Ishq-e-Mustafa-(SAWW) 95

عشقِ مصطفٰی–Ishq-e-Mustafa

  عشقِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

تحریر:مسزسونیا نعیم سروری قادری.لاہور

مولانارومؒ فرماتے ہیں:
عشق آں شعلہ است کہ جوں بر فروخت
ہر کہ جز معشوق باشد جملہ سوخت
مفہوم: عشق ایک ایسا شعلہ ہے جب بھڑک اٹھتا ہے تو معشوق کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔
انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیا سے محبت ہوتی ہے جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اور وہ باقی تمام محبتوں پر غالب آ جائے اسے عشق کہتے ہیں۔ عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے اور باقی تمام محبتوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔ جیسے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ارشادِ مبارک ہے ’’اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا کہ میں جب تک تم کو تمہاری جانوں، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ عزیز نہیں ہو جاتا۔ (شمس الفقرا)
اس کائنات کے تخلیق کی بنیادی وجہ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لو لاک لما خلقت الافلاک
ترجمہ:(اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک پیدا نہ کرتا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ نے بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں عرض کیا:
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ کو نبوت کب مرحمت فرمائی گئی؟ فرمایا! جب آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔
حدیث مبارکہ ہے ’’سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرا نور پیدا فرمایا۔‘‘
پہلا عشق خود ذاتِ باری تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات مخفی و پوشیدہ تھی پھر ذات کے اندر ایک جذبہ پیدا ہوا کہ میں پہچانا جاؤں مگر یہ چاہت اور جذبہ اس شدت سے ظہور پذیر ہوا کہ صوفیا کرام نے اسے عشق سے تعبیر کیا۔ (شمس الفقرا)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* جب اللہ تعالیٰ نے اپنی خدا وندی کو ظاہر کرنا چاہا تو اپنی ذات کے نور سے ایک نور کو جدا کیا اور جب اپنی محبت و معرفت و جمالیت کے آئینے میں اس نور کو دیکھا تو خود ہی اس کے اشتیاق میں مبتلا ہو گیا اور اسے نورِ محمد کا خطاب دیا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام حبیب اس وجہ سے پڑا کہ حق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنی زبانِ قدرت سے فرمایا ’’اے حبیب! جنبش فرماؤ اور ہم سے کلام کرو۔ اس پر نورِ محمدی نے جنبش فرمائی‘‘ اور فرمایا ’’یااللہ جل جلالہٗ‘‘ ۔ اسمِ اللہ کا اظہار سب سے پہلے نورِ محمدی سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے نورِ محمدی کو دو لاکھ تہتر ہزار (273000) سال اپنی نظر کے سامنے رکھا۔ اس کے بعد حق سبحانہٗ تعالیٰ نے لطف و کرم سے فرمایا ’’اے نورِ محمد! روحِ محمد میں ڈھل جا۔‘‘ اس حکم پر نورِ محمدی سے روحِ محمدی پیدا ہو گئی۔ (محک الفقر کلاں)
اسی جذبۂ عشق کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نورِ محمدی سے تمام مخلوقات کی ارواح تخلیق کیں۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔
اے کہ تیرے وجود پر خالقِ دوجہاں کو ناز
اے کہ تیرا وجود ہے وجہ وجودِ کائنات
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’میری حقیقت میرے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو سب سے معزز گھرانے میں پیدا فرمایا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام ہماری بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں نے زمین کا گوشہ گوشہ چھان لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے افضل کسی کو نہ دیکھا اور بنی ہاشم سے بہتر کسی قبیلے کو نہیں پایا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط و ابو نعیم فی الدلائل و اخرجہ السیوطی فی مناہل الصفا۔29)
معراج شریف کا واقعہ اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب سے عشق کا خوبصورت اظہار ہے۔ سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ محب اور محبوب، عاشق اور معشوق کی اس ملاقات کو بہت محبت سے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ترجمہ: قسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی۔ جب وہ (معراج شریف سے) نیچے اترے، نہ راہ بھولے اور نہ راہ بھٹکے۔ وہ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے وہ وہی فرماتے ہیں جو ان کو وحی کی جاتی ہے۔ ان کو بڑی قوت والے ربّ نے علم سے نواز ا ہے جو حسنِ مطلق ہے۔ پھر اس نے ظہور کا ارادہ فرمایا اور وہ (نبی ) معراج کی رات سب سے اونچے مقام (لامکان) پر تھے۔ پھر وہ قریب ہوئے اور پھر اس سے بھی کم(کتنا کم اللہ اور اس کا محبوب ہی بہتر جانتے ہیں)۔
ایسا وصال کسی عاشق کو نصیب نہ ہوا۔اس رات اللہ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خوب راضی کیا۔ دونوں جہانوں کے اٹھارہ ہزار عالم آراستہ و پیراستہ کیے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کیے اور نہایت محبت سے پوچھا ’’اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! میں نے دونوں جہانوں کے اٹھارہ ہزار عالم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے تابع کر کے اس کا تماشا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے سامنے پیش کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو اس میں کیا چیز پسند آئی او ر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا چاہتے ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا ’’اے خداوند! مجھے دونوں جہاں میں اسمِ اللہ ذات اور تیری محبت پسند آئی اور میں تجھ سے تجھی کو مانگتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے ذکر کو لازم کردیا کلمہ اور اذان میں جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بھی آتا ہے اللہ تعالیٰ نے اذان کی صورت میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذکر کو ساری دنیا میں چوبیس (24) گھنٹوں کیلئے مسلسل جاری و ساری کردیا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف خود اپنے محبوب کی تعریف بیان کرتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر مکمل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت کے ہر پہلو، ہر ادا ہر قول اور ہر عمل کو محفوظ فرما دیااور ان کی اتباع ہر مسلمان پر لازم کر دی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے عشق و محبت کو ہی ایمان کی کسوٹی بنا دیا ہے عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر ایمان کامل ہی نہیں ہوسکتا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنے والد، اپنی والدہ اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری۔ صحیح مسلم)

حضرت ابو بکر صدیقؓ کا عشقِ مصطفیؐ
آپؓ کا حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام سے تعلق عشق کا تعلق تھا۔ آپؓ کی ذات تمام طالبوں کیلئے مثال ہے کہ کس طرح خلوص اور صدق سے راہِ فقر پر چلنا چاہیے۔ بے شک آپؓ نے سب طالبوں پر واضح کردیا کہ عشق کس طرح کرتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا ارشاد مبارک ہے:
ترجمہ: ’’حضرت ابو بکر صدیقؓ کی فضیلت نماز، تلاوت اور روزوں کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دل میں قرار پانے والی ایک اعلیٰ چیز کی وجہ سے ہے جو کہ میری محبت ہے۔‘‘
اس سے پتہ چلتا ہے کہ کامل ایمان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عشق ہے۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیّدنا صدیق اکبرؓ کی والہانہ محبت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ’’میرے والد گرامی سارا دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے۔ جب عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو جدائی کے یہ چند لمحے کاٹنا بھی ان کے لیے دشوار ہوجاتا ۔ وہ ساری رات ماہی بے آب کی طرح بے تاب رہتے۔ ہجر و فراق میں جلنے کی وجہ سے ان کے جگر سوختہ سے اس طرح آہ اُٹھتی جس طرح کوئی چیز جل رہی ہو۔ اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ اقدس کو نہ دیکھ لیتے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کے وصال کا سبب بھی ہجرو فراقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی تھا۔ آپؓ نے اپنی جان مال اور اولاد سب سے بڑھ کر آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کی اور یہ ہی عشق کا اصول بھی ہے۔
ایک بار آپؓ کے بیٹے عبدالرحمن (بن ابوبکرؓ) نے بتایا کہ جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اور غزوہ بدر میں کفار کی جانب سے مسلمانوں کے مقابلے میں لڑ رہے تھے تو ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب ان کے والد ابو بکر صدیقؓعین ان کی تلوار کی زد میں تھے لیکن انہوں (عبدالرحمن بن ابوبکرؓ) نے درگزر سے کام لیا۔ یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بے ساختہ انداز میں فرمایا’’ بخدا اگر عبدالرحمن ان کی زد میں ہوتا تو وہ ضرور اس کا کام تمام کر دیتے ۔‘‘
غزوہ تبوک کے موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا اپنا مال لائیں ۔ آپؓ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے اور جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے استفسار فرمایا ’’ ابو بکرؓ اپنے گھر والوں کیلئے بھی کچھ چھوڑ کر آئے ہو یا نہیں؟‘‘ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا:
’’ان کیلئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘
پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کیلئے ہے خدا کا رسولؐ بس
آپؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جو عشق کیا اسے نبھایا ۔ آپؓ نے نہ صرف مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبو ل کیا بلکہ معراجِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق بھی بڑی خوبصورتی سے کی ۔آپؓ کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’جب میں نے کہا کہ میں پیغمبر ہوں تو وہ کوئی سوال اور کسی معجزے کا مطالبہ کیے بغیر ایمان لے آئے اور جب کہامجھے معراج کی سعادت حاصل ہوئی ہے تو انہوں نے تصدیق کی اور کہا’’ اگر سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے کہ تمام اہلِ خانہ سمیت مجھے معراج حاصل ہوئی ہے تو یقیناًمیں قبول کرتا کیونکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کو جانتا ہوں۔‘‘ اسی تصدیق پر آپؓ کو صدیق کا لقب عطا ہوا۔
جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حرمِ شریف میں پہلی مرتبہ کھلم کھلا اسلام کی دعوت دی تو کفار اور مشرکین آپؓ پر ٹوٹ پڑے اور آپؓ کو خوب زدوکوب کیا۔ آپؓ کے قبیلے والوں نے دیکھا تو آپ کو چھڑا کر گھر لے آئے۔ دیگر صحابہ کرامؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو محفوظ مقام پر لے گئے۔ جب آپؓ کو ہوش آیا تو سب سے پہلے پوچھا’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کیا حال ہے‘‘ اس پر پہلے تو ان کی والدہ نے کہا مجھے کچھ نہیں معلوم پھر اُمِ جمیل فاطمہ بنت خطابؓ کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام تندرست ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پھر پوچھاآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں کہاں؟‘‘ اس پر بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دارِارقم میں ہیں یہ سن کر حضرت ا بو بکر صدیقؓ نے کہا’’ جب تک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل نہ لوں گا اس وقت تک کچھ نہ کھاؤں گا اور کچھ نہ پیوں گا ۔‘‘ پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اصرار پرا نہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس ان کی والدہ لے کر گئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کا یہ حال دیکھا تو انہیں چوم لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھ میں آنسو بھر آئے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا عشقِ مصطفیؐ
حضرت عمر فاروقؓ کی حیاتِ مبارکہ بھی عشقِ رسول کی تجلیات سے منور نظر آتی ہے۔ آپؓ نے اپنی ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ نبھایا۔ اور ہر اہم موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ رہے۔ حضرت سیدنا اسلمؓ سے روایت ہے کہ جب آپؓ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر کرتے تو (عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بے تاب ہو کر) رونے لگتے اور فرماتے! خاتم المرسلین رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں میں سے سب سے زیادہ رحم دل اور یتیم کیلئے والد کی طرح، بیوہ عورت کیلئے شفیق اور لوگوں میں دلی طور پر سب سے زیادہ بہادر تھے۔ وہ تو نکھرے نکھرے چہرے والے، مہکتی خوشبو والے اورحسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ مکرم تھے۔ اوّلین و آخرین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثل کوئی نہیں۔ (جمع الجوامع۔ حدیث 33 )
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے نئی قمیض بنوائی تو چھری منگوائی اور فرمایا اے بیٹے! اس کی آستینوں کو سرے سے پکڑ کر کھینچو اور جہاں تک میری انگلیاں ہیں ان کے آگے سے کپڑا کاٹ دو ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کاٹا تو وہ بالکل سیدھا نہیں بلکہ اوپر نیچے کٹا میں نے عرض کی ابا جان! اگر اسے قینچی سے کاٹا جاتا تو بہتر رہتا فرمایا بیٹا!اسے ایسے ہی رہنے دو کیونکہ میں نے محبوبِ دو جہاں سرورِ کو ن و مکاں کو ایسے ہی کاٹتے دیکھا تھا۔ اس لیے میں نے بھی چھری سے آستینیں کاٹ دیں۔(مستدرک حاکمہ کتاب اللباس۔ حدیث 7298)
ایک مرتبہ سیّدنا عمر فاروقؓ حج پر آئے طواف کیا اور حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر فرمانے لگے ’’بیشک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اگر میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی نہ بوسہ دیتا۔‘‘
یہ روایات ثابت کرتی ہیں آپؓ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر عشق تھا کہ آپؓ ان سے نسبت رکھنے والی ہر شے سے پیار کرتے تھے۔
حضرت زید بن اسلمؓ سے حضرت فاروقِ اعظمؓ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک رات آپؓ عوام کی خدمت کے لیے نکلے تو آپؓ نے ایک گھر میں دیکھ کہ چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اون کاتتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے:
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر اللہ کے تمام ماننے والوں کی طرف سے سلام ہو اور تمام متقین کی طرف سے بھی۔ آپؓ راتوں کو اللہ کی یادمیں کثیر قیام اور سحری کے وقت آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس ! اسبابِ موت متعدد ہیں کاش مجھے یقین ہو جائے کہ روزِ قیامت مجھے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قرب و وصال نصیب ہوسکے گا۔‘‘
یہ اشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظمؓ کو اپنے آقا کی یاد اس قدر شدت سے آئی کہ زار و قطار رو دئیے اور دروازے پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا کون ہے؟ آپؓ نے فرمایا ’’ اللہ تجھے جزائے خیر دے دروازہ کھول‘‘ اس نے دروازہ کھولا تو آپؓ کہنے لگے کہ اپنے ساتھ میرا نام شریک کر اور یوں کہہ’’ ہم دونوں کو آخرت میں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا ساتھ نصیب ہو اور معاف کرنے والے عمرؓ کو معاف کردے۔‘‘ (نسیم الریاض)
آپؓ کی دلی آرزو تھی کہ مجھے موت بھی اس شہر میں آئے جہاں میرے محبوب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔ اس لئے آپؓ یہ دعا کیا کرتے تھے ’’اے اللہ تو مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت دے۔‘‘ (بخاری،کتاب فضائل المدینۃ۔ حدیث 1890)
آپؓ کی یہ دعا قبول ہوئی اور آپؓ نے مدینہ منورہ میں شہادت پائی آپؓ ساڑھے دس سال منصبِ خلافت پر متمکن رہے اور ایسے ایسے شاندار کارنامے انجام دئیے جنہیں آج بھی پوری انسانیت یاد کرتی ہے یقیناًیہ سب عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کا فیضان ہے۔ عشق نے حضرت عمر فاروقؓ کیلئے سب منزلیں آسان کردیں اور بڑے سے بڑے معر کے عشق کے فیضان سے سر ہوتے گئے۔
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پہ اسرارِ شہنشاہی

حضرت عثمان غنیؓ کا عشقِ مصطفی ؐ
حضرت عثمان غنیؓ نے بھی اپنی پوری زندگی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ڈوب کر گزاری ۔آپؓ کو صلاح حدیبیہ کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سفیر بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا کہ کفارِ مکہ سے مذاکرات کریں کفار بضد تھے کہ اس سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ اکرمؓ کو مکہ نہیں آنے دیں گے نہ حج کرنے دیں گے ۔ جب حضرت عثمان غنیؓ اس سلسلہ میں مذاکرات کرنے مکہ پہنچے تو قریش نے کہا کہ آپؓ پہلے بیت اللہ کا طواف کر لیں تو اس عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب دیا’’ اللہ تعالیٰ کی قسم! میں اس وقت تک طوافِ کعبہ نہیں کروں گا جب تک حضور طواف نہ کر لیں۔ (الشفا)
اے مکہ والو! تم کو کعبہ پر ناز ہے لیکن عثمانؓ کو اپنے کعبہ پر کہ جب تک میرا محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کعبہ کا طواف نہیں کرے گا میں بھی اس وقت تک طواف نہیں کروں گا کیونکہ ہم تو کعبے کو کعبہ مانتے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وساطت سے ہیں۔
صحابہؓ میں سے کچھ نے کہا کہ عثمانؓ کتنے خوش نصیب ہیں کہ سفیر بن کر مکہ گئے ہیں۔ اسطرح انہیں طوافِ کعبہ کا موقع مل جائے گا جب یہ بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ عثمان میرے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔‘‘ حضرت عثمانؓ نے اپنے اس عمل سے دشمنانِ اسلام کوجتلا دیا کہ ہم کعبہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہنے پر کعبہ مانتے ہیں اور اس کا طواف بھی اس لئے کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کا طواف کرتے ہیں۔ آپؓ نے کعبے سے اپنی جذباتی وابستگی اور عقیدت کو اہمیت نہ دی۔ اگر وہ طواف کر بھی لیتے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں اس سے منع نہیں فرمایا تھا لیکن ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تھی۔
آپؓ کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے انتہا کا عشق تھا۔ کوئی عاشق ہی اپنی جا ن و مال اپنے محبوب پر وار کر سکتا ہے۔ آپؓ کا لقب غنی ہے۔ آپؓ مال دار تھے لیکن آپؓ کا مال صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیلئے تھا۔ جب بھی مال کی ضرورت پیش آئی حضرت عثمان غنیؓ آگے بڑھے اور اپنا مال راہِ خدا میں حاضر کر دیا۔آپؓ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں فنا تھے۔آپؓ ایک دفعہ مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر گوشت کا لقمہ تناول کرنے لگے لوگوں نے پوچھا حضرت! یہ دروازہ گزرگاہِ عام ہے یہاں بیٹھ کر کھانا چہ معنی دارد؟ دیکھنے والے کیا سمجھیں گے۔ حضرت عثمانؓ جواب میں فرمانے لگے مجھے اور تو کچھ خبر نہیں بس اتنا پتہ ہے کہ ایک بار میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہاں بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا تھا۔ اور اس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہی ادا میرے پیشِ نظر ہے۔
ایک دفعہ وضو کے بعد بغیر کسی وجہ کے مسکرانے لگے کسی نے پوچھا آپؓ کس بات پر مسکرا رہے ہیں جبکہ کسی سے گفتگو اور مکالمہ بھی نہیں، فرمانے لگے مجھے کسی سے کیا غرض ! میں نے تو ایک بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسی طرح وضو کرنے کے بعد مسکراتے دیکھا تھا۔ میں تو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اسی ادا کو دہرا رہا ہوں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
مجھے کیا خبر تھی رکوع کی، مجھے ہوش کب تھا سجود کا
تیرے نقشِ پا کی تلاش تھی کہ میں جھک رہا تھا نماز میں

حضرت علیؓ کا عشقِ مصطفی ؐ
عشق محض زبانی دعویٰ کا نام نہیں بلکہ عشق اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں مبتلا ہو کر کوئی شخص اپنے محبوب کی اداؤں کا اسیر ہوجاتا ہے، وہ محبوب کے نقوشِ پا کو دیکھ کر چلتا ہے اور ان سے سرموانحراف نہیں کرتا۔ اس کا قلب محبوب کی خیر خواہی سے معمور ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسا ہی عشق تھا اور سیّدنا علی ابنِ ابی طالب ؒ تو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سرشار تھے۔ عالم طفلی سے ہی صحبتِ حبیب کبریا کی بہاریں نصیب تھیں۔ حسنِ عالمتاب کے قرب سے شعلہ عشق کیوں نہ بھڑکتا! شعلہ بھڑکا اور قلب و روح کی گہرائیوں سے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق سے سرشار ہوگئے اور عشق کا رنگ اتنا گہرا تھا کہ وقت کی اکائیاں اس میں کمی کا باعث نہ بن سکیں، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ جوش عشق میں اضافہ ہوتا گیا۔ (خلفائے راشدین تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)
جس رات آپؓ کو گھر چھوڑ کر رفیقِ نبوت حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ سفر ہجرت پر روانہ ہونا تھا اس رات مشرکینِ مکہ نے کاشانہ نبوی کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس اہلِ مکہ کی امانتیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہ امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹانا چاہتے تھے اس لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے بستر پر سونے کیلئے کہا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بلا تردد اس کے لیے تیار ہوگئے۔ حالانکہ ان کو علم تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے چلے جانے کے بعد مشرکین ان کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علیؓ کو ہدایت فرمائی کہ امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹا نے کے بعد تم بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے آنا۔ حضرت علیؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بستر پر سو گئے صبح مشرکین آپ کی جگہ حضرت علیؓ کو پا کر مایوس ہوئے۔ حضرت علیؓ نے لوگوں کی امانتیں ان کے سپرد کیں۔ ذرہ ذرہ کا حساب بے باک کر دیا اور ایک رات پاپیادہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اتنی لمبی مسافت پا پیادہ اور تنہا ۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ابھی قبا میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا پہنچ گئے۔ اگرچہ پاؤں میں آبلے پڑچکے تھے لباس تار تار تھا، سفر کی صعوبتوں نے نڈھال کر رکھا تھا لیکن روح مطمئن تھی کہ منزلِ عشق پا چکی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کو دیکھا تو آنکھوں میں اشک امڈآئے۔ لیکن حضرت علیؓ کی محبت کے جذبات ان پر غالب آگئے آنکھیں فر طِ محبت سے چمکنے لگیں۔ بھائی کو سینے سے لگا لیا اور بے شمار دعاؤں سے ان کا دامن بھر دیا۔ (خلفائے راشدین تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)
حدیبیہ میں صلح نامہ لکھتے وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو کے درمیان صلح کی شرائط پر اتفاق ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معاہدہ کی دستاویز لکھنے کیلئے حضرت علی المرتضیٰ کو بلایا اور ارشاد فرمایا لکھو۔ آپؓ نے لکھا ’’یہ صلح نامہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صلح کی تو سہیل تڑپ اُٹھا اور کہنے لگا کہ یہ سارا جھگڑا ہی اس بات کا ہے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو اللہ کا رسول نہیں مانتے اس لیے صلح نامہ پر رسول اللہ نہ لکھا جائے صرف ’’محمد بن عبداللہ‘‘ لکھا جائے۔ مسلمان بضد تھے کہ رسول اللہ ضرور لکھا جائے گا۔ سہیل اڑ گیا کہ اگرایسا ہوا تو معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں فریقوں کو چپ رہنے کا اشارہ فرمایا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے رسول اللہ کالفظ مٹانے کا فرمایا جس پر آپ کرم اللہ وجہہ پریشان ہوگئے۔ ان کا ضمیر پکار پکار کر کہہ رہا تھا محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ان الفاظ پر سیاہی پھیرنا تو ایک طرح سے انکار کے مترادف ہوجائے گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تڑپ اُٹھے اور ایسا کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے قلم اپنے ہاتھ میں لے کر ان الفاظ پرسیاہی پھیر دی۔

دیگر صحابہ کرامؓ کا عشقِ مصطفیؐ
صحابہ کرامؓ کے دلوں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیلئے بے پنا عشق تھا ۔ اس کا ثبوت ہمیں اس بات سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی جان و مال، سکون،گھربار ہر شے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نچھاور کر دی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اعلانِ نبوت کے وقت جن صحابہ کرامؓ نے اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ دیا ان پر بے بہا مظالم ڈھائے گئے لیکن یہ ان کا آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق ہی تھا کہ انہوں نے ہر ظلم برداشت کیا اور ثابت قدم رہے ۔ شعب ابی طالب کے تین سال بھی تمام صحابہ کرامؓ نے تمام سختیاں برداشت کیں انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا، غربت اور مفلسی میں دن گزارے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
صحابہ کرامؓ کے جانثارانہ جذبات کا ظہور غزوات کے دوران بھی ہوا۔ غزوہ احد میں ایک مقام پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو قریشی صحابہ کرامؓ رہ گئے ۔ اس حالت میں کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر گھیر ا تنگ کر دیا۔ انصاری صحابی فوراً آگے بڑھے اور کفار سے لڑتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوگئے۔ اس طرح ایک ایک صحابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرا پنی جان قربان کرتا جاتا یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے ساتوں انصاری صحابہ کرامؓ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ُحسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب
حضرت سیّدنا قیس بن ابو حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ غزوہ احد میں پیارے آقا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دفاع کرتے کرتے حضرت ابو طلحہؓ کا ہاتھ شل ہوچکا تھا۔
عروہ بن مسعود جب ’’صلح حدیبیہ‘‘ کیلئے قریش کی طرف سے سفیر بن کر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو اس نے صحابہ کرامؓ کے عشق کو یو ں بیان کیا ہے ’’عروہ بن مسعود اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غور سے دیکھنے لگا، راوی کا بیان ہے کہ وہ دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھوکتے تو وہ لعاب دہن کسی نہ کسی صحابیؓ کے ہاتھ میں آتا جس کو وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کسی بات کا حکم دیتے تو اس کی فوراً تعمیل کی جاتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وضو فرماتے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششیں کرتے تھے۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ پانی وہ حاصل کرے۔ جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں گفتگو کرتے تو اپنی آوازوں کو پست رکھتے تھے اور تعظیم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف نظر جما کر نہیں دیکھتے تھے۔‘‘ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا ’’اے قوم! خدا کی قسم میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں، میں قیصرو کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اسطرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمدؐ کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں اور ادب کے باعث ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ (بخاری شریف)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا کہ جس وقت حجام حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے موئے مبارک تراشتا تھا تو صحابہ اسے گھیر لیتے تھے اور کسی ایک بال کو بھی ہاتھ کے علاوہ نیچے نہ گرنے دیتے تھے۔ ( بخاری ومسلم)
شارح بخاری امام کرمانیؒ نقل کرتے ہیں کہ جب آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو سیّدنا بلالؓ نے شہر مدینہ چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔ سیّدنا صدیق اکبرؓ کو جب آپ رضی اللہ عنہ کے ارادے کا علم ہوا تو انہیں اس ارادے کو ترک کرنے کیلئے فرمایا اور کہا کہ پہلے کی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مسجد میں آپؓ کو اذان دینی چاہیے۔ سیّدنا بلالؓ نے آپؓ کی بات سنی تو عرض کرنے لگے ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر مدینہ میں جی نہیں لگتا اور نہ ہی مجھ میں ان خالی و افسردہ مقامات کو دیکھنے کی قوت ہے جن میں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام تشریف فرما ہوتے تھے۔‘‘ چنانچہ یہ کہہ کر کہ ’’اب مدینہ میں میرا رہنا دشوا ر ہے‘‘ آپؓ شام کے شہر حلب چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے بلالؓ! تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا، کیا ہماری ملاقات کو تیرا جی نہیں چاہتا؟‘‘ حضرت بلالؓ خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک سیّدی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا کبھی مسجد میں تلاش کیا اور کبھی حجروں میں۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر ِ انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ۔ غلام حلب سے حاضر ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بیہوش ہوگئے اور مزار پُر انوار کے پاس گر پڑے۔‘‘ (ابنِ عساکر)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دیدار اور زیارت ہی صحابہ کرامؓ کی ٓآنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ تھی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوتا ہوں توتمام غم بھول جاتے ہیں دل خوشی سے جھوم اُٹھتا ہے۔ آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں۔‘‘ (مسند احمد)
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے مرضِ وصال میں جب تین دن تک مسلسل حجرہ سے باہر تشریف نہ لائے تو وہ نگاہیں جو روزانہ دیدا ر سے مشرف ہوا کرتی تھیں‘ ترس کر رہ گئیں اور سراپا انتظار تھیں کہ کب ہمیں دیدار نصیب ہوتا ہے۔ نماز کی امامت کے فرائض سیّدنا صدیق اکبرؓ کے سپرد تھے۔ سوموار کے روز جب تمام صحابہ صدیقِ اکبرؓ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قدرے افاقہ محسوس کیا ۔ اور حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر باہر دیکھا۔ تمام صحابہؓ کی توجہ حجرہ کے طرف مرکوز تھی جب انہوں نے پردے کا ہٹنا محسوس کیا تو تمام صحابہؓ نے اپنے چہرے حجرہ انور کی طرف کر لیے سب کی توجہ نماز سے ہٹ گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدا ر سے سب اتنے خوش تھے کہ نماز ترک کرنے کا ارادہ کرلیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کر لو۔
اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے۔
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

صحابیات کا عشقِ مصطفیؐ
آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس نور الٰہی کا ایسا جلوہ تھا جس کے عشق میں نہ صرف صحابہؓ نے اپنی جان و مال نچھاور کیا بلکہ صحابیاتؓ بھی اس میں برابر شامل رہیں۔
حضرت اُمِ عمارہؓ بنت کعبؓ جن کو ’’خاتونِ اُحد‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے‘ غزوہ احد میں زخمیوں کو پانی پلا رہیں تھیں۔ ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا۔ ایک اتفاقی فیصلے سے جنگ کی صورت حال تبدیل ہوگئی۔ مسلمان مجاہدین انتشار اور بے ترتیبی کا شکار ہوگئے۔رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس کچھ افراد ہی رہ گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق کا یہ عالم تھا کہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تلوار لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب پہنچ گئیں اور کفار کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑی ہوگئیں ۔کفار جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف بڑھتے تھے تو آپ تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خود بیان ہے کہ میں اُحد میں ان کو اپنے دائیں اور بائیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اس دوران آپ کے سر پر تلوار کی ضرب بھی لگی لیکن آپ نے رتی برابر بھی اپنی پرواہ نہ کی۔
حضرت اُمِ عطیہؓ کا شمار بھی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہوتا ہے۔ آپؓ 6 غزوات میں شامل ہوئیں ۔زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر ِ خیر کرتیں تو ہمیشہ فرمایا کرتیں میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوں۔ آپؓ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہت زیادہ عقیدت تھی حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے ہر حکم کو آپؓ سب سے زیادہ اہمیت دیتی تھیں۔ آپؓ نے کچھ احادیث بھی روایت کی ہیں۔
امام بیہقی اور ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری صحابیہؓ کا باپ، بھائی اور خاوند حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے اور تمام وہیں شہید ہوگئے۔ جب غزوہ احد کے موقعہ پر مشہور کر دیا گیا کہ محبوبِ خدا شہید ہوگئے ہیں تو اس خبر کی وجہ سے شہر مدینہ میں ایک اضطراب برپا ہو گیا۔ اس پریشانی کے عالم میں انصاری صحابیہؓ اپنے آقا کی خبر کے لیے راستہ میں جا کھڑی ہوئیں۔ صحابہؓ واپسی پر شہدائے احد کو بھی ساتھ لائے۔ اس کے پاس سے کسی شہید کو لے کر گزرتے تو وہ پوچھتیں یہ کون ہے ؟ جواب ملتا یہ تیرا بھائی ہے کبھی جواب ملتا یہ تیرا باپ ہے ۔یہ تیرا خاوند ہے، یہ تیرا بیٹا ہے،وہ ہر ایک کا جواب سن کر کہتیں مجھے فقط یہ بتاؤ کہ میرے آقا کا کیا حال ہے؟ صحابہؓ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بخیریت ہیں اور آگے تشریف لے گئے ہیں یہ سن کر انہوں نے کہا! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس لے چلو جب وہ آپؓ کے پاس پہنچیں تو آپ کے مقدس دامن کو پکڑ کر عرض کر نے لگیں ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! جب آپ محفوظ ہیں تو مجھے ان تمام کے شہید ہونے پر کوئی غم نہیں۔‘‘ (المواہب اللدنیہ)
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت کے لیے آئی اور مجھ سے کہنے لگی ’’حجرہ انور کھول دیں میں سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مزارِ اقدس کی زیارت کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ مَیں نے حجرے کا دروازہ کھول دیا۔ وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مزارِ اقدس دیکھ کر اتنا روئی کہ روتے روتے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ (الشفاء)

اولیا کرام کا عشقِ مصطفیؐ
معرفتِ الٰہی کیلئے معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونی چاہیے اور معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل ہوتی ہے عشقِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے۔ اسی لیے صحابہ کرامؓ ان کے بعد تابعین کرام پھر فقرا کاملین اور اولیا کرامؓ نے عشقِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بہت زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو صحابہ کرامؓ کا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اتنا پسند آیا کہ سب کو حکم فرما دیا کہ ایسے ایمان لاؤ جیسے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ ایمان لائے ہیں۔ صحابہ کرام کے بعد فقرا کاملین نے بھی بے انتہا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مظاہرہ کیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فروغ کیلئے کام کیا۔ ہر فقیر اپنے دور میں اپنے انداز میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نمونہ بنا اور اسکی چال ڈھال عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا درس دیتی رہی۔ بے شک سارے فقرا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں فنا ہوتے ہیں تو اس لیے ہر دور میں مرشد راہبری کیلئے ضروری ہوتا ہے ان تمام فقرا کاملین نے نظم یا نثر کا سہارا لیکر عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عام کیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بسایا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شمع روشن کی ہے۔ چونکہ یہ فقرا فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوتے ہیں اسلئے یہ طالبوں کی تربیت بھی ایسے ہی فرماتے ہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجود ہ دور کے امام ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس کی ساری زندگی عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عکاس ہے ۔آپ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں بہت کچھ تحریر فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی یہ رباعی آپ کی آقا پاک علیہ الصلوٰۃو السلام سے محبت و عشق کو ظاہر کرتی ہے۔
جنت سے اعلیٰ اور ہر لمحہ انوار کی برسات ہے حضور کی قبرِ انور پر
رحمت کا نزول اور ملائکہ کا درود و سلام ہے حضورؐ کی قبر انور پر
نجیبؔ جیسا عاصی و خطاکار نہیں ہے حضورؐ اس زمانے میں
بس ہے التجا کہ سر رکھوں قدموں میں اور جاں نکلے حضور ؐ کی قبرِ انور پر
دیدارِ الٰہی کیلئے ضروری ہے کہ ہر طالبِ مولیٰ کا دل عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جذبہ سے معمور ہو۔ اس کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت اختیار کرنی چاہے۔ جہاں عشق و ادب کا سبق ملے‘ جہاں دلوں میں عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور روشن کیا جائے مرشد کامل کے بغیر نہ تو عشقِ مصطفی دل میں اجاگر ہوتا ہے اور نہ ہی طالب دیدارِ الٰہی تک پہنچ پاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل ہیں اور ان کے زیرِ سایہ بہت سے طالب عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور دیدارِ الٰہی سے فیضاب ہورہے ہیں۔
نگاہِ مرشد کامل سے عشقِ مصطفیؐ حاصل
خدا کا قرب دیتی ہے صحبت پیر خانے کی

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں