کشف–Kashaf

کشف

تحریر: انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

لغت میں کشف کے معنی پردہ اٹھانے کے ہیں جبکہ اصطلاحِ تصوف میں کشف سے مراد امورِ غیبی پر سے پردہ ہٹ جانا یا امورِ غیبی حقیقی معانی میں آشکار ہو جانا ہے۔
عام دنیاوی لوگ کشف سے مراد یہ لیتے ہیں کہ انسان خاص روحانی قوت کے تحت دیواروں کے پار دیکھ لے، ماضی اور مستقبل کے حالات سے آگاہی حاصل کرلے یا کسی ایک مقام پر بیٹھے بیٹھے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے واقعات کو دیکھ لے جبکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’کشف اللہ کے جمال کی دید اور جمالِ ذوالجلال میں محو ہونے کا نام ہے۔(محک الفقر کلاں)
باطنی سفر میں حقیقی اور اعلیٰ ترین کشف وہ مقام ہے جہاں مرشد کامل اکمل کی عطا سے نفس کا پردہ ہٹ جانے سے طالبِ مولیٰ مشاہدۂ حق تعالیٰ سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ حدیث پاک کے مطابق ’’جسے اللہ مل گیا اسے سب مل گیا‘‘ لہٰذا جو طالب مشاہدۂ حق تعالیٰ کر لیتا ہے اس کے لیے دیگر تمام کشوف کی قوت حاصل کر لینا کیا مشکل ہے؟ لیکن مشاہدۂ حق تعالیٰ کی لذت کے سامنے اسے دوسری تمام لذتیں اور قوتیں ہیچ نظر آنے لگتی ہیں اس لیے وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کشف کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* کشف بھی چار قسم کا ہوتا ہے :
۱۔ ایک کشف قلبی ہے۔
۲۔ دوسرا کشف روحانی ہے جس کا تعلق غرق و فنا سے ہے یعنی مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا (مرنے سے پہلے مر جاؤ)۔
۳۔ تیسراکشف نفسانی ہے جو لذت اور وخواہش سے تعلق رکھتا ہے یعنی وہ کثرتِ ریاضت واَنا پر ستی سے متعلق ہے۔
۴۔ چوتھا کشف شیطانی ہے جو معصیت و طمع اور ترقی و عزوجاہ سے تعلق رکھتا ہے۔
قلبی کشف کا تعلق انسانی قلب سے ہے‘ ایسا کشف سخت مجاہدات اور ریاضات سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کشف کا حامل صاحبِ کشف جس کسی کی بھی قلبی حالت کے بارے میں جاننا چاہے جان سکتا ہے اور جس کے قلب کو چاہے اپنی مر ضی و منشا کے مطابق چلا سکتا ہے۔ ایسے کشف کے حامل عام طورپر جوگی، پنڈت اورراہب وغیرہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اس کشف ( قلبی کشف)کا حصول دولت و شہرت کے لیے کرتے ہیں اور بعض اسے حاصل کر کے جعلی پیر/ مرشد بن جاتے ہیں جو اپنی خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کے لیے اس کشف کی طرف رجوع کر تے ہیں۔
آج کل جدید سائنس میں بھی ایک طریقۂ علاج بڑی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جسے ٹیلی پیتھی(Telepathy)کہتے ہیں۔ اس عمل میں بھی انسانی دل و دماغ کو حصارمیں لے کر اپنی مرضی و منشا کے مطابق چلایا جاتا ہے لیکن یہ عمل محض ناقص دنیادار لوگوں کا اختیار کیا ہوا ہے اور اس کا نہ تو انسانی زندگی کی بھلائی میں کوئی کردار ہے اور نہ ہی اُخروی رہنمائی میں۔
صرف ظاہری عبادات میں مصروف رہنے والا قلب نفسانی کشف کی صورت اختیارکر لیتا ہے۔ چونکہ ظاہری عبادات کا تعلق محض ظاہری جسم سے ہوتا ہے لہٰذا ایسا شخص جسم کی حقیقت یعنی روح سے لا تعلق رہتا ہے۔ روح سے لاتعلقی باطن میں موجود ذاتِ حق تعالیٰ سے لاتعلقی کا باعث بنتی ہے جو نتیجتاً بندگی کے تمام تقاضوں سے بے بہرہ کر کے اَنا پرستی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ اَنا پرستی خود پسندی کو جنم دیتی ہے جس سے انسان خود کو تمام مخلوقات میں اعلیٰ اور افضل سمجھتے ہوئے صفتِ شیطانی کو اپنا لیتا ہے۔ صفتِ شیطانی کے حامل صاحبِ کشف کو حاصل ہونے والاکشف بھی سرا سر شیطانی کشف کا عکاس ہوتا ہے جو ایسے شخص کو ہمیشہ معصیت و طمع اور دنیاوی تر قی، عزو جا ہ کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔ اس شخص کی آنکھوں پر ایسی حسین پٹی بندھ جاتی ہے جو اس کی موت سے پہلے ہرگز نہیں کھلتی اور وہ تا حیات دنیا کی ذِلتوں میں ہی مگن رہتا ہے ۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے اپنی کتب میں انسان کے باطنی وجود کے سات درجات بیان فرمائے ہیں جنہیں باطنی ہفت اندام کہا جاتا ہے جو کہ نفس، قلب، روح، سّر، خفی، اخفیٰ یایخفیٰ اور اَنَا (یعنی ذاتِ حق تعالیٰ) ہیں۔ انتہائے باطن یعنی اَنَاسے صرف مرشد کامل کی ذات ہی واقف ہو تی ہے اور وہی اس مقام کے کشف تک پہنچا سکتا ہے جو کہ حقیقی کشف ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دیگر ہر قسم کا کشف خواہ دنیاوی طور پر کتنا ہی طاقتور اور فائدہ مند کیوں نہ ہو‘ باطن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ سے دور اور لعین دنیا کے قریب کر دیتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ کشف جو مرشد کی رہنمائی اور ذکر و تصور اسمِ اللہ  ذات کے بغیر حاصل کیا گیا ہو وہ سراسر نفسانی اور شیطانی ہوتا ہے اور بندے کو راہِ حق سے ہٹاکر تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔
مرشد کی رہنما ئی کیو ں ضروری ہے ؟
سلطان العافین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فر ماتے ہیں:
* ’’جان لے کہ صاحبِ راز مرشد کی نگرانی کے بغیر اگر کوئی ریاضت وتقویٰ، نفلی صوم و صلوٰۃاور چلہ کشی وخلوت میں مشغول رہتا ہے تو اس کی یہ ساری محنت محض خواہشاتِ نفس کی تسکین کی خاطر ہوگی اور اس کی خلوت نشینی وسو سوں اور ریا سے آلودہ رہے گی کیو نکہ اس کی اس عبادت کی بنیاد ہی کوئی نہیں۔‘‘ (کلیدالتوحید خورد)
مرشد کامل کی رہنمائی کے بغیر کشف کی قوت کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے اس سلسلہ میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنی تصنیف مبارکہ ’’کشف المحجوب‘‘ میں صحبتِ مرشد کا انحراف کرنے والے مرید کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں:
* حضرت جنید بغدادیؒ کے مریدوں سے ایک کو یہ خیال گزرا کہ میں درجہ کمال کو پہنچ گیا ہوں اب میرے لیے اکیلا رہنا صحبت سے بہتر ہے چنانچہ اس نے مشائخ کی صحبت چھوڑدی۔ایک رات اس نے بذریعہ کشف دیکھا کہ کچھ لوگ ایک اُونٹ لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا رات تمہیں جنت میں گزارنی چاہیے۔ یہ لوگ اسے اُونٹ پر سوار کر کے ایسی جگہ لے گئے جہاں حسین و خوبصورت چہروں والے لوگ، لذیذ طعام اور پانی کے چشمے رواں تھے۔ اسے صبح تک وہاں رکھا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح روزانہ جاری رہتا یہاں تک کہ بشری غرور اور رعونت نے اس پر غلبہ پایا اور اس کی زبان پر اپنے کمال کا دعویٰ جاری ہو گیا ۔ لوگو ں نے اس کی خبر حضرت جنید بغدادیؒ کو دی، آپؒ اُٹھے اور اُس کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔ اس سے حال دریافت کیا تو اس نے سارا حال بیان کر دیا، حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا کہ آج رات جب تو وہاں پہنچے تو تین مرتبہ ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ پڑھنا۔ چنانچہ جب رات کو اسے حسبِ سابق لے جایا گیا، اگرچہ وہ دل سے اپنے مرشد کامل کا انکاری ہو چکا تھا لیکن محض تجربے کے لیے تین مرتبہ لاحول پڑھا تو اسے لے جانے والے تمام لوگ چیخ مارکر بھاگ گئے اور خود کو اس نے نجاست اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پڑا پایا ۔ چاروں طرف مردار جانوروں کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس وقت اسے اپنی غلطی کااحساس ہوا۔دل سے توبہ کی اور ہمیشہ صحبت مرشد میں رہنے لگا۔ مرید کے لیے اکیلے رہنے سے بڑھ کر کوئی آفت نہیں اور مرشد کے بغیر حاصل ہونے والا ہر کشف و مرتبہ محض شیطانی غلبہ اور دھوکا ہوتا ہے ۔ (کشف المحجوب)
روحانی کشف ہی حقیقی کشف ہے کیونکہ اس کا تعلق غرق وفنا سے ہے۔ غرق و فناکیا ہے؟ ’’غرق‘ نفس کا رضائے الٰہی کے لیے مکمل طور پر اپنی مرضی و منشا سے دستبردار ہو جانا اور ’’فنا‘‘ خود کو دیدار و ذاتِ الٰہی میں محو کر دینا ہے۔
غرق و فنا سے مراد مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا (مرنے سے پہلے مر جاؤ) کا مقا م ہے۔ اصطلاحِ تصوف میں ’’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جسمانی موت سے پہلے نفس کی موت واقع ہو جائے یعنی جب نفس قرب و دیدارِ الٰہی کے لیے اپنے تمام درجے (امارہ سے لوامہ ، لوامہ سے ملہمہ اور پھر ملہمہ سے مطمئنہ) عبور کر لیتاہے تو اس کی روح ویسے ہی پاک اور لطیف ہو جاتی ہے جیسے روزِ ازل تھی۔ پھر ربّ اور بندے کے درمیان سے تمام حجابات ہٹ جاتے ہیں اور بندہ دیدارِِ حق بالکل ویسے ہی کرنے لگتا ہے جیسا کہ روزِ ازل کیا کرتا تھا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* جب صاحبِ الٰہام اس مرتبے مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ  (جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا) کے مقام پر پہنچتا ہے تو صاحبِ مکشوف ہو جاتا ہے۔
ایسا اعلیٰ کشف وراثتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہے۔ صحابہ کرامؓ ، اولیائے کا ملین اور انسانِ کامل بھی اپنے صدق واخلاص اور تزکیۂ نفس کی بدولت اسی وراثتِ محمدیہ کے حامل ہیں ۔ ان پاکیزہ اصحاب پاکؓ اور بزرگانِ دین کا نفس ازل سے ہی حالتِ مطمئنہ میں رہتا ہے اور ظاہری بشری روپ اختیار کرنے کے بعد بھی اسی حالت میں قائم ہوتا ہے۔ یہ اُس جہان میں بھی خدا سے جدا نہ تھے اور اِس جہان میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوتے (نہ خدا اور نہ خدا سے جدا)۔ اولادِ آدم کی تر بیت و رہنمائی انہی کے ذمہ ہوتی ہے۔
نبوت کا سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم ہونے کے بعد اہلِ بیتؓ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ان کی پیروی کرنے والے اور اب انسانِ کامل، یہ تما م ہستیاں اعلیٰ روحانی صلاحیتوں کی حامل اور اعلیٰ روحانی مقام پر فائز ہیں جو طالبانِ مولیٰ کی ذاتِ حق کی جانب رہبری و رہنمائی فر ما رہی ہیں۔ روحانی کشف عطا کرنے والی ذات مرشد کامل اکمل کی ہوتی ہے جبکہ قلبی اور نفسانی کشف پر کوئی بھی عالم، پنڈت، جوگی اور راہب دسترس رکھ سکتا ہے۔
روحانی کشف صرف اس وقت ہی حاصل ہوتا ہے جب طالبِ صادق اپنے تمام تر اختیارات سے دستبردار ہوجائے اور عا جزی و اخلاص سے مرشد کی بار گا ہِ اقدس میں سر جھکائے رکھے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* ’’علم وسیلہ نہیں بلکہ علم روشن راستے کادَر ہے۔ دراصل وسیلہ مرشد ہے جو راستے کا نگہبان، محافظ اور معرفت تک پہنچانے والا ہوتا ہے کیو نکہ اسے ہر مقام معلوم ہوتا ہے اور کشف سے واقف ہو تا ہے۔‘‘
حقیقی کشف کا تعلق خاص الخاص قربِ الٰہی اور حضوریٔ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے جو سروری قادری مرشدکامل اکمل کی مہربانی اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے طالب پر ظاہر ہوتا ہے۔ چو نکہ سروری قادری مرشد کامل اکمل کو اسمِ اللہ ذات کا تصور حاصل ہوتا ہے اسی لیے وہ طالب کو نفس و شیطان کے پیدا کردہ باطل واہمات اور کشف و کرامات کے بھنور سے بحفظ و امان باہر نکال کر قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے اور اسی راہ میں طالبِ صادق کی ملاقات انبیا اور اولیا سے کرواتا ہے۔ اعلیٰ ہمت طالب کشف کے ہر مقام پر عاجزی اختیار کرتا ہے اور اپنی توجہ ہمیشہ مرشد کی جانب ہی مبذول رکھتا ہے۔
سروری قادری مرشد کامل اکمل ہی اس راہ ’’کشف‘‘ کا نگہبان کیو ں ہوتا ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: پیروی کرو اللہ کی اور پیروی کرو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور اس کی جو تم میں سے ’’اولیٰ الامر‘‘ ہو۔ (النساء۔ 59)
میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:
* ’’اولیٰ الامر‘‘ سے مراد بعض لوگ دنیاوی حکمران لیتے ہیں لیکن اولیا کاملین کے نزدیک اس سے مراد وہ صدیق بندہ ہے جو مرشد کامل ہو، نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مرتبہ پر فائز ہو اور لوگوں کی باطنی تربیت جس کی ذمہ داری ہو۔ ان ہی لوگوں کی اتباع اور پیروی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔
حضرت سیّد محمدذوقیؒ ’’سِرّ دلبراں‘‘ میں مرشد کامل اکمل کے اوصاف ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
* ’’اہلِ سلوک میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی نگاہ امورِ دنیاوی پر نہیں ٹھہرتی۔ وہ حقیراوربیکار چیزوں کی دریافت پر وقت ضائع نہیں کرتے بلکہ اپنی خاص قوتوں سے آخرت کا کام لیتے ہیں اور آخرت کے متعلق امور دریافت کرنے کی کو شش کرتے ہیں اور بعض حضرات تو ایسے اولوالعزم اور عالی ہمت ہوتے ہیں اور اتنابلند نصب العین رکھتے ہیں کہ امورِ اخروی کی جانب بھی التفات نہیں کرتے بلکہ اُن کا واحد مقصد فنافی اللہ اور بقا باللہ ہوتا ہے، یہ اللہ کی ہستی کے ساتھ قائم رہتے ہیں اور جملہ عوالم میں ہر مظہر کو اللہ ہی کا مظہر جانتے ہیں ۔ دوئی اور غیریت اُن سے اُٹھ جاتی ہیں۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ سروری قادری مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں:
* ’’سروری قادری مرشد مجمل و جامع ہوتا ہے وہ ظاہر و باطن میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبِ مولیٰ کے لیے کُتب الکتاب کا درجہ رکھتی ہے جس کے مطالعہ سے طالب اس شان سے فنا فی اللہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی حجاب باقی نہیں رہتا۔ اس کتاب (سروری قادری مرشد) کو جو طالب صدق، اخلاص، اعتقاد اور پاکیزگی کے ساتھ پڑھتا ہے وہ جلد اپنی مراد کو پہنچتا ہے ۔‘‘ ( کلیدالتو حید کلاں)
الغرض جو بھی طالب قرب و دیدارِالٰہی کا متلاشی ہو اس پر فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے مرشد کامل اکمل کو تلاش کر ے اور جب وہ مرشد کی ذات پاک تک رسائی حاصل کر لے تو عاجزی سے دیدارِ حق کا سوال لئے اس درّ پر بیٹھا رہے۔ کیونکہ جب انسانِ کامل نے نگاہِ کرم فرمائی تو تمام حجابات ہٹ جائیں گے اورمراد بر آئے گی۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’جب تک انسان کشف و کرامات سے دستبر دار نہیں ہوتا حقیقتِ حق تک ہر گزپہنچ سکتا۔‘‘ (محک الفقرکلاں)
اللہ کا بنی نوع آدم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے آج کے مادیت پر ستی اور حرص و ہوس میں ڈوبے ہوئے دور میں، جہاں دین صرف علم کی حد تک ہی رہ گیا ہے، حقیقتِ محمدیہ کی اصل روح کو طالبانِ حق پر ظاہر کرنے کے لیے مو جودہ دور کے امام، فقرِ محمدیؐ کے وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ۱؂ کو ہمارے درمیان بھیجا۔ آپ مدظلہ الا قدس کی ذات پاک تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے روشن چراغ کی مانند ہے جسے تھامے طالبِ مولیٰ اند ھیری دنیا میں بھی حق کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور عاجزی، صدق اور خلوصِ دل والا طالب ہی ذاتِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔
استفادہ کتب:
کشف المحجوب ۔ تصنیف داتا علی بن عثمان الہجویری
محک الفقر کلاں ۔ تصنیف حضرت سلطان باھُوؒ
کلید التوحید کلاں۔ تصنیف حضرت سلطان باھُوؒ
کلید التوحید خورد۔ تصنیف حضرت سلطان باھُوؒ
شمس الفقرا۔ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
سرّ دلبراں۔ سیّد محمد ذوقیؒ

اپنا تبصرہ بھیجیں