Ism-e-Allah-Zaat 2,439

اسم اللہ ذات–Ism-e-Allah Zaat

اسمِ اللہ ذات

ذکر

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

zikr1

ترجمہ: بے شک ”ذکر” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے اس کی روح کو غذا اور رزق نہیں ملتا جو اس کی زندگی اور قوت کے لیے ضروری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ”بے شک جو ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس کی (باطنی) روزی تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے روز اسے اندھا اٹھائیں گے۔”

اس آیت مبارکہ میں رزق سے مراد یقیناًباطنی رزق ہے کیونکہ ظاہری رزق تو اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو بھی بہت دیاہے جو اللہ کا قطعاً ذکر نہیں کرتے۔

دنیا و آخرت میں انسان کے خسارے کی وجہ اس کی ذکر سے غفلت ہے کیونکہ ذکر نہ کرنے کے باعث اس کی روح وہ قوت حاصل نہ کر پائے گی جو اسے نفس کے حجاب چیر کر اس مقام تک لے جائے جہاں وہ دیدار و معرفتِ الٰہی حاصل کر سکے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ:اے ایمان والوں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو ذکراللہسے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں گے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اللہ کے مختلف ناموں کی تسبیح و ذکر کر رہی ہے جیسا کہ وہ قرآن میں فرماتا ہے:

ترجمہ:ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ اس میں ہے سبھی اس () کی تسبیح کرتے ہیں اور مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔

ذکرِ اسمِ اللہ ذات

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ذاتی اسم کا ذکر دیا ہے کیونکہ یہ اس کی تمام صفات کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تمام اسماء میں سب سے قوت والا اسمہے۔ اللہ کا یہ اسم اس قدر قوت کا حامل ہے کہ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں اسم ”” رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں پوری کائنات’ جنت و جہنم رکھ دیئے جائیں تو اسم ذات والا پلڑا بھاری ہوگا۔ اسم ذات کے ذکر سے روح کو وہ نورِ بصیرت حاصل ہوتا ہے جو دیدارِ الٰہی کے لیے لازم ہے۔ روح اس قدر قوی ہوجاتی ہے کہ جسم و جان کے تمام حجابات توڑ کر جسمانی موت سے قبل ہی اللہ کا وصال’ دیدار اور معرفت حاصل کر سکتی ہے۔ چونکہ ذکرِ ” ” ہی انسانی مقصدِ حیات یعنی معرفتِ الٰہی کے حصول کی بنیاد ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہلی وحی اور سب سے پہلا حکم اللہ کے ذاتی نام کے ذکر کا تھا۔

ترجمہ:پڑھ اپنے ربّ کے نام (اسم) سے جس نے خَلق کو پیدا کیا۔

تمام عبادات کی فرضیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت اور پیروکاروں کو اسم ذات کے ذکر کا حکم دیا تاکہ ان کی ارواح نور بصیرت حاصل کر کے معرفتِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں جو تمام عبادات کی روح اور بنیاد ہے۔ دین کی اس بنیاد کے مضبوط ہونے کے بعد ہی ان پر ظاہری عبادات فرض کی گئیں۔ سورۃ مزمل سورۃ الاعلیٰ’ سورۃ واقعہ’ سورۃ اعراف’ سورۃ کہف اور سورۃ طٰہٰ عبادات فرض ہونے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئیں ان تمام میں اللہ کے اسم کے ذکر کا حکم بھی دیا گیا ہے اور طریقہ بھی سمجھایا گیا ہے۔ 

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رَبِّ عظیم کے نام (اسم) کی تسبیح بیان کرو۔

ترجمہ:( اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )اپنے رب کے نام (اسمِ ) کی تسبیح بیان کرو جو سب سے اعلیٰ ہے۔

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

ترجمہ: میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔
پھر یہ ذکر کرنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا۔

ترجمہ:اور صبح و شام ذکر کرو اپنے ربّ کا دل میں’ سانسوں کے ذریعے’ بغیر آواز نکالے’ خفیہ طریقے سے’ عاجزی کے ساتھ اور غافلین میں سے مت بنو۔

ترجمہ:اپنے رب کا ذکر کرو خفیہ طریقے سے’ عاجزی کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ذکر کا حکم خفیہ طریقے سے کرنے کا مطلب بغیر آواز کے ذکر کرنا ہے اور سانسوں کے ذریعے ذکر کا حکم اس لیے ہے کہ سانس کا تعلق روح سے ہے۔ جیسے ہی روح جسم میں داخل ہوتی ہے جسم سانس لینا شروع کردیتا ہے اور جیسے ہی روح جسم سے نکل جاتی ہے’ جسم سانس لینا بند کر دیتا ہے۔ چنانچہ سانسوں کے ذریعے اسم کا ذکر روح یا باطنی انسان کی قوت کا باعث ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :

ترجمہ:”سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نکلے وہ مردہ ہے۔”

یعنی جس سانس میں اللہ کا ذکر کیا جائے وہ روح کی زندگی کا باعث ہے۔اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

‘جو شخص ذکر کرتا ہے اور جو شخص ذکر نہیں کرتا اس کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ (بخاری و مسلم)

ذکر کرنے والے کی روح زندہ اور نہ کرنے والے کی روح مردہ ہے۔ آج کل لوگوں کی اکثریت تو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتی اور نماز روزوں پر اکتفا کیے بیٹھی ہے اور جو لوگ ذکر  کرتے بھی ہیں تو زبانی ذکر کرتے ہیں ۔ جو لوگ قلبی ذکر کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے نزدیک قلب سے مراد سینے کے بائیں جانب رکھا گوشت کا لوتھڑا (دِل)ہے اور وہ حبسِ دم کر کے زور زور سے کا ذکر کر کے اسی لوتھڑے کو چلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ مادی دل پھڑکنے لگ جائے تو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی روح زندہ ہوگئی۔ حالانکہ جسم میں رکھے اس دل کا کام صرف خون کی ترسیل ہے۔ یہ بھی باقی جسمانی اعضاء کی طرح ایک عضو ہے جس کو باقی جسم کے ساتھ اسی دنیا میں رہ کر مٹی کا حصہ بن جانا ہے۔ روح غیر مادی ہے’ اس کی قوت سانسوں کے ذریعے خفیہ طور پر عاجزی کے ساتھ’ مسلسل اسم ذات کا ذکر کرنے میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ: پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے اور کروٹوں کے بل لیٹے ہوئے ذکر کرو۔

اس آیت مبارکہ میں کروٹوں کے بل لیٹنے سے مراد سونا ہے اور سوتے وقت صرف سانسوں کے ذریعے ذکر ممکن ہے۔

جو لوگ مادی دل کو ”قلب” مان کر اس کا تعلق سانسوں سے جوڑتے ہیں اور پھر مخصوص اوقات مقرر کر کے صرف اسی میں ذکرِکرتے ہیں نہ کبھی روحانی زندگی پاسکتے ہیں نہ ہی دیدار و معرفتِ الٰہی۔ ان کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وہ لوگ کتنے احمق ہیں جو دل’ نفس’ روح اور باطن کا علم نہیں رکھتے اور گوشت کے ایک لوتھڑے کو دل کے مقام سے بند کر کے تفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ذکر قلبی ہے اور گوشت کے اس لوتھڑے کی دھڑکن کو دم کے ساتھ ملا کر سینے میں لاتے ہیں ا ور کہتے ہیں کہ یہ ذکر قربانی ہے اور گوشت کے اس لوتھڑے کو تفکر کی آنکھ کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ ذکر نور حضور ہے اور اسی گوشت کے لوتھڑے کو تفکر سے مغزِ سر میں لے جاتے ہیں اور اسی کا نام ذکر سلطانی روحانی رکھتے ہیں۔ یہ تمام لوگ غلطی پر ہیں۔ یہ تمام وساوس اور خطراتِ شیطانی ہیں(جو اللہ کی اصل راہ اور قرب سے دور کر دیتے ہیں)۔ (کلید التوحید کلاں)

دل یہ نہیں جس کی جنبش تجھے شکم کے بائیں طرف معلوم ہوتی ہے بدن میں یہ حیوانی دل تو کفار’ منافق و مسلم سب کے پاس موجود ہے۔ (عین الفقر)

میں حیران ہوتا ہوں اُن احمق اور سنگ دل لوگوں پر جو رات دن بلند آواز میں ” ھُو” ”ھُو” کرتے رہتے ہیں مگر اسمِ  ذات کی کنہہ کو نہیں جانتے اور رجعت کھا کر پریشان حال اہلِ بدعت ہو جاتے ہیں اور اُن کے سر میں خواہشاتِ نفسانی سمائی رہتی ہیں۔ (کلید التوحید خورد)

مادی دل سے ذکر کرنا باقی عبادات کی طرح جسم کی عبادت ہے’ روح کی زندگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ کا قرب جسم نے نہیں بلکہ روح نے حاصل کرنا ہے گوشت کے لوتھڑے کا ذکر روح کوکوئی تقویت نہیں پہنچا سکتا کیونکہ روح جسم سے بہت بالا تر ہے۔ البتہ روح کا عروج جسمانی اعمال کی درستی کا باعث ہے چنانچہ جسمانی دِل کا یہ ذکر نہ بندے کو ربّ سے ملاتا ہے’ نہ اس کا دیدار اور معرفت عطا کرتا ہے۔ لہٰذا بالکل بے فائدہ ہے۔ اصل ذکر سانسوں کے ذریعے کیا جانے والا ذکرِ اسمِ ذات ہی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سو چالیس کُتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہر تصنیف اسمِ  ذات کی شرح و تفسیر ہے۔ اسمِ  ذات کے اِسرار و رموز کو کھول کر جتناآپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصنیفات میں بیان فرمایا ہے اس سے پہلے کوئی بھی ایسا نہ کر سکا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: تجھ پر اس قدر کتابیں پڑھنے کی دُھن کیوں سوار رہتی ہے اگر تُو صاحبِ فہم ہے تو تیرے لیے علمِ الف (اسمِ  ذات) ہی کافی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

ترجمہ: اسمِذات طالبانِ مولیٰ کی ہر مقام پر راہنمائی کرتا ہے اور اسمِ  ذات سے ہی وہ کامل فقر کے مراتب پر پہنچتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)

ترجمہ:اسمِ  ذات نہایت بھاری و عظیم امانت ہے اس کی حقیقت (کنہہ) کو صرف حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام ہی جانتے ہیں۔ (کلید التوحیدکلاں)

اسمِ  ذات ”عین اللہ پاک” کی ذات ہے۔ (عین الفقر)

تصورِ ”اسمِ ذات ” کی شان میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

سن! توریت، زبور، انجیل اور اُم الکتب یعنی فرقان یہ چاروں کتابیں محض اسمِ ”” کی شرح ہیں۔ اسمِ  کیا چیز ہے؟ اسمِ  عین ذات پاک ہے جو بے چون و بے چگون اور بے شبہ و بے نمون ہے اور جس کی شان میں آیا ہے:  ۔جو شخص اسم ذات کو پڑھ کر اس کا حافظ ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اسمِ  ذات کے پڑھنے اور اس کے ذکر سے وہ علمِ لدّنی کھلتا ہے کہ جس کی نشاندہی اس فرمانِ حق تعالیٰ میں کی گئی ہے:  (البقرہ۔311)ترجمہ: ”اور آدم علیہ السلام کو کُل اسماء کا علم سکھا دیا گیا۔” فرمانِ حق تعالیٰ ہے : (ترجمہ: جس چیز پر اسمِ  نہ پڑھا جائے وہ چیز ناپاک ہے) یاد رکھ کہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا عرش و کرسی اور لوح و قلم سے گزر کر حضورِ پروردگار میں قابَ قوسین کے مقام پر پہنچنا اور اللہ تعالیٰ سے بلاحجاب کلام کرنا محض اسمِ  کی برکت سے ہوا کہ اسم دونوں جہان کی چابی ہے۔ ساتوں طبقاتِ زمین اور ساتوں طبقاتِ آسمان جو بلاستون ایستادہ ہیں تو یہ محض اسم ہی کی برکت ہے۔ جو پیغمبر بھی مرتبۂ پیغمبری پر پہنچا اور کفار پر فتح حاصل کر کے ان کے شر سے مامون ہوا تو یہ بھی محض اسم ہی کی برکت تھی کہ ان کا نعرہ ہمیشہ یہی ہوا کرتا تھا”  ہی ہمارا معین و مددگار ہے۔” بندے اور مولیٰ کے درمیان رابطے کا وسیلہ یہی اسمِ  ہی تو ہے۔ تمام اولیاء اللہ غوث و قطب اہلِ اللہ کو ذکر فکر الہام مذکور غرقِ توحید مراقبہ و کشف و کرامات اورعلمِ لدّنی کے جتنے بھی مراتب نصیب ہوتے ہیں اسمِ  ہی کی برکت سے ہوتے ہیں کہ اسم  سے وہ علمِ لدّنی کھلتا ہے کہ جس کے پڑھ لینے کے بعد کسی اور علم کے پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی۔

ترجمہ: جس نے اسمِ  کے ساتھ قرار پکڑا وہ غیر اللہ کے ہر تعلق سے نجات پا گیا۔ (عین الفقر)

سُن! اسمائے صفات کے ذکر سے استدراج پیدا ہوتا ہے لیکن اسمِ  ذات کے ذکر میں تفاوت و تجاوزِ استدراج ہرگز نہیں ہے کہ اسم جَلَّ جَلَالُہٗ کے چار حروف ہیں۔  جب اسم  سے  جدا کیا جائے تو یہ اسمِ  رہ جاتا ہے۔ جب کے بعد پہلا بھی جدا ہو جائے تو یہ اسمِ  رہ جاتا ہے اور جب دوسرا  بھی جدا ہو جائے تو یہ  رہ جاتا ہے اور یہ چاروں اسمائے اعظم ‘‘ اسم  ذات ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

فرمانِ حق تعالیٰ ہے :

ترجمہ: ”اللہ” (اسمِ ذات) مومنوں کا ایسا دوست ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نورِ توحید میں لے آتا ہے( البقرہ۔2577 )

فرمانِ حق تعالیٰ ہے :

ترجمہ: نہیں ہے کوئی معبود سوائے ” ” (ذاتِ حق تعالیٰ) کے، پس اسی کو ہی اپنا وکیل بناؤ( المزمل۔9 )

قرآنِ مجید میں چار ہزار مرتبہ اسمِ ”” آیا ہے جس کی برکت سے سارا قرآن ہی اسمِ ”” ہے۔ مرشدِ کامل وہ ہے جو اسمِ ”” اور اسمِ ””کی راہ جانتا ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا اور طالبِ صادق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی مقدس اور پاک ذات کے علاوہ اور کوئی طلب نہیں رکھتا۔

ترجمہ: ”آسمان اُس کا اپنا بنایا ہوا ہے وہ اسے سمیٹ لے گا لیکن اسمِ ”” ہمیشہ قائم رہے گا۔” (عین الفقر)

سلطان الاذکار ھُو

اسمِ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں  اسمِ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ ذات ہی رہتا ہے ۔ اسم کے شروع سے پہلا حرف اہٹا دیں تو رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں”کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:

ترجمہ: ”ﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے”۔

اور اگر اس اسم پاک کا پہلا   ہٹا دیں تورہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں”اس کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے ۔ جیسے ارشادِ ربانی ہے:۔

ترجمہ: ”اسی کے لیے بادشاہت اور حمد وستائش ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے”۔

اور اگر دوسرا  بھی ہٹا دیں تو   رہ جاتا ہے اور یہ اسمِ ضمیر ہے اور اس کے معنی ہیں” وہ” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے:

ترجمہ: وہی اﷲ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر ھُو (ذاتِ حق تعالیٰ)۔ فقراء اور عارفین نے کو اسمِ اعظم اور سلطان الاذکار بتایا ہے۔

امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں  اسمِ اعظم ہے۔

شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ جلد دوم میں فرماتے ہیں:
عارفین کا آخری اور انتہائی ذکرہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس کو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر قرار دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ذکرِ  ذاکرین کا انتہائی ذکر ہے ۔

ذکرِ  کرتے کرتے جب ذاکر کے وجود پر اسمِ  غالب آکر اُسے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے تو اس کے وجود میں کے سوا کچھ نہیں رہتا۔(محک الفقر کلاں)

ترجمہ: باھُوؒ کے ساتھ فنا ہو کے بقا پاگیا کیوں کہ اوّل آخر  کا راز اُسے مل گیا۔

ترجمہ:جو شخص باھُوؒ سے ذکرِ ”یاھُو” حاصل کر لیتا ہے اُسے ہر کبوتراورہر فاختہ کی زبان سے ذکرِ ”یاھُو” سنائی دیتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری وصال کے بعد یہ ذکر ان کے روحانی وارث اور امانتِ الٰہیہ کے حامل سروری قادری مشائخ عطا فرماتے ہیں۔

ترجمہ: باھُوؒ تو  میں گم ہو گیا ہے ایسے گمنام کو بھلا کیسے پایا جا سکتا ہے؟ اور یوں نورِ ذاتِ الٰہی میں خود کو گم کرکے میں مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس ہو گیا ہوں۔

ترجمہ: باھُوؒ کی آنکھ سے خدا کو دیکھتا ہے اے طالب تو بھی کی آنکھ سے دیدارِوحدت کی بہار دیکھ۔

ترجمہ: جس شخص کے وجود میں ذکرِ  جاری ہو جاتا ہے اُس کا وجود نورِ ذات میں ڈھل جاتا ہے

ترجمہ: اسمِ اعظم  سے فنا فی اللہ کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے اس لیے باھوؒ دِن رات ذکرِ ”یاھُو” میں غرق رہتا ہے۔

ترجمہ: باھُو ؒ میں فنا ہو کر زندہ جاوید ہو گیا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ جو عین ذات کو دیکھ لیتا ہے وہ کبھی نہیں مرتا۔(عین الفقر)

ترجمہ: اسمِ یاھُو نے باھُوؒ کا راہبر اور پیشوا بن کر اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری سے مشرف کر دیا ہے۔

ترجمہ: ابتدا بھی ”” ہے اور انتہا بھی ”” ہے جوکوئی ”” تک پہنچ جاتا ہے وہ عارف ہوجاتا ہے اور ”” میں فنا ہو کر ”” بن جاتا ہے۔

ترجمہ:باھُوؒ کی زبان پر ہر وقت اسمِ  کا ورد جاری رہتا ہے جو ایک ننگی تلوار ہے۔ اس تلوار سے وہ ہر وقت نفسِ قاتل کو قتل کرتا رہتا ہے۔

اگر تُو ”” کے اسرار حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کو دِل سے نکال دے۔ (قربِ دیدار)

جس کے وجود میں ذکر اسمِ ”” کی تاثیر جاری ہو جاتی ہے اُسے ””(ذاتِ حق)سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ غیر ماسویٰ اللہ سے وحشت کھاتا ہے۔ (عین الفقر)

جب کوئی دل کے ورق سے اسمِ ”” کا مطالعہ کر لیتا ہے تو پھر اُسے کوئی چیز اچھی نہیں لگتی ایسی حالت میں وہ خَلق کی نظر میں بے شعور ہوتا ہے مگر خالق کے ہاں وہ صاحبِ حضور ہوتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

گزشتہ ادوار میں اسمِ  ذات مندرجہ بالا چار منازل میں طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے سلطان الاذکار ”” جو حقیقتاً طالب کو بارگاہِ الٰہی میں لے جاکر ذاتِ حق تعالیٰ کی پہچان عطا کرتا ہے، تک پہنچنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا تھا، اور عموماً کمزور طالبانِ مولیٰ کی رسائی کبھی ”” تک ہو ہی نہ پاتی تھی۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے فیضِ بے بہا اور بے پناہ روحانی قوت کی وجہ سے طالبانِ مولیٰ کو بیعت کے فوراً بعد سلطان الاذکار ”” عطا کر دیا جاتا ہے اور تصور کے لیے سنہری اسمِ  ذات عطا کیا جاتا ہے۔

تصورِ اسمِ اللہ ذات

سانسوں کے ساتھ اسمِ کے ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ  ذات بھی اللہ کی پہچان و معرفت حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے ۔کیونکہ کسی بھی چیز کی پہچان کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ ذریعہ آنکھ اور بصارت ہے۔دیگر حواس اشیاء کی شناخت کے ناقص آلے ہیں۔جبکہ ”دیکھنے ” سے کسی بھی چیز کی پوری پوری پہچان ہو جایا کرتی ہے اس لیے آنکھ سے کیا جانے والا تصور اور پاس انفاس(سانس کے ذریعے) سے کیا جانے والا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ صرف یہی ذریعۂ معرفت اور وسیلۂ دیدارِ پروردِگار ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ کا حکم بھی دیتا ہے:

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

آیت کے پہلے حصے میں ذکر کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں تصور کا۔ ”سب سے ٹوٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ” میں ”متوجہ” ہونے سے مراد قلب و ذہن سے ہر شے کا خیال نکال کر صرف اللہ کی ذات کا تصور آنکھوں کے ذریعے دِل میں بسانا ہے۔تصور سے اسمِ  ذات کو اپنے دِل پر نقش کرنے سے یہ انسان کی باطنی شخصیت پر اثر انداز ہوکر اسے زندہ اور بیدار کرتا ہے اور اس طرح انسان کی ”باطنی آنکھ” کھل جاتی ہے جس سے اسے نورِ بصیرت حاصل ہو جاتا ہے جس سے اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔

ذکر اور تصور کا باہمی رشتہ ایک تانے بانے کی مانند ہے اور ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ذہن ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ کسی نہ کسی چیز کے خیال میں محو رہتا ہے۔ ایک لمحہ بھی خالی نہیں رہ سکتا ۔ یہ ذکر کی قسم ہے اور جن چیزوں کے متعلق ہمارا دِل سوچتا ہے تو ان کی شکلیں ہمارے سامنے آجاتی ہیں ۔ اگر بیوی بچوں کے متعلق سوچتا ہے تو وہ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور گھر کے بارے میں سوچتا ہے تو گھر ہمارے سامنے آجاتا ہے اسے ”تصور” کہتے ہیں۔ ذکر و تصور کا یہ سلسلہ مسلسل اور لگا تار جاری رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا کے لوگوں اور اشیاء سے ہماری محبت اور رشتہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہی تعلق اور لگاؤ ذکر اور تصور ہے۔ صوفیاء کرامؒ ذکر اور تصور کے اس دنیاوی رُخ کو رُوحانی رُخ کی طرف موڑ کر واصل باللہ ہونے کا طریقہ ذکر اور تصورِ اسمِ ذات کی صورت میں بتاتے ہیں۔ جس طرح لوہے کو لو ہا کاٹتا ہے اور پانی کی بہتات سے پَژ مُردہ فصل پانی ہی سے ہری بھری ہوجاتی ہے اسی طرح ذکر کو ذکر اور تصور کو تصور کاٹتا ہے۔ ضرورت صرف ذِکر اور تصور کے رُخ کو بدلنے کی ہے’ اگر ہم دنیا اور اس کی فانی اشیاء اور اشکال کی بجائے اسمِ ذات کا ذِکر اور تصور کریں تو ہمارا اس دنیا اور اس کی اشیاء سے لگاؤ اور محبت ٹوٹ کر اللہ سے عشق و محبت پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کے قلب میں پوشیدہ امانتِ حق تعالیٰ ظاہر ہوجاتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مشق تصورِ اسمِ  ذات کے انسانی قلب و باطن پر اثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مشق تصورِ اسم  ذات سے دِل اس طرح زندہ ہوجاتا ہے جس طرح کہ بارانِ رحمت سے خشک گھاس اور خشک زمین زندہ ہو جاتی ہے۔(شمس العارفین)

تصورِ اسم  ذات کے ذریعے طالبِ اللہ لاھوت لامکان میں ساکن ہوکر مشاہدۂ اَنوار دیدارِ ذات کھلی آنکھوں سے کرتا ہے اور ہر دو جہان کی آرزؤوں سے بیزار ہو جاتا ہے ۔عین دیکھتا ہے عین سنتا ہے اور عین پاتا ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)

ہر قفل کی ایک کنجی ہوتی ہے اور انسان کے (باطنی) وجود کی کنجی تصورِ اسم  ذات ہے۔ جو شخص وجود کا قفل کھول کر قلبِ سلیم کا خزانہ حاصل کرنا چاہے تو تصورِ اسمذات سے ایسا کرے۔(نور الہدیٰ کلاں)

وہ کون سا علم ہے کہ جس کے پڑھنے سے طالب ایک ہی دم میں بغیر کسی ریاضت و مجاہدہ کے اپنے نفس سے جُدا ہو جائے۔ وہ علم ”تصورِ اسمِ  ذات ” ہے کہ جس سے طالبِ مولیٰ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو کر نفس کی حقیقت جان لیتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جملہ قرآنی علوم’ نص و حدیث اور تمام علوم جو لوحِ محفوظ اور عرش و کرسی پر لکھے ہوئے ہیں، ماہ سے ماہی تک ساری مملکتِ خداوندی کے غیبی علوم اور اللہ تعالیٰ کے سارے بھید اور توریت، زبور، انجیل و قرآن کے جتنے علوم ہیں اور تمام حکم احکام اور ظاہری و باطنی نفسی، قلبی، روحی، سِرّی امور اور جو حکمتیں تمام عالمِ مخلوقات کے درمیان جاری ہیں سب کے سب اسی ”تصورِ اسمِ  ذات” کی طے میں موجود ہیں۔ (نورالہدیٰ)

کُل سلک سلوک اور باطن کا صحیح راستہ جس میں کسی قسم کی غلطی، سلب اور رجعت کا خطرہ نہ ہو یہ ہے کہ طالبِ مولیٰ ایسے مرتبے کو پہنچ جائے کہ جس وقت چاہے اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو اور جس وقت چاہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر ہو اور جس وقت چاہے جملہ انبیاء و اولیاء سے ملاقات کرے اور ان کا ہم مجلس ہو جائے۔ یہ توفیق صرف تصورِ اسمِ  ذات سے حاصل ہوتی ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

”تصورِ اسم  ذات ” سے دل میں اَنوارِ دیدار پیدا ہوتے ہیں۔ جب کہ ذکر فکر، وِرد ووظائف سے رجوعاتِ خلق پیدا ہوتی ہے۔ جس سے نفس موٹا اور مغرور ہو جاتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

حشر کے روز آدمیوں کی نیکیوں اور بَدیوں کا حساب ہوگا تو جس شخص کے دل پر اسمِ  ذات نقش ہوگا یا جس شخص نے صرف ایک ہی مرتبہ صدقِ دل سے اسمِ  ذات کا تصور کیا ہوگا، اگر اس کے گناہ آسمان و زمین کے برابر بھی ہوں گے تو ایک طرف کے پلڑہ میں اس کے گناہ رکھ دئیے جائیں گے اور دوسری طرف کے پلڑہ میں اسمِ ذات رکھ دیا جائے گا تو اسمِ  ذات والا پلڑہ بھاری ہوگا اور فرشتے تعجب سے اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ ”یا اللہ! اس نے ایسی کونسی نیکی کی ہے جس کے بدلے میں اس کا نیکیوں والا پلڑہ بھاری ہے؟” اِرشاد ہوگا کہ ”یہ شخص ہمیشہ میری طلب میں رہتا تھا اور میرے ذاتی نام یعنی اسمِ  ذات میں مشغول رہتا تھا۔ اے فرشتو! تم اہلِ حجاب ہو اور اس کے شغل کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہو۔ یہ بندہ میرا طالب ہے یہ میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں۔ تم اس راز سے بیگانہ ہو”۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ (عین الفقر)

اسمِ  ذات کی شان یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمام عمر روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، مال، تلاوتِ قرآنِ مجید اور ہر قسم کی دیگر عبادات کرتا رہے یا عالم بن کر اہلِ فضیلت بن گیا ہو لیکن اسمِ  ذات اور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیگانہ رہا اور ان دونوں اسماء پاک سے شغل نہیں کیا تو اس کی ساری عمر کی عبادت برباد و ضائع ہو گئی۔ (عین الفقر)

فقہ کا ایک مسئلہ سیکھنا ایک سال کی بے ریا عبادت سے افضل اور تصورِ اسمِ  ذات میں ایک سانس لینا ایک ہزار مسائلِ فقہ سیکھنے سے افضل ہے۔(عین الفقر)

ایسا اس لیے ہے کہ تصورِ اسمِ  ذات سے نفسِ امّارہ قتل ہو جاتا ہے اور دل زندہ ہو جاتا ہے جس سے حضور قلب (دل کی توجہ ) حاصل ہوتی ہے۔ جسے حضور قلب حاصل ہو اس کی ہر عبادت مقبول ہوتی ہے اور جسے حضور قلب حاصل نہ ہو اس کی ہر عبادت ریا کا درجہ رکھتی ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا فرمان ہے کہ :

ترجمہ: ”حضور دل کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔”

جس دل کے اندر اسمِ  ذات کانوری نقش قائم ہو جائے وہ دِل قلبِ سلیم کہلاتا ہے اور قلبِ سلیم ہی قیامت کے روز کام آئے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ :

ترجمہ: ”قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ اس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد کام آئے گی بلکہ وہاں کامیابی اس کی ہوگی جس نے قلبِ سلیم پیش کیا۔”

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جب فقیر فنا فی اللہ بقا باللہ تصورِ اسمِ  ذات میں مشغول ہوتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ کاش میں زمین ہوتا اور یہ بندہ مجھ پر بیٹھ کر تصورِ اسمِ  ذات کرتا او ر زمین کہتی ہے ”الحمد للہ” کہ میں ذکر سے حلاوت پا رہی ہوں۔ جب زندہ دل ذاکر تصورِ اسمِ  ذات کرتا ہے تو اس کا ہر رگ و ریشہ گوشت پوست، مغز و قلب و رُوح و سِرّ غرضیکہ تمام اعضائے جسم ذکرِ  سے گویا ہو جاتے ہیں اور ربوبیتِ حق تعالیٰ سے جواب آتا ہے  (میرے بندے میں حاضر ہوں) یہ سُن کر فرشتے رشک سے کہتے ہیں ”ہم تمام عمر تسبیح و سجود و رکوع میں گزار رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہم سے کبھی بھی  نہیں فرمایا۔ کاش کہ ہم بھی بندے ہوتے” اے بندے خود کو پہچان کہ تو خاص ہے۔ اس لیے خاص بن۔ (عین الفقر)

فقیر کے مغزوپوست میں اسمِ ذات کا ذکر جاری ہو جاتا ہے اور یہ ذکر اس کی ہڈیوں میں، اس کی آنکھوں میں اور اس کے چمڑے میں بھی جاری ہو جاتا ہے۔ پس قلبی ذاکر کا تمام بدن اسمِ ذات بن جاتا ہے اور اس میں اسمِ  ذات جاری ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ایسے فقیر کا وجود قدرتِ الٰہی کا نمونہ بن جاتا ہے۔ (محبت الاسرار)

عارف باللہ تصورِ اسمِ  ذات کے ذریعہ ایک ہی دم میں ہزاروں بلکہ لاکھوں مقامات طے کر جاتا ہے۔ (قربِ دیدار)

تصورِ اسمِ  ذات کی مشق کرنے والا معشوق بے مشقت اور محبوب بے محنت ہوتا ہے۔ اسے عمدہ مراتب نصیب ہوتے ہیں اور وہ روشن ضمیر ہو جاتا ہے وہ تمام دِلوں کا پیارا ہو جاتا ہے۔ اسمِ  ذات کے تصور اور تصرف سے طالبِ اللہ مخلوقِ خدا کے لیے فیض بخش ہوتا ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

تصورِ اسمِ  ذات کے بغیر دل سے سیاہی و کدورت و زنگار اور خطراتِ شرک و کُفر کی نجاست دُور نہیں ہوتی۔ (شمس العارفین)

تصورِ اسمِ ذات صاحبِ تصور کے لیے زندگی بھر شیطان اور اس کے چیلوں کے شر سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ (شمس العارفین)

اعمالِ ظاہر سے دل ہرگز پاک نہیں ہوتا اور نہ ہی دل سے نفاق جاتا ہے جب تک کہ دل کو مشق تصورِ اسمِ  ذات کی آگ سے نہ جلایا جائے اور نہ ہی اس کے بغیر دل کا زنگار اُترتا ہے۔ ذکر ”” کے بغیر دل ہرگز زندہ نہیں ہوتا اور نفس ہرگز نہیں مرتا۔ (شمس العارفین)

جو شخص چاہے کہ زرّیں و اطلس کا لباس پہنے اور عمدہ خوراک کھانے کے باوجود اُس کا نفس مطیع و فرمانبردار رہے، حادثاتِ دنیا سے مامون رہے، معصیّتِ شیطانی سے محفوظ رہے اور اُس کے وجود سے خناس، خرطوم و وسوسہ و ہمات و خطرات خاک وخاکستر ہو کر نیست و نابود ہو جائیں تو اُسے چاہیے کہ مشقِ تصور سے اپنے دل پر اسمِ  ذات نقش کرے، اس طرح اُس کا دل غنی ہو جائے گا اور بے شک وہ مجلسِ محمدی( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) میں حضوری پائے گا۔ (کلیدالتوحید کلاں)

مشقِ مرقومِ وجودیہ

مشقِ مرقومِ وجودیہ میں انگشتِ شہادت سے نقش اسمِ  ذات کو سامنے رکھ کر تفکر سے وجود کے مختلف اعضاء پر اسمِ  ذات لکھا جاتا ہے جس سے روح نورِ الٰہی سے تقویت و تجلیات پاتی ہے۔حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مشقِ مرقومِ وجودیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

کُل و جز کے جملہ مراتب حاصل کرنا اور واصل بحق ہونا مشقِ مرقومِ وجودیہ ہی سے ممکن ہے۔ مشقِ مرقومِ وجودیہ میں وجود پر بذریعہ تفکر (مخصوص طریقہ سے)اسمِ  ذات لکھا جاتا ہے جس سے طالب کے وجود میں اسمِ  ذات کے ہر ایک حرف سے تجلی پیدا ہوتی ہے جو طالب کو یکدم حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کے مرتبے پر پہنچا دیتی ہے اور طالب غنی و لایحتاج ہو جاتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

وہ کونسی راہ ہے اور وہ کونسا علم ہے کہ جس سے طالبِ اللہ، آفاتِ شیطانی’ بلیاتِ نفسانی اور حادثاتِ دنیائے پریشانی سے بچ کر قربِ ربّانی میں پہنچ جاتا ہے اور فنا فی اللہ ہو کر ہمیشہ غرقِ نور اور مشرفِ وصال رہتا ہے۔ اُسے وصال لازوال حاصل رہتا ہے وہ قیل وقال کو چھوڑ دیتا ہے اور دیدارِجمال کے مشاہدے کی لذّت حاصل کرتا رہتا ہے۔ وہ علم و راہ ”مشقِ مرقومِ وجودیہ” ہے کہ جس سے اسمِ  ذات طالبِ اللہ کے ساتوں اندام کو سَر سے قدم تک اِس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس طرح گھاس کی بیل درخت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اسمِ  ذات طالبِ اللہ کے وجود کو سَر سے قدم تک اِس طرح اپنے قبضہ و تصرف میں لے لیتا ہے کہ اُس کے ہر اندام پر، کا نقش تحریر ہو جاتا ہے۔(نورالہدیٰ کلاں)

طالبِ مولیٰ جب تصور سے مشقِ مرقومِ وجودیہ کرتاہے تو سر سے قدم تک اس کے ساتوں اندام نور کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور طالب مولیٰ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتاہے جس طرح کہ بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت پاک ہو تا ہے۔ مشقِ وجودیہ اسم ذات کی پاکیزگی کی برکت سے طالب مولیٰ نوری بچہ بن کر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل ہو جاتا ہے جہاں حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام لطف و کرم و شفقت فرماتے ہیں اور اس معصوم نوری بچے کواہل بیت رضی اللہ عنہم کے پاس لے جاتے ہیں جہاں خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور امہات المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اسے اپنا نوری فرزند قرار دے کر اپنانوری دودھ پلاتی ہیں جس سے وہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا شیر خوار نوری بچہ بن جاتا ہے اور اس کا نام فرزندِ حضوری اور خطاب فرزندِ نوری ہو جاتا ہے۔ باطن میں وہ اسی نوری حضوری بچے کی صورت میں ہمیشہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتا ہے اور بظاہر اربعہ عناصر کے ظاہری وجود کے ساتھ لوگوں میں ہر خاص و عام سے میل جول رکھتاہے یہ مراتب ہیں کامل فقیر کے۔ (باب شرح فقر نورالہدیٰ کلاں)

اسمِ اللہ ذات کا منکر

اسمِ  ذات کے منکر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”اسمِ  ذات اور ذکر اور تصورِ اسمِ ذات سے منع کرنے والا شخص دو حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا’ یا تو وہ منافق ہوتا ہے یا کافر یا پھر وہ حاسد ہو تا ہے یا متکبر۔(عین الفقر)

جو اسمذات اور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ ابوجہل ثانی ہے یا فرعون۔(قربِ دیدار)

جسے اسمِ  ذات اور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یقین نہیں وہ منافق ہے۔(محک الفقر کلاں)

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں