1,650

دیدارِ الٰہی–Deedar-e-Elahi

دیدارِ الٰہی

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

غوث الاعظم حضرت سیّدناشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:

ترجمہ: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔”

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)

اللہ کو دیکھ کر’ پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضوری قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت اور عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے’ اس دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو معرفتِ الٰہی کی تعلیم دی۔ جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عبادات بے روح نہ ہوں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ :

یعنی اس آیت میں  (عبادت کے لیے ) سے مراد  (معرفت کے لیے) ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی عبادت سے مراد معرفت ہی ہے کیونکہ تمام عبادات کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان یعنی معرفت نہیں دلاتی وہ عبادت نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں ” ” سے مراد عبادت کی اصل روح یعنی ”معرفت” کا حصول ہے۔ صرف عبادات کے لیے تو اللہ کے فرشتے ہی کافی تھے۔ اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں۔ ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے قرب’ وصال اور معرفت کی طلب کریں جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میری پہچان ہو۔

انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اور اس کی عبادات کا مغز اللہ کی پہچان ہے’ جس نے اس مقصد سے رو گردانی کی بے شک وہ بھٹک گیا۔ نہ دین ہی اس کا ہوا نہ دنیا۔ مرنے کے بعد قبر میں انسان سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے گا بتا تیرا رب کون ہے؟جس نے اپنے ربّ کی پہچان ہی حاصل نہ کی ہو گی وہ اس سوال کا کیا جواب دے پائے گا۔ اگر اس کا جواب یہ ہوگا کہ کائنات اور تمام مخلوق کا خالق میرا رب ہے تو یہ جواب تو یہود و نصاریٰ کا بھی ہوگا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہونے کی فضیلت اُسے کیسے حاصل ہوگی؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت اسی لیے خیر الامم ہے کہ اس کے لیے اللہ کے دیدارو وصال کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں کئی آیات میں اللہ سے ملاقات (معرفت و دیدار) کی طرف اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راغب کیا گیا ہے۔

ترجمہ: اے انسان تو اﷲ کی طرف کوشش کرنے والا اور اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔

ترجمہ:آیا تم صبر کئے بیٹھے ہو؟ (اور ﷲ کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو؟ )حالانکہ تمہارا رب تمہاری طرف دیکھ رہا ہے اور تمہارا منتظر ہے۔

ترجمہ: جو شخص اپنے رب کا لقاء (دیدار)چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالحہ اختیار کرے۔
دنیا میں انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کے دیدار کی آرزو بھی دل میں رکھتا ہے اور بہت دیر تک اس سے ملاقات کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو انسان اللہ سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس محبت کے اظہار کے لیے خالی سجدوں کو کافی سمجھ لیتا ہے اور اس کے دیدار اور وصال کی خواہش ہی نہیں رکھتا بیشک وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: بے شک جو لوگ لقائے الٰہی (دیدار ) کی خواہش نہیں کرتے اور دنیا کی زندگی کو پسند کر کے اس پر مطمئن ہو گئے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو بیٹھے’ انہیں ان کی کمائی سمیت جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

دیدارِ الٰہی سے انکاری لوگوں کے انجام سے بھی آگاہی فرما دی۔

ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے رب کی نشانیوں اور اس کے لقاء(دیدارِ الٰہی) کا انکار کیا ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ( یعنی بغیر حساب کے انہیں جہنم رسید کیا جائے گا)۔

ترجمہ: بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے لقائے الٰہی( دیدار) کو جھٹلایا۔

ترجمہ: خوب یادرکھو وہ اپنے ربّ کے لقاء (دیدار) پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور یاد رکھو بیشک وہ (اللہ تعالیٰ ) ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

ترجمہ :جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔

کچھ لوگ دنیا میں دیدارِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقع کو دلیل بناکر پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ نبی ہو کر اللہ کا دیدار نہ کر سکے تو ہم کیسے کر سکتے ہیں حالانکہ اگر ہم قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقع کو بغور پڑھیں تو یہ واقع خود دیدارِالٰہی کے ممکن ہونے کا ثبوت ہے۔

ترجمہ:جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے( مقرر کردہ) وقت پرحاضر ہوئے اور ان کے ربّ نے ان سے کلام فرمایا تو ( کلامِ ربانی کی لذت پاکر دیدار کے آرزو مند ہوئے) عرض کرنے لگے۔ اے ربّ! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے (براہِ راست) ہر گز نہ دیکھ سکو گے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا دیدار کر لو گے۔ پھر جب ان کے ربّ نے پہاڑ پر تجلیّ فرمائی تو (شدتِ انوار سے) اِسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ( علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔

اس واقعہ سے واضح طور پر دیدارِ الٰہی ثابت ہوتا ہے اور آیت کے آخر میں ” سب سے پہلا مومن ہوں” ثابت کرتا ہے کہ آپؑ کو دیدار ہوا کیونکہ مومن تو ہوتا ہی وہی ہے جو ربِّ جلیل کو دیکھ کر عبادت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ ”میں اللہ کا دیدار کرنے والاپہلا مسلمان ہوں۔” کیونکہ اگر یہ معنی نہ لیے جائیں تو ”پہلا مومن” سے خدانخواستہ یہ شک پیدا ہو تا ہے کہ کیا گزشتہ انبیاء نعوذ باللہ ”مومن” نہ تھے؟ بعض لوگ (تو مجھے نہیں دیکھ سکتا) سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیدار نہیں ہوا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے یہ ہر گز نہیں فرمایا کہ ”میں دیکھا نہیں جا سکتا’ بلکہ یہ فرمایا کہ ”تم مجھے (براہِ راست ) ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔” اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسا اس لیے فرمایا کہ اللہ اپنا جلوہ اپنے محبوب ترین نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، اور ان کے وسیلے سے ان کی امت کی خاطر، محفوظ رکھنا چاہتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا امتی ہونے کی خواہش کی۔

تفسیرضیاء القرآن میں پیر کرم شاہ صاحب ؒ فرماتے ہیں:

”جہاں تک امکانِ رویت کا تعلق ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔ سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس دنیا میں بیداری کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے۔اگرناممکن ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کا سوال نہ کرتے۔کیونکہ انبیاء کرام کو اسکا علم ہوتا ہے کہ فلاں چیز ممکن ہے اور فلاں چیز ناممکن اور منع ہے ۔جو چیز ناممکن اور منع ہو اس کے بارے میں سوال درست ہی نہیں ہوتا۔ ”

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ اسے دیکھا اور پہچانا جائے اسی لیے اس نے فرمایا کہ ‘‘میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ مجھے پہچانا جائے اسی لیے میں نے مخلوق کو تخلیق کیا۔” اور پہچان صرف دیدار کے بعد ہی ممکن ہے۔ کئی احادیث اور اولیاء کرام کے اقوال بھی دیدارِ الٰہی کے ذریعے اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب تم اپنے پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔” (مشکوٰۃ)

ایک اور روایت میں ہے کہ

”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چودھویں کے چاند کو دیکھ کر فرمایا جس طرح تم چودھویں کے چاند کو دیکھ رہے ہو اسی طرح تم پروردگار کو دیکھو گے اور خدا تعالیٰ کو دیکھنے میں تم کوئی اذیت اور تکلیف محسوس نہیں کرو گے۔ ”(الفتح الربانی)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا

”میرے دل نے اپنے رب کو نورِ ربی کے واسطہ سے دیکھا۔’ ‘ (سِرّالاسرار)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے

”میں اپنے رب کی اس وقت تک عبادت نہیں کرتا جب تک کہ اُسے دیکھ نہ لوں۔”

غرضیکہ اللہ کے دیدار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا اس کی محبت کا اولین تقاضا اور تمام عبادات کی جان ہے۔ دینِ اسلام کی بنیاد توحید یعنی کلمہ طیبہ کی زبانی تصدیق تو بہت آسان ہے لیکن یہ بنیاد اس وقت تک ادھوری ہے جب تک قلب اس کی تصدیق نہ کرے اور قلب کسی بات پر یقین تب تک نہیں کرتا جب تک مشاہدے کے ذریعے اسے اچھی طرح جانچ اور پرکھ نہ لے۔ چنانچہ قلبی تصدیق تبھی ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ کو جان کر پہچان کر پورے یقین کے ساتھ واحد مانا جائے۔ اسی طرح نماز مومن کی معراج تبھی بنتی ہے جب معرفتِ الٰہی حاصل کرنے کے بعد نماز یوں ادا کی جائے گویا اللہ کو دیکھ کر ادا کی جارہی ہے۔

حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ الفتح الربانی میں واضح طور پر فرماتے ہیں ”ہمارا پروردگار موجود ہے اور دیکھا جا سکتا ہے۔”

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو جسم اور مکان سے پاک ہے اسے دیکھنا کیسے ممکن ہے؟ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کا جواب نہایت آسان الفاظ میں دیتے ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:

”صاحبِ یقین و معرفت مسلمان کے لیے دو ظاہری اور دو باطنی آنکھیں ہیں۔ پس وہ ظاہری آنکھوں سے زمین پر بسنے والی مخلوق کو دیکھتا ہے اور باطنی آنکھوں سے(روحانی ترقی کے بعد) آسمان پر بسنے والی مخلوق کو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد اس کے دل سے تمام پردے اٹھا دیئے جاتے ہیں پس وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کو بلاشبہ و بلاکیف دیکھتا ہے۔ پس وہ مقرب و محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔” (الفتح الربانی)

یہ حقیقت ہر باشعور انسان پر عیاں ہے کہ انسان کا ایک ظاہری جسم ہے جو دیکھا جاسکتا ہے اور ایک باطن ہے جسے روح’ دل یا قلب’ اندر کا انسان یا ضمیر کہا جاتا ہے اور جو عام لوگوں سے چھپا ہوا ہے۔ یہ باطنی انسان ہی اصل انسان ہے۔ ظاہری جسم صرف اس باطنی انسان کے لیے اس دنیا میں لباس کا کام دیتا ہے۔ یہ جسم اسی دنیا میں تخلیق ہوتا ہے اور باطنی انسان یا روح کے اپنے اصل وطن واپسی کے وقت اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسان جو اللہ کی طرف سے آیا اور جسے واپس لوٹ کر اللہ کے ہاں جوابدہ ہونا ہے’ باطن کا حقیقی انسان ہے (بے شک ہم اللہ کی طرف سے ہیں اور اللہ کی طرف ہی ہمیں لوٹ کر جانا ہے)۔ اللہ کا دیدار کرنا’ اللہ کی معرفت اور پہچان حاصل کرنا اس باطنی انسان یا روح کا کام ہے کیونکہ اس کا تعلق اللہ سے ہے ۔جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ آدمؑ اور اولادِ آدم میں پھونکی گئی روح کے متعلق فرماتا ہے :

ترجمہ:” اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی” (سورہ حجر۔۲۹)
یہی روح اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتی ہے۔

اللہ کا دیدار بھی ظاہری آنکھوں نے بصارت سے نہیں بلکہ روح نے نورِ بصیرت سے کرنا ہے۔ جن کی روح نور بصیرت حاصل کر کے اللہ کا دیدار نہیں کرتی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: پس یہ (ظاہری) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ اسمِ  ذات کے نور سے دیدارِ الٰہی کے متعلق فرماتے ہیں:

جس طرح اس دنیا میں کسی چیز کو دیکھنے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک آنکھ (نورِ بصارت) دوسری روشنی (سورج یا مصنوعی روشنی) اگر ایک چیز کی بھی کمی ہو تو کچھ دیکھا نہیں جا سکتا اس طرح باطن میں دیکھنے کے لئے بھی دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک باطنی یا قلبی آنکھ (نورِبصیرت) اور دوسرا اسمِ  ذات کانور-اور اللہ تعالیٰ کو اسمِ  ذات کے نور ہی سے دیکھا جاسکتا ہے اسی لئے سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر722میں اسی باطنی اندھے پن کا ذکر ہے فرمانِ الٰہی ہے:”جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا” یعنی جو یہاں دیدار یا نورِ بصیرت سے محروم ہے وہ آخرت میں بھی دیدار یا نورِ بصیرت سے محروم رہے گا۔(شمس الفقرا)

حضرت سخی سلطان باھوؒ عالمِ دیدارِ الٰہی

سلطان العارفین سلطان الفقرحضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب امیر الکونین میں فرماتے ہیں :

”میں علمِ دیدارِ الٰہی کا عالم ہوں مجھے نور ہی نور دکھائی دیتا ہے۔مجھے علمِ دیدارِ الٰہی کے سوا کوئی اور علم ذکر ، فکر اورمراقبہ معلوم نہیں اور نہ ہی پڑھتا ہوں اور نہ ہی کرتا ہوں۔ کیونکہ تمام علوم علمِ دیدار کی خاطر ہیں جو مجھے حاصل ہے۔ جہاں دیدارِ الٰہی ہے وہاں نہ صبح ہے نہ شام نہ منزل ہے نہ مقام، بے مثل و بے مثال ذات لاہوت لامکان کے اندر ہے ”اسمِ  ذات ”سے انوارو تجلیات کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اس نور میں دیدارو لقا نظر آتا ہے۔

میں دیدار کا علم جانتا ہوں اور پڑھتا ہوں مجھے یہ مراتب جناب سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرامؓ اور پنجتن پاکؓ کی رفاقت میں نصیب ہوئے ہیں۔

دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونے کا طریقہ:

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:

دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونا اور واصل باللہ ہونا کون سے علم اور کون سی چیز سے ممکن ہے؟ وہ محض سیر فی اللہ اور مشاہدہِ نور حضور و قرب کا علم ہے جو دانش ، عقل اور تمیز سے بالا تر ہے ۔ معرفتِ الٰہیہ کا یہ علم وہ شخص پڑھ سکتا ہے جو اس کا سبق اسمِ  ذات (ذکر ، تصور اور مشقِ وجودیہ) سے پڑھتا ہے اور وہ ہمار اجان سے پیارا بھائی ہے۔ (نور الہدیٰ)

شد وسیلہ نقش بہرِنقاش بین              نقش و نقاشےیکے شد بالیقین

ترجمہ: دیکھ لے نقش(اسم) اپنے نقاش(مسمّٰی) کی پہچان کا ذریعہ ہوتا ہے جب نقش اور نقاش باہم ایک ہوجاتے ہیں تو مرتبہ حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ اسم ذات سے۔ اگر تو ہستیِ وحدانیت کا راز جاننا چاہتا ہے تو تجھے معلوم ہوناچاہیے کہ تیرے وجود میں اللہ تعالیٰ اس طرح پوشیدہ ہے جس طرح پستہ مغز کے اندر۔ (نور الہد یٰ)

دیدارِ الٰہی کے درمیان حائل رکاوٹ اور اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں:

جان لے دیدارِ الٰہی اور اہلِ دیدار کے درمیان کوئی پتھر پہاڑ یا دیوار حائل نہیں ہوسکتی بلکہ دیو نفس حائل ہوتا ہے جو پتھر اور دیوار سے بھی سخت تر حجاب ہے اور جس کا مارنا بے حد مشکل و دشوار ہوتا ہے۔ مرشدِ کامل سب سے پہلے اسی دیو خبیث،مصاحبِ ابلیس نفس کو تصورِ اسمِذات کی تلوار سے قتل کرواتا ہے اور جب تصورِ اسمِ  ذات کی تلوار سے یہ دیو نفس مرجاتا ہے تو بندے اور ربّ کے درمیان سے بیگانگی کا پردہ ہٹ جاتا ہے اور بندہ ہر وقت بلا حجاب دیدارِ پروردِگار کرتا رہتا ہے ۔ (نورالہدیٰ)

بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پہاڑ یا دیوار حائل نہیں ہے اور نہ ہی میلوں تک پھیلی ہوئی طویل مسافت ہے بلکہ پیاز کے پردہ سے بھی زیادہ باریک پردہ ہے جسے تصور اسمِ  ذات اور صاحبِ راز مرشد کی توجہ سے توڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہےُ تو آنا چاہے تو دروازہ کھلا ہے ۔ اگر نہ آئے تو حق بے نیاز ہے۔(کلیدِالتوحید کلاں)

دیدارِ الٰہی کہاں سے اور کس سلسلہ اور طریق کے ذریعے حاصل ہوتا ہے؟ اس سلسلہ میںآپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

منصب ومرتبہِ دیدارِ پروردِگار کی توفیق و برداشت و تحقیق طالب مرید سروری قادری کو حاصل ہے۔ دیگر طریقے والا اگر کوئی دیدارِ الٰہی کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ لاف زن ہے، جھوٹا ہے اور اہلِ حجاب ہے۔(نورالہدیٰ)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں دیدارِ الٰہی کے علم کو کھول کر بیان فرمایا ہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: طالبِ دیدار کو چونکہ صرف دیدارِ الٰہی سے غرض ہوتی ہے اس لیے وہ اللہ کے سواکسی چیز کو دیکھتا ہی نہیں اس لیے ہر لمحہ مطالعہ دِل میں غرق رہتے ہوئے جدھر دیکھتا ہے اللہ ہی نظر آتا ہے۔

ترجمہ:تمام لذّات سے بہتر لذّت ”لذّتِ دیدار”ہے اُس کے مقا بلے میں لذّتِ دنیا کی کیا وقعت کہ وہ بے بقا ہے۔(نور الہدیٰ)

‘عین الفقر’ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ میں فرماتے ہیں:

جو شخص اپنی جان کے بدلے اسمِ ذات خرید لیتا ہے وہ کھلی آنکھوں سے دیدارِ حق تعالیٰ کر تا ہے۔

اللہ تو ہر وقت تیرے ساتھ ہے لیکن تو ہی اس کی دید سے اندھا اور گمراہ ہو گیا ہے۔

دیدارِ حق کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ مردار ہے اس لئے عاشق ہمیشہ طالبِ دیدار ہوتا ہے۔

جس نورِ تجلی کو موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر دیکھا تھا اسی نور تجلی کو میں عین عیان دیکھتا ہوں اور خاص الخاص تجلی وہ ہے جو حروفِ اسم  ذات سے نمودار ہوتی ہے۔

دِل اگر بیدار نہ ہو تو دیدارِ الٰہی کس طرح ہوسکتا ہے؟ سجدہ دیوار سجدہ دیدار تو نہیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:

عارفوں کا یہ ابتدائی مرتبہ ہے کہ لقائے الٰہی سے مشرف ہو جاتے ہیں ۔لقائے الٰہی کے یہ مراتب میں نے اسم ذات سے پائے ہیں اس لئے اسمِ  ذات کو میں نے اپنا پیشوا بنا رکھا ہے۔ جو شخص اپنے جسم کو اسمِ  ذات میں گم کر دیتا ہے وہ بہت جلد معرفتِ دیدار الٰہی کو پالیتا ہے۔ دیدارِ الٰہی کیونکر روا ہو سکتا ہے؟ لیکن میں دیدار کرتا ہوں کہ مجھے مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام دیدار کرواتے ہیں۔

دراصل مراتب دو ہیں ایک مرتبے والے انسان ہوتے ہیں اور دوسرے مرتبے والے صورت کے انسان لیکن سیرت کے حیوان ہوتے ہیں جو ہمیشہ بے جمعیت و پریشان رہتے ہیں سو انسان نما حیوان اور اشرف انسان کی پہچان کیا ہے؟ انسان وہ ہے جو ہمیشہ دیدارِ الٰہی سے مشرف رہے اور انسان نما حیوان کو ہمیشہ دنیا مردار کی طلب رہتی ہے۔

جو عارف ہر وقت دیدارِ الٰہی میں غرق رہتا ہے اُسے مطالعہِ علمِ پیغام و اعلام و الہام و آواز کی کیا حاجت ہے۔

لقائے حق کے لائق وہ طالب ہوتا ہے جو غرق فی التوحید (فنا فی اللہ ) ہو کر دیدارِ الٰہی کر تا ہے ۔

اگر تیرے پاس آنکھیں ہیں تو جی بھر کر دیدارِ الٰہی کر۔

صاحبِ نظر دیدار کرتے ہیں لیکن جھوٹے اور مکار لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔

آنکھ کو دیدار سے ہی یقین نصیب ہوتا ہے جو اس بات کو نہ مانے پکا لعین ہے۔

جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے کرم سے نور ہو گئیں وہ دیدار الٰہی سے مشرف ہوگیا ایسے صاحبِ دیدارکو کو ئی غم نہیں۔

روح جب اللہ کے پاس موجود تھی تو اللہ کے دیدار میں مگن تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس روحانی انسان کو اپنی پہچان کے امتحان کے لیے اس دنیا میں بھیجا تو اپنے جلوؤں کے نور اور انسان کے درمیان نفس کی دیوار حائل کر دی۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے جال سے نکل کر نفس کے ان حجابوں کو توڑے اور اپنے رب کا دیدار اور پہچان حاصل کرے۔ اللہ کے جلوؤں کا نور ہی وہ امانت ہے جو انسان کے قلب میں پوشیدہ ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ”ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کر دی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ (اپنے نفس پر) ظالم اور (اپنی حقیقت سے) جاہل ہے۔”

انسانی قلب (باطن) میں پوشیدہ یہ نورِ الٰہی اللہ کی امانت ہے جسے بروزِ قیامت واپس لوٹانا ہے۔ اس امانت کی حفاظت تبھی ممکن ہے جب باطنی یا روحانی انسان ترقی اور قوت حاصل کرے اور نفس کے پردوں کو توڑتے ہوئے اپنی ذات کے اندر ہی موجود اس نورِ الٰہی تک رسائی حاصل کرے۔ جب تک وہ اس امانت تک رسائی حاصل نہ کر لے’ نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی لیے فرمایا ”جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں۔”کیونکہ ایمان دراصل اسی امانت کی حفاظت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کامیابی کی ضمانت بھی نورِ الٰہی سے معمور قلب کی اصل حالت میں واپسی کو قرار دیا ہے۔

ترجمہ: اور قیامت کے دن مال اور اولاد کچھ نفع نہ دیں گے۔ بلکہ قلبِ سلیم ہی کام آئے گا۔

چنانچہ اللہ کی معرفت اور پہچان انسان کو اپنے ہی باطن میں پوشیدہ نورِ الٰہی کی امانت تک رسائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ :اور میں تمہاری سانس اور تمہاری جان کے اندر ہوں کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔

ترجمہ: اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔

حدیثِ قدسی میں فرمایا

ترجمہ:نہ میں آسمانوں میں سماتا ہوں نہ زمینوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں۔

ترجمہ: مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے۔

اسی لیے اپنے رب کی معرفت کے لیے انسان کو اپنے باطن میں ہی سفر کرنا ہے اور اپنی ذات کی حقیقت سے اپنے رب کی حقیقت حاصل کرنا ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ بیان فرماتا ہے:

 

ترجمہ: ”جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے رب کو پہچانا۔”

اپنی اسی حقیقی پہچان کو اقبالؒ نے خودی کا نام دیا ہے اور امت مسلمہ کو اس کی پہچان حاصل کرنے کا درس دیا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہری جسم کو پالنے ‘سجانے اور ہر تکلیف و بیماری سے بچانے کے لیے تو ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اپنی پوری توجہ اس کی دیکھ بھال میں لگا دیتا ہے لیکن اپنے باطنی حقیقی انسان کی طرف اس کی کوئی توجہ ہی نہیں۔ روح جو اپنے رب سے ملاقات اور دیدار کے لیے بے چین رہتی ہے’ انسان کی اس بے توجہی اور نفسانی و دنیاوی خواہشوں کے جال میں الجھے رہنے کی وجہ سے روح بیمار اور پژمردہ ہوجاتی ہے۔ انسان کی اندرونی بے چینی کی وجہ اس کی اپنی روح سے بے توجہی ہی ہے۔ جب روح پژمردہ ہوگئی تو نفسِ امارہ (جو برائی کا حکم دیتا ہے) کو انسان کے باطن پر غلبہ اور قوت حاصل کرنا آسان ہوگیا یوں نہ انسان کا باطن درست رہا نہ ظاہر۔ نتیجہ انفرادی و اجتماعی بربادی۔

رسالہ غوثیہ میں اللہ تعالیٰ حضرت غوث الاعظمرضی اللہ عنہٗ سے فرماتا ہے:

”جو میری طرف باطن میں سفر کرنے سے محروم رہا میں اسے ظاہری سفر میں مبتلا کر دیتا ہوں۔ ”یعنی جب انسان اپنے باطن کو درست کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنی تمام تر توجہ باطن کی بجائے ظاہر پر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ظاہری مشکلات میں الجھا دیتا ہے۔ ہمارے اردگرد کے ماحول کی بہتری کا دارومدار بھی اسی بات پر ہے کہ ہم اپنی باطنی درستی پر توجہ دیں کیونکہ جب باطن درست ہو جائے تو ظاہر از خود درست ہوجاتا ہے۔

لیکن باطن ذکر اسمِ  ذات یعنی سلطان الاذکار ھُو ، تصورِ اسمِ ذات اور تصورِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر نہ زندہ اور نہ ہی درست ہو سکتا ہے گویا ذکرِ ھُو اور تصورِ اسم ذات باطن کے بند تالے کو کھولنے والی کلید(چابی) ہے تصورِ اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی کلید ہے بشرطیکہ یہ کسی مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ سے حاصل ہوئی ہو۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں