ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنا ہے اور ’’علم ِ تزکیہ‘‘ اور ’’حالت ِ تزکیہ‘‘ میں بڑا فرق ہے اور ان دونوں کو جمع کرنے سے ہی کمال حاصل ہوتا ہے۔ ’’ حالت ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنے کے واقعات کا تذکرہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔
اور پھر ان کو وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (کتاب کا علم اور علم ِ حکمت یعنی علم ِ لد ّنی سکھایا جاتا ہے)۔ تزکیہ نفس کے بعد معرفت ِ حق تعالیٰ حاصل ہوجاتی ہے اور تمام کائنات اُن کے تصرف میں آجاتی ہے اس کی مثال حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی حضرت بر خیا کی ہے جنہوں نے پلک جھپکنے سے بھی قبل تخت ِ بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر کر دیا تھا۔ قرآنِ پاک ان صحابی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’ان کے پاس کتاب کا علم تھا۔‘‘ یہی  وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ  کی حالت ہے جو تزکیہ نفس کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
اور پھر ہم بہت سے حیران و پریشان لوگوں کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ قرآنِ حکیم کو پڑھتے ہیں بلکہ قرآن کے حافظ ہیں اس کے علاوہ بہت سے علوم سے اور خاص کر تزکیہ کے بارے میں علم بھی رکھتے ہیں او ر وہ شیطانی اور نفسانی و ساوس کے بارے میں جانتے بھی ہیں اور اس کے بارے میں لمبی لمبی تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیںلیکن اس کے باوجود عبادات کے دوران مختلف قسم کے وساوس اور تصورات سے نجات نہیں پا سکتے کیونکہ انہیں تعلیمِ تزکیہ تو حاصل ہے لیکن ’’حالتِ تزکیہ‘‘ حاصل نہیں ہوئی۔
اس طرح اہلِ تصوف میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے تصوف کی کتب پڑھ کر علمِ تزکیہ کے بارے میں جان لیا یا کسی مرشد کے مریدین کے پاس بیٹھ کر اُن کی گفتگو سے تصوف کے بارے میں اورتزکیۂ نفس کے بارے میں علم حاصل کر لیا یا کسی مرشد کے بیعت تو ہو گئے لیکن طلب ِ ناقص کی وجہ سے مشاہدہ اور راہِ سلوک کی منازل طے نہ کیں۔ اُن کو بھی ’’تعلیم ِ تزکیہ‘‘ تو حاصل ہے لیکن’’ حالتِ تزکیہ‘‘ نہیں ۔ صحابہ کرامؓ  نے ’’ تزکیۂ نفس‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ ، صحبت اور محفل پاک سے حاصل کیااور فرمایا گیا کہ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے۔ اس طرح نورِ معرفت ِ حق کا یہ خزانہ صحابہ کرامؓ  کے بعد تابعین کو پھرتبع تابعین کو صحبت سے منتقل ہوا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت تا قیامت قائم رہنے والی ہے اس لئے رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقراء اور عارفین کو اپنا جانشین بنایا ہے اور انہیں لوگوں کا تزکیہ نفس کرنے کا علم ِ نور عطا فرمایا ہے۔

جس طرح طبّ ِ جدید میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انسان خود اپنا علاج نہیں کر سکتا خواہ وہ میڈیکل کی کتنی ہی کتب کیوں نہ پڑھ ڈالے بلکہ اسے علاج کے لئے اسی مرض کے سپیشلسٹ کے پاس جانا پڑے گا۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کسی مرد ولی کامل کے بغیر کتاب و سنت کا محض مطالعہ کرنے سے ہی تزکیہ نفس ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی علم محض کتب پڑھ کر حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر صرف کتاب کا مطالعہ ہی کافی ہوتا تو اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کا طویل سلسلہ نہ بھیجتا۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ محض قرآنِ کریم کی تلاوت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک اپنے نفوس کا علاج نہیں کر سکتے تھے بلکہ وہ بھی محمدی شفا خانہ میں حاضرہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے نفوس کا تزکیہ فرماتے اور ان کو نگاہ سے علم و حکمت یعنی علم ِ لد ّنی عطا فرماتے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاداتِ مبارکہ ہیں:
 میری امت کے آخر ی دور میں اس طرح ہدایت پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔(مسلم)
ومن مات لیس فی عنقہ بیعۃ جاھلیۃ 
ترجمہ: جوکوئی اس حالت میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت کاطوق نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا۔(روایت ابن ِ عمرؓ)
 جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراکِ قلبی (باطن کے ذریعہ ) سے دریافت نہ کیا پس تحقیق وہ جہالت کی موت مرے گا۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور ان کے مخالفین ہرگز ان کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے تو وہ اسی حالت پر قائم ہوں گے ‘‘۔ (مسلم و بخاری)
پس جس نے ان کی نصرت و اعانت کی وہ دین کا معین اور مددگار ہو ا او ر جن لوگوں نے ان کی غلامی کی زنجیر گلے میں ڈالی وہ فلاح پاگئے۔
یوں تو اولیاء فقراء اور عارفین سے دنیا کا کوئی گوشہ بھی خالی نہیں ہے اور لوگ ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور ان کی صحبت‘ نگاہ اور توجہ مجرب اور تریاق اور اصلاحِ نفوس‘ تہذیب اخلاق ‘ عقیدہ کی پختگی اور رسوخِ ایمان کے لئے مؤثر عملی علاج ہے۔ کیونکہ یہ عملی اور وجدانی خصائل ہیں جنہیں اتباع‘ پیروی‘ قلبی تعلق اور روحانی تاثیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔
ایسے بے شمار واقعات احادیث اور اولیاء کرام کی تعلیمات میںموجود ہیں اور اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسی ‘ قلبی اور روحانی امراض کا علاج خود کرسکتے ہیںاور محض قرآنِ پاک کی تلاوت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیثِ مبارکہ پڑھ کر ان بیماریوں سے خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ کتاب و سنت میں قلبی و نفسانی علاج کیلئے مختلف قسم کی ادویات کا ذکر ہے۔ لیکن ان ادویات کے استعمال کا طریقہ کوئی طبیب( مرشد ِ کامل ) ہی بتلا سکتا ہے

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد ِکامل کو طبیب کہا ہے۔ ’’مرشد طبیب(ڈاکٹر) کی مثل ہوتا ہے او رطالب مریض کی مثل۔‘‘ (عین الفقر)
یعنی نفس کے امراض کا علاج کوئی مردِ کامل ہی اپنی نگاہِ کامل سے کر سکتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کامل مُرشد ایسا ہووے‘ جیہڑا دھوبی وانگوں چھَٹے ھُو
نال نگاہ دے پاک کریندا ‘ وِچ سجی صبون نہ گھتے ھُو
میلیاں نوں کر دیندا چِٹا‘ وِچ ذَرّہ میل نہ رَکھے ھُو
ایسا مرشد ہووے باھوؒ جیہڑا‘ لوں لوں دے وِچ وَسے ھُو

مفہوم:آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرشد کامل کو دھوبی کی طرح ہونا چاہیے جس طرح دھوبی کپڑوں میں میل نہیں چھوڑتا اور میلے کپڑوں کو صاف کردیتا ہے اسی طرح مرشد کامل اکمل طالب کو ورد و وظائف ،چلہ کشی ،رنج ریاضت کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اسمِ اللہ ذات کی راہ دکھا کر اور صرف نگاہِ کامل سے تز کیۂ نفس کر کے اس کے اندر سے قلبی اور روحانی امراض کا خاتمہ کرتا ہے اوراسے خواہشاتِ دنیااور نفس سے نجات دلاکر غیر اللہ کی محبت دل سے نکال کر صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میںغرق کردیتا ہے۔ ایسا مرشد تو طالب کے لُوں لُو ں میں بستا ہے۔
حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

دین مجو اندر کتب اے بے خبر
علم و حکمت از کتب دیں از نظر

ترجمہ: ’’ اے بے خبر دین کتابوں میں تلاش نہ کر، علم و حکمت تو کتب سے مگر دین نظر سے ملتا ہے ‘‘۔

 خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں ہے
تیرا علاج ’’نظر‘‘ کے سوا کچھ اور نہیں ہے
٭٭٭٭
فقط ’’نگاہ‘‘ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شو خی تو دلبری کیا ہے

مرشد ِ کامل اکمل بھی وہ ہو جو  اسمِ اللہ ذات کا نہ صرف علم اور تصرف رکھتا ہو بلکہ صاحب ِ مسمّٰی اسمِ اللہ ذات ہو۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اسی مرشد کی صحبت میں تصورِ اسمِ اللہ ذات کے بارے میں فرماتے ہیں:
٭ ’’جس شخص کا نفس ابتدا میں سرکش اور امارہ ہوتا ہے تو تصورِ اسمِ اللہ ذات کی مشق کرنے سے پہلے لوامہ بنتا ہے، پھر ملہمہ اور آخر میں مطمئنہ بن جاتا ہے۔‘‘(کلید التوحید کلاں)
٭ ’’تصورِ اسمِ اللہ  ذات کی مشق سے آدمی کے وجود میں نفس بیمار ہوجاتا ہے گویا اُسے خَسرے کی بیماری لاحق ہوگئی ہے تصورِ اسمِ اللہ ذات  سے نفس کو ایسی بے قراری لاحق ہو جاتی ہے کہ اسے کسی پل آرام نہیں آتا بلکہ اس کی ہستی ہی مٹ جاتی ہے۔ یہ نافرمان نفس (نفس ِ امارہ) فرمانبردار (نفسِ مطمٔنہ) بن جاتا ہے اور پھر ایک غلام کی طرح ہمیشہ زیرِ فرمان رہتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)
جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت‘ نگاہ‘ اورتوجہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں انوار و یقین کو اجاگر کرتی اور نفوس میں ایمان کی چنگاری کو روشن کرتی اور ان کی روحوں کو مقدس فرشتوں کی سطح سے بھی بلند کرکے ان کے دلوں کو مادی آلودگیوں سے پاک کرتی اور ان کو دیدارِ الٰہی کی نعمت سے ہمکنار کرتی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانشینوں کی نگاہ‘ توجہ اور صحبت نفوس کو پاک کرتی ہے اور ایمان میں زیادتی کا باعث اور زنگ آلود قلوب کو صیقل کرکے ان میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ ان لوگوں کی مجالس اور محفل سے دوری غفلت کا سبب اور دل کا دنیا میں مشغول ہونے اور اس نا پائیدار زندگی کی طرف رجحان کو بڑھاتی ہے۔ کوئی بھی انسان نفس کے امراض سے نہ تو خالی ہے اور نہ ہی ان کی تشخیص بذاتِ خود کر سکتا ہے۔ کوئی بھی انسان نفس کے امراض یعنی ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ، شہوتِ عزوجاہ دنیا، زنا، مال و دولت اور زر پرستی،طمع، حرص، لالچ، جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی ، غفلت، تکبر، انانیّت، عجب یعنی خود پسندی،فخرو غرور، بُخل، غیبت، عصبیّت، قوم پرستی، قبیلہ پرستی ،مسلک یا فرقہ پرستی، ظلم و تشدد، اپنے اپنے علاقہ، قبیلہ اور قوم کی محبت، اپنے مذہبی، سیاسی رہنمائوں کی محبت خواہ شیطان کے چیلے ہوں، سے خالی نہیں ۔ جب تک ان میں سے ایک بھی بت قلب (باطن) میں ہے، کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ۔
لیکن آج کل کے انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین ایمان اور تقویٰ میں سب سے راسخ اور کامل سمجھتا ہے اور یہ جہالت اور گمراہی ہے جیسے کہ ارشادِ خداوندی ہے:
 قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًاo
ترجمہ:’’( اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرمادیجیے ٔ کیا ہم مطلع کریں ان لوگوں کو جو اعمال کے لحاظ سے گھاٹے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیںجن کی ساری جدوجہد دیناوی زندگی کی آراستگی میں کھوگئی اور وہ یہی خیال کر رہے ہیں کہ وہ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں‘‘۔ (الکہف۔103-104)
اور امامِ صدیقین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا یہ فرمان اِس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ تزکیہ نفس کے نبوی طریق کے علاوہ کوئی اور طریقہ کار گر نہیں ہے:
لَاۡ  یُصْلِحْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُ  مَّۃِ اِلَّا بِھَا صَلَحَ بِہٖ اَوَّ لِھَا۔ (راوی امام مالکؒ)
ترجمہ:امت کے آخری حصہ کی اصلاح اسی طریقہ پر ہوگی جس طریقہ پر امت کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘
یاد رکھیں!
تزکیہ…ایک باطنی قوت ہے۔ جو شخص خیر،بھلائی یا نیکی کاکام کرنا چاہتا ہے اسے سب سے پہلے جس قوت کی ضرورت پیش آتی ہے وہ تزکیہ ہے۔ پہلے اپنا تزکیہ کریں اور اپنے آپ کو درست کریں، دوسروں کا تزکیہ کرنا اور دوسروں کو درست کرنا بعد کی بات ہے۔

تصنیف: تزکیہ نفس کا نبوی طریق 

 

تصنیفِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

ناشر: سلطان الفقر پبلکیشنز (رجسٹرڈ) پاکستان

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں