Nusrat-e-Murshaid 78

نصرتِ مرشد–Nusrat-e-Murshad

نصرتِ مرشد۔۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روشنی میں

تحریر: نذر فرید سروری قادری (لاہور)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرُکُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (سورۃ محمد۔7)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط رکھے گا۔
اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایک آزمائش گاہ بنائی ہے کسی کو زیادہ دے کر آزمایا ہے تو کسی کو کم دے کر، تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اس کے محبوب کی اور اس کی دین کی مدد کون کرتا ہے۔ در حقیقت مدد کرنے والی ذات تو اللہ کی ہی ہے جو ہر تصرف کا مالک اور ہر قدرت پر قادر ہے۔ وہی اسباب پیدا کرنے والا ہے وہی ہر مشکل کا مشکل کشا ہے۔ انسان کے ذمے صرف کوشش ہے تاکہ اس کا ظرف آزمایا جا سکے۔ اپنے محبوب اور اس کی مدد کا وعدہ اللہ پاک نے اپنے انبیا سے بھی لیا کہ جب وہ اپنے محبوب کو اس دنیا میں بھیجے تو سب اس کی مدد کریں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِےْثَاقَ النَّبِےّٖنَ لَمَآ اٰتَےْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗج قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَاج قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِنَ الشّٰھِدِےْنَ۔ (آلِ عمران۔81 )
ترجمہ: اور جب اللہ نے انبیا سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب سے عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو، جو تمہارے ساتھ ہوں گی توتم ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کروگے۔ (اللہ نے) فرمایا ’’کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟‘‘ سب نے عرض کی ’’ہم نے اقرار کیا‘‘۔ مزید فرمایا ’’تم گواہ ہوجاؤ اور مَیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔‘‘
یہاں پر ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ ہر نبی پر ایمان لانے والے یا اس کی اُمت پر اپنے نبی کی پیروی لازم ہوتی ہے۔ لہٰذا تمام انبیا کرام کو اپنی اُمتوں سمیت نبی آخرالزماں پر ایمان لانے اور انکی نصرت کو لازم قرار دیا گیا۔ ہر نبی نے بھی اپنی امتوں سے نبی آخر زماں پر ایمان لانے اور ان کی نصرت کا عہد لیا۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس دنیا میں تشریف لانے کے بعد جنہوں نے اپنی جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد کی، وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ حضور کے صحابہ اور صحابیات کی بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار اور اپنا مال و دولت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصرت اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے نچھاور کر دیا جن میں اوّلین مثال حضرت خدیجہ الکبریٰؓ رضی اللہ عنہا کی ہے جو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائیں۔ غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہونے کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ جب طبیعت سنبھلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کو سارا واقعہ سنایا۔ اس وقت حضرت خدیجہ الکبریٰؓ نے آپ کو تسلی دی اور کہا آپ یتیموں کی پرورش کرتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں، لوگوں سے حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں، اللہ آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ حضرت خدیجہؓ اس وقت آپ پر ایمان لائیں جب کوئی دوسرا آپ کے ساتھ نہ تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام آپؓ کے بارے میں اکثر فرمایا کرتے تھے ’’خدیجہؓ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، خدیجہؓ نے اس وقت مجھے اپنا مال دیا جب لوگ میری مدد کرنے کو تیار نہ تھے اور خدیجہؓ نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب لوگ میرے دشمن تھے۔‘‘
مردوں میں سب سے بہترین مثال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے قائم کی۔ جب وہ ایمان لائے تو اس وقت ان کے پاس چالیس ہزار دینار تھے اور وہ ساری رقم انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کر دی۔
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مکہ میں اسلام کی تبلیغ شروع کی تو کفارِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سخت مخالفت شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے لگے۔ حضرت خبیبؓ لوہار کاکام کرتے تھے۔کفارِ مکہ آپ سے کام کروالیتے اور جب آپؓ پیسے مانگتے تو وہ کہتے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو چھوڑ دو تو پیسے دے دیں گے آپ جواب میں کہتے کہ تم دوسری بار پیدا ہوکر آجاؤ تو بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہیں چھوڑونگا۔
حضرت بلال اُمیہ کے غلام تھے۔ جب آپ ایمان لائے تو امیہ نے آپؓ پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے۔کبھی وہ آپ کو گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دیتا، تو کبھی دہکتے کوئلوں پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو چھوڑ دو لیکن آپؓ نے ان تمام تکالیف اور اذیتوں کو برداشت کیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
کفارِ مکہ کے مظالم حد سے بڑھنے لگے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم فرما دیا تو مسلمان اپنے گھر بار اور اموال چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کر گئے۔ بعض نے تو اپنے بیوی بچوں اور والدین کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کردیااور مدینہ چلے گئے پھر وہ وقت بھی آیا جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اللہ کے حکم سے ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے۔ مدینہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں میں مواخات قائم کی یعنی ایک مہاجر کو ایک انصار کا بھائی بنا دیا۔ انصارِ مدینہ نے دل کھول کر مہاجر مسلمانوں کی مدد کی، انہیں رہنے کے لئے مکانات دئیے، اپنے کاروبار میں شریک اور زمین میں حصہ دار بنایا یہاں تک کہ جس کی دو بیویاں تھیں اس نے اپنی ایک بیوی کو طلاق دے دی تاکہ مہاجر مسلمان اس سے شادی کر سکے۔ انصارِ مدینہ کا مہاجرین سے یہ سلوک لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗکی بہترین مثال ہے۔
مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انہیں کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے نجات ملی اور انہوں نے سکون کا سانس لیا۔ کفارِ مکہ کو ان کا یہ سکھ چین ایک آنکھ نہ بھایا، وہ اسلام کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے مدینہ پر حملے کی تیاری شروع کردی۔
2ھ ؁ میں کفارِ مکہ نے ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تیار کیا اور مدینہ کی طرف چل پڑے جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس لشکر کی روانگی کی اطلاع ملی تو آپ نے صحابہ کرامؓ کو اکٹھا کیا اور انہیں لشکرِ کفار سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سب سے پہلے مہاجرین کی طرف دیکھا کیونکہ ان کا مقابلہ ان کے اپنوں سے ہونے والا تھا۔ مہاجرین نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ ہمیں جس طرف چلائیں گے ہم چلیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار کی طرف دیکھا تو انصار نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہمارے جان و مال سب کچھ آپ پر قربان، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا، ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ اے موسیٰ! تم اور تمہارا خدا جاؤ اور دشمن سے لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ آپ کے حکم پر ہم سمند ر میں کود جائیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جذبے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور اس کی تحسین فرمائی اور طے ہوا کہ مدینہ سے باہر نکل کر کفار کا مقابلہ کیا جائے گا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ساتھ دینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جانثاری کا ایک منظر وہ تھا جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے تیاری کا حکم دیا تو مسلمان آپ کے پاس آتے اور جہاد میں شرکت کے لیے عرض کرتے اور ایک وہ قوم (بنی اسرائیل) تھی جس کو حکم دیا گیا کہ فلاں شہر میں جاکر وہاں کے حکمرانوں سے جہاد کرو‘ اللہ تمہیں فتح نصیب فرمائے گا‘ تو وہ کہتی کہ اے موسیٰ !ؑ تم اور تمہارا خدا جاؤ اور دشمن سے لڑو۔
جوان اور ادھیڑ عمر کے لوگ تو ایک طرف کم عمر بچوں اور نوجوانوں کا جذبۂ شہادت بھی عروج پر تھا۔ غزوہ بدر میں دو بچوں معاذ اور معوذ نے میدانِ جنگ میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کو قتل کیا یہ تھا لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗکی تکمیل کا ایک شاندار مظاہرہ۔ اسباب کے لحاظ سے یہ بے سروسامان لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور بدر کے میدان میں خیمہ زن ہوگیا۔یہ مسلمان جن کے بدن پر پورے کپڑے بھی نہ تھے جنگ کے لئے ہتھیار بھی نہ تھے۔
یہ مسلمان اگرچہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے بے سرو سامان تھے لیکن انکے دل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے لبریز تھے وہ جس حالت میں بھی تھے جہاد کے لئے گھروں سے نکل آئے تھے تو پھر اللہ نے بھی انکی مدد کی اور کفار پر فتح و کامرانی عطا فرمائی۔ اس جنگ میں مسلمان اپنے سے تین گنا دشمن سے ٹکرا گئے۔ خلوص، جانثاری اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باعث اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ ایسی ہی کئی مثالیں صحابہ کرامؓ نے دیگر غزوات اور جنگوں میں قائم کیں۔ ان کے خلوص اور عشق کی بدولت ہی اللہ پاک نے ان کی مدد فرمائی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْھٰدُ (المومن۔51)
ترجمہ: بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیاوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی (کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔
7ھ ؁ میں حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے حج کرنے کا ارادہ فرمایا چودہ سو صحابہؓ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔قریشِ مکہ کو اسکی اطلاع ملی تو انہوں نے سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکہ پر حملہ کے لیے آرہے ہیں اور انہوں نے جنگ کی تیاری شروع کردی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر خیمہ زن ہو ئے اور حضرت عثمانؓ کو سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا کہ ہم حج کرنے آئے ہیں جنگ کرنے نہیں اور حج کر کے واپس چلے جائیں گے۔ قریش نے حضرت عثمانؓ کو مکہ میں روک لیا اور افواہ پھیلا دی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ جب اسکی اطلاع حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عثمانؓ کا قصاص لینے کا اعلان فرمایا اور صحابہ کرامؓ سے قصاصِ عثمان پر بیعت لی ۔
حضور مرشدِ کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ایک مرتبہ صلح حدیبیہ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیعت تو قصاصِ عثمان پر لی جارہی تھی اورصحابہ کرامؓ سے بیعت میں یہ کہا جارہا تھا کہ جو بات کہی جائے گی وہ مانو گے اور جو کام کہا جائے گا وہ کرو گے۔ اب صحابہ کرامؓ ’’جو بات کہی جائے گی وہ مانوگے‘‘ کو تسلیم کر کے اپنی مرضی اور اپنے ارادوں سے دستبردار ہوگئے اور ’’جو کام کہا جائے وہ کرو گے‘‘ کو تسلیم کر کے پیش آنے والی مشکلات اور جان چلے جانے کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے جسم و جان سے دستبردار ہوگئے یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جس حالت میں رکھے اور جن حالات سے بھی گزارے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر راضی تھے۔ جب اپنے ارادے‘ اپنی مرضی اور اپنی جانیں اللہ کے سپرد کردیں تو آسمان سے بھی رضا کی سند نازل کی گئی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِےْنَ اِذْ ےُبَاےِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْ بِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِےْنَۃَ عَلَےْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِےْبًا (الفتح ۔18)
ترجمہ: بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے بیعت کر رہے تھے۔ سو جو اُن کے دلوں میں تھا اللہ نے معلوم کر لیا تو اللہ نے ان کے دلوں پر خاص سکون نازل فرمایا اور انہیں بہت ہی قریب فتح کا انعام عطا فرمایا۔
غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ سے جنگ کے لیے مال طلب کیا تو مسلمانوں نے دل کھول کر آپکی مدد کی۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنے گھر کا سارا مال پیش کر دیا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے گھر کا آدھا مال پیش کیا اور حضرت عثمان غنیؓ نے تین ہزار گھوڑے بمعہ سازو سامان فراہم کئے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ پاک نے صحابہ کرام کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری مدد کے ذریعے ہی آزمایا۔ مدد کرنے والی ذات تو اللہ کی ہی ہے لیکن بطور اُمتی، مریدین اور طالبانِ مولیٰ یہ ہمارا امتحان اور آزمائش ہے کہ ہم اپنی جان و مال سے اللہ کے دین اور اس کے محبوب کی مدد کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ آج کے اس دور میں ہم اللہ کے دین اور اس کے محبوب کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر دور میں نائبِ رسول اور اللہ کا خلیفہ اس دور کے فقیرِ کامل کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے جو اس دور کا امام اور قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے۔ جس کی اطاعت و پیروی اور نصرت ہی اللہ کے دین اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی اور نصرت ہوتی ہے۔ اس مرشد کامل اکمل ‘فقیرِ کامل کی نصرت کے لیے ہمیں صحابہ کرامؓ کی سیرت کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا کہ کس طرح انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفار کے ظلم و ستم اور مظالم کو برداشت کیا اور ہر قدم پر حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا ساتھ دیا۔ جب مظالم حد سے بڑھے تو اللہ کی راہ میں اپنا وطن گھر بار بیوی بچے والدین سب کچھ چھوڑ دیا اور مدینے ہجرت کر گئے۔ اسی طرح ایک طالبِ مولیٰ جب مرشد کریم کے دستِ بیعت کرنے کے بعد فقر کی راہ پر چل پڑے تو راستے میں آنے والی مشکلات کو خاطر میں نہ لائے بلکہ استقامت سے راہِ فقر پر چلتا رہے۔ جس طرح صحابہ کرامؓ نے اپنی جان، مال، اولاد سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا اسی طرح ایک طالبِ مولیٰ کو بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ثابت قدم رہنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا ربّ اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے تو ان پر فرشتے نازل ہونگے اور کہیں گے آج (جزا) کے دن نہ خوف کھاؤ اور نہ غمگین ہو اور اس جنت کے ملنے پر خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے مددگار تھے اور آخرت میں بھی تمہارے مددگار ہیں اور اس جنت میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو تمہیں اپنی طرف مائل کرے گا اور اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو تم چاہو گے۔ (سورۃالزمر)
موجودہ دور کے فقیرِ کامل‘ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی روح فقر اور اسمِ j ذات کے فیض کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی، جس کے تحت سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) اور شعبہ سلطان الفقر ڈیجیٹل پڑوڈکشنز قائم کیے، جن کے ذریعے ماہنامہ سلطان الفقر (لاہور) اور دیگر کتب نہ صرف شائع کی جاتی ہیں بلکہ سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز کے ذریعے تیار کردہ ویب سائٹس پر دنیا بھر میں طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے آن لائن (Online) مطالعہ کے لیے بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کتب میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی فارسی کتب اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تمام کتب شامل ہیں جن کو اردو زبان کے ساتھ انگلش زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ طالبانِ مولیٰ کی ظاہری و باطنی تربیت اور صحبتِ مرشد کے لیے خانقاہ بھی قائم کی گئی ہے جہاں طالبانِ مولیٰ ہر وقت ذکرِ الٰہی میں مشغول رہ کر اور مختلف فرائض کی انجام دہی سے اپنے نفوس کا تزکیہ کر رہے ہیں۔ہمارا بھی یہ فریضہ ہے کہ ہم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسم j ذات حاصل کریں اور ادراکِ قلبی سے حقیقتِ حق حاصل کرنے کے بعد دل و جان اور مال و اسباب سے اللہ کے دین کے لیے جدوجہد کریں۔ تحریک دعوتِ فقر کی شعبہ جات میں کام کر کے اور مالی تعاون کر کے اللہ کے دین اور اس کے محبوب کی نصرت کریں تاکہ اللہ کا قرب حاصل کر کے فلاح یافتہ اور انعام یافتہ گروہ میں شامل ہو سکیں۔ عطا کرنے والی اور مدد کرنے والی ذات اللہ کی ہی ہے یہ ہمارے ظرف کا امتحان اور آزمائش ہے کہ ہم اللہ کے عطا کردہ مال اور جان سے اس کے محبوب اور اس کے دین کے لیے کس قدر کوشش کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آلِ عمران۔92)
ترجمہ: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچ سکو گے جب تک تم اپنی سب سے پیاری چیز کو (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں مرشد کریم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں اپنی ڈیوٹیاں خلوص، محبت اور جانفشانی سے نبھانے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے تاکہ نصرتِ مرشد کے ذریعے ہم اللہ کی رضا اور اسکا قرب حاصل کر سکیں۔ آمین

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں