ishq-e-haqeeqi 1,615

عشقِ حقیقی–Ishq-e-Haqeeqi

عشقِ حقیقی

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔

ترجمہ:” اور جو ایمان لائے اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے ۔ ”

انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیاء سے محبت ہوتی ہے ۔ مثلاًاللہ تعالیٰ سے محبت،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ،ماں ، باپ ،بیوی ، بچے،بہن،بھائی، رشتہ دار ،دوست ، گھر،زمین،جائیداد ، شہر، قبیلہ ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت ۔جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اوروہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں ۔عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے ا ور باقی تمام محبتوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے ” اِس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں ، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ پیارا نہیں ہوجاتا۔” (بخاری ومسلم)ا للہ نے اللہ پاک سے شدید محبت کو مومنین کی صفت قرار دیا ہے اورعشق کا خمیر انسان کی روح میں شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات پاک مخفی و پوشیدہ تھی پھر ذات کے اندر ایک جذبہ پیدا ہوا کہ میں پہچانا جاؤں مگر یہ چاہت اور جذبہ اس شدت سے ظہور پذیر ہوا کہ صوفیا کرام نے اسے عشق سے تعبیر کیا۔اسی جذبہ عشق میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نورسے ”نورِ احمدی” کو جدا کیا اور پھر نورِ احمدی سے تمام مخلوقات کی ارواح تخلیق ہوئیں جیسا کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”جان لو جب اﷲ واحد نے حجلہ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن وجمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیاجس سے ہر دو جہان اس کے حسن وجمال کی شمع پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اﷲ تعالیٰ نے میم احمدی (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) کا نقاب پہنا اور صورت احمدی(صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) اختیار کرلی”۔(رسالہ روحی شریف)

حاصل بحث یہ ہے کہ جب عشق(اللہ تعالیٰ) نے اپنا دربار سجایا تو سب سے پہلے اپنی ذات سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ظاہر کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام مخلوق کی ارواح کو پیدا کیا گیا اور یہی حقیقتِ محمدیہ ہے جس کے ظہور کیلئے یہ کائنات پیدا کی گئی ۔

کئی احادیث و روایات اِس امر کی مُوید ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بتایا کہ

یعنی اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ افلاک پیدا نہ کرتا ۔

خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :

یعنی میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔
مطلب یہ ہے کہ ابھی تک آدمؑ علیہ السلام کا ظہور نہ ہوا تھا ۔ یا فرمایا:

 ( میں اللہ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے)یعنی تخلیق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّل ہیں ظہور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آخر ہیں اس لئے اوّل بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور آخر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔حضرت ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوّل و آخر ہونے کی ایک خوبصورت مثال دی ہے کہ مثلاً ایک تاجر ہے۔ وہ اپنے خزانے کے اوپر غالیچے کو لپیٹ کر رکھے مگر اسکے اندر ایک دوسرے کے اوپر کئی کپڑے بھر دے تو اس صورت میں جب وہ اس غالیچے کو کھولے گا تو جو کپڑا اس نے سب سے پہلے رکھا ہوگا وہ سب سے آخر میں نکلے گا۔ شجرۃ الکون میں ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور کا حال یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک سب سے پہلے وجود میں آئی اور سب سے آخر میں آپ کا ظہور ہوا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو اوّل و آخر کہا گیا ہے۔اقبال ؒ نے اس کو یوں بیان فرمایا ہے:

یہ وہی مرتبہ ہے جہاں آپ کُل ہیں۔

ترجمہ: سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اورآپ سے ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ مصنف عبدالکریم الجیلیؒ )

نورِ مُحمدّیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظہور حالتِ بشَریت میں دنیا کی تاریخ ماہ و سال میں اپنے وقت پر ہوا ۔ یہ آپ کا بشری وجود تھا ۔ (ترجمہ:اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ایک کو چُن لیا، بظاہر وہ ان میں سے ہے مگر اپنی حقیقت میں اِن سے نہیں) ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اس دنیائے آب وگل میں ظہور بھی کامل طور پر ہوا ،یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بشریت کا اطلاق ہوا:  (ترجمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کہہ دیجئیے، میں بھی تمہاری مثل ایک بشر ہوں)

نور کی حقیقت اپنے مقام پر رہی لیکن بعض دیکھنے والوں کی نظر کے لئے یہ بشریت حجاب بن گئی کہ وہ اس بشریت کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کو نہ دیکھ سکے: (ترجمہ اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیکھیں ، آپ کی طرف تکتے ہیں اور کچھ نہیں دیکھتے )ظہور کا سارا حُسن و جمال پیکرِ مُحمدّ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ڈھل گیا۔ غالب نے کہا ہے:

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی               قسمت کھلیِ ترے قد ورُخ سے ظہور کی

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ:مصطفی( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اُن میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت منعکس ہے۔

یعنی کائنات کی ابتدا عشق ہے اور انسان کی تخلیق عشق کے لیے ہے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ مبارک سے جب ارواح کو پیدا کیا گیا تو عشقِ الٰہی کا جوہرِ خاص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے ارواحِ انسانی کے حصہ میں آیا۔

دیدارِ حق کے لیے طالب کے دل میں جذبہ عشق کا پیدا ہونا لازم ہے۔ دراصل روح اور اﷲ کا رشتہ ہی عشق کا ہے۔ بغیر عشق نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی ”دیدار” پاسکتی ہے۔ عشق ایک بیج کی صورت میں انسان کے اندر موجود ہے۔ مگر سویا ہوا ہے جیسے جیسے ذکر وتصور اسم ذات مشقِ مرقومِ وجودیہ اور مرشد کی توجّہ سے یہ روح کے اندر بیدار ہونا شروع ہوتا ہے۔ ویسے ویسے روح کی اﷲ کے لیے تڑپ اور کشش میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

فقراء کاملین نے عشق کو دیدارِ حق کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ عشقِ حقیقی ہی بارگاہ رب العالمین میں باریابی دلاتا ہے۔ عشق ہی انسان کو ”شہ رگ” کی روحانی راہ پر گامزن کرکے آگے لے جانے والا ہے یہی اس راہ سے شناسا کراتا ہے۔ یہی روح کے اندر وصالِ محبوب کی تڑپ کا شعلہ بھڑکاتا ہے۔ یہی اسے دن رات بے چین وبے قرار رکھتا ہے۔ آتشِ ہجر تیز کرتا ہے اور یہی ”دیدارِ حق” کا ذریعہ بنتا ہے۔

جناب سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشاق کے متعلق فرماتے ہیں:

ترجمہ:”اگر عاشقوں کو جنت اس کے جمال کے بغیرنصیب ہوتو سخت بدقسمتی ہے اور اگر مشتاقوں کو اس کے وصال سمیت دوزخ بھی نصیب ہو تو بھی نہایت ہی خوش قسمتی ہے”(اسرار قادری)

عشق والوں سے معاملہ بھی جدا ہوتا ہے۔ علمائے محض سے اور طرح بات ہوتی ہے اور عشاق کے ساتھ دوسرے طریقے سے گفتگو کی جاتی ہے عشق مشاہدہ کا وارث ہے اور حقیقت کی تہہ یا اس کی کنہہ تک کی خبر رکھتا ہے مگر علم کی نظر سطح تک رہتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو قدس سرہ العزیزنے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے:

واضح رہے کہ عشق کی یہ راہ مذہب وملت اور کتابوں میں لکھی ہوئی نہیں اس سے مراد رب الارباب ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج سے مشرف ہوکر واپس تشریف لائے تو پہلے عاشقوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اﷲ کو دیکھا؟ فرمایا: (جس نے مجھے دیکھا’ اس نے گویا اﷲ تعالیٰ ہی کو دیکھا) بعد ازاں علماء نے پوچھا کہ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خدا کو دیکھا؟ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں ترجمہ(اورنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے)وارد ہے۔ فرمایا:  (اس کی آیات میں تفکر کرو۔ لیکن اس کی ذات کی بابت نہیں)(محبت الاسرار)

محبوب سبحانی قطب ربانی سید نا غوث اعظمؓ اپنے رسالہ اسرارِ الٰہیہ(الرسالۃ الغوثیہ) میں بیان فرماتے ہیں؛ ”میں نے اﷲ تعالیٰ کو دیکھا پھر میں نے سوال کیا اے رب عشق کے کیا معنی ہیں؟
فرمایا! ”اے غوث الاعظمؓ عشق میرے لیے کر’ عشق مجھ سے کر اور میں خود عشق ہوں اور اپنے دل کو ‘ اپنی حرکات کو میرے ماسوا سے فارغ کردے۔ جب تم نے ظاہری عشق کو جان لیا پس تم پہ لازم ہوگیا کہ عشق سے فنا حاصل کرو۔ کیونکہ عشق عاشق اور معشوق کے درمیان پردہ ہے پس تم پر لازم ہے کہ غیر سے فنا ہوجاؤ کیونکہ ہر غیر عاشق اور معشوق کے درمیان پردہ ہے۔”

حضرت رابعہ بصری ؒ کا قول ہے:

ترجمہ:مستانہ وار محبوب کو سجدہ کرنا عاشقوں کی نمازِ حقیقی اور درد بھرے دل کاسوز وگداز ان کا قرآن پڑھنا ہے۔

مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

ترجمہ: عشق ایسا شعلہ ہے جب بھڑک اُٹھتا ہے تو معشوق (حقیقی) کے سوا تمام چیزوں کو جلادیتا ہے۔

خواجہ حافظ فرماتے ہیں: ”جو شخص دل میں اﷲ کا عشق نہیں رکھتا یقیناًاس کی عبادت بے سود’ مکروریا ہے۔” (دیوان حافظ)

بابا بلھےؒ شاہ اپنی کافی” نی میں ہن سنیا” میں فرماتے ہیں اﷲ کے عاشق علم وعقل کی بلندیاں پار کرکے جہاں پہنچ جاتے ہیں اس کی عالموں فاضلوں کو کچھ خبر نہیں ۔

میاں محمد بخش صاحب رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: جنہوں نے اس دنیا میں عشق کا سودا نہ کیا اُن کی زندگی فضو ل اور بے کار گزری اور عشق کے بغیر آدم اورکُتے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ترجمہ: جو دِل عشقِ الٰہی میں مبتلا نہ ہوا اُس سے تو کُتے بہتر ہیں کہ اپنے مالک کے گھر کی نگہبانی تب بھی صبر سے کرتے ہیں جب مالک انہیں کھانے کو بھی نہ دے اور دھکے مار کر نکالنے کی کوشش بھی کرے تو بھی نہیں جاتے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں بھی اپنے مرشد مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی طرح عشق ہی راہِ فقر کی کلید ہے اور عشق ہی منزل تک پہنچاتا ہے۔ راہِ فقر راہِ عشق ہی ہے۔ عشق کے بغیر فقر کی انتہا دیدارِ الٰہی تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ بھی تمام عارفین کی طرح عشق کے بغیر ایمان کو نامکمل قرار دیتے ہیں:

مسلمان اگر عشقِ الٰہی میں مبتلا نہیں ہے تو علامہ اسے مسلمان نہیں سمجھتے۔

ترجمہ: مسلمان اگر عاشق نہیں تو وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔

ترجمہ: عشق کی نگاہ سخت پتھر کو بھی توڑ دیتی ہے۔ حق کا عشق آخر کار خود حق کی مکمل صورت بن جاتا ہے۔ (حق کے ساتھ عشق آخر خود حق بن جاتا ہے)
اصل ”توحید” عشق ہے اور عشق کے بغیرتوحید ایسے ہے کہ جیسے تلوار کے بغیر ایک نیام ۔

ترجمہ: عاشقی کیا ہے؟ عاشقی توحیدِ ایزدی (اللہ تعالیٰ) کو دِل میں بسانا ہے اور پھر ہر مشکل سے ٹکرانا ہے یا ہر مشکل کا سامنا کرنا ہے تاکہ توحید صحیح معنوں میں پختہ ہو جائے۔

عاشق کی انتہا مرتبۂ محبوب

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ کے فلسفہ فقر میں عشق ہی کامیاب کی کلید ہے اور عشق ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچاتا ہے آپؒ فر ماتے ہیں:

ترجمہ: عاشق بے چارے کی جان محبوب میں اٹکی رہتی ہے اور وہ ہر وقت عشق ومحبت کے ترانے گاتا رہتا ہے۔(عین الفقر)

ترجمہ: تو جانتا ہے کہ عشق کیا چیز ہے؟ اپنے نفس کو مار دینے کا نام عشق ہے۔ عشق وہ چیز ہے کہ جس کی کاٹ سے دِل ہر وقت سوزش میں مبتلا رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

ترجمہ:

1.   تُو جب تک عشق میں خود سے باخبر رہے گا تیرا معاملہ معرضِ خوف و خطر میں رہے گا۔

2.  اور جب تو خود سے بے خبر ہوجائے گا تو آب و آتش سے تجھے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔

3.  جب تو اپنی ہستی سے آزاد ہوجائے گا تو تجھے دلبر (اللہ تعالیٰ) کا وصال نصیب ہوجائے گا۔

عاشقانِ الٰہی ہر گز نہیں ڈرتے اور نہ ہی وہ کسی کی ملامت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔(محک الفقر کلاں)

مومن کا سرمایہ حیات’ ایمان’ ہے لیکن عاشق کی یہ ادنیٰ منزل ہے عاشق کی اصل منزل ”وصالِ حق” ہے جو صرف عشقِ حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔ عشق کی تپش جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو ہجروفراق کی صورت اختیار کر لیتی ہے محبوب کے لیے طلب اور تڑپ میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ہجر کی یہ آگ عاشق کو دن رات بے چین اور بے قرار رکھتی ہے۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”عشق ایک لطیفہ ہے جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور معشوق کے سوا کسی چیز سے قرار نہیں پکڑتا۔ (محکم الفقراء)

جان لے کہ ذکر عشق ہے۔ا ور عشق بلندی پر پرواز کرتا ہے۔ مکھی اگر ہاتھ ملے یا سردھنے یا ہزار مرتبہ اڑلے’ پروانے وشہباز کے مرتبہ ومنصب پر نہیں پہنچ سکتی۔ زاہد اگرچہ ریاضت کرتا ہے مگر صاحبِ راز عاشق نہیں ہو سکتا۔ جان لے کہ عشق کا سبق مدرسہ کے کسی استاد نے نہیں پڑھایا۔ اس لیے کہ یہ ایک بارِ گراں ہے۔ عشق کی روایت میں جہان بھر سے بیگانگی ہے۔ جان لے کہ عاشق موت کا طلب گار رہتا ہے۔ کیونکہ عاشق کے لئے مراتب لامکان ہیں(جو مر کر ہی حاصل ہوتے ہیں) اور عاشق کی موت کا مطلب محبوب کا وصل ہے۔(عین الفقر)

جان لوکہ فقیر دو قسم کا ہے ایک سالک دوسرا عاشق۔ سالک صاحبِ ریاضت ومجاہدہ ہوتا ہے۔ اور عاشق صاحبِ راز ومشاہدہ ۔ سالک کی انتہا عاشق کی ابتدا ہوتی ہے۔ کیونکہ عاشق کی خوراک مجاہدہ او راس کی نیند مشاہدہ ہوتی ہے ۔عاشقوں کے جسم تو دنیا میں ہوتے ہیں لیکن دل آخرت میں۔ (محکم الفقراء)

عشق بھی صراف کی مِثل ہے جو کھوٹے سونے کو کھوٹا کرتا ہے اور کھرے کو کھرا ۔(عین الفقر)

اے زاہدبہشت (طالبِ عقبیٰ) کے مزدور غور سے سن لے کہ عاشقانِ الٰہی کی خوراک اللہ کا نور تصورِ اسمِ  ذات ہے جس نور کے سبب اُن کا شکم آگ کے تنور کی مثل ہے اور اُن کی نیند اللہ تعالیٰ کی ذات کا عین وصال ہے اور نیند میں انہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مکمل حضوری بھی حاصل ہوتی ہے۔(محکم الفقراء)

اور پھرعاشق کی پہچان آپ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بیان فرمائی ہے:


ترجمہ: اے بَاھُوؒ عاشقانِ الٰہی کا یہی ایک راز ہے کہ ہر وقت ”ذکرِ ھُو” میں غرق رہتے ہیں کہ ان کا کام ہی ہر دم ”ذکرِ ھُو” میں غرق رہنا ہے۔(عین الفقر )

حضرت سخی سلطان باھوؒ عاشق کے بارے میں اپنی کتاب (نور الہد یٰ کلاں)میں فرماتے ہیں:

فقیر کامل مکمل عاشق اور فقیر اکمل جامع اﷲ تعالیٰ کا معشوق ہوتا ہے۔ فقیرکا انتہائی مرتبہ شرفِ دیدار ہے اور جو فقیر عاشقِ خدا ہے وہ معشوقِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ فقیر کی یہ بات من گھڑت نہیں بلکہ اِس آیت مبارکہ کے عین مطابق ہیکہ: ”محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُن لوگوں کی معیّت میں رہا کریں جو رات دن اپنے ربّ کی بارگاہ میں دیدارِ الٰہی کی خاطر ملتجی رہتے ہیں، اُن کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھیں زینتِ دُنیا کی تلاش میں نہ پھرا کریں، اور اُس کا کہا نہ مانیں جس کے دِل کو ہم نے اپنے ذکرسے غافل کردیا، وہ تو خواہشِ نفس کا غُلام ہے اور اُس کا کام ہی حدیں پھلانگنا ہے۔(سورۃ الکہف۔28)

یہ حدیثِ قُدسی بھی عاشق فقیر کے بارے میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ: ” جومیراطالب بنتا ہے، بے شک وہ مجھے پا لیتا ہے، جو مجھے پالیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے، جو مُجھے پہچان لیتا ہے وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے ، جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرا عاشق بن جاتا ہے ، جو مجھ سے عشق کرتا ہے میں اُسے مار ڈالتا ہوں، جسے میں مار ڈالتا ہوں اُس کی دِیَت میرے ذمیّ ہوجاتی ہے اور اُس کی دِیَت میں خود ہوں۔”

ترجمہ: عاشقوں کا مرتبہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اِن کی ابتدا بھی نور اور انتہا بھی نور ہوتی ہے۔ (نور الہدیٰ ) جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: نور پر نور چڑھا ہوا ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور سے بہرہ ور کردیتا ہے۔

جان لے عاشق کے دو مرتبے ہیں ابتدا میں عاشق آخر میں معشوق ۔ عاشق کی ریاضت دیدارِ الٰہی ہے عاشق پر ذِکر ، فکر اور وردوو ظائف حرام ہیں ۔ عاشق کا نیک وبداور طلب مطالب سے کیا کام۔ (نور الہٰدی)

راہِ حق کے طالب اچھی طرح جانتے ہیں راہِ حق میں جان قربان کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اصل کام زندہ رہ کر اپنے اندر سے اپنی انا اور خودی کو ختم کرکے اﷲ کی رضا پر راضی اور خوش رہناہے یعنی مرنے سے پہلے مر جانا ہے۔ اور یہ بے حد مشکل کام ہے۔ لیکن آپؒ عشق کی اس منزل تک پہنچنے کے بارے میں فرماتے ہیں :

باھوؒ عشق را بام بلند است اسم نرد بان                ہر مکانے بے نشانے می برد در لامکان

ترجمہ: اے باھوؒ عشق کی چھت بہت بلند ہے اس پر پہنچنے کے لئے اسم ذات کی سیڑھی استعمال کر جو تجھے ہر منزل و ہر مقام بلکہ لامکان تک پہنچادے گی۔(عین الفقر)

یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر عشق کا پوشیدہ جذبہ بیدار کیسے ہو ہمارا عشق تو ان چیزوں’ شکلوں اور لوگوں کیساتھ ہوتا ہے جنہیں ہم نے دیکھا ہے اﷲ تعالیٰ تو غیر مجسم ہے۔ اسکے ساتھ ہم عشق کیسے کریں؟ فقراء کاملین کے خیال کے مطابق عشقِ مجازی (عشقِ مرشد)کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشقِ حقیقی (یعنی اللہ تعالیٰ کے عشق)تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشقِ مجازی کسی عورت کے مرد سے اور مرد کے کسی عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔راہِ فقر میں عشقِ مجازی سے مراد عشقِ مُرشد ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ عشقِ مجازی ( عشقِ مرشد ) کا طریقہ کیا ہے؟

عشقِ مجازی ( عشقِ مرشد) کے لئے تمام سلسلوں اور طریقوں میں یہ طریقہ اختیارکیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لئے کہا جاتا ہے بلکہ آجکل تو کچھ سلسلوں نے اس کے لئے مرشد کی با قاعدہ تصاویر بھی دینی شروع کردی ہیں۔ طالب ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے۔ اِس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہے اور آج کے دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے پھر یہ شرک اوربت پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔کیونکہ یہ انسانی جَبِلَّت ہے کہ وہ جس کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے اُسے اس سے محبت ہوہی جاتی ہے اور پھر یہ محبت عشق میں بھی بدل جاتی ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں یہ طریقہ نہیں ہے ۔ اِس میں عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) تصور اسم ذات سے پیدا ہوتا ہے۔یعنی طالب جب اسمِ  ذات کا تصور شروع کرتاہے تو سب سے پہلے اُسے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے اور اِس طرح سے مرشد سے عشق کا آغاز ہوتا ہے۔اِسکے دو فوائد ہیں ایک تو اِس میں استدراج اور دھوکہ نہیں ہے کیونکہ تصوراسمِ ذات سے یہ تصور حاصل ہوا ہے اور جب تصورِ اسم ذات سے یہ تصور حاصل ہوتا ہے تو طالب (مرید) کو یقین ہو جاتا ہے کہ میرا مرشد کامل ہے اور میں صراطِ مستقیم پہ ہوں۔ پھر یہ عشق مرشد سے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کی طرف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عشق یعنی عشقِ حقیقی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور طالب فنا فی اللہ بقا باللہ کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

دوسرے سلاسل میں پہلے فنا فی الشیخ کا مراقبہ کرایا جاتا ہے پھر فنا فی الرسول کا مراقبہ کر ایا جاتا ہے اور پھر آخر میں اسمِ ذات کے ذریعہ (ہر سلسلہ کا طریقہ مختلف ہے) فنا فی اللہ کا مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ یہ عمل ایک لمبے عرصہ کا متقاضی ہے۔ لیکن سلسلہ سروری قادری میں پہلے دِن ہی مرشد تصورِ اسمِ ذات عطا کر دیتا ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ جہاں دوسرے طریقوں کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے سلسلہ سروری قادری کی ابتدا ء ہوتی ہے۔

شاہ شمش تبریز رحمتہ اللہ علیہ عشقِ مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: عشقِ حقیقی ہی بارگاہِ ایزدی میں بار یابی دلاتا ہے۔ اگر معراج کی داستانِ حقیقی پڑھنا ہے تو کسی عاشق صادق (مرشد کامل) کے چہرہ پر نظر جماؤ۔

مولانا جامیؒ کا قول ہے کہ

ترجمہ: اگر تجھے ذاتِ مرشد کا عشق نصیب ہوجائے تو اسے اپنی خوش نصیبی جان کیونکہ یہ ذاتِ حق کے عشق تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔

بابا بلھے شاہ ؒ کے نزدیک بھی عشقِ مجازی عشقِ حقیقی کا سرچشمہ ہے۔ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی پیدا ہوتا ہے۔

ترجمہ: اگر مرشد سے عشق نہیں ہوتا تو انسان خُدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس طرح سوئی دھاگے کے بغیر سِلائی نہیں کر سکتی اِسی طرح عشقِ مجازی کے بغیر عشقِ حقیقی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

حضرت میاں محمد بخش صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ:۔میں بہت عاجز اور عام آدمی تھا لیکن مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میرا مرشد کامل اوراکمل ہے اور انہوں نے مجھ عاصی پر اپنی شان کے مطابق مہربانی فرمائی اور مجھے آخر تک اپنی غلامی میں رکھا اورمجھے میری منزل (عشقِ حقیقی) تک پہنچایا۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی مرشد کے عشق کو عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں۔حضرت سخی سلطان باھوؒ کے پنجابی ابیات میں سب سے زیادہ ابیات عشق کے موضوع پر ہیں۔

آپؒ فر ماتے ہیں جب ہم نے ”اسمِ  ذات ” کی حقیقت کو پہچان لیا اور اُس کا راز ہم پر منکشف ہو گیا تو عشق کی آگ ہمارے اندر بھڑک اٹھی اور اس کی تپش سے محبوبِ حقیقی سے ملنے کے لئے ہماری بے چینی و بے قراری بڑھتی جارہی ہے۔یہی عشق کی تپش ہمیں راہِ فقر میں اگلی منزل کی طرف قدم بڑھانے پر مجبور کر رہی ہے اور جب عشق نے اس منزل کی رسومات سے ہمیں واقف کرا دیا تو ہم نے محبوبِ حقیقی کو پا لیا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اس بیت میں فر ماتے ہیں کہ ایمان کی سلامتی تو ہر کوئی طلب کرتا ہے لیکن عشق کی دولت تو کوئی طالبِ مولیٰ ہی طلب کر سکتا ہے ۔ یہ طالبانِ ناقص اور طالبِ دنیا و عقبیٰ ہیں جو صرف ایمان کی سلامتی کے طلب گار ہیں اور عشقِ الٰہی طلب کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر میرے دِل کے اندر غیرتِ فقر و عشقِ الٰہی اجاگر ہو رہی ہے حالا نکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن منازل و مقامات تک عشق کی رسائی ہے اُس کی ایمان کو تو خبر تک نہیں ہے۔ آخری مصرعہ میں آپؒ دعا گو ہیں اور اپنے مرشد سے التجا کرتے ہیں کہ میرے مرشدِ کامل میرے عشق کو سلامت رکھنااور مجھے استقامت عطا کرنا کیونکہ یہ عشق مجھے ایمان سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔

عشقِ حق تعالیٰ تو وہ پاتے ہیں جو اس راہ میں اپنا گھر بار تک لٹا دیتے ہیں اور جن پر عشق کا رنگ چڑھ جائے تو اسکو کوئی اتار نہیں سکتا۔ مالکِ حقیقی کے عاشق نہ تو صوفی ہیں اور نہ ہی صافی ہیں اور نہ ہی وہ مساجد میں عبادت میں محو رہتے ہیں بلکہ وہ تو عشقِ الٰہی میں جذب ہو کر دیدارِ حق تعالیٰ میں محو ہیں۔ علماء شریعت کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور شرع کی رنگینیوں میں گم رہتے ہیں اور نمازِ عشق ادا کرنے کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوتے۔

عاشقانِ ذات نے یومِ الست کے دِن ہی روزِ قیامت تک عشق کا وضو کر لیا ہے اور دِن رات حضرتِ عشق (اللہ تعالیٰ) کے در پر رکوع و سجود میں محو رہتے ہیں دونوں جہانوں میں عزت و شرف صرف فقر کو حاصل ہے اسی لیے عاشقان کا مقام تو عرش معلی سے بھی کئی کوس آگے ہے۔

جو مقام اور منزل حق تعالیٰ کی بارگاہ میں عاشق (ذات) کا ہے اس مقام اور منزل تک غوث و قطب وغیرہ کا گزر تک نہیں ہے۔ عاشقانِ ذات نے ”لامکان” میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں اور ہمیشہ وصالِ ذات میں رہتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں اِن عاشقوں کے قربان جاؤں جو اپنی ہستی کو ختم کر کے ذاتِ حق میں فنا(فنا فی اللہ) ہو چکے ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق عشق وہ روحانی جذبہ ہے جو مخلوق کو خالق سے ملا دیتا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جسکی بنا پر انسان اپنی نفسانی کدورتوں’ شیطانی وہمات اور کبیرہ وصغیرہ گناہوں سے کنارہ کش ہوکر اﷲ کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے اور عشقِ حقیقی (اﷲ تعالیٰ سے عشق) کی ابتدا عشقِ مجازی (مرشد سے عشق ) سے ہوتی ہے۔

علم عقل اور عشق

عاشق کی انتہا مرتبہ معشوق (محبوب) ہے۔
عشق کی انتہا یہ ہے کہ عاشق عشق کرتے کرتے معشوق بن جاتا ہے اور معشوق عاشق بن جاتاہے۔ اس کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نور الہدیٰ میں فرماتے ہیں:

مرتبہ فقر اصل میں مرتبہ معشوق ہے ۔ عِشق کی انتہا یہ ہے کہ عاشق عشق کرتے کرتے معشوق بن جاتا ہے اور معشوق عاشق بن جاتا ہے معشوق کو جس چیز کی خواہش ہو عاشق اسے مہیا کردیتا ہے بلکہ معشوق کے دِل میں جو بھی خیال گزرتا ہے اس کی خبرعاشق کو ہو جاتی ہے اور وہ معشوق کی خواہش کو ایک ہی نگاہ میں پورا کردیتا ہے۔

اقبالؒ اس مقام کے متعلق فرماتے ہیں:

ترجمہ: جب عشق کمال کو پہنچ جاتا ہے تو وہ سراپا ناز (محبوب) کی صورت اختیار کر لیتا ہے’ چنانچہ میرے صحرائے عشق میں قیس کو لیلیٰ کہا جاتا ہے۔ یعنی عاشق کا عشق جب کمال کو پہنچ جاتا ہے’ تو عاشق گویا خود معشوق بن جاتا ہے’

بقول بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ:

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اور عشق

عقل کا منبع دماغ اور عشق کا مرکز دِل ہے اور دِل میں اللہ تعالیٰ کی جلوہ گری ہے اور پھر تمام دنیا وی علوم کی بنیاد عقل اور خرد پر ہے اور یہ سب علوم عقل ہی کی بدولت حاصل کیے جاتے ہیں تو بدلے میںیہ عقل وخرد میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ انسانی عقل اور اس کا علم محدود ہے۔ عقل اور اس کی بِنا پر حاصل علم ہمیں زمان ومکان کی حدودسے باہر نہیں لے جا سکتا اور عقل اور علم کی بِنا پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل نہیں ہوسکتی جب ہم علم اور عقل کی حدود پار کرکے عشق کی حدود میں داخل ہوتے ہیں توعشق تمام حدود پار کرکے ہمیں ”لامکان” تک پہنچا دیتا ہے۔

مولانا رومؒ کا قول ہے کہ” ہم عشقِ الٰہی کو علم وعقل سے بیان نہیں کرسکتے”۔

مولانا روم فرماتے ہیں:

ترجمہ: عشق آگیا تو بے چاری عقل بے کار ہوگئی جیسے سورج نکلا تو شمع کی ضرورت نہ رہی ۔

ترجمہ: عقل کا راستہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہے اور عاشقوں کا راستہ خدا کے سواکچھ نہیں۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”علم اور عقل عشقِ الٰہی کی راہ کی بڑی کمزوری ہے عشقِ الٰہی میں وہ لُطف وسرور ہے کہ اگر کسی جید عالم کو اس کا ذرہ سا مزہ مِل جائے تو وہ تمام علمیت بھول کر عشق الہی میں گُم ہوجائے۔”(کلید التوحید کلاں)

آپؒ ایک پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

عشق کا دریا چڑھ کر وحدت کے بحرِبیکراں تک پہنچ گیا ہے۔فقر تو محض عشق کی راہ ہے اس میں عقل کا کیا کام۔ اس لئے عقل و فکر کی ناکارہ کشتی کو پہلے دن ہی ڈبو کر اس سے نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ دریائے وحدت میں جب طالب داخل ہوتا ہے تو تکالیف’ مشکلات اور مصائب کے خطرات کا تو سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور جس موت سے خلقت ڈرتی ہے عاشق کو اِسی موت کے بعد حیاتِ ابدی نصیب ہوتی ہے۔

عشق کا کھیل ایسا ہی نرالا ہے جسے اﷲ کے عشق میں بے چین وبے قرار’ صادق دل طالب’ عقل اور خرد کی حدود سے نکل کراپنی زندگی اور مال ومتاع داؤ پر لگاکر کھیلتے ہیں۔اگر جذبے صادق ہوں تو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ حق نصیب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ یہ عشق ہی ہے جو دیدارِ حق تعالیٰ کا راستہ وا کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے عقل کے ہزار ہا ہزار قافلے سنگ سار ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ پاسکے ۔ فقراء نے عشق ہی کے راستہ سے دیدارِ حق تعالیٰ کی نعمت حاصل کی۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں