Bayat 1,978

بیعت–Bayat

بیعت

تحریر: مسز عنبرین میغیث سروری قادری ایم۔اے۔ ابلاغیات 

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دینے، جھٹلانے یا اس کی آدھی ادھوری یا من پسند پیروی کرنے والا دین سے کچھ حاصل نہ کرپائے گا بلکہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں صرف الجھاؤ اور ناقابلِ حل مسائل کا شکار رہے گا۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر اور دین کے تمام احکام کا عملی نمونہ ہے۔ ان کا ہر عمل خواہ وہ دین کے ظاہری پہلوؤں کے متعلق ہو یا باطنی، تمام اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت، فلاح اور رجوع الی اللہ کا راستہ دکھاتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’اے ایمان والو! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے اسوۂ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘ اور فرمایا ترجمہ:’’(اے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! کہہ دیجےۂ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا‘‘۔ چنانچہ یہ ہر سچے مسلمان کا اعتقاد ہے کہ سنتِ رسول پر عمل ہی ایمان کی تکمیل اور اللہ سے تعلق استوار کرنے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر عمل ’’سنت‘‘ ہے۔ ان کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا ہر عمل اُمت کے لیے نمونہ ہے کہ کس طرح دین و دنیا کو سنوارا جائے اور ان کا ہر عمل اُمت کی ہی رہنمائی اور بھلائی کے لیے ہے۔ ان کے کسی بھی عمل کو غلط کہنا یا کسی بھی صورت میں اس پر اعتراض کرنا کفر کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔ ایسا کرنے والا دنیا میں بھی رسوا ہوگا اور آخرت میں بھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:  کُلُّ اُمَّتِیۡ یَدۡ خُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ اَبٰی قَالُوۡا: مَنۡ قَالَ مَنۡ اَطَا عَنِیۡ دَخَلَ الۡجَنَّہَ وَمَنۡ عَصَانِیۡ فَقَدۡ اَبٰی کُلُّ عَمَلٍ لَیۡسَ عَلٰی سُنَّتِیۡ فَھُوَ مَعۡصِیَّۃٌ o ترجمہ:’’میری ساری اُمت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :کس نے انکار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ جو عمل میری سنت کے مطابق نہ ہو وہ نافرمانی ہے‘‘۔

 ایک اور جگہ فرمایا ’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، وہ قیامت کے روز جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘۔ حضرت سہل بن تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت قرآنِ کریم کی محبت ہے اور اللہ تعالیٰ اور قرآنِ کریم سے محبت کی علامت حضور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کی علامت سنت کی محبت ہے‘‘۔

سنت کے ساتھ ساتھ ہدایت کا دوسرا ذریعہ قرآنِ حکیم ہے۔ قرآن تمام اوامر و نواہی کا مجموعہ بھی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تمام سنتوں اور اعمال کا گواہ اور انہیں اُمت تک پہنچانے والا بھی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جس سنت کی گواہی قرآن دے دے اُمت پر اس کی پیروی دُہری تاکید کے ساتھ لازم ہو جاتی ہے کہ ایک تو سنت سے اس کا حکم ملتا ہے اور دوسرے قرآن سے۔ قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہی سننتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہنچائیں جن کے متعلق اللہ چاہتا تھا کہ اُمت لازماً ان کی پیروی کرے، ان پر اعتراضات نہ کرے اور ان سنتوں کو حکمِ الٰہی کی تائید سمجھ کر ان کی پیروی کرے۔
فیوض الباری شرح صحیح بخاری کے مطابق سننِ رسول ؐ دو قسم کی ہیں۔
1) سنن الہدیٰ: یہ ان سنتوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق راہِ ہدایت سے ہے، جن کا تارک یا تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا یا کبھی ایمان کے کامل درجات تک نہ پہنچ پائے گا۔ ان سنتوں میں بنیادی ارکانِ اسلام توحید، کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، سچ بولنا، عہد پورا کرنا، تمام مکروہاتِ دین سے بچنا اور تمام مباہات کو اختیار کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان سنتوں کے تارک سے روزِ قیامت سوال کیا جائے گا کہ جب قرآن و سنت کے ذریعے تجھ تک واضح طور پر ان کو اختیار کرنے کی ہدایت پہنچائی گئی تھی تو تُو کیونکر ان کا منکر ہوا اور ان کا منکر بے شک رسول اللہ ؐ کا منکر اور رسول اللہ ؐ کا منکر بے شک اللہ کا منکر ہے۔ سنن الہدیٰ میں یقیناًوہ تمام سنتیں شامل ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔
2) سنن زوائد: یہ ان سنتوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عام روزمرہ زندگی سے ہے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نشست و برخاست، گفتگو کے آداب، مسواک کرنا، کھانے کے آداب وغیر ہ۔ ان سنتوں کو اختیار کرنا مستحب ہے یعنی ان کو اختیار کرنا محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی علامت ہے لیکن ان کو ترک کرنا گناہ یا مکروہ نہیں ہے، نہ ہی ان کی پیروی نہ کرنے والے سے روزِ قیامت کچھ پُرسش ہوگی بشرطیکہ وہ تمام سنن الہدیٰ پر عمل پیرا ہوتا رہا ہو۔

قرآن و سنت میں بیعت کا ثبوت

’’بیعت‘‘ لوازماتِ دین میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے جس کا گواہ خود قرآن اور حدیث کی تمام کتب ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے قبل اس کے کہ دین کے باقی لوازمات‘ نماز، روزہ، توحید وغیرہ کو سمجھے اور مدارجِ ایمان میں ترقی کرے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنا لازم تھا یعنی نبی ؐ پر ایمان لانے اور کلمۂ توحید زبان سے پڑھ لینے کے باوجود کوئی مسلمان مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا جب تک کہ وہ بیعت نہ کر لے۔ پس بیعت اقرارِ توحید و رسالت کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دی گئی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کوئی عمل بے حکمت اور بے سبب نہیں ہے اور ہر عمل میں اُمت کے لیے کوئی نہ کوئی رہنمائی کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ایمان کے زبانی اقرار کے ساتھ ہی بیعت کو لازم و ملزوم قرار دینا اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ نبی ؐ کے نورانی فیض کا حصول اور ان کی رہنمائی میں مدارجِ ایمان کی تکمیل بیعت کے بغیر ممکن نہیں اور اس بات میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کو اقرارِ توحید کے ساتھ لازم قرار دیا تو صرف اللہ کے حکم کے عین مطابق کیونکہ جن کے متعلق قرآن گواہی دے رہا ہے کہ وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی  ؕ﴿۳﴾اِنۡ  ہُوَ  اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی  ۙ﴿۴﴾  (النجم 3-4) ترجمہ:’’اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ ان کا کلام تو صرف وحیٔ الٰہی ہوتاہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘ ان کا کوئی بھی عمل اپنی مرضی سے کیسے ہو سکتا ہے، یقیناًان کا ہر عمل بھی وحیٔ الٰہی کے مطابق ہی ہوگا اور یوں ہی بیعت بھی حکمِ الٰہی کے مطابق ہی ہوگی اور یقیناًتوحید و رسالت کے اقرار کی طرح انتہائی اہم اور دین کی تکمیل میں لازم ہوگی ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر مسلمان کے اقرارِ ایمان کے ساتھ ہی اس سے بیعت نہ لیتے۔ مزید برآں بیعت کا تعلق یقیناًسنتِ ھدیٰ سے ہے جن کا تارک منکرینِ اسلام میں شامل ہوتا ہے کیونکہ بیعت ان سنتوں میں شامل ہے جو دین کے احکام سے وابستہ ہیں اور جس کا ذکر قرآن میں بھی بڑے واضح الفاظ اور حکمت کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ  فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ  نَّکَثَفَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ  اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿٪۱۰﴾ (الفتح۔10) ترجمہ:’’بے شک جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا اور جس نے پورا کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا تو وہ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ 

اس آیتِ مبارکہ سے جہاں رسول اللہ ؐ کی عظیم ذات کا اعلیٰ ترین رُتبہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا عمل اللہ کا عمل ہے، ان سے تعلق اللہ سے تعلق ہے، ان سے بیعت اللہ سے بیعت ہے وہیں بیعت کے عمل کی عظمت اور فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے بھی منسوب کیا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت ان کے وسیلے سے اللہ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں۔ یوں بیعت لینے کا عمل صرف سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی نہ ہوئی بلکہ سنتِ الٰہی بھی ہوئی۔پورے قرآن میں دین کے کسی دوسرے جز اور عبادت کو اللہ نے اپنی ذات سے منسوب نہیں کیا سوائے درود پاک کے کہ ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ لیکن درود پاک اللہ کی سنت تو ہے لیکن نبی کی سنت نہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر درود نہ بھیجا۔ اور دیگر تمام عبادات سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہیں لیکن سنتِ الٰہی نہیں۔ پس بیعت دین کا وہ واحد جز ہے جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ثابت ہوئی اور سنتِ الٰہی بھی۔
مندرجہ بالا سورۃ فتح کی آیت10 کے مطابق بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اللہ سے عہد اور وعدے کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ بیعت لفظ ’’بیع‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ’’لین دین‘‘ کے ہیں۔ جب دو افراد ایک دوسرے سے لین دین کے معاملات طے کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ایک فرد ایک چیز دے گا مثلاً مال روپیہ وغیرہ تو دوسرا اس کے بدلے میں دوسری چیز مثلاً کوئی سامان یا مال دینے والے کی ضرورت کی کوئی شے وغیرہ دے گا جس کا وہ طالب ہے اور جس کو لینے کے لیے وہ مال دے رہا ہے، اس معاملے کے عہد کو بیع کہتے ہیں۔ بیعت بھی اللہ سے لین دین کے سودے کا نام ہے جس میں بیعت کرنے والا اپنا آپ اور اپنا سب کچھ جو درحقیقت پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا ہے، اللہ کے حوالے کرتا ہے اور بدلے میں اللہ کی رضا اور اللہ کی ذات کا طالب بنتا ہے۔ پس جس نے اللہ سے سودا ہی نہ کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرح، ان کے بعد ان کے خلفاء کی صورت میں کسی اللہ کے ولیٔ کامل کے وسیلے سے اللہ سے بیعت ہی نہ کی وہ اللہ سے کیسے اور کیا تعلق جوڑے گا، کیا دے گا اور کیالے گا۔

چونکہ بیعت اللہ سے ایک عظیم عہد ہے اور اس سے رشتہ جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اللہ نے اس عہد کو نبھانے کی سخت تاکید کی ہے اور اس کے توڑنے پر پُرسش کی تنبیہ بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ  اِذَاعٰہَدۡتُّمۡ  وَ لَاتَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَ قَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ  عَلَیۡکُمۡ  کَفِیۡلًا ؕ(النحل ۔91) ترجمہ:اور پورا کرو اللہ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور نہ توڑو اپنی قسموں کو انہیں پختہ کرنے کے بعد، اور تحقیق تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ  کَانَ  مَسۡـُٔوۡلًا (بنیۤ اسرآءِیل ۔34) ترجمہ:اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بے شک ان وعدوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بیعت اللہ کی رضا کا اور مومنین کے دل کی تسکین کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ یہ ان کے اللہ سے رشتہ اور تعلق قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ فرماتا ہے: لَقَدۡرَضِیَ اللّٰہُ  عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ  اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ  فَعَلِمَ  مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ  فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ  عَلَیۡہِمۡ  (الفتح۔18) ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو چکا جس وقت وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، پس اِن کے دِلوں میں جو کچھ تھا (اللہ نے) جان لیا، پھر ان پر خاص تسکین نازل کی۔
قرآن کے ساتھ ساتھ کثیر متفقہ علیہ احادیثِ مبارکہ جو تقریباً تمام معتبر کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہیں، بھی بیعت کے عظیم سنتِ رسولؐ ہونے کا ثبوت ہیں۔ آغازِ اسلام میں جب مدینہ سے کچھ وفود مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جن افراد نے پہلے سال دعوتِ حق کو لبیک کہا ان کی بیعت ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ کے نام سے اور دوسرے سال بیعت کرنے والوں کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ حضرت کعب بن مالکؓ اس بیعت کے متعلق فرماتے ہیں ’’جب وہ رات آئی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا تو ہم شروع رات میں سو گئے ۔ جب لوگ گہری نیند سو رہے تھے تو ہم اپنے بستروں سے اُٹھے حتیٰ کہ وادیٔ عقبہ میں اکٹھے ہو گئے اور کوئی دوسرا آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے گفتگو فرمائی اور دعوتِ اسلام دی۔ انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور قرآنِ پاک کی تلاوت فرمائی۔ یہ سن کر سب نے دعوت قبول کر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ اپنا دستِ اقدس بڑھائیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’تم اپنی قوم میں سے بارہ نقیب نکالو‘‘۔ ہم نے ہر گروہ سے ایک ایک نقیب نکالا اور سب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کی‘‘۔ (صحیح بخاری)

 

بیعت کی اقسام

1) بیعتِ اسلام: اسلام قبول کرتے وقت کلمۂ توحید و رسالت پڑھنے کے ساتھ  مسلمانوں پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت بھی کرتے۔ یہ بیعتِ اسلام کہلاتی ہے۔
2) بیعتِ توبہ و تقویٰ: پچھلے گناہوں سے مکمل تائب ہو کر شریعت کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ قربِ الٰہی کی نیت سے تقویٰ اختیار کرنے کا عہد کرنا بیعتِ توبہ و تقویٰ کہلاتا ہے۔ اسی بیعت کے بعد روحانی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں اکثر بیعتِ اسلام میں ہی بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی شامل ہوتی تھی لیکن کثیر احادیث اس بات پر بھی شاہد ہیں کہ کئی مومنین اور مومنات نے قبولِ اسلام کی بیعت کے بعد بیعتِ توبہ و تقویٰ خصوصی طور پر علیحدہ سے بھی کی۔ موجودہ دور میں مسلمان مرشدِ کامل اکمل کے دستِ مبارک پر روحانی ترقی کے ذریعے قربِ الٰہی کے حصول کے لیے جو بیعت کرتے ہیں وہ بیعتِ توبہ و تقویٰ ہی ہوتی ہے۔
3) بیعتِ خلافت:جو بیعت مسلمان خلیفہ کے ہاتھ پر اس بات کی علامت کے طور پر کی جاتی ہے کہ ہم نے متفقہ طور پر اس خاص شخص کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا ہے۔ بیعتِ خلافت کہلاتی ہے۔ حضرت امام حسنؓ کے دور تک بیعتِ خلافت اور بیعتِ توبہ و تقویٰ اکٹھی رہیں لیکن بعد میں علیحدہ علیحدہ کر دی گئیں۔
4) بیعتِ سمع و طاعت: اپنے امام، خلیفہ یا مرشد کی ہر بات کو سننے اور ماننے کا عہد کرنا بیعتِ سمع و طاعت کہلاتا ہے۔ احادیث پاک سے اس بیعت کا بھی ثبوت ملتا ہے ۔
5) بیعتِ جہاد: اسلام کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے خلاف جہاد کا آغاز کرنے سے قبل اپنے امیر کے ہاتھ پر اپنی جان قربان کرنے کا عہد بیعتِ جہاد کہلاتا ہے۔ یہ بیعت بھی مسلمان لشکروں میں کافی دیر تک جاری رہی بلکہ اب بھی کچھ جہادی تنظیموں میں جاری ہے۔
6) بیعتِ تصوف: بیعتِ توبہ و تقویٰ کی ہی صورت ہے جو صوفیاء کرام کے اسے جاری رکھنے کی وجہ سے بیعتِ تصوف کہلانے لگی۔ اس کا مقصد بھی مرید کا تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کی نیت سے خود کو اپنے مرشد کے حوالے کرنا ہے جس کے بعد اس کا روحانی سفر شروع ہوتا ہے اور گزشتہ زندگی کے گناہوں سے تائب ہو کر تقویٰ یعنی قربِ الٰہی کی منازل طے کرتا ہے۔
بیعتِ اسلام اس وقت متروک ہو گئی جب خلفائے راشدین کے زمانے میں فتوحات بڑھنے سے بڑے بڑے علاقے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔کیونکہ اس وقت اس بات کا امتیاز اُٹھ گیا تھا کہ کون خالص ایمان لانے کی غرض سے دین میں داخل ہو رہا ہے اور کون محض خوف و غلبہ و شوکتِ اسلام کی وجہ سے۔ البتہ اس وقت بیعتِ خلافت رائج رہی جو اس خلیفہ کے ہاتھ پر کی جاتی تھی جسے متفقہ طور پر مسلمانوں کے امیر کے طور پر چنا جاتا تھا۔ دور دراز کے علاقوں کے معززین اپنے علاقہ کے تمام لوگوں کے نمائندہ کے طور پر حاضر ہو کر سب کی طرف سے بیعت کرتے۔ چونکہ خلفائے راشدین ہی اپنے عہدِ خلافت میں مسلمانوں کے امام، امیر اور خلافت و ولایتِ کاملہ پر فائز بھی ہوتے تھے اس لیے بیعتِ خلافت میں ہی بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی شامل ہوتی تھی اور مسلمانوں کا خلیفہ ہی ان کا فرمانروا بھی ہوتا تھا اور باطنی فیض رساں بھی، اور وہی ان کی روحانی منازل بھی طے کرواتا تھا۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مومنین کے لیے ظاہری فلاحی ریاست بھی قائم کی اور باطنی فلاح کا بھی اہتمام کیا۔ خلفائے راشدین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کامل ترین فیض اور قوت و اختیار کے حامل تھے اس لیے خلافت و نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری و باطنی فرائض بیک وقت نبھاتے رہے البتہ ان کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت میں اس بات کا امتیاز تھا کہ اہلِ شریعت کے لیے وہ صرف بیعتِ خلافت ہی تھی جبکہ اہلِ تقویٰ اور مومنین کے لیے وہ بیعتِ تقویٰ و توبہ بھی تھی اور سب کو اپنے امیر کا فیض نیتِ بیعت کے مطابق ملتا تھا جیسا کہ تمام احادیث کی کتب میں منقول ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور انہیں خلیفۃ الرسول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب تسلیم کیا اور بیعت کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے الفاظ یہ تھے ’’جب تک میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرنا‘‘ چنانچہ اس بیعت کو بیعتِ خلافت کے ساتھ ساتھ بیعتِ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی قرار دیا گیا۔
اسی طرح حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا انتقال ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو میں نے عرض کی ’’اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں حسبِ استطاعت ’سمع و طاعت(حکم سننے اور ماننے کا عہد)‘ پر بیعت کروں جیسا کہ آپؓ سے پہلے خلیفۂاوّل کی بیعت کی‘‘۔ حضرت سلیم بن ابی عامر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حمراء کا وفد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیعت کی ’’اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائیں گے، نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ قیامِ رمضان کا اہتمام کریں گے اور مجوسیوں کی عید کو چھوڑ دیں گے‘‘۔(مسند امام احمد)
مزید برآں ان تمام خلفاء سے جاری ہونے والے سلاسل بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خلافت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اُمت کو روحانی فیض بھی پہنچاتے رہے اور آج تک پہنچا رہے ہیں۔ موجودہ دور تک پہنچنے والے سلاسلِ طریقت خصوصاً سلسلہ سروری قادری میں روحانی تربیت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ان چاروں خلفائے راشدین کا فیض طالب کو نہیں مل جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے صدق، حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے عدل و محاسبۂ نفس، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے ادب و حیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے فقر باطنی طور پر طالب کو عطا ہوتا ہے۔ چنانچہ ان خلفائے راشدین کے فیض کا تسلسل ان کی حیاتِ مبارکہ میں ان کی خلافت کے آغاز سے لے کر آج تک جاری ہے۔
آج کا مسلمان جو پہلے ہی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسلمان کہلاتا ہے، اسے اگرچہ بیعتِ اسلام کی ضرورت نہیں ہے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے راشدین کے فیض کے حصول کے لیے بیعتِ توبہ و تقویٰ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے جس کے حوالے بھی کثرت سے سنتِ مبارکہ میں ملتے ہیں اور سورۃ فتح کی آیت18کا جو حوالہ اوپر دیا گیا ہے وہ بھی بیعتِ اسلام نہیں بلکہ اسلام لانے کے بعد مومنوں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک خاص امر پر بیعت(یہ بیعت صلح حدیبیہ سے قبل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ سے اس وقت لی جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر ان تک پہنچی، جو بات چیت کے سلسلہ میں کفارِ مکہ سے ملنے گئے تھے۔ یہ بیعت شہادتِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کا عہد تھی) ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بیعتِ توبہ و تقویٰ کے حوالے مندرجہ ذیل ہیں:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے فرماتے ہیں :

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ بَایِعُوْنِیْ عَلٰی اَنْ لَّا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئاً وَّلَاتَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادُکُمْ وَلَا تَأتُوْا بِبُھْتَانٍ تَفْتَرُوْنَہُ بَیْنَ اَیْدِکُمْ وَاَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوْا فِیْ مَعْرُوْفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ بِہٖ فِیْ الدُّنْیَا فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ وَمَنْ  اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَھُوَ اِلَی اللّٰہِ اِنْ  شَائَ عَفَا عَنْہُ وَ اِنْ شَائَ عَاقَبَۃُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔

(بخاری جلد1صفحہ7،جلد2 صفحہ1112،صفحہ727۔مشکوٰۃ صفحہ13، مستدرک حاکم جلد2 صفحہ348، نسائی جلد2صفحہ80، کنز العمال حدیث نمبر1521۔المعجم الکبیرللطبرانی جلد8صفحہ70)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے، جبکہ صحابہ کرامؓ کی جماعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس موجود تھی، فرمایا ’’مجھ سے اس بات پر بیعت کرو (1) اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا (2)چوری نہ کرنا (3) زنا نہ کرنا (4) اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (5) کسی پر بہتان نہ لگانا (6) کسی اچھی بات میں نافرمانی نہ کرنا۔ تم میں سے جو وفائے عہد کرے گا اس کا ثواب اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرم پر ہے اور جو کوئی اِن میں سے کچھ (حرام) کرلے پھر اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے تو وہ اللہ کے سپرد ہے اگر چاہے تو معاف فرما دے اگر چاہے تو سزا دے۔ (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں) چنانچہ ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ سے ہی روایت ہے:

بَایَعْنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمُنْشِطِ وَالْمُکْرِہٖ وَالْاَثْرَۃِ عَلَیْنَا وَاَن لَّا نَنَازَعَ الْاَمْرَ اَھْلَہُ وَلَنْ نَّقُوْلَ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ۔  (ابن ِماجہ صفحہ211،بخاری جلد2صفحہ1069،نسائی جلد 2 صفحہ179)

ترجمہ:’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سختی اور آسانی دونوں حالتوں میں سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور خوشی اور ناخوشی میں اور اس حالت میں بھی کہ ہمارے اوپر دوسرے کو مقدم رکھا جائے اور ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ جو شخص حکومت کے لائق ہے اس کی حکومت میں ہم جھگڑا نہیں کریں گے اور سچی بات کہیں گے جہاں ہم ہوں۔ اور اللہ کے کاموں یا اللہ کی رضامندی میں کسی بُرا کہنے والے کی برائی سے ہم نہ ڈریں‘‘۔
یہ دونوں احادیث مبارکہ مسلمانوں کے اسلام قبول کر لینے کے بعد بیعتِ توبہ و تقویٰ کا ثبوت ہیں اور یہی صوفیاء کرام اور مشائخِ عظام کی بیعت کی اصل اور بنیاد ہے کیونکہ بزرگانِ دین کی بیعت کا مقصد یہی ہے کہ ایک مسلمان جو پہلے ہی اسلام کے دائرے میں داخل ہے وہ گناہوں سے توبہ کرے، ذکرِ الٰہی اور عبادت میں کمرِ ہمت باندھے، دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش ہو کر رجوع الی اللہ کرے اور صبر اور ثابت قدمی سے روحانیت کی منزلیں طے کرے۔یہ بیعتِ توبہ و تقویٰ مومنین میں دین میں ترقی کی غرض سے ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہی ہے، اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک کبھی بھی کہیں بھی انقطاع نہیں آیا ۔ البتہ زمانہ کی ضرورت کے حساب سے اس کی صورتیں بدلتی رہی ہیں ۔ اس کی اوّلین صورت تو وہی ہے جو سنتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمہے کہ خلیفہ و امام کے دستِ مبارک پر بیعت کی جائے۔ بیعت کی یہ صورت خلافتِ راشدہ میں بھی جاری رہی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد جب حضرت امام حسنؓ نے چند ماہ کے لیے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے بھی بیعتِ خلافت و بیعتِ توبہ و تقویٰ لی۔لیکن یزید نے جس طرح بیعتِ خلافت پر فساد برپا کیا اور نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے اہلِ بیتؓ پر صرف بیعت کے معاملہ پر جس قدر ظلم و ستم ڈھایا اس کے بعد مشائخِ عظام نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ بیعتِ خلافت کو بیعتِ توبہ و تقویٰ سے بالکل علیحدہ کر دیا جائے ، یوں بھی اس وقت سے ظاہری خلافت ایسے حکمرانوں کے ہاتھ چلی گئی جو اُمت کو کسی طور روحانی فیض پہنچانے کے لائق نہ تھے بلکہ الٹا ان کے دین کے لیے نقصان دہ تھے۔ چنانچہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد بیعتِ خلافت اور بیعتِ توبہ و تقویٰ جد اجدا ہو گئیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے بیعتِ توبہ و تقویٰ کی صورت کو بھی تبدیل کر دیا تاکہ حکمران اس کو بیعتِ خلافت سمجھ کر اپنے خلاف خطرہ نہ سمجھ لیں۔ پس انہوں نے دستِ بیعت کرنے کی بجائے اپنے مریدین کو خرقہ یا عمامہ عطا کرنا شروع کر دیا جو اسی بات کی علامت تھا کہ اب یہ شخص ان کا ارادت مندہے اور ان سے فیض حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ خرقہ عطا کرنا بیعتِ توبہ و تقویٰ کی ایک مصلحتاً اختیار کی گئی صورت تھی لیکن اس کی غرض و غایت وہی تھی جو بیعتِ توبہ و تقویٰ کی تھی یعنی گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اس نورانی اور متبرک زمانے کے ختم ہونے کے چند روز بعد تک بھی یہ بیعت اپنی اصل شکل میں جاری نہ ہوسکی کیونکہ اس بات کا خوف تھا کہ اس سے فتنہ و فساد نہ بھڑک اُٹھے اور ایسا نہ ہو کہ اس بیعت پر بیعتِ خلافت کے ساتھ مخلوط ہونے کا گمان کیا جائے اور اس غلط گمانی کی بنا پر لوگوں کو ناحق ایذا پہنچائی جائے۔ چنانچہ اُس زمانے میں حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ اور اُن کے خلفاء اور بعد کے صوفیاء کرام نے خرقہ دینے کو قائم مقامِ بیعت قرار دیا تھا لیکن جب ایک مدت بعد حکمرانوں، بادشاہوں اور سلاطین سے رسمِ بیعت معدوم ہوگئی اور وہ تمام اندیشے جاتے رہے تو صوفیاء کرام نے اس مردہ سنت کو زندہ کیا اور بیعتِ تقویٰ کو جاری کر دیا۔ صوفیائے کرام ہی کے اسے زندہ کرنے کی بنا پر بیعتِ تقویٰ انقطاع عن ماسویٰ اللّٰہ کے دیگر لوازمات کو اپنے ساتھ شامل کر کے بیعتِ تصوف کے نام سے مشہور ہو گئی۔ (سِرّ دلبراں)
شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’خرقہ پوشی یا خرقہ شیخ اور مرید کے مابین ایک رشتہ ارتباط ہے ۔خرقہ پوشی عین بیعت ہے اس طرح خرقہ صحبتِ شیخ کے حصول کی دہلیز ہے اور مقصودِ کُلّی وہی صحبتِ شیخ اور اس کی ہمیشگی ہے۔‘‘(عوارف المعارف)
پس بیعتِ توبہ و تقویٰ ایسی عظیم سنتِ مبارکہ ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں جاری و ساری رہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکے خلفاء اور وارثین صوفیاء کرام ہی اس سنتِ مبارکہ کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھنے والے ہیں۔ بیعتِ توبہ و تقویٰ کو واپس اس کی اصل صورت میں جاری کرنے کا سہرا بھی دین کو دوبارہ زندہ کرنے والے محی الدین حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سر ہی ہے۔حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو اپنے مرشد حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے خرقہ ہی عنایت ہوا تھا جسے عنایت کرتے وقت حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’اے عبدالقادر! یہ خرقہ جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا، انہوں نے خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو عطا فرمایا اور ان سے دست بدست مجھ تک پہنچا۔‘‘(بہجتہ الاسرار)
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ آسمانِ ولایت کے آفتاب اور قوت و تصرف کے پہاڑ ہیں۔اللہ نے ان کو اس قدر اختیار اور قدرت عطا کی کہ اس دور کے عباسی خلفاء آپؓ کے بیعت کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں رائج کرنے پر کوئی اعتراض نہ کر پائے اور اب یہ بیعتِ توبہ و تقویٰ آج کے زمانہ تک بھی اپنی اصل صورت میں ہی جاری ہے۔
شیخ ندوی اپنی کتاب ’’رجال الفکر فی الدعوۃ فی الاسلام‘‘ میں فرماتے ہیں ’’شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے بیعت اور توبہ کے دروازہ کو کھولا جس میں تمام عالمِ اسلام کے کونے کونے سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد و میثاق کی تجدید کی اور یہ عہد کیا کہ وہ شرک کریں گے نہ ظلم کریں گے، نہ ہی فسق و فجور اور بد عات کا ارتکاب کریں گے، نہ ظلم کریں گے نہ ہی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھیں گے۔ فرائض کو ترک نہیں کریں گے اور دنیا کو اپنے دِل میں جگہ نہیں دیں گے اور نہ ہی آخرت کو بھولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے دستِ اقدس پر جس دروازہ کو کھولا تھا اس میں بے حدو حساب مخلوق داخل ہوئی۔ ان کے اعمال و احوال بہتر ہو گئے اور وہ بہترین مسلمان بن گئے ۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے ان کی تربیت و نگرانی اور محاسبہ کا اہتمام کیا۔ آپؓ کے روحانی شاگرد بیعتِ توبہ اور تجدیدِ ایمان کے بعد معاشرہ کے ذمہ دار افراد بن گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوفیائے کرام کی اس بیعت و عہد کا انفرادی اور اجتماعی تزکیۂ نفس اور اصلاح میں انتہائی گہرا اثر ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تمام حوالوں سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ بیعتِ توبہ و تقویٰ نہ صرف قرآن و حدیث کی رو سے سنتِ عالیہ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ سنتِ صحابہ کرامؓاور سنتِ اولیاء اللہ میں بھی شامل ہے اور دین کے تمام بنیادی لوازم توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج ،جہاد کی طرح آج تک تسلسل سے جاری و ساری ہے۔ البتہ ناقصینِ علم و عقل اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر بے جا اعتراضات گھڑتے اور اسے اپنی جہالت کے باعث کفر و شرک تک قرار دیتے ہیں۔ ان کی عقل میں یہ بات نہیں پڑتی کہ قرآن و حدیث اور اعمالِ اکابرینِ اُمت سے ثابت کسی بھی عمل کو کفر و شرک قرار دینا بجائے خود سب سے بڑا شر اور کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ (البقرۃ-85 )ترجمہ: ’’کیا ایمان لاتے ہو تم قرآن کے بعض حصوں پر اور کفر کرتے ہو ساتھ بعض کے۔‘‘علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کے جز کا منکر اس کے کُل کا منکر ہے ۔ یہ لوگ اپنی من پسند باتوں پر تو عمل کرتے ہیں اور جو ان کے تکبر کو گوارا نہ ہو اس پر اعتراض گھڑنے بیٹھ جاتے ہیں ۔ نہ صرف خود اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں۔ فیوض الباری فی شرح بخاری میں ہے ’’جب کسی کو کسی شے سے منع کرتے اور اسے حرام و مکروہ قرار دیتے سنو تو جان لو کہ بارِ ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ جب تک واضح شرعی دلیل سے ثابت نہ کردے اس کا دعویٰ اسی مردود پر۔‘‘ اور بیعت کے خلاف اس کے منکرین کے پاس ایک بھی شرعی دلیل نہیں ہے پس مردودین میں شامل ہوئے۔ عام لوگوں کو یہ لوگ اس کھوکھلی دلیل سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دلیل اتنی ہی بے تکی ہے جتنی ان کی عقل۔ بیعت کی ضرورت تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی موجودگی میں بھی تھی کیونکہ ان کی سنت اور ان پر نازل ہونے والا قرآن ان کی ذات سے زیادہ قوت والے تو نہیں ہو سکتے کہ لوگوں کی رہنمائی بغیر کسی رہنما کے کر سکیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خود موجود ہوتے ہوئے بیعت کی ضرورت تھی تو ان کی غیر موجودگی میں تو اس کی ضرورت اور بڑھ گئی۔ جس قرآن و سنت کو یہ بیعت کا متبادل قرار دے کر اپنا رہنما تسلیم کر رہے ہیں اسی سے ثابت بیعت کو جھٹلا کر اپنے اس قول کی بھی نفی کر رہے ہیں۔

خواتین کی بیعت

بیعت پر اعتراض کرنے والے خواتین کی بیعت پر مردوں کی بیعت سے بھی زیادہ کیچڑ اچھالتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث میں خواتین کی بیعت کا تذکرہ علیحدہ سے ملتا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ نے خواتین کی بیعت کے ذکر کا علیحدہ سے خصوصی اہتمام اسی لیے کیا تاکہ ان اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا جاسکے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا  النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ  الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی  اَنۡ  لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَ  لَا یَاۡتِیۡنَ  بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ  اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ  مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾(الۡمُمۡتَحِنَۃِ۔12)

ترجمہ: اے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)!جس وقت آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور بدکاری نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی جھوٹا بہتان نہ باندھیں گی اور نہ ہی حکمِ شرع پر آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نافرمانی کریں گی، پس ان سے بیعت قبول کریں اور ان کے واسطے اللہ سے بخشش مانگیں، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘

خواتین کی بیعت کے متعلق یہ آیت ایسی واضح دلیل ہے جس سے سوائے حاسد، متکبر اور منکرِ قرآن کے سوا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بیعتِ اسلام نہ تھی بلکہ بیعتِ توبہ و تقویٰ تھی کیونکہ آیت کے آغا زمیں ’’مومنات ‘‘کا ذکر کیا گیا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کرنے کے لیے آئیں ۔ظاہر ہے یہ خواتین اسلام لاچکی تھیں اور مسلمان کی حیثیت سے بیعتِ توبہ و تقویٰ کر رہی تھیں ۔ مومنات کی بیعت کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں بھی کثرت سے ملتا ہے۔ حضرت سلمہ بن قیسؓ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور انصار کی عورتوں کے ساتھ مل کر بیعت کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے ہمیں اس شرط پہ بیعت کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نہ چوری کریں نہ زنا۔ نہ اپنی اولادوں کو قتل کریں، نہ ہی کسی پر بہتان باندھیں اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کریں اور فرمایا کہ نہ ہی تم اپنے خاوندوں کو دھوکہ دو۔ فرماتی ہیں کہ ہم نے بیعت کی اور واپس لوٹ آئے۔ (مسند احمد‘ ابو یعلیٰ‘ طبرانی)
حضرت امئمہ بنتِ زقیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں دوسری عورتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکے پاس حاضر ہوئی تو عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم اس شرط پر بیعت کرتی ہیں کہ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ‘ نہ چوری کریں نہ زنا، نہ ہی اولادوں کو قتل کریں اور نہ ہی کسی پر بہتان لگائیں اور نہ ہی نیکی کے کام میں نافرمانی کریں‘‘۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے فرمایا ’’اس میں سے کس چیز پر تم قدرت اور طاقت رکھتی ہو‘‘ ۔ تو ہم نے عرض کی’’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہماری ذاتوں پر ہم سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ تشریف لائیے ہم آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرتی ہیں‘‘ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔ ایک عورت کے لیے میرا ارشاد سو عورتوں کو مخاطب کرنے کے مترادف ہے۔‘‘(ابنِ ماجہ حدیث نمبر2874، مسند احمد جلد2صفحہ 357، کنزالعمال حدیث نمبر476-475، درمنشور جلد8صفحہ138)
حضرت عزہ بنتِ خائل رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان امور پر بیعت کی کہ نہ زنا کریں گی اور نہ چوری اور نہ اپنے بچوں کو زندہ درگور کریں گی خواہ اعلانیہ ہو یا خفیہ۔ آپ فرماتی ہیں کہ اعلانیہ طور پر زندہ درگور کرنے کو تو میں جانتی ہوں مگر خفیہ طور پر زندہ درگور کرنے کے بارے میں مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے نہیں پوچھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے مجھے خبر دی پھر میرے دِل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے مراد بچہ کو ضائع کرنا ہے۔ قسم بخدا میں کبھی بھی اپنے بچہ کو ضائع نہیں کروں گی۔‘‘ (طبرانی، مجمع الزوائد جلد4صفحہ39)
قرآن و سنت سے خواتین کی بیعت ثابت ہونے کے باوجود اس پر اعتراض کرنے والے تنگ نظر و بد باطن لوگ ہیں جو خود عورت کو صرف ایک استعمال کی حقیر شے سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسے نہ دنیا میں ترقی کرنے کا کوئی حق ہے نہ دین میں، اس کاکام صرف مرد کی خدمت ہے۔ انہیں خوف ہے کہ اگر عورت نے دین و دنیا کی تعلیم حاصل کرلی تو اسے اپنے ان حقوق سے آگہی حاصل ہو جائے گی جو اسلام نے بحیثیت ایک بندۂ خدا اس کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پھر ان مردوں کی حاکمیت کا کیا بنے گا جو خود کو عقل و شعور کے لحاظ سے عورت سے برتر سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ نے عقل و شعور عطا کرتے ہوئے مرد و عورت کی تمیز روا نہیں رکھی بلکہ عورت و مرد کے فرق کے بغیر جسے مناسب سمجھا اسے ذہانت و عقل کی نعمت عطا کی۔ ان بے عقلوں کو یہ نہیں معلوم کہ دین میں ترقی سے جہاں عورت کو اپنے حقوق کا شعور حاصل ہوگا وہیں مرد کے حقوق کا ادراک بھی ہوگا اور اپنے فرائض کا بھی۔ پھر وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اللہ کے حکم کے مطابق پہلے سے بھی بہتر طریقے سے اپنے ازدواجی فرائض ادا کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ان مردوں کا یہ ہے کہ ان کی اپنی نگاہ میں گندگی اور شہوت بھری ہوتی ہے اس لیے جس طرح یہ خود دوسری خواتین پر نگاہ رکھتے ہیں اسی طرح سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ اولیاء اللہ جن کو بیعتِ طریقت کی اجازت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوئی ہے، خدانخواستہ انہی کے جیسے مرد ہیں جن کے پاس عورتوں کو روحانی فیض کے حصول کے لیے بھی نہیں جانا چاہیے۔ان کے اپنے نفس کا آئینہ ہی اتنا میلا ہے کہ انہیں اولیاء اللہ کے چہروں کی نورانیت اور پاکیزگی بھی میلی دکھائی دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس ولیٔ کامل کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا گیا ہے وہ ان جیسا معمولی انسان تو نہ ہوگا ، بلکہ اس کے اعلیٰ ترین رتبے کا ادراک بھی ان کم عقلوں کے وہم و گمان سے باہر ہے۔ چنانچہ اپنی خواتین کو کسی ولیٔ کامل سے روحانی فیض و معرفتِ الٰہی کے حصول کی نیت سے بیعت کرنے سے روکنا جائز نہیں البتہ اس زمانے میں دھوکہ دہی اور فراڈ عام ہونے کے پیشِ نظر اتنی احتیاط ضرور لازم ہے کہ بیعت سے قبل اس بات کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے کہ بیعت لینے والا واقعی ولایت کے منصب پر فائز اور شریعت کا مکمل پابند ہے یا نہیں ۔لیکن کامل اولیاء اللہ کو ان جعلی پیروں جیسا قیاس کرکے ان سے فیض کے حصول سے روکنا زیادتی ہے۔یہ بات بھی طے ہے کہ جن خواتین و حضرات کی طلب سچی ہے اور وہ واقعی معرفتِ الٰہی کی خاطر گھر سے کسی ولیٔ کامل کی تلاش میں نکلے ہیں اللہ خود ان کا مدد گار ہوگا اور کبھی انہیں دھوکہ بازوں کے چنگل میں پھنسنے نہ دے گا۔
عورت بھی اللہ اور اللہ کی محبت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کی محبت ، دینِ اسلام اور اس کی تعلیم کے حصول پر اتنا ہی حق رکھتی ہے جتنا کہ مرد۔ اللہ نے عورت اور مرد کو برابر بنایا اور ان سے اپنا روحانی رشتہ بھی ایک ہی بنیاد پر استوار کیا۔ دنیا میں یہ ارواح عورت اور مرد کے لباسوں کی صورت میں ظاہر ہوئیں کیونکہ انہیں دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے اپنے اپنے مختلف کردار ادا کرنے تھے ، ورنہ اصل میں روح تو نہ مرد ہے نہ عورت، اور اللہ سے ہر روح کا رشتہ عشق کا ہے خواہ وہ مرد میں ہو یا عورت میں۔ اسی لحاظ سے روحانی ترقی کرنے اور معراج پر پہنچ کر اللہ کا دیدار کرنے کا حق مرد اور عورت دونوں کو برابر ہے۔ لہٰذا عورتوں کو کسی ولئکامل سے روحانی فیض حاصل کرنے سے روکنا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ معاشرے میں بیشتر گھرانوں میں عورتوں کے ہوٹلوں، بازاروں، سینماؤں وغیرہ میں جانے اور کھلے عام گھومنے پھرنے اور غیر مردوں سے آزادانہ میل جول رکھنے پر تو کوئی پابندی اور اعتراض نہیں کیا جاتا خواہ وہ ڈاکٹر کے روپ میں ہو یا استاد، دکاندار ہو یا نامحرم رشتہ دار، کلاس فیلو ہو یا ہمسایہ۔لیکن جیسے ہی ایک عورت کسی مرشد کامل سے روحانی فیض کے حصول کی غرض سے ملتی ہے اس پر عجیب و غریب بے جا اعتراضات شروع کر دیئے جاتے ہیں جیسے وہ خدانخواستہ کوئی شیطانی کام کر رہی ہے ۔ بلاشبہ حق کی راہ سے روکنے والے خود شیطان کا دوسرا روپ ہیں۔ حق کی طالبِ صادق خواتین کو کبھی اپنے اور اللہ کی راہ کے درمیان روڑے اٹکانے والے ایسے شیطانوں کی آواز پر کان نہیں دھرنے چاہئیں بلکہ انہیں صرف سگِ راہ سمجھ کر نظرانداز کر دینا چاہیے اور راہِ حق پر استقامت سے سفر جاری رکھنا چاہیے۔ بے شک ان کی استقامت اور صبر کی بدولت اللہ جلد ان راستے کی رکاوٹوں کو ان سے دور کر دے گا۔ (انشاء اللہ)

بیعت کی ضرورت اور تاکید

انسان کی تخلیق کا واحد مقصد قرآن کی زبان میں یہ ہے کہوَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ (الذّٰرِیٰتِ۔56) ترجمہ:اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ۔ اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اللہ کی عبادت ہے تو پھر انسان کے ہر عمل ، فعل اور خیال کا مقصد بھی صرف اللہ کی عبادت ہی ہونا چاہیے کیونکہ جو شے جس مقصد کے لیے بنائی جاتی ہے اس سے صرف وہی کام لیا جاتا ہے۔ لیکن انسان اس دنیا کی رنگینیوں اور ضرورتوں میں گم ہو کر اپنی تخلیق کے مقصد کو بھی بھول جاتا ہے اور اپنے تمام افعال و اعمال و خیالات کا رخ بھی اپنے ربّ سے موڑ کر دنیا یا عقبیٰ کی طرف کر لیتا ہے۔ بیشک ایسا وہ اپنے ’’بشر‘‘ یعنی خیرو شر کا مجموعہ ہونے کی بنا پر ہی کرتا ہے، اور جب تک اسے اللہ کی طرف سے ہدایت پہنچا نہ دی جائے اسے اس کا قصور وار بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ وہ اس دنیا میں آکر اپنے ازل کے رشتوں کو بھلا چکا ہوتا ہے اور اس کا جسم اور نفس اسے دنیا اور دنیا کی ضرورتوں کی طرف ہی مائل کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اس دنیا کے آغاز سے ہی ہدایت کے ذریعے اور وسیلے پیدا کرتا رہا۔ اور ہدایت کا ذریعہ اور وسیلہ ہمیشہ ایک ’’انسان‘‘ ہی رہا جو بظاہر دوسرے انسانوں جیسا ہی ایک انسان ہوتا ہے، ان میں انہی کی طرح ہی رہتا ہے لیکن بباطن اللہ سے اس کا تعلق دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ مضبوط اور گہرا ہوتا ہے اور اسی مضبوط تعلق کی بنا پر وہ اللہ سے بلاواسطہ ہدایت پاتا ہے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ اور ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ انسان ہی کے ذریعے اور وسیلے سے ہدایت پہنچاتا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے فرمایا کہوَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًالَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا(الۡاَنۡعَامِ۔9) ترجمہ: اگر (لوگوں کی ہدایت کے لیے ) ہم کسی فرشتے کو بھیجتے تو مرد ہی کی صورت بھیجتے۔‘‘چنانچہ اللہ واضح طور پر ہدایت کے ذریعے اور وسیلے کا ذکر فرمارہا ہے کہ یہ وسیلہ کوئی مرد ہی ہوتا ۔ پس ہدایت کا ذریعہ اور وسیلہ ہر دور اور زمانے میں ’’مردانِ کاملین‘‘ ہی رہے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام کی صورت میں تشریف لاتے رہے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان کے خلفاء کی صورت میں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ آغازِ حیات سے تو مسلسل اپنے بندوں کی ہدایت کا بندوبست کرتا رہا لیکن گزشتہ چودہ سو سال سے اس نے یہ سلسلہ بند کر رکھا ہو۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اب ہدایت کا واحد ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن قرآن کے متعلق تو اللہ خود قرآن کے آغاز میں ہی فرماتا ہے کہ یُضِلُّبِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕوَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ  اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ۙ (البقرۃ-26) ترجمہ : ’’اس (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں اور بہت سے لوگ ہدایت پاتے ہیں مگر گمراہ وہی ہوتے ہیں (جن کے باطن) فسق سے آلودہ ہیں۔‘‘ یعنی جب تک کسی مردِ کامل کی نگاہ سے باطن کا تزکیہ و تصفیہ نہ ہوگا اور اس میں موجود فسق کا خاتمہ نہ ہوگا قرآن سے بھی ہدایت نہ ملے گی بلکہ گمراہی ہی ملے گی۔ ’’فسق‘‘ ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں تمام روحانی و باطنی بیماریاں تکبر ، غرور، لالچ، حسد، کینہ ، حرص ، عُجب، بہتان وغیرہ شامل ہیں اور سوائے انبیاء کے کوئی انسان ان بیماریوں سے پاک نہیں یا وہ مردانِ کاملین ان روحانی بیماریوں سے پاک ہیں جو کسی ولیٔ کامل کے فیض سے ان بیماریوں سے نجات پا چکے ہیں۔ انہی مردانِ کاملین کے پاس روحانی قوت ہے کہ وہ دوسروں کی روحوں میں موجود ’’فسق‘‘ کا خاتمہ کرکے انہیں اس لائق بنا دیں کہ وہ قرآن سے ہدایت حاصل کرسکیں جیسا کہ اللہ قرآن کے متعلق فرماتا ہے کہلَّا  یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ؕ (الواقعۃ۔79)  ترجمہ: ’’نہیں چھوسکتے اسے مگر ’طاہر‘ لوگ‘‘۔’ مُطَہَّرُوۡنَ‘ سے مراد صرف ظاہری پاکیزگی نہیں بلکہ باطنی اور روحانی پاکیزگی ہے اور ’’چھونے‘‘ سے مراد اس کی حقیقت اور اصل روح کو پا لینا ہے۔ جس کی روح پاکیزہ ہوگی صرف وہی قرآن کی پاک روح اور ظاہری الفاظ کے پردے میں پوشیدہ اصل پیغامِ الٰہی تک پہنچ سکے گا۔ ورنہ صرف عربی گرائمر سیکھ کر ظاہری الفاظ کو ہی اصل بات سمجھنے والے کی گمراہی طے ہے کیونکہ اس کے باطن سے ’’فسق‘‘ تو ختم ہوا ہی نہیں۔ قرآن ایک نسخہ ہے لیکن صرف نسخہ سے کبھی کسی کو شفا نہیں ملی جب تک اس نسخہ کو استعمال کرنے کا صحیح طریقہ بتانے والا کوئی طبیب موجود نہ ہو، طبیب کی راہنمائی کے بغیر صرف نسخہ پر لکھے الفاظ پڑھ کر اپنا علاج کرنے والا اس نسخہ سے الٹا نقصان ہی اٹھائے گا۔

جس طرح ظاہری دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کسی بھی ہنر کو بغیر استاد کے سیکھا جاسکے، یا کسی بھی راہ پر بغیر کسی کی راہنمائی کے چلا جا سکے، اگرچہ معلوم ہو کہ منزل کونسی ہے، پہنچنا کہاں ہے لیکن جب تک کوئی یہ نہ بتائے کہ کس کس موڑ سے مڑ کر یہ منزل ملے گی تب تک کوئی منزل پر نہیں پہنچ سکتا بلکہ اس کا بھٹکنا یقینی ہے۔ اسی طرح اللہ سے تعلق کی روحانی و باطنی راہ پر تو رہنماکی اشد ضرورت ہے کہ اس راہ سے تو عام انسان بالکل ہی ناواقف ہے اور پھر اس راہ پر تو جگہ جگہ گمراہ کرنے والا شیطان بھی گھات لگائے بیٹھا ہے اس راہ پر تو رہنما کے بغیر چلا ہی نہیں جا سکتا۔ محسوسات کے جہان میں جب رہبر کے بغیر چارہ نہیں تو روحانیت میں جو کہ حواسِ خمسہ کی حد سے باہر ہیں، بِنا رہبر کے کیسے کام چل سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ خود قرآن میں حکم دیتا ہے:فَسۡـَٔلُوۡۤااَہۡلَ الذِّکۡرِ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ  لَا تَعۡلَمُوۡنَ (الۡانۡۢبِیَآءِ-7) ترجمہ:اہلِ ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔اہلِ ذکر سے مراد یہی مردانِ کاملین ہیں جنکے باطن ذکرِ الٰہی سے پاک و شفاف ہو کر فنا فی اللہ کے مقام پر پہنچ چکے ہیں اور اب وہ اسی ذکر کی قوت سے دوسروں کو روحانی پاکیزگی عطا کرکے اللہ کی راہ پر رہنمائی کرنے کے لائق بن چکے ہیں۔ اور پھر اللہ حکم دیتا ہے کُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِیْن ترجمہ: صادقین کا ساتھ اختیار کرو۔ اللہ کا ہر حکم فرض کی حیثیت رکھتا ہے چنانچہ صادقین یعنی اولیاء اللہ جو اللہ کے سچے ساتھی ہیں، کا ساتھ اور صحبت اختیار کرنا فرض ہوا۔ اور اگر اللہ اہلِ ذکر سے پوچھنے اور صادقین کا ساتھ اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے ہر زمانے کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ان ’’اہلِ ذکر‘‘ حضرات اور صادقین کو بھی زمانے میں موجود رکھا ہی ہوگا ۔ یہ لوگ موجود نہ ہوتے تو ان کا ساتھ اختیار کرنے کا حکم کیوں دیا جاتا ۔ قرآن کا ہر حکم ہر زمانے کے لیے ہے۔ قرآن حضور کی حیات میں نازل ہوا اور اس کی تکمیل کے ساتھ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وِصال ہو گیا یعنی کونوا مع الصدقین کا حکم بعد کے لوگوں کے لیے زیادہ ضروری ہے اور صادقین سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آنے والے ان کے ورثا اور خلفاء ہیں۔ یہی لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد ہدایت کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور انہی کو تلاش کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ اس آیت میں دے رہا ہے:یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَجَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ  لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ(المَآئِدَۃِ-35) ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑواور جہاد کرو اس کی راہ میں، تاکہ تم فلاح پا جاؤ‘‘۔ظاہر ہے اس آیت میں فلاح کا وسیلہ بننے والی وہی مخلوق ہوگی جسے آغازِ حیات سے اللہ نے خود لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ اور وسیلہ بنایا یعنی ’’انسان‘‘۔ اللہ نے ہمیشہ انسان کو ہی دوسرے انسانوں کی فلاح اور ہدایت کا وسیلہ بنایا چنانچہ اس آیت میں بھی وسیلہ سے مراد ایسا انسانِ کامل ہی ہے جو اللہ سے اپنے گہرے اور مضبوط تعلق کی بنا پر دوسروں کو اللہ سے تعلق استوار کرنے میں مدد اور راہنمائی مہیا کر سکے۔ اس آیتِ مبارکہ کی شرح میں کتاب ’’قول الجمیل‘‘ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’یہاں وسیلہ سے مراد نہ تو ایمان ہے کیونکہ ایمان داروں سے تو پہلے ہی خطاب ہو رہا ہے(یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُواکے الفاظ سے) اور نہ ہی اعمالِ صالح نماز ، روزہ، زکوٰۃ، وغیرہ عبادات بدنی مراد ہیں کیونکہ یہ تقویٰ میں شامل ہیں۔ اسی طرح حج بھی مراد نہیں وہ بھی تقویٰ میں شامل ہے پس وسیلے سے مراد ارادت ہے، بیعت اور مرشدِ طریقت ہے۔‘‘ اسی طرح مولوی اسماعیل دہلوی، جو بیعت اور مرشدانِ کاملین کے منکرین کے امام ہیں، بھی وسیلہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’مراد از وسیلہ شخصے است کہ اقرب الی اللہ باشد‘‘ یعنی وسیلے سے مراد وہ شخص ہے جو بزرگی اور تقرب میں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہے۔‘‘اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس وسیلے کو ڈھونڈنے اور تلاش کرنے کا حکم دیا تو ظاہر ہے کہ وہ کوئی نہ نظر آنے والی شے مثلاً ایمان ، تقویٰ، عبادت وغیرہ تو ہو نہیں سکتی کیونکہ انہیں تو تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ تلاش تو صرف اس مردِ کامل کو کیا جا سکتا ہے جس کی حقیقت سے زمانہ ناواقف ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو ڈھونگی پیر ہر جگہ بیٹھے ہیں وہ ’’وسیلہ‘‘ کہلانے یا بننے کے لائق نہیں کیونکہ انہیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ تو خود اپنی اشتہار بازی کر رہے ہوتے ہیں۔ وسیلہ صرف وہی شخص بن سکتا ہے جو بباطن تو اللہ کے ساتھ ہے لیکن بظاہر دنیا میں مشہور و معروف نہیں ہے اور اپنے مقام و مرتبے کو لوگوں میں اپنی زبان سے ظاہر نہیں کرتا۔ سورہ بنی اسرائیل آیت 57 میں اللہ خو د وسیلہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:یَبۡتَغُوۡنَ  اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡاَقۡرَبُ ترجمہ: ’’اپنے ربّ کی جانب وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اقرب ہے۔‘‘سورۃ لقمٰن کی اس آیت میں بھی اللہ اپنے خاص مردانِ کاملین کی اتباع کا حکم دیتا ہے جو ایسے اولیاء کی بیعت کرنے اور ان کی پیروی کرنے کے حکم کی ہی ایک صورت ہے۔ وَّاتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ(لقمٰن۔15) ترجمہ:’’اس کی اتباع کرو جس نے میری جانب رجو ع کیا۔‘‘اور پھر اس آیتاَطِیۡعُوااللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ(النِّسَآءِ۔59) ترجمہ: ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور اس کی جو تم میں سے اولی الامر ہو‘‘ میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و پیروی کے ساتھ ساتھ ایک اور ’’انسان‘‘ کی اطاعت کا حکم بھی دیا جارہا ہے۔ یقیناًیہ اولی الامر انسان کوئی ایسا ولیٔ کامل ہی ہو سکتا ہے جس کا راستہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا راستہ ہی ہو اور جو انہی کا موں کا حکم دے جن کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیا ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب اور خلیفہ ہو۔ یقیناًاس مقام کا حامل کم از کم ایک فرد تو دنیا میں ہمیشہ ضرور رہتا ہو گا تبھی قرآن اس کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے۔ اور بلا شبہ اس اولی الامر سے مراد دنیاوی حکمران ہر گز نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا راستہ اور ان کے کام تو عموماً اللہ اور ا س کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کے بالکل خلاف ہوتے ہیں، اگر ان کی اطاعت و پیروی کی تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و پیروی ناممکن ہو جائے گی چنانچہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و پیروی کے لیے اس اولی الامر مردِ کامل کی تلاش ضروری ہے جو ان کے راستہ پر چلتا ہوا ان کے انتہائی مقامِ قرب تک پہنچ چکا ہو۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ:’’جو کوئی راہِ ہدایت پر چلا تو وہ اپنے فائدہ کے لیے ہدایت پر چلتا ہے اور جو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے اور کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کے (گناہوں) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم کسی (ہدایت کی راہ دکھانے والے) رسول کو بھیج لیں‘‘ (سورہ بنی اسرائیل۔ 15)۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ہمیشہ ہر دور میں ہدایت دینے والے اپنے خاص بندے بھیجتا رہتا ہے کبھی انبیاء کی صورت میں، کبھی اولیاء کی صورت میں اور وہ کسی شخص کو عذاب نہ دے گا جب تک کہ اسے ہدایت پہنچانے کا بندوبست نہ کر لے۔ پھر اگر وہ اس ہدایت یافتہ کی پیروی کرے تو ا س کے لیے نجات ہے اور اگر نہ کرے تو عذاب ہے۔

سورۃ فاتحہ میں ہم روزانہ پانچ بار دورانِ نماز یہ دعا مانگتے ہیں ’’اے اللہ! ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تُونے انعام نازل کیا۔‘‘ لیکن کبھی ان انعام یافتہ لوگوں کو تلاش کرنے اور ان کے راستے پر چلنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ انعام یافتہ گروہ صرف انبیاء تھے جو اب اس دنیا سے جاچکے ہیں اور اب اس دنیا میں اللہ کے انعام یافتہ گروہ کا خاتمہ ہو چکا اور صرف غضب یافتہ گروہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ استغفر اللہ! اگر ایسا ہوتا تو قیامت کب کی قائم ہو چکی ہوتی۔ یہ اس انعام یافتہ گروہ کی موجودگی کی ہی برکت ہے کہ آسمان اب تک بارش برساتاہے اور زمین اب تک اناج پیدا کر رہی ہے اور انہی سے ہدایت پانے کی اُمید پر ہر روح اس دنیا میں اب تک پیدا ہو رہی ہے ۔ اگر ہدایت دینے والے ہی ختم ہو گئے ہوتے تو ارواح کو جسموں میں ڈھال کر دنیا میں بھیجنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا۔ اگر یہ دنیا امتحان گاہ ہے تو یقیناًیہاں رہنما اور استاد بھی موجود ہوں گے۔ انعام یافتہ گروہ صرف انبیاء پر مشتمل نہیں بلکہ اللہ خود اس انعام یافتہ گروہ کی تفصیل بیان کرتا ہے کہوَمَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًاؕ۔(النِّسَآءِ۔69) ترجمہ : اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت کرے گا وہ (قیامت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے اپنا انعام نازل کیا جو کہ انبیاء‘ صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں جو بہت اچھے رفیق ہیں۔‘‘اس انعام یافتہ گروہ میں سے انبیاء کا سلسلہ تو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد ختم ہو گیا لیکن صدیقین و صالحین کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا اسی لیے اللہ نے کونوا مع الصدقین میں انبیاء کی نہیں بلکہ صادقین کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا۔ سورۃ النساء کی مندرجہ بالا آیت میں بھی انہیں بہترین رفیق کا خطاب عطا کرکے عام مسلمانوں کو ان کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب ہی دی جارہی ہے اور ان کی ظاہری و باطنی صحبت ان اولیاء کاملین سے بیعت کے بعد ہی اختیار کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ اللہ کے مقرب بندوں کی اطاعت ، پیروی ، ان کے راستے پر چلنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دینے والی جتنی بھی آیات ہیں وہ درحقیقت ان اولیاء کی بیعت کے حکم میں ہی داخل ہیں۔ واضح ہو کہ قرآن میں دیا گیا اللہ کا ہر حکم سچے مسلمانوں کے لیے فرض کا ہی درجہ رکھتا ہے یوں بیعت کا حکم فرائضِ دین میں ہی شامل ہوا۔ اور جیسا کہ پہلے بھی سورۃ البقرہ کی آیت 85کا حوالہ دیا گیا ترجمہ: ’’کیا ایمان لاتے ہو تم قرآن کے بعض حصوں پر اور کفر کرتے ہو ساتھ بعض کے۔‘‘قرآن کے کسی ایک حکم اور ایک جز کا منکر اس کے کُل کا منکر ہے۔ اللہ کے احکام کا انکار کرنے والا اللہ کا انکار کرتا ہے۔ بیعت کا منکر قرآن کا منکر ، سنت کا منکر، اللہ کا منکر اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر71میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ ترجمہ : ’’روزِ قیامت ہر شخص اپنے امام (پیشوا، مرشد) کے ساتھ پکارا جائے گا‘‘۔

اس آیت سے بھی کسی ولیٔ کامل سے بیعت کے ذریعے منسلک ہونے کی ترغیب ملتی ہے کیونکہ جس نے کسی کو اپنا امام و پیشوا ہی نہ بنایا ہوگا وہ روزِ قیامت یا تو تنہا ہوگا یا اس کا پیشوا شیطان ہوگا کیونکہ صحیح راہبر کی غیر موجودگی میں شیطان کے لیے اس کو غلط راستے پر بہکا کر لے جانا آسان ہو گا ۔ واضح ہو کہ بعض مفسرین اس آیت میں امامھم سے مراد انبیاء لیتے ہیں حالانکہ اللہ نے نبی کی بجائے امام کا لفظ استعمال کیا ہے اگر اس سے مراد ہر قوم کا نبی ہوتا تو اللہ نبی کا لفظ استعمال کرتا۔ مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی تعلق مرشد کامل کی بیعت کے ذریعے ہی قائم ہوتا ہے جس طرح سورۃ فتح کی آیت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کو اللہ نے اپنے ہاتھ پر بیعت قرار دے کر یہ اصول طے کیا کہ نبی سے بیعت اللہ سے بیعت ہے یوں نبی کے خلیفہ سے بیعت نبی سے بیعت ہے اور یونہی یہ سلسلہ چلتے چلتے موجودہ دور کے ولیٔ کامل تک پہنچتا ہے۔ پس جو آج ولیٔ کامل سے بیعت ہو گا اس کی بیعت کئی واسطوں اور وسیلوں سے حضور علیہ الصلوٰہ والسلام اور پھر ان سے اللہ تک پہنچے گی اور ان سے رشتہ و تعلق قائم ہوگا۔
احادیث مبارکہ میں بھی اپنے زمانے کے ولیٔ کامل کو تلاش کرنے اور اس کی صحبت اختیار کرنے کے واضح احکام ملتے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ

ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔

لَادِیْنَ لِمَنْلَّاشَیْخَ لَہ

ترجمہ: اس شخص کا دین ہی نہیں جس کاشیخ ( مرشد )نہیں۔

مَنْ لَّاشَیْخَ یَتَّخِذُہُالشَّیْطَانَ 

ترجمہ: جس کامرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے۔

مَنْ مَّاتَ وَلَیْسَ فِیْ عُنْقِہُ بَیْعَۃٌ مَاتَ مَیْتَۃً جَاھِلِیَّہً

ترجمہ : جو شخص اس حالت میں مرا کہ اسکی گردن میں کسی مرشد کامل کی بیعت نہیں وہ جہالت کی موت مرا۔

 اَلشَّیْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِیٍّ فِیْ اُمَّتِہٖ

 ترجمہ: شیخ (مرشدِ کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسا کہ ایک نبی اپنی اُمت میں۔

مَنْ لَمْ یَدْرِکْ اِمَامِ زَمَانَہٗ فَقَدْ مَاتَ مَیْتَۃً جَاہِلِیَّۃً

ترجمہ: جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراکِ قلبی سے دریافت نہیں کیا پس وہ جہالت کی موت مرے گا۔
مسلم شریف اور احمد کی حدیثِ مبارکہ ہے ’’اللہ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے نہ عملوں کو بلکہ وہ صرف تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘‘۔ مولانا روم  فرماتے ہیں ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دلوں کی اصلاح ضروری ہے چنانچہ دلوں کی اصلاح کرنے والے مرشد کی تلاش اور بیعت بھی ضروری ہے‘‘۔
مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے ’’اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والا شقی نہیں ہو سکتا‘‘ اس میں بھی اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب ہے۔
اولیاء کاملین جو روحانی پاکیزگی کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے ، نے قرآن و سنت کے انہی احکام پر عمل پیرا ہو کر یہ مراتب حاصل کیے ۔ اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبے کا ولی بھی کسی نہ کسی ولیٔ کامل کا بیعت اور صحبت یافتہ ہوتا ہے۔ اگر حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کو روحانی منازل طے کرنے کے لیے حضرت ابوسعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت اور صحبت کی ضرورت تھی تو ہم جیسے عام اور ناقص مسلمان خود بخود روحانی طور پر اتنے پاک کیسے ہو سکتے ہیں کہ اللہ سے تعلق قائم کر سکیں۔ یا تو اس بات کو مان لیا جائے کہ ہمیں اللہ سے تعلق قائم کرنے کی ضرورت اور خواہش ہی نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر اس بات کو ماننا ضروری ہے کہ ہم اس لائق نہیں کہ بغیر کسی وسیلے کے اللہ تک پہنچ سکیں جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

ہیچ کس از نزد خود چیزے نہ شُد
ہیچ آہن خنجر تیزے نہ شُد
ہیچ حلوائی نہ شُد استادِ کار
تاکہ شاگردے شکر ریزے نہ شُد
مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزے نہ شُد

ترجمہ:کوئی خود سے کچھ نہیں بن سکتا، کوئی لوہا خودبخود تیزخنجر نہیں بن سکتا جب تک وہ کسی لوہار کے ہاتھ نہیں چڑھتا اور حلوائی ازخود اپنے کام کا استاد نہیں بن جاتا جب تک وہ کسی حلوائی یا شکرریزکی شاگردی نہیں کرتا۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں خود بھی مولوی سے مولانا رُوم نہ بن سکا جب تک میں نے شاہ شمش تبریز رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی اختیارنہ کی۔
*آپ رحمتہ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

یک زمانے صحبتے با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

ترجمہ: اولیاء کرام کی ایک لمحہ کی صحبت سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* اے اللہ کے بندو! تم حکمت کے گھر میں ہو لہٰذا وسیلہ کی ضرورت ہے۔ تم اپنے معبود سے ایسا طبیب (مرشد) طلب کرو جو تمہارے دلوں کی بیماریوں کا علاج کرے۔ تم ایسا معالج طلب کرو جو تمہیں دوا دے۔ ایسا رہنما تلاش کرو جو تمہاری رہنمائی کرے اور تمہارے ہاتھ کو پکڑ لے۔ تم اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مؤدب بندوں اور اس کے قرب کے دربانوں اور اس کے دروازہ کے نگہبان کی نزدیکی حاصل کرو۔ (الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ)
* تو ایسے شخص (مرشد) کو تلاش کر جو کہ تیرے دین کے چہرہ کے لیے آئینہ ہو۔ تو اس میں ویسے ہی دیکھے گا جیسا کہ آئینہ میں دیکھتا ہے اور اپنا ظاہری چہرہ اور عمامہ اور بالوں کو درست کر لیتا ہے ان کو سنوارتا ہے۔ تو عقل مند بن‘ یہ ہوس کیسی ہے اور کیا ہے۔ تو کہتا ہے مجھے کسی شخص کی ضرورت نہیں جو مجھے تعلیم دے حالانکہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’مومن مومن کا آئینہ ہے۔‘‘ جب مسلمان کا ایمان درست ہو جاتا ہے تو وہ تمام مخلوق کے لیے آئینہ بن جاتا ہے کہ وہ اپنے دین کے چہروں کو اس کی گفتگو کے آئینہ میں اس کی ملاقات اور قرب کے وقت دیکھتے ہیں۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)
* اگر تو نجات چاہتا ہے تو ایسے شیخِ کامل کی صحبت اختیار کر جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور علمِ خداوندی کو جاننے والا ہو اور وہ تجھے علم پڑھائے اور ادب سکھائے اور تجھے اللہ تعالیٰ کے راستہ سے واقف کر دے۔ مرید کو دستگیر اور رہبر اور رہنما کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ وہ ایک ایسے جنگل میں ہے کہ جس میں کثرت کے ساتھ اژدھے اور بچھو ہیں اور طرح طرح کی آفات‘ پیاس اور ہلاک کرنے والے درندے ہیں۔ پس وہ شیخِ کامل دستگیر اس کو ان آفات سے بچائے گا اور اس کو پانی اور پھل دار درختوں کی جگہ بتاتا رہے گا۔ جب مرید بغیر رہنما اور شیخِ کامل کے ہوگا تو درندوں، سانپ اور بچھوؤں اور آفات سے بھرے ہوئے جنگل میں چلے گا تو نقصان اٹھائے گا۔
اے دنیا کے راستہ کے مسافر! تو قافلہ اور رہنما اور رفیقوں سے جدا نہ ہو ورنہ تیرا مال اور جان سب چلے جائیں گے اور آخرت کے راستہ کے مسافر! تو ہمیشہ مرشد کامل کے ساتھ رہ، وہ تجھے منزلِ مقصود تک پہنچا دے گا تو اس راستہ میں اس کی خدمت کرتا رہ، اس کے ساتھ حسنِ ادب سے پیش آ اور اس کی رائے سے علیحدہ نہ ہو۔ وہ تجھے علم سکھائے گا اور تجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کر دے گا۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 50)
* شروع سے اللہ تعالیٰ نے روحانی تربیت کا سلسلہ اسی طرح جاری کیا ہے کہ ایک فیض دیتا ہے اور دوسرا حاصل کرتا ہے جیسے انبیاء علیہم السلام، پھر ان کے جانشین ‘ پھر ان کے تربیت یافتہ‘ علیٰ ہذا القیاس یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا اور بہ ارشادِ الٰہی نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو دوسرے کی تربیت کے بغیر مقاماتِ عالیہ تک ترقی دے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل قائم کی جاسکتی ہے کیونکہ اکثر یہی ہوا ہے کہ سوائے تربیتِ شیخ کے کوئی شخص منازلِ سلوک طے نہیں کر سکتا۔ شیخ کی خدمت و ضرورت سے اس وقت تک علیحدہ نہیں ہونا چاہیے جب تک کہ وصول الی اللہ یعنی منزلِ مقصود تک نہ پہنچ جائے کیونکہ رسم و عادات کے خود ساختہ اسلام کو چھوڑنا‘ حقیقت کی جانب آنا اور تعجب سے پاک ہونا، بد ظنی اور سنی سنائی منکرین کی بے ہودہ باتوں کے اثر سے محفوظ رہنا سوائے شیخِ کامل کی تربیت و صحبت کے ممکن ہی نہیں ۔(غنیہ الطالبین)
اسی ضمن میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے قرب و وصال کی راہ چونکہ شریعت کے دروازہ سے ہو کر گزرتی ہے اس لیے شریعت کے دروازے کے دونوں طرف شیطان اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت طالبِ مولیٰ کی گھات لگا کر بیٹھا ہے۔ اوّل تو وہ کسی آدم زاد کو شریعت کے دروازے تک ہی نہیں آنے دیتا۔ اگر کوئی باہمت آدمی شریعت (نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج) کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے تو شیطانی گروہ اسے شریعت کی چوکھٹ پر روک کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے شریعت کی ظاہری زیب و زینت کے نظاروں میں محو رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ شریعت کی روح تک کسی کو نہیں پہنچنے دیتا اور اگر کوئی خوش قسمت طالبِ مولیٰ ہمت کر کے آگے بڑھتا ہے تو شیطان پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اسے روکنے یا گمراہ کرنے کے جتن کرتا ہے اور اس کی راہ مارنے کا ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ طالبِ مولیٰ جب شریعت کے دروازے سے گزر کر باطن کی نگری میں داخل ہوتا ہے تو رجوعاتِ خلق (خلقت اس کی طرف اپنی دنیاوی مشکلات کے خاتمہ کے لیے رجوع کرتی ہے) کے نہایت وسیع و دشوار گزار جنگل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر طالبِ مولیٰ کو اگر کسی مرشد کامل اکمل کی رفاقت اور راہبری حاصل نہ ہو تو وہ رجوعاتِ خلق کے جنگل میں بھٹک کر ہلاک ہو جاتا ہے۔ جس طرح شریعت کا علم استاد کے بغیر ہاتھ نہیں آتا اسی طرح باطنی علم کا حصول مرشدِ کامل کی رفاقت کے بغیر ناممکن ہے۔ کیونکہ مرشد کی تلقین اور نگاہ ہی ایسی کیمیا ہے جو طالب کے وجود کی کثافت دور کر کے اسے روشن ضمیری کے قابل بناتی ہے۔ (عین الفقر)
* مرشد کامل اکمل باطن کی ہر منزل اور ہر راہ کا واقف ہوتا ہے اور باطن کی ہر مشکل کا مشکل کشا ہوتا ہے۔ مرشد کامل توفیقِ الٰہی کا نام ہے جب تک توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو کوئی کام سر انجام نہیں پاتا۔ مرشد کامل کے بغیر اگر تو تمام عمر بھی اپنا سر ریاضت کے پتھر سے ٹکراتا رہے گا تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ بے پیر و بے مرشد کوئی شخص خدا تک نہیں پہنچ سکا۔ مرشد کامل اکمل جہاز کے دیدہ بان معلم کی طرح ہوتا ہے جو جہاز رانی کا ہر علم جانتا ہے اور ہر قسم کے طوفان و بلا سے جہاز کو نکال کر غرق ہونے سے بچا لیتا ہے۔ مرشد خود جہاز اور خود جہاز ران ہوتا ہے۔ (سمجھ گیا جو سمجھ گیا) (عین الفقر)
* وسیلت (مرشد)بہتر ہے فضیلت (علم)سے۔ گناہ کرتے وقت علمِ فضیلت بندے کو گناہ سے نہیں روک سکتا جبکہ وسیلت بندے کو گناہ سے روک لیتی ہے ۔ (عین الفقر)
* حضرت ابو حامد امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ صوفیاء کرام کی جماعت(مرشدکامل کی بیعت) میں داخل ہونا فر ضِ عین ہے کیونکہ انبیاء کرام ؑ کے علاوہ کوئی بھی شخص قلبی امراض اور عیوب سے خالی نہیں۔‘‘آپؒ فر ماتے ہیں ’’میں ابتد ا میں احوالِ صالحین اور مقاماتِ عارفین کا منکر تھا حتیٰ کہ میں اپنے مرشد حضرت یو سف نساج رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی اور صحبت سے فیض یاب ہوا۔ وہ مجاہدہ کے ساتھ میرے قلب کی صفائی کرتے رہے یہاں تک کہ میں وارداتِ ا لٰہیہ سے مشرف ہوااور میں نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ۔
* سیّد ابو الفیض قلندر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اگر کوئی شخص خواہ وہ صائم الدہر‘ قائم اللیل ، زائرِ حرمین شریفین ہو‘ حافظِ قرآن ہو اور عالمِ تفسیر و احادیثِ فقہ بھی مگر اس نے اپنا ہاتھ کسی حق پرست شیخ کے ہاتھ میں نہ دیا ہو تو اس کا ہاتھ شیطان کے ہاتھ میں ہوگا اور اس دن بمصداق یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ (بنی اسرائیل۔71) ترجمہ:’’ روزِ قیامت ہر شخص اپنے پیشوا (مرشد) کے ساتھ پکارا جائے گا‘‘۔ اور بیعت سے محروم شخص شیطان کے ساتھ بلایا جائے گا‘ جو کسی کی پناہ میں نہیں ہوگا کیونکہ اگر وہ ٹھوکر کھا جائے اور اس سے لغزش سرزد ہو تو اس کا ظاہری پیر نہ ہونے کی وجہ سے وہ کیونکر اس وسوسۂ شیطانی سے خبردار ہوگا اور کس طرح تاریکی سے نور کی طرف آسکے گا۔‘‘
* علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

صحبت پیرِرُوم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بہ جیب ، ایک کلیم سر بکف
****
حدیثِ دِل کسی درویشِ بے گلیم سے پوچھ
اللہ کرے تجھے تیرے مقام سے آشنا

نتخابِ شیخ

بیعت کی حیثیتِ سنت و فرض و واجب تسلیم کرلینے کے بعد بھی اگر لوگ بیعت سے کتراتے ہیں تو اس کی وجہ موجودہ دور میں دھوکہ بازی اور فراڈ کی کثرت اور جعلی پیروں کی بھرمار ہے۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ جس کی اپنی نیت درست ہو اور جس کی طلب یہ دھوکہ باز دنیا نہیں بلکہ صرف طلبِ مولیٰ ہے وہ کبھی ان دھوکہ بازوں کے چنگل میں نہیں پھنستا۔ ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ خواہش و طلب کرتا ہے۔ اگر اس کی طلب فریبی دنیا ہے تو اسے فریبی پیر ہی ملیں گے، اگر اس کی طلب جنت اور اس کی نعمتیں ہیں تو اسے ایسے پیر ہی ملیں گے جو چِلے، ورد وظائف اور لمبی ریاضتیں کراکر ا کے اسے تھکا دیں گے کیونکہ طلبِ جنت کو پورا کرنے کے لیے انہی کی ضرورت ہے۔ لیکن جو طلبِ مولیٰ لے کر نکلے گا اس کا حامی و ناصر اللہ خود ہو گا جیسا کہ اس نے فرمایا’’جولوگ ہماری طرف آنے کی کوشش اور جد و جہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنی طرف آنے کے راستے خود دکھا دیتے ہیں۔‘‘ (العنکبوت۔69)۔ جن کی طلب سچی ہو اگر وہ وقتی طور پر کسی غلط جگہ پہنچ بھی جائیں تو اللہ جلد ہی انہیں صحیح جگہ خود بخود پہنچا دیتا ہے۔ چنانچہ دھوکہ باز پیروں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے قبل اپنی طلب کو درست کرنا ضروری ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ آج کل مرشد کامل نایاب ہیں اورہر طرف جعلی‘ فریبی‘ دھوکہ باز مرشد کا روپ دھار کر بیٹھے ہوئے ہیں-بھائی اگر تم دنیا اور جنت کے لئے جاؤ گے تو انہی لوگوں کے ہتھے چڑھو گے۔ کوئی طالب صادق جو صدق سے اللہ تعالیٰ کے قرب کا خواہاں ہو وہ کبھی بھی جعلسازوں کے ہتھے نہیں چڑھتا کیونکہ اس کا نگہبان وہ (اللہ)ہوتا ہے جس کی تلاش میں وہ نکلا ہوا ہوتا ہے-پہلے اپنی طلب کو دیکھ اور درست کر پھر مرشد کی تلاش کر تجھے منزل مل جائے گی-جب اللہ تعالیٰ کی طلب رکھنے والے‘ اس کی پہچان اور تلاش میں نکلنے والے ہی نہیں رہے تو مرشد کامل اکمل نے بھی ان دنیا داروں سے اپنے آپ کو چھپا لیا۔ میں پھر کہتا ہوں صادق دل اور خلوصِ نیت اور دل سے تعصب کی عینک اتار کر تلاش کر تجھے اپنی منزل مل جائے گی۔‘‘ (مجتبیٰ آخرزمانی)
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ انتخابِ شیخ کے سلسلہ میں کچھ رہنما اصول وضع کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
* ’’شیخ کی ضرورت تسلیم کر لینے کے بعد انتخابِ مرشد میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ شیخ کے باطنی کمالات کا اندازہ تو ایک مبتدی کسی صورت کر ہی نہیں سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں۔جب ایک شیخ اوصافِ مشیخت سے متصف ہے تو انتخاب کنندہ کو صرف حسبِ ذیل امور پر نگاہ ڈال لینا کافی ہے۔:
(۱) اُن بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو اور یہ دیکھے کہ جتنی دیر وہاں بیٹھا کم از کم اُتنی دیر دنیا کے خطرات و وساوس اس کے قلب میں کمی کے ساتھ آئے یا نہیں اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق اُس کے دل میں کچھ ذوق و شوق بھی پیدا ہوا؟ اُن کے پاس سے اُٹھ آنے کے بعد اُس کے قلب کی حالت خواہ ویسی ہی ہوگئی ہو جیسی کہ معمولاً تھی مگر جتنی دیر وہ وہاں حاضر رہا اس قسم کا خفیف سا بھی تغیر اُس نے اپنے اندر محسوس کیا یا نہیں۔
(۲) اُن بزرگ کے مریدین یا بعض مریدین کی حالت میں کوئی بہتر تغیر واقع ہوا یا نہیں۔ قبل مرید ہونے کے اُن لوگوں کی کیا حالت تھی اور مرید ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد اُن میں کس قسم کی تبدیلی واقع ہوئی۔
(۳) جتنی دیر تک اُن بزرگ کی خدمت میں بیٹھا ان کی زبان سے بعض الفاظ ایسے بھی نکلے یا نہیں جو اس کے حسب حال ہوں یا جن سے اس کو ہدایت یا تسکین ہوئی ہو یا اس کی کوئی اُلجھن رفع ہوئی ہو یا کوئی عقدہ حل ہوا ہو۔
اگر ان تینوں امور میں اُس کو اچھی رائے قائم کرنے کا موقعہ مل گیا ہو تو وہ شخص آنکھ بند کر کے اُن بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر لے۔ کیونکہ پھر اس کو (جہاں تک کہ اس کی ہدایت و اصلاح کا تعلق ہے) اُن سے بہتر کوئی بزرگ دستیاب نہ ہوں گے۔

تجدیدِ بیعت

موجودہ دور میں مرشد ین ناقص کی بھرمارکی وجہ سے ایک اور بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ لوگ مرشد کامل کی جستجو اور تلاش کرنے میں تحقیق کرنے کی بجائے کسی بھی دستیاب مرشد کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں خواہ وہ ناقص ہی کیوں نہ ہو۔ پھر خواہ فیض حاصل ہو نہ ہو، خود کو اس سنت کی ادائیگی سے فارغ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سرا سر غلط ہے۔ اوّل تو اگر مرشد ناقص ہے اور مرید کو کوئی فیض پہنچانے کے لائق نہیں تو سرے سے بیعت واقع ہی نہیں ہوئی اور اب مرید پر لازم ہے کہ اگر وہ کچھ عرصہ گزر جانے اور مرشد ناقص کے بتائے ہوئے وظائف یا اعمال کے باوجود اپنے اندر مثبت باطنی تبدیلی نہ پائے ، خود کو حسد ‘ تکبر ‘ حرص ‘ کینہ ‘ عُجب جیسی بیماریوں سے پاک ہو کر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور عشقِ الٰہی کو خود میں بیدار ہوتا محسوس نہ کرے تو وہ کسی کامل مرد مرشد کو تلاش کرکے اس سے بیعت کرنے میں ذرہ بھر نہ ہچکچائے کیونکہ بیعت کے احکام نکاح کے احکام سے ملتے جلتے ہیں کہ دونوں میں ایک گہرا اور مقدس تعلق ظہور پذیر ہوتا ہے اور جس طرح ایک مخنث سے نکاح واقع ہو ہی نہیں سکتا اسی طرح مرشد ناقص سے بھی بیعت واقع ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا جلد ہی ایسے مرشد سے جان چھڑا کر مرشد کامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ تجدیدِ بیعت مندرجہ ذیل صورتوں میں لازم ہو جاتی ہے:
* بیعت کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ مرشد ناقص ہے یا وہ صاحبِ نسبت نہیں یا جو باتیں مرشدکامل اکمل میں ہونی ضروری ہیں وہ اس میں نہیں ہیں مثلاً وہ شریعت کا پابند نہیں یا وصول الی اللہ کی راہ نہیں جانتا تو ایسے مرشد سے بیعت واقع ہی نہیں ہوئی۔ لہٰذا بیعت توڑنے کی بھی ضرورت نہیں اور دوبارہ سے مرشد کامل کو تلاش کرنا چاہیے اور بیعت کر لینی چاہیے۔
* اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کے لیے بیعت کی گئی لیکن نہ باطنی حالت بدلی، نہ روحانی منازل طے ہوئیں ، اس سے ثابت ہو گیا کہ مرشد کامل نہیں ہے ۔آجکل کے موروثی سجادہ نشین یا گدی نشین پیر اسی زمرے میں آنے والے ناقص مرشد ہیں جو اس سجادہ نشینی یا گدی نشینی کے ذریعے پیسہ جمع کرتے یا سیاست چمکاتے ہیں۔ ان کا تصوف و روحانیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں‘ ان کی بیعت سے توبہ بھلی۔ یہی لوگ پیری مریدی کا نام بدنام کرنے والے ہیں ۔ کم علم مسلمان بھی اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کی بیعت کرتے چلے جاتے ہیں۔ باپ جس پیر کا مرید تھا ، بیٹا اس پیر کے بیٹے کا مرید، اس کا بیٹا اس کے بیٹے کا مرید۔ یوں پیڑی در پیڑی یہ سلسلہ چلتا ہے یہ سلسلۂ روحانیت نہیں شیطانیت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دادا یا پردادا میں سے کوئی روحانیت کا حامل رہا ہو لیکن واضح ہو کہ روحانیت و تصوف موروثی جائداد نہیں جو یوں خاندان میں ڑیوڑیوں کی طرح بانٹی جائے۔ یہ تو اللہ سے تعلق کی راہ ہے جس کے لیے ہر فرد کو خود انفرادی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ہر فرد اپنی استعداد کے مطابق اس کے لائق بنتا ہے کہ باپ دادا کی روحانیت اسے ورثہ میں ملتی ہے۔ اگر کسی نے باپ دادا کے کہنے میں آ کر یا خاندانی روایت کے مطابق کسی ایسے ناقص پیر کی بیعت کی تو بھی یہ بیعت واقع نہ ہوئی لہٰذا تو ڑے بغیر کامل مرشد کی طرف اصل روحانی منازل طے کرنے کی غرض سے رجوع کر لینا چاہیے۔
* مرشد کا وصال ہو گیا اور مرید سلوک کی منازل طے نہ کر سکا اور اس کا سفر ادھورا رہ گیا اور مرید میں اتنی اہلیت بھی پیدا نہ ہو سکی کہ وہ اپنے مرشد کے مزار سے فیض حاصل کرسکے تو اس کے لیے تجدیدِ بیعت نہ صرف جائز ہے بلکہ فرض ہے۔
* اگر بچپن اور نا سمجھی کے زمانہ میں یا بغیر سوچے سمجھے اپنے والدین یا کسی اور کے کہنے پر بیعت کر لی تو اسے ’’بیعتِ تبرک‘‘ کہتے ہیں ۔ عاقل اور بالغ ہونے پر اگر وہ شخص اپنے آپ کو کسی دوسرے مرشد کی طرف مائل پاتا ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ دوبارہ بیعت کرے۔
* جب مرشد مسلسل اور متواتر کسی مرید کی طرف توجہ نہ کرے اور نہ ہی مرید کی باطنی تربیت کرے اور مسلسل مرید کی طرف بے التفاتی برتی جائے تو مرید دوسرے شیخ یا مرشد کامل اکمل کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس مرشد کامل اکمل کے لیے جائز ہے کہ اسے بیعت کرکے اس کی تربیت کرے۔
* اگر مرشد لاپتہ ہو جائے اور مرید عرصہ دراز تک مرشد سے ظاہری اور باطنی رابطہ نہ کر سکے اور نہ ہی مرید کو معلوم ہو کہ مرشد کہاں ہے تو اس صورت میں دوبارہ بیعت کی جا سکتی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں
مرشد کامل اکمل وہی ہے جو طالب کو ذکر کے لیے سلطان الاذکار ’ھُو‘‘ اور تصور کے لیے اسمِ اللّٰہُ ذات عطا فرمائے اور اس کے وجود کو پاک کرنے کے لیے مشقِ مرقومِ وجودیہ کروائے۔ جو مرشد یہ سب نہیں کر سکتا وہ مرشد لائقِ ارشاد نہیں ہے اور اس کی بیعت ختم کرکے اُس صاحبِ تصور اسمِ اللّٰہُ ذات مرشدِ کامل کی بیعت کی جاسکتی ہے جو یہ خصوصیت رکھتا ہے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں