595

مرشد کامل اکمل سیّدنا غو ث الاعظمؓ کی تعلیمات کی روشنی میں–Murshid Kamil Akmal

مرشد کامل اکمل
سیّدنا غو ث الاعظمؓ کی تعلیمات کی روشنی میں

تحریر : انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تمام عبادات افضل ہیں لیکن ان کی حقیقت یا اصل روح تک رسائی اس وقت ہی حاصل ہوتی ہے جب ان عبادات کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور معرفت پانے کے لیے ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رضا پانے اور اس پر استقامت سے چلنے کے لیے رہبر و رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے دنیاوی علم کے لیے استاد اور بیماری میں جسم کی تندرستی کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روح کے علاج کے لیے مرشد کامل اکمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے مرشد کی کیا ضرورت؟ تو وہ یہ بتائے کہ کتابوں کے ہوتے ہوئے استاد کی کیا ضرورت؟ ادویات کے ہوتے ہوئے ڈاکٹر کے معائنہ اور اسکی ہدایات کی کیا ضرورت؟ جس طرح ڈاکٹر ہر بیماری کے علاج کا طریقہ جانتا ہے کہ مریض کو کونسی دوائی دینی ہے کونسی نہیں، کونسا ٹیسٹ کروانا ہے کونسا نہیں۔اسی طرح استاد کو بھی پتا ہوتا ہے کہ کس بچے کو کس طرح پڑھانا ہے۔غرض یہ کہ جس طرح دنیا کے کسی بھی معاملے میں ہم اس شعبہ کے ماہرین سے رجوع کرتے ہیں بالکل اسی طرح قرآن و سنت کی صحیح روح تک ہماری رسائی کروانے والی ذات مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ ہے۔ علما کرام دین کی صرف ظاہری صورت کے حامل ہوتے ہیں لیکن مرشد کامل اکمل ظاہروباطن میں قرآن وسنت کا پیکر ہوتا ہے ، وہ قرآن و سنت کی اصل روح کو جانتا ہے۔ وہ قدمِ محمدی پر ہوتا ہے اسے قرآن و حدیث کے ظاہروباطن کا مکمل علم ہوتا ہے ۔اس لیے مرشد کامل اکمل ہر طالب کی اللہ تعالیٰ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔ وہ اپنی نگاہِ کامل، تصورِ اسم اللہ ذات اور مختلف ظاہری و باطنی آزمائشوں سے طالبِ مولیٰ کو گزار کر اس کے دل سے دنیا کی محبت کو نکال دیتا ہے اور اسے اس کے حقیقی مقصد یعنی اللہ کی رضا اور معرفت کے پُرنور راستے پر چلاتا ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* تو ایسے شخص (مرشد ) کو تلاش کر جو تیرے دین کے چہرہ کے لیے آئینہ ہو۔تو اس میں ویسے ہی دیکھے گا جیسا کہ آئینہ میں دیکھتا ہے اور اپنا ظاہری چہرہ، عمامہ اور بالوں کو درست کر لیتا ہے ان کو سنوارتا ہے تو عقل مند بن ،یہ ہوس کیسی ہے اور کیا ہے ؟تو کہتا ہے مجھے کسی شخص کی ضرورت نہیں جو مجھے تعلیم دے حالانکہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’اَلْمُؤْمِنُ مِرَّآۃُ الْمُؤْمِنْ (ترجمہ: مومن مومن کا آئینہ ہے)‘‘۔ جب مسلمان کا ایمان درست ہو جاتا ہے تو وہ تمام مخلوق کے لیے آئینہ بن جاتا ہے کہ وہ اپنے دین کے چہروں کو اس کی گفتگو کے آئینہ میں اس کی ملاقات اور قرب کے وقت دیکھتے ہیں۔ (الفتح الربانی مجلس(61-

جس طرح سنار سونے کو بھٹی میں ڈال کر خوب دہکاتا ہے اور اس کے خام و ناقص لوازمات نکال کر اسے کندن بنا دیتا ہے پھر اسی کندن کی قیمت بہت ہوتی ہے اور وہ نایاب بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح مرشد کامل اکمل بھی طالبِ مولیٰ کو مختلف ظاہری و باطنی آزمائشوں سے گزار کر اس کے دل سے خام و ناقص لوازمات (حبِّ دنیا، حرص، کینہ، لالچ، نفرت، تکبر اور حسد وغیرہ) نکال کر اسے کندن یعنی صادق طالب بنا دیتا ہے جس کی طلب سوائے اللہ تعالیٰ کی رضا و معرفت کے کچھ نہیں رہتی۔ اس کی نظر میں دنیا اور لذاتِ دنیا (حرص، مال ودولت، عزت، شان و شوکت ،مرتبہ و اقتدار کی خواہش ) سب حقیر ہو جاتے ہیں۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں عام مسلمانوں کو اپنے خواص یعنی فقرا کی صحبت اختیا ر کرنے کا حکم دیا ہے۔

وَ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِ لَیَّo (سورۃ لقمان۔15)

ترجمہ: اورپیروی کرو اس شخص کے راستہ کی جو مائل ہوا میری طرف۔

 فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَo (الانبیا۔7 )
ترجمہ: پس اہلِ ذکر سے پوچھ لو (اللہ کے بارے میں) اگر تم نہیں جانتے ۔

 وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o(حمٰ السجدہ ۔33 )
ترجمہ: اور اس سے اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں اسلام لانے والوں میں سے ہوں۔

 اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْراًo (الفرقان۔(59
ترجمہ: وہ رحمن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے۔
سرورِکائنات جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اللہ کی راہ اختیا ر کرنے والوں کو مرشدِ کامل کی رفا قت کا حکم دیتے ہیں :

 اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ o
ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
ہر دور میں صرف ایک ہی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہوتا ہے جو کہ قدمِ محمدی پر ہوتا ہے اور اس دور میں موجود باقی تمام بزرگانِ دین، اولیا کرام اس کے نائب ہوتے ہیں۔ مرشد کامل اکمل ایک آفتاب کی مانند ہوتا ہے جس کی روشنی سے تمام طالبانِ مولیٰ کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت و دیدار کا پودا پھلتا پھولتا اور پروان چڑھتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کامل مرشد کی نشانیا ں بتاتے ہوئے اس کی صحبت کا حکم دیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ایسے عالم کے پاس بیٹھو جو پانچ چیزوں سے منع کرے اور پانچ چیزوں کی طرف مائل کرے:
۱۔جہالت سے نکال کر دین کا علم سکھائے۔
۲۔دنیا کی طرف رغبت کرنے سے منع کرے اور زہدو تقویٰ کی طرف بلائے۔
۳۔ریاسے روکے اور اخلاص کی طرف راغب کرے۔
۴۔غرور سے روکے اور انکسار پر آمادہ کرے۔
۵۔لا پرواہی اور سستی سے بچائے اور نیک عمل کرنے کی نصیحت کرے۔
چونکہ مرشد کامل اکمل قدمِ محمدی پر ہوتا ہے اس لیے اُن کے اوصاف بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جیسے ہوتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ ہے:

 اَ لشَّیْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِیٍّ فِیْ اُمَّتِہٖo
ترجمہ: شیخ (مرشد کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے کے ایک نبی اپنی اُمت میں۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں ہے کہ تم ا س کی اتباع کرو۔ پس جب تم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین (مرشدِ کامل) کی اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم ہیں تو گویا تم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کی ۔جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کی۔ (الفتح الربانی مجلس (14-
آپؓ نے مزید فرمایا:
* ولئ کامل (مرشد کامل اکمل) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس ولایت کا حامل ہوتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوتِ باطن کا جزوہے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے اُس (ولئ کامل) کے پاس امانت ہوتی ہے۔ (سرالاسرار فصل(5-
علامہ ابنِ عربیؒ انسانِ کامل کے بارے میں فرماتے ہیں:
* چونکہ اسمِ اللہ ذات جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات وربّ الارباب کہلاتا ہے اور اس کا مظہر عینِ ثانیہ ہو گا وہ عبداللہ عین الاعیان ہوگا ۔ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد پر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے۔ اس کو قطب الاقطاب یاغوث کہتے ہیں جو عبداللہ یا محمدی المشرب ہوتا ہے وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امرو قربِ فرائض میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اس کے توسط سے کرتا ہے ۔‘‘ (فصوص الحکم)
مندرجہ بالا عبارات کے عین مطابق مجدد دورِ حاضر آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس قدمِ محمدی پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدوں کی تربیت بالکل اسی طرح فرماتے ہیں جیسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم کی فرمایا کرتے تھے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طریقۂ تربیت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

 ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فیِ الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ۱ٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَo(الجمعہ۔2 (
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس نے معبوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو پڑ ھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیات اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کا تزکیۂ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب کا علم (علمِ لدّنی ) اور حکمت سکھاتا ہے۔
اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ کو ہر وقت طویل وردو وظائف میں مشغول نہیں رکھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی صحبتِ پاک میں انہیں قرآن و حکمت کی تعلیم دیتے اور اپنی نگاہِ کامل سے ان کا تزکیۂ نفس فرماتے تھے۔
حضرت سیّد عبد الکریم بن ابراہیم الجیلی ؒ اپنی تصنیف انسانِ کامل میں فرماتے ہیں:
’’حقیقتِ محمدیہ ہر زمانہ میں اس زمانہ کے اکمل کی صورت میں اس زمانہ کی شان کے مطابق ظاہر ہوتی ہے۔ یہ انسانِ کامل اپنے زمانہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خلیفہ ہوتا ہے۔ انسانِ کامل وہ قطب ہے جس پر اوّل سے آخر تک وجود کے فلک گردش کرتے ہیں اور وہ جب وجود کی ابتدا ہوئی‘اس وقت سے لے کر ابدالآباد تک ایک ہی شے ہے۔پھر اس کے لیے رنگا رنگ لباس ہیں اور باعتبارِ لباس اس کا ایک نام رکھا جاتا ہے کہ دوسرے لباس کے اعتبار سے اس کا وہ نام نہیں رکھا جاتا۔ اس کا اصلی نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہے۔ اس کی کنیت ابو القاسم اور اس کا وصف عبداللہ اور اس کا لقب شمس الدین ہے۔پھر باعتبار دوسرے لباسوں کے اس کے نام ہیں۔پھر ہر زمانہ میں اس کا نام ہے جو اس زمانہ کے لباس کے لائق ہوتا ہے۔(انسانِ کامل)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارکہ ہے:
ترجمہ:میری اُمت کے آخری دور میں ہدایت اسی طرح پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔(مسلم)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہونے والا کوئی شخص (خواہ وہ کسی بھی طلب سے حاضر ہو) خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ آپ مدظلہ الاقدس بِلاامتیازِ رنگ و نسل اس کی طلب بحکمِ خداوندی پوری فرماتے ہیں اور اپنی نگاہِ کامل اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات عطا فرما کرا سے طالبِ دنیا سے طا لبِ مولیٰ بنا دیتے ہیں۔گویا وہ آتا تو دنیا کی طلب لے کر ہے لیکن آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت سے فیض یاب ہونے کے بعد اس کی سوچ کا نظریہ ہی بدل جاتا ہے اور اس کے دل میں اللہ کی محبت اور اس کے دیدارکی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی               بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

علامہ اقبالؒ اسی بات کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں :
* اے اللہ کے بندے! تواولیا کرام کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تو اس کو (روحانی) زندگی عطا کر دیتے ہیں اگرچہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیو ں نہ ہو ۔اگر وہ شخص مسلمان ہو تا ہے تو اس کے ایمان، یقین اور استقامت میں زیادتی ہوتی ہے۔ (ملفوظاتِ غوثیہ )
آپؓ نے مزید فرمایا:
* اولیا کرام کی یہ شان ہوتی ہے کہ دنیا اور آخرت ان کے دلوں اور آنکھوں سے غائب ہوچکی ہوتی ہے اور انہوں نے اپنے پروردگار کو دیکھ لیا ہوتا ہے۔ پس اگر وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نفع پہنچاتے ہیں۔ولئ کامل جب خشک زمین کو دیکھتا ہے تو اللہ اس کو زندگی دے دیتا ہے اور اس میں سبزہ اُگا دیتا ہے۔ (ملفوظاتِ غوثیہ )
مسلمان بندہ مولا صفات است
دِل او سِرّے از اسرارِ ذات است
جمالش جز بہ نورِ حق نہ بینی
کہ اصلش در ضمیرِ کائنات است
مفہوم:مسلمان بندہ (انسانِ کامل) خدا کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور اس کا باطن خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔اُس کا حسن رازِ حق سے آشنا آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے اوراس (انسانِ کامل) کی جڑ کائنات کے ضمیر (روح) میں ہے۔یعنی وہ کائنات کے ہر راز سے آگاہ ہوتا ہے۔
حدیثِ پاک ہے:

 اَلشَّیْخُ یُحْیٖ وَیُمِیْتَ اَیْ یُحْیِ اْلقَلْبَ اَلْمَیّتَ الْمُرِ یْدُ بِذِکْرِاللّٰہِo
ترجمہ: شیخ(مرشد ) ہی زندہ کرنے والا اور شیخ ہی مارنے والا ہے ۔ شیخ مرید کے مردہ دِل کو اللہ کے ذکر سے زندہ کرتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مندرجہ بالا فرمان مبارک کے عین مظہر ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس طالب کے دِل میں اللہ کی محبت کو زندہ فرمانے والے اور دل سے خام و ناقص لوازمات (حبِّ دنیا، حرص، کینہ، لالچ، نفرت، تکبر اور حسد وغیرہ) کو قتل فرما کر روح کو حیاتِ جاودانی عطا فرمانے والے مسیحا ہیں۔ اگر طالب پُر خلوص ہو، آپ مدظلہ الاقدس پرکامل یقین اور اعتقاد رکھے اور صدق و عاجزی کے ساتھ آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوتا رہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ خام و ناقص لوازماتِ دنیا اور نفس و شیطان اسے گمراہ کر سکیں۔

مُرشد سدا حیاتی والا باھُوؒ ، اوہو خضر تے خواجہ ھُو

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں :
* جان لے کہ (معرفت و حقیقت) کے مدارج و مراتب مرشد کامل کی تربیت کے بغیر حاصل ہو ہی نہیں سکتے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: وَ اَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی (الفتح - (46 (ترجمہ: ان پر تقویٰ کا کلمہ لازم کیا) اور کلمہ تقویٰ کلمہ توحید ہے یعنی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ ہے بشرطیکہ یہ کلمہ کسی ایسے قلب سے اخذ کیا جائے جو صاحبِ تقویٰ (مرشد کامل) کا ہو اور جس میں ذاتِ الٰہی کے سوا کچھ (موجود) نہ ہو۔ اس سے مراد وہ کلمہ نہیں جو عوام کی زبانوں پر ہے۔بیشک (کلمے کے) الفاظ ایک ہی ہیں لیکن (باطنی) معانی میں فرق پایا جاتا ہے۔ اور جب توحید کا یہ بیج زندہ دِل (مرشد کامل) سے اخذ کیا جائے تو یہ قلب کو زندہ کرتا ہے۔پس یہی بیج کامل بیج ہوتا ہے۔ (سرّالاسرار)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اسمِ اللہ ذات اور توحید کی حقیقت سمجھاکر اس کی تلقین سے مردہ دِلوں کو حیات بخشتے ہیں۔طالب کو اقرار باللسان کے مرتبے سے تصدیق بالقلب پر پہنچا کر اس کے ایمان کی تکمیل فرماتے ہیں۔ کلمہ توحید کا اصل فیض اور اثر صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے حقیقی معنوں میں پنہاں ہے۔آپ مدظلہ الاقدس اپنی تلقین سے طالب پر کلمہ توحید کے اصل معنی کھول دیتے ہیں جس کے بعد طالب دیدارِ الٰہی حاصل کرکے اپنی باطنی آنکھوں سے، جو آپ مدظلہ الاقدس ہی کی مہربانی سے اپنی بصیرت حاصل کرتی ہیں، یہ دیکھنے کے لائق بن جاتا ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ ’’یعنی نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے۔‘‘ آپ مدظلہ الاقدس ہی کی مہربانی اور رہنمائی سے طالب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رہنمائی حاصل ہوتی ہے جہاں وہ ’’مُحَمَّدٌ رَّسَوْلُ اللّٰہُ‘‘ کی حقیقی قلبی تصدیق کرکے اپنے ایمان کی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ (اقتباس از :سلطان العاشقین)

درِ نجیب پہ آکر خودی کا رازداں ہو جا
سلیم قلب حاصل کر حیاتِ جاوداں ہو جا

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں