تاریخ مدینہ منورہ | Tareekh-e-Madina Munawara


Rate this post

تاریخ مدینہ منورہ

تحریر: نورین عبدالغفور سروری قادری۔ سیالکوٹ

اللہ رے خاک پاک مدینہ کی آبرو
خورشید بھی گیا تو وہاں سر کے بل گیا

 شہر ِ نبی شہروں کا سرتاج ہے جسے افضلیت کی خِلعت فاخرہ سے سرفراز کیا گیا۔ یہ دنیا کا محبوب ترین خطہ اورکا ئنات کا مرکز ِ نگاہ ہے اس لیے اسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دارالحجرت، جائے سکونت اور آخری آرام گاہ ہونے کا شرف ملا، اس کی زمین پر گنبد ِ خضریٰ ہے، خوشبوئیں جس کے طواف میں مصروف رہتی ہیں، صبا جس کی بلائیں لیتی ہے، جہاں ہر وقت رحمت ِ خداوندی برستی ہے۔

 مدینہ منورہ کے نام

 نسبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے ’’مدینتہ الرسول‘‘ کا نام پانے والے اس مقدس شہرکے متعدد صفاتی نام ہیں جن میں سے چنددرج ذیل ہیں:

 ۱۔ طابہ
۲۔ طیبہ
۳۔ ا لدّار
۴۔ دارالایمان 
۵۔  حرمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
۶۔  بلد رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
(بحوالہ کتاب: شہر ِمدینہ اور زیارتِ رسولؐ۔ ڈاکٹر طاہر القادری)

 مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ بھی حرم ہے:
حضرت عبداللہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
حضرت ابراہیم ؑ ؑنے مکہ معظمہ کو حرم بنایا تھا اور مکہ مکرمہ کے لیے دعا فرمائی تھی اور میں مدینہ طیبہ کو حرم بناتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں حضرت ابراہیم ؑ کی طرح مدینہ منورہ کے مد اور صاع میں (برکت کے لیے) دعا کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری۔ ۲۱۲۹)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ہر نبی کے لیے کو ئی نہ کوئی حرم ہے اور میرا حرم مدینہ ہے۔ (دیلمی ،الفردوس ۳؛۳۳۵، رقم ۵۰۰۷)(بحوالہ کتاب: شہر ِمدینہ اور زیارتِ رسولؐ۔ ڈاکٹر طاہر القادری)

  مدینہ منورہ کی فضیلت

علامہ سمہودی فرماتے ہیں: 
چونکہ ہر نفس کو اس مٹی سے تخلیق کیا جاتا ہے جس میں بعد از وفات اسے دفن کیا جاناہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیکر ِ مقدس کو مدینہ منورہ کی مٹی سے تخلیق کیا گیا، پس اس وجہ سے خاکِ مدینہ تمام روئے زمین سے زیادہ فضیلت والی ہے۔ (سمہودی، وفاء الوفا۱:۳۲)
جس طرح اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ مقدسہ کے ہر لمحے کو اپنی رحمت میں رکھا اسی طرح اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے محبوب شہر کو بھی ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مدینہ منورہ کے راستوں پر ملائکہ مقرر ہیں، اس (شہر) میںنہ دجال داخل ہو سکتا ہے اور نہ مرض طاعون۔ (بخاری،مسلم، مالک،احمد بن حنبل)(بحوالہ کتاب: شہر ِمدینہ اور زیارتِ رسولؐ۔ ڈاکٹر طاہر القادری)
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا دجال ہر شہر روندے گا (جبکہ) ان (دو) شہروںکے ہر راستے پر فرشتے صف بستہ پہرہ دے رہے ہوں گے، پھر مدینہ والوں کو تین جھٹکے لگیں گے ( یعنی زلزلے آ ئیں گے) جس سے اللہ پاک ہر کافراور منافق کو اس سے باہر نکال دے گا۔ (صحیح بخاری :حدیث نمبر:۱۸۸۱) (بحوالہ کتاب:تاریخ مدینہ منورہ:ڈاکٹر محمدالیاس عبد الغنی)

مدینہ منورہ تاریخ کے آئینے میں

محمد عبدالمعبود اپنی تصنیف ’’تاریخ مدینہ المنورہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ  مدینہ منورہ کا پرانا نام ’’یثرب‘‘ تھا۔ یہ شہر 2200 قبل  المسیح معرضِ وجود میں آیا تھا۔ سیّدناعبداللہ بن عباسؓ  سے مروی ہے کہ :
کشتی نوح سے اترنے والے افرادکی تعداد اسی (80) تھی۔ بابل کے اطراف میں جس جگہ یہ لوگ آباد ہوئے اس بستی کا نام’’سوق الثمانین‘‘ (اسی لوگوں کا بازار) مشہور ہوا۔ ابتدا میں ان کی زبان سریانی تھی۔ پھر بہتر(72) مختلف زبانیں بولی جانے لگیں۔ اسی اثنا میں اللہ پاک نے انہیں عربی زبان کا فہم نصیب فرمایا۔ سب سے پہلے عاد اور عبیل نے عربی زبان میں کلام کیا۔ جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو انہوں نے نمرود بن کنعان بن حام کو اپنا حاکم بنا لیا۔ ان ہی میں سے عاد اور عبیل بھی تھے جو عوض بن ارم بن سام بن نوحؑ کے بیٹے تھے۔
ابو القاسم الزجاجی فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں پہلے پہل آباد ہونے والا شخص یثرب بن قانیہ بن مھلائیل بن ارم بن عبیل بن عوض بن ارم بن سام بن نوحؑ تھا اور اسی کی نسبت سے بستی کا نام یثرب مشہور ہوا۔ بعض روایات کے مطابق قوم عمالقہ اور جرہم یمن میں آباد تھے جہاں شدید قحط میں مبتلا ہو جا نے کی وجہ سے لوگ تہامہ کی طرف چلے گئے اور ان ہی کے چند خاندان یثرب میں آباد ہوئے۔ (بحوالہ کتاب۔ تاریخ مدینہ المنورہ:محمد عبدالمعبود)

مدینہ میں بنی اسرائیل کی آمد

بنی اسرائیل علم تورات سے بہرہ یاب تھے جس میں انہوں نے خاتم النبیین رحمت ِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دارالحجرت کی نشانیوں کے متعلق پڑھا تھا کہ وہ سر سبز وشاداب شہر ہو گا۔ اس لیے ان کی ایک جماعت نے پہلے تیما میں قیام کیا لیکن مذکورہ نشانیاں نہ پا کر کچھ لوگ خیبر میں آباد ہو گئے۔ وہاں بھی ان نشانیوں میں فقدان پا کر ایک جماعت یثرب چلی گئی جس کا محل وقوع دیکھ کر یقین کر لیاکہ یہی مقصودِ کائنات نبی آخر زماں کا دارالحجرت ہو گا۔ یہ نووارد لوگ خاندان قریظہ اور نضیر سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے یثرب میں سکونت اختیار کر کے زراعت اور باغبانی کے کام کو فروغ دیا۔

اوس و خزرج کی مدینہ میں آمد

اوس و خزرج کے قبائل متعدد بڑے بڑے خاندانوں پر مشتمل تھے اور ہر ایک قبیلہ کثیرالتعداد افراد پر مبنی پانچ پانچ خاندانوں پر مشتمل تھا۔ پانچ قبائل اوس کے اور پانچ قبائل خزرج کے تھے۔ یہ لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔ یمن میں ایک عظیم الشان ڈیم تھا جس کے بند ٹوٹنے کے ڈر سے جان و مال کی حفاظت کے لیے یہ لوگ ہجرت کر گئے اورمکہ مکرمہ میں جا کر آباد ہو گئے لیکن معاشی تنگی کے با عث وہاں سے ہجرت کر کے یثرب میں آباد ہو گئے جہاں یہود آباد تھے۔یہ لوگ شہر کے باہر اقامت گزین ہوئے۔ اللہ پاک نے ان کی تعداد میں اضافہ بخشا اور انہیں عزت سے سرفراز کیا۔ انہوں نے اپنی قوتِ بازو سے یہودکوشہر سے نکال دیااور خود قابض ہو گئے۔ یوں مدینہ میں اوس وخزرج کی حکومت کا سورج طلوع ہوا۔

مدینہ منورہ میں اسلام کی ابتدا

رحمت ِ کائنات فخر موجودات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے وقت کفر و شرک اور غیر اللہ کی پرستش کی تاریکی نے فہم وفراست کے چراغ گُل کر رکھے تھے۔ قریش ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پرجہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں کہ دفعتاً افق ِ مکہ پر برقِ تجلی کی تابانی نے نورِ حق کا اجالا کر دیا۔ ابھی آفتابِ رسالت کی کرنیں پھوٹی ہی تھیں کہ ہر جانب سے ظلم و ستم کے بادل امڈ آئے تاکہ نورِ حق کی روح پرور روشنی کو کفر و شرک کے سیاہ اندھیروں میں چھپا دیں۔ رحمت للعالمین، سرور دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے توحید کی ایمان پرور صدا چہار دانگ عالم میں پہنچانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار فرمائی۔ حج کے عالمی اجتماع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور دور دراز شہروں اور ملکوں سے آئے ہوئے مختلف قبائل کی قیام گاہوں میں جا کر انہیں توحید کاپیغام دیا۔
اسی دوران اوس و خزرج معاشی اور اقتصادی پس ماندگی سے دوچار ہو گئے جس کے باعث وہ قریش سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ نبوت کے گیارہویں سال حج کے موقع پر یثرب سے قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ آئے، ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ چند تعارفی جملوں کے بعد ہادی کُل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آیاتِ قرآنی سے ان کے قلوب کو گرما دیا اور دعوتِ اسلام پیش فرمائی۔
رحمت ِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرامین سن کر تھوڑی سی دیر کے لیے سوچ بچار میں پڑ گئے کہ کیا یہی وہ سردارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں جن سے یہود ہمیں ڈرایا کرتے ہیں کہ آفتابِ رسالت طلوع ہونے کو ہے جن کے سایہ عاطفت میں ہم اوس و خزرج کو تہس نہس کر دیں گے، پھر باہم مخاطب ہوئے کہ تاخیر سے قطع نظر نورِ اسلام اور متاعِ ایمان حاصل کرنے میں جلدی کرنی چاہیے تاکہ یہود ہم سے پہلے ایمان کی دولت سے مالا ما ل نہ ہو جائیں۔ اس تاریخ ساز موقع پر سیّدنا صدیق اکبرؓ اور سیّدنا علی المرتضٰیؓ بھی اپنے آقاؐ کے ساتھ تھے۔ جب یہ قافلہ اپنے وطن واپس پہنچاتو ہر کسی کو یہ مژدہ سنایا کہ وہ رحمت ِ کائنات مبعوث ہو چکے ہیں جن کے انتظار میں سارا عالم چشم براہ تھاہم نے ان کے تاباں چہرۂ انور سے اپنی آنکھیں منور کیں۔ جب ان حضرات نے اہل ِ وطن کو اس روح پرور اور فرحت انگیز بشارت سے روشناس کیا تو ہر گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر ہونے لگا۔ جب دوسرا سال آیا تو اوس و خزرج کے بارہ نقبا سیّد الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دربار میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ سب نے نہایت رضا اور رغبت کے ساتھ بیعت کر لی۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار کے لقب سے نوازا۔ مدینہ منورہ کے نو مسلم حضرات کی تعلیم وتربیت اور مسائل کی رہنمائی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدنا مصعب بن عمیرؓ کو وفد کے ساتھ روانہ فرمایا۔ آپؓ نے مدینہ منورہ پہنچ کر تبلیغ ِ اسلام شروع کر دی اور مسلمانوں کی نماز باجماعت کا انتظام بھی کیا۔ جب نماز باجماعت کا انتظام ہو گیا تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسلمانوں کو نمازِ جمعہ ادا کرنے کی ترغیب دی۔ (بحوالہ کتاب:تاریخ مدینہ منورہ؛محمد عبدالمعبود)

 ہجرتِ مدینہ

تیرہ سال کا جاں گداز عرصہ کفار کے ظلم و تشدد سہتے گزر گیا۔ دعوتِ حق کے جواب میں ہرسو تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی۔ بالآخر مسلمانوں کو ’’دارالامان مدینہ منورہ‘‘ میں ہجرت کی اجازت مل گئی۔ صحابہ کرامؓ مسلسل مدینہ منورہ جانے لگے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے انتظار میں مکہ مکرمہ میں رہے۔ جب قریش ِمکہ نے محسوس کیا کہ مسلمان آہستہ آہستہ ہجرت کرتے جا رہے ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھیوں کو کوئی محفوظ جگہ مل گئی ہے۔ انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی نکل جائیں گے وہ اس بارے میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہو گئے کہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نقصان پہنچایا جائے۔دوسری جانب جبرائیل ؑ فوراً آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے منصوبے سے مطلع کیا اور فرمایا ’’آپؐ رات اپنے گھر میں نہ سوئیں۔‘‘ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا اور آپؐ نے سیّدنا علی بن ابی طالبؓ کو بلایا اور حکم دیا ’’میری سبز چادر اوڑھ کر میرے بستر پر لیٹ جاؤ۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باہر نکل گئے۔ کفارِ مکہ دروازے پر کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور ان کے سروں پر بکھیرتے گزر گئے۔ (بحوالہ کتاب:تاریخ مدینہ منورہ:مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری)
نبوت کے تیرھویں سال 27 صفر المظفر13 نبوی کو رحمت ِ کائنات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رفیق سیّدنا صدیق اکبرؓ کی معیت میں رات کی تاریکی میں سفر باسعادت سوئے مدینہ با سکینہ کا آغاز فرمایا۔ کعبتہ اللہ کو حسرت بھری نگاہوں سے الوداع کہتے ہوئے فرمایا:
’’مکہ تو مجھے ساری دنیا سے عزیز تھا لیکن تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔‘‘
سیّدناصدیق اکبرؓ کی رفاقت میں جبل ثورکی چوٹی میں تین دن غارِ ثور کو رونق بخشی اور منزل کے لیے روانہ ہو گئے۔ مدینہ باسکینہ کے گلی کوچوں میں یہ فرحت انگیز خبر گونج رہی تھی کہ فخر کون و مکاں، سرور زمین وزماں، رحمت ِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سایہ عاطفت اس شہر پہ جلوہ فگن ہونے کو ہے۔ انتظار کی بے تابی اور لقائے روح زیبا کا شوق اہالیان مد ینہ کو ہر روز علی الصبح شہر سے دور راستہ میں لاکھڑا کر دیتا۔ مضطرب دل اور بیتاب نگاہیں کوسوں دور تک اپنا گوہر مقصود تلاش کرتیں۔ ایک دن حسب ِ معمول جب انتظار بسیار کے بعد انصار واپس مدینہ میں اپنے گھروں کو جا چکے تو ایک یہودی کی نگاہ ا س قدسی صفات قافلہ پر پڑی جس کے دیدار اور استقبال لیے سب بے چین اور بیتاب تھے۔ وہ یہودی بے سا ختہ پکار اٹھا ’’اہل ِ عرب تمہیں جس مقصود کائنات کا انتظار تھا وہ آگئے۔‘‘
انصار فرطِ مسرت سے بیتابانہ گھروں سے باہر نکل آئے اور امام الانبیا کا استقبال کرنے لگے۔ ہرطرف اللہ اکبر کی ایمان افروز صدائیں گونجنے لگیں۔
مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں تقریباً تین میل کے فاصلہ پر انصار کے متعدد قبائل آباد تھے۔ اس بستی کا نام قبا مشہور تھا۔ ان قبائل میں عمرو بن عوف کا خاندان بے حد ممتاز اور معزز تھا جس کے سردار کلثوم بن الہدم تھے۔ فخر ِ کون و مکان، سرورِ زمین و زماں رحمت ِ عالم کا اس بستی میں ورودِ مسعود ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کلثوم بن الہدم کے گھر کو رونق بخشی۔ سارا خاندان جوشِ مسرت سے باآوازِ بلنداللہ اکبر اللہ اکبر پکار رہا تھا۔
رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چودہ دن قبا میں قیام کے بعد مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔( بحوالہ کتاب:تاریخ مدینہ منورہ؛محمد عبدالمعبود)

مدینہ منورہ میں تشریف آوری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے وقت بنو نجار اور مسلمانوں کا ایک ہجوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اردگرد تھا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سواری کسی گھر کے سامنے سے گزرتی تواس گھر والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اترنے کی درخواست کرتے مگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے:
’’میری اونٹنی کو چلنے دو ،یہ اللہ کے حکم سے رکے گی۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اونٹنی ’’قصوا‘‘ چلتی رہی اور بنو مالک بن نجار کے محلہ میں سیّدنا ابو ایوب انصاری ؓ کے گھر کے سامنے رکی۔ سیّدنا براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں: ’’ میں نے کبھی اہل ِمدینہ کو اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے خوش ہوئے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار اورمہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ سب مومنوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا اور یہ آیت اتری: ’’بلاشبہ تمام مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘(سورہ الحجرات۔ 10)
مسلمانوں کے مدینہ میں جمع ہو جانے کے بعد وہاں نفاق پیدا ہونے لگاکیونکہ منافقین اور یہود وہیں موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ تشریف لائے تو چودہ دن تک بنو عمرو بن عوف میں ٹھہرے اور جہاں نماز کا وقت ہوتا وہیں نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد بنانے کا فیصلہ فرمایا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں:مجھے سیّدنا عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور میں مسجد ِ نبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی۔ اس کی چھت کھجور کی شاخوں سے تیار کی گئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے تھے۔‘‘ مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے مختلف ادوار میں مسجد کی توسیع و تعمیر کا کام ہوتا رہا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر مبارک کہاں بنائیں۔ حتیٰ کہ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرما تے سنا تھا ’’نبی جہاں فوت ہوتا ہے اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔‘‘ تو صحابہ ؓنے آپ کے بستر والی جگہ قبر مبارک کھودی۔(مسنداحمد)

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات

۱۔ مسجد قبا
۲۔ مسجد جمعہ
۳۔ مسجد قبلتین
۴۔ مسجد فتح
۵۔ جبل ِ اُحد
۶۔ بقیع غرقد
(بحوالہ کتاب:تاریخ مدینہ منورہ:مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مثالی طرز حکمرانی نے جس طرح یثرب کو دنیا کی بہترین فلاحی ریاست ’’مدینہ‘‘ میں تبدیل کر دیا آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مثالی ریاست مدینہ کی جھلک ہمہ وقت ہمارے سامنے ہو تاکہ مشکل مسائل کو اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں حل کر سکیں۔

استفادہ کتب:
۱۔ تاریخ مدینہ منورہ:مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
۲۔  تاریخ مدینہ منورہ؛محمد عبدالمعبود
۳۔  شہر ِمدینہ اور زیارتِ رسولؐ: ڈاکٹر طاہر القادری

 

اپنا تبصرہ بھیجیں