Alif 67

الف –Alif

الف

انسانِ کامل

انسانِ کامل حق تعالیٰ کی صورت، آئینہ، اظہار اور اُس کا عین ہے۔ انسانِ کامل کا وجود وہ وجود ہے جو حق تعالیٰ کی ہویت کو ’’انا‘‘ (میں) کا وجود عطا کرتا ہے۔ یعنی انسانِ کامل کے وجود سے قبل حق تعالیٰ کے لیے ’’ھُو‘‘ کا اسم تو موجود تھا لیکن ایسا کوئی وجود نہ تھا جسے اللہ تعالیٰ ’’انا‘‘(میں) کہہ کر مخاطب کرتا۔ انسانِ کامل کا وجود ہی حق تعالیٰ کے لیے ’’انیت‘‘ ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اپنے لیے ’’یَدُ اللّٰہ‘‘(اللہ کے ہاتھ) ، وَجْہُ اللّٰہ(اللہ کا چہرہ) جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے حالانکہ نہ اس کے ہاتھ ہیں نہ پاؤں ، نہ چہرہ ۔مقامِ ہویت پر تو وہ صرف نور ہے بلکہ نور سے بھی برتر کوئی ایسی شے ہے جس کی مثال کسی چیز سے بھی نہیں دی جاسکتی کہ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ ترجمہ:’’اس کی مثل کوئی شے نہیں‘‘۔ چنانچہ حق تعالیٰ کی ہویت کا وجود اصل میں انسانِ کامل کا وجود ہی ہے ، اس کے ہاتھ اللہ کے ہاتھ ، اس کے پاؤں اللہ کے پاؤں ، اس کا چہرہ اللہ کا چہرہ ہے۔ اس کی بات اللہ کی بات ہے اور اس کے متعلق بات در حقیقت اللہ کے متعلق بات ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں بیان کیا گیا کہ لایزال عبدی یتقرب الٰی بالنوافل حتٰی احببۃ فکنت سمعہ الذی یسمع بہٖ و بصرہ الذی یبصر بہٖ ویدہٖ التی یبطِش بھا و رجلہ التی یمشی بھا ترجمہ:میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پس میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ ان سے سنتا ہے، میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری ۔جلد۲ صفحہ ۹۶۳)
اسی قرب کی انتہا پر اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا :
وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (سورۃ الانفال۔17)
ترجمہ:اور اے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جس وقت آپ نے کنکریاں (دشمن پر) پھینکی تھیں درحقیقت وہ آپ نے نہیں اللہ نے پھینکی تھیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَط ےَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَےْدِیْھِمْ (سورۃ فتح۔10)
ترجمہ:بے شک (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
حضرت علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’عالم میں ہر موجود (شے)اللہ کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ہے اور وہی اسم اس کا رب ہے اور انسانِ کامل حق تعالیٰ کے اسمِ جامع ’’اسم اللہ‘‘ کا مظہر ہے جو سب اسماء الٰہی کاربّ ہے پس ربّ الارباب ہے پس رب العالمین ہے‘‘۔ (فصوص الحکم والایقان)

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں