401

امیر الکونین — Ameer ul Kaunain

امیر الکونین

تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 01
مترجم احسن علی سروری قادری

امیرالکونین سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیفِ مبارکہ ہے۔ یوں تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ہر تصنیف میں اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور اور مرشد کامل اکمل کی صحبت سے دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حصول کے متعلق تفصیلاً بیان فرمایا ہے لیکن امیر الکونین خاص طور پر قرب و حضورِ حق اور معرفت و وِصالِ الٰہی کے مراتب کو بیان کرتی ہے۔ اللہ کے قرب و دیدار کی حضوری کے یہ مراتب صرف اس مرشد کامل اکمل کی نظرِ کرم سے ہی ممکن ہیں جس کی شان امیر الکونین ہو۔ اس کتاب میں سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد کامل اکمل کے بلند مقام و مرتبۂ احدیت اور اس کی کونین پر حکمرانی اور تصرف کے مراتب کو مفصّل بیان فرمایا ہے۔ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نگاہِ پُرتاثیر کے فیضان کی بدولت امیرالکونین کا جامع اور آسان فہم ترجمہ کیا گیا جسے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا جسے قسط وار ماہنامہ سلطان الفقر لاہور میں شائع کیا جا رہا ہے۔
اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین اللہ کے قرب و دیدار اور وِصال کے مراتب اور مرشد کامل اکمل کے مرتبہ امیرالکونین کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور اپنے قلب و باطن کو منور کر سکتے ہیں۔

امیر الکونین

اُردو ترجمہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ سَیَّدُ الْمُرْسَلِیْنَ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ O

ترجمہ: اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے اور عاقبت متقین کے لیے ہے۔ درود و سلام ہو اللہ کے حبیب سیّد المرسلین پر‘ ان کی آلؓ پر اور سب اصحابؓ پر۔
اس تصنیف کا مصنف غالب الاولیا‘ عارفِ خدا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دائمی حضوری میں رہنے والا ہے جنہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دستِ بیعت فرمایا اور تعلیم و تلقین کی۔ اور وہ حضرت شاہ محی الدین ولی اللہ قدس سرّہُ العزیز سے دست وابستہ مرید، غلامِ قادری اور سرورِ کائنات کی خاکِ پا ہے۔ وہ سروری قادری طبیب قلوب کا علاج کر کے شفا بخشتا ہے اور چہرۂ وجود کو مطلوب تک پہنچاتا ہے۔ بندہ باھُوؒ فنا فی ھُو ولد بازیدؒ عرف اعوان اورنگ زیب بادشاہ جو عبید اللہ‘ محی الدین‘ غلامِ مصطفی ؐصاحبِ اخلاص و یقین اور جس کی حق پر نگاہ ہے‘ کے زمانے میں قلعہ شور (شورکوٹ) کا رہنے والا ہے۔ اس کتاب کا مصنف چند کلمات بیان فرماتا ہے جو مہمات کو فتح کرنے والے اور قفل سے مقید ہر مشکل کو حل کرنے والے ہیں۔ اس کتاب کو امیر الکونین کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پڑھنے والے کو حاکم، اولی الامر اور فنا فی اللہ کا خطاب دیا گیا ہے جو اللہ کو اپنی آنکھوں سے عین‘ بے حجاب دیکھتا ہے۔ یہ کتابِ تصوف قرآن کی باتاثیر تفسیر ہے جس کے مطالعہ سے صاحبِ مطالعہ روشن ضمیر ہو جاتا ہے اور اسے ظاہری طور پر تمام دنیاوی خزانوں کا تصرف عنایت کیا جاتا ہے جبکہ باطنی طور پر معرفتِ الٰہی اور ہدایت کے خزانوں کا تصرف عطا کیا جاتا ہے۔ جو کوئی اس کتاب سے نکتہ حاصل نہیں کرتا اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے واصل نہیں ہوتا تو اس کے احوال کی ہلاکت کا وبال اس کی اپنی گردن پر ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْطo وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِثْ ط (والضحیٰ۔10,11)

ترجمہ: اور سائل کو منع مت کریں اور اپنے ربّ کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔
ابیات:

در یک تصرف ہر تصرف یافت گنج                    باعطا مرشد در روز پنج

ترجمہ: مرشد اس کتاب کے فیض کے ذریعے ایک تصرف میں ہی ہر تصرف کا خزانہ صرف پانچ روز میں عطا کر دیتا ہے۔

ہر ورق گنج است اکسیر و کرم            ہر کہ خواند بالیقین آنرا چہ غم

ترجمہ: اس کتاب کا ہر ورق اکسیر و کرم کا خزانہ ہے۔ جو کوئی اسے یقین سے پڑھتا ہے اسے کیا پریشانی۔

از مطالعہ باخدا بامصطفیؐ           واقفِ اسرار گردد از الٰہ

ترجمہ: اس کتاب کے مطالعہ سے طالبِ مولیٰ خدا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچ کر حق تعالیٰ کے اسرار سے واقف ہو جاتا ہے۔

ذکر را بگذار مذکورش مکن          غرق فی التوحید شو از رازِ کُن

ترجمہ: ذکر کو بھول بھی جاؤ تو مذکور (اللہ) کو مت بھولنا اور رازِ کن سے غرق فی التوحید ہو جاؤ۔

ہر کہ یابد کنہ کن عامل بود          درحقیقت معرفت کامل شود

ترجمہ: اگر کوئی کنہ کن کو پا کر اس کا عامل ہو جاتا ہے تو درحقیقت اس کی معرفت کامل ہو جاتی ہے۔

این مراتب کاملان از حق عطا            روزِ اوّل شد سبق علم از خدا

ترجمہ: یہ مراتب کاملین کو حق کی جانب سے عطا ہوتے ہیں۔ اس علم کا سبق انہیں پہلے روز ہی اللہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔
یہ حق تعالیٰ (کے دیدار) میں مشغول لایحتاج فقیر کے مراتب ہیں جو دونوں جہانوں پر حکمران ہوتا ہے۔ درویشوں کی صحبت ہی کیمیا گری کا خزانہ ہے جو کوئی درویشوں کی صحبت سے خزائنِ الٰہی نہیں حاصل کرتا وہ خراب حال ہو کر ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ فقیر اولی الامر ہوتا ہے۔ اگر دنیاوی بادشاہ تمام عمر بھی فقیر اولیا اللہ کے انتظار میں گزار دے تب بھی وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتا لیکن اگر فقیر اولیا اللہ دنیاوی بادشاہ سے ملاقات کرنا چاہے تو قربِ الٰہی حاصل ہونے کی بنا پر توجہ کے ذریعے بادشاہ کو اپنی طرف ایسے کھینچتا ہے کہ وہ حلقہ بگوش عاجز غلا م کی مثل ننگے پاؤں دوڑ کر حاضر ہو جاتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ دنیاوی بادشاہ فقیر ولی اللہ کے حکم کے ما تحت ہے۔
پس فقیر بننا چاہیے کیونکہ دونوں جہان فقیر کے حکم کے ماتحت اور اس کے قبضہ و تصرف میں آ جاتے ہیں۔ فقیر مکمل فیض بخش ہوتا ہے۔ یہ گدا جو نفس سے مغلوب ہیں‘ فقیر نہیں ہو سکتے۔ فقیر حاکم اور امیر ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو گدا کو ربع مسکون اور ہفت اقلیم کا بادشاہ بنا دے اور اگر چاہے تو ہفت اقلیم کے بادشاہ کو معزول کر کے گدا کو اس کا قائم مقام بنا دے۔ یہ تصرفات کونین پر امیر صاحبِ مسمّٰی فقیر کے ہیں۔ حیران مت ہو۔ جس نے بھی عزت و شرف پایا فقیر ہی سے پایا۔ جو کوئی درویشوں کا منکر ہو وہ دنیا و آخرت میں خراب حال ہو کر ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔

شرح دعوت

فقیر دائمی حضوری میں رہنے والا اور علمِ دعوت کا مکمل و کامل عامل ہوتا ہے۔ اولی الامر اُسے کہتے ہیں جس کا امر واپس نہ پلٹا جائے۔
لِسَانُ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ

  ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔
فقیر کا لفظ ’’کن‘‘ جس کام کی انجام دہی کے لیے ادا کیا جائے وہ اللہ کے حکم سے انجام پاتا ہے خواہ جلد انجام پائے یا دیر سے۔ فقیرکا دل (باطن) دائمی حضوری میں ہوتا ہے جو بذریعہ دعوت ہمیشہ الہامی پیغام وصول کرتا ہے۔ اولی الامر اسے بھی کہتے ہیں کہ جس کا امر (حکم) ہر شے پر غالب ہو کیونکہ کوئی بھی اس اولی الامر پر غالب نہیں آ سکتا خواہ تنہا ہو یا لشکر کے ساتھ۔ پس معلوم ہوا کہ فقیر اللہ کے امر سے ہی فقیر بنتا ہے اور اللہ کا امر سچ اور غالب ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ(یوسف۔21)

ترجمہ: اور اللہ اپنے ہر امر پر غالب ہے۔
یہ امرِ دعوت غالب ہوتا ہے کیونکہ یہ شیطان کے مخالف اور رحمن کے موافق ہے۔ دعوت پڑھنے والا فقیر روشن ضمیر ہوتا ہے جس کا مرتبہ عین العیان ہو اسے (زبان سے) بیان کرنے کی کیا حاجت (وہ تو ہر شے کو عیاں دیکھتا ہے)۔ناقص مرشد رنج دینے والا جبکہ کامل مرشد خزانے بخشنے والا ہوتا ہے جو اپنی نگاہ سے دائمی معرفت عطا کرتا ہے۔

شرح فقر

آخر فقر کی انتہا کیا ہے؟ جس طرح میرا کہنا میرے حال کے عین مطابق ہے کَفٰی عِلْمِہٖ بِحَالِیْ  ترجمہ:’’اس (اللہ) کا علم میرے حال کے لیے کافی ہے‘‘۔ پس معلوم ہوا کہ یہ فقر کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے ہیں جن میں سے بعض قالِ فقر تک پہنچے ہیں اور بعض حالِ فقر تک، بعض احوالِ فقر تک اور بعض اعمالِ فقر تک، بعض اقوالِ فقر تک اور بعض افعالِ فقر تک پہنچتے ہیں۔ ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے جو سلطان الفقر کی لازوال معرفت حاصل کرتا ہے اور عین جمالِ حق کے وصال سے فقر کی انتہا تک پہنچ کر فقر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو فقر کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی فقر کی تمامیت تک پہنچتا ہے۔ آخر فقر کسے کہتے ہیں اور فقر کیا ہے؟ فقر ایک نور ہے کہ جس کا نام سلطان الفقر ہے اور وہ اللہ کی نگاہ اور اس کی بارگاہ میں ہمیشہ منظور ہوتا ہے۔ ایک ہی لمحہ میں حاضر ہوجانے والا‘ نہ خدا اور نہ ہی خدا سے جدا۔ ایسا فقیر مکمل طور پر نور (میں ڈھل چکا) ہوتا ہے۔ فقر قربِ حق کی وسیع مملکت ہے جسے جمعیتِ قدیم حاصل ہے۔ اس ملکِ فقر میں نفسِ امارہ، ملعون دنیا اور شیطان مردود ہرگز داخل نہیں ہو سکتے۔ جو اس ملکِ فقر میں داخل ہو جاتا ہے وہ اس آیت کے مصداق امن میں ہوتا ہے:

وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا(آلِ عمران۔97)

ترجمہ: جو اس میں داخل ہوا وہ امان پا گیا۔
پس معلوم ہوا کہ ملکِ فقر کے چار صوبے ہیں۔ صوبہ ازل، صوبہ ابد، صوبہ دنیا اور صوبہ عقبیٰ۔ جو کوئی ملکِ فقر تک پہنچ جاتا ہے وہ ان چاروں صوبوں پر حاکم ہو جاتا ہے اور تمام جہان اس کے حکم کے ماتحت ایک غلام کی مثل ہوتے ہیں۔ فقیر غنی ہوتا ہے اور اس کی نظر میں اہلِ صوبہ مفلس و گدا ہوتے ہیں۔ اے احمق و بے حیا! یہ فقرا کے مراتب ہیں۔ بیت:

فقر را من دیدہ ام پرسیدہ ام         ہر حقیقت فقر را خوش دیدہ ام

ترجمہ: میں نے فقر (کے احوال و مراتب) کو اچھی طرح دیکھ اور جان لیا ہے اور اس کی ہر حقیقت کا میں نے اچھی طرح مشاہدہ کیا ہے۔
جان لے کہ تمام پیغمبروں نے مرتبہ فقر پر پہنچنے کی التجا کی لیکن نہ پا سکے۔ وہ تمام فقر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے خود اپنی اُمت کے سپرد فرمایا۔ یہ فقرِ محمدی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فخر ہے۔ فقر فیض ہے جس کے تین مراتب ہیں اور ان میں غیب الغیب کے بے شمار خزانے ہیں۔ ابتدائے فقر میں اوّل قدم طریق (یعنی پیروی) ہے اور دوم قدم توجہ ہے کہ طالب جس مقام و منزل کے متعلق جانتا ہے جس وقت بھی چاہتا ہے خود کو بذریعہ توجہ اس مقام و منزل تک لے جاتا ہے۔ یہ توجہ توفیق ہے۔ فقر میں سوم قدم غرق فنا فی اللہ نور ہونا اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری کی تحقیق حاصل کرنا ہے۔ فقر ذکرِ اللہ کے ذریعے طالب کا قلب نور اور جسم کوہِ طور کی مثل بنا دیتا ہے جسکے بعد طالب موسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ سے ہم کلام ہو کر جواب باصواب پاتا ہے۔ جو پیر و مرشد یہ مراتب اور قوت نہیں رکھتا اور نہ ہی ان کے متعلق جانتا ہے وہ احمق ہے جو خود کو پیر و مرشد کہلواتا ہے۔ زن مرید پیر کثیر ہیں۔ حجام کی مثل استرے سے بال کاٹنے والے پیر بھی بیشمار ہیں۔ پیر کو ان سب سے بے نیاز ہونا چاہیے۔
علمِ دعوت تیغِ برہنہ ہے جو تصور سے (لوحِ محفوظ پر) تحریر قسمت، قرب و معرفتِ الٰہی اور حضوری کے علم کو پانا ہے۔ علمِ تصرف طالب کو بقا باللہ تک پہنچا کر مکمل نور بنا دیتا ہے جہاں وہ کل مخلوقات کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے کہ غرق لی مع اللہ ہدایت ہے۔ دعوت کا دوسرا طریقہ ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ طریقہ حبِّ دنیا کے باعث دل کو سیاہ کر دیتا ہے۔ ایسی دعوت سراسر بدعت ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کا مشاہدہ کرنے والے کو دو مراتب حاصل ہوتے ہیں ایک قربِ الٰہی اور دوسرا اس قرب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر کی توفیق۔ اس مرتبہ کو تحقیق کیا جا سکتا ہے۔ (اس مجلسِ محمدی میں) بعض جمالِ الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں اور بعض جلالِ الٰہی کا۔ جمالِ الٰہی سے طالبِ مولیٰ کو جمعیت اور مراتبِ محمود حاصل ہوتے ہیں اور جلالِ الٰہی سے جذب مجذوب اور مردود کے مراتب حاصل ہوتے ہیں۔ پس مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دیدار ایک کسوٹی کی مثل ہے جو صادق اور کاذب طالب کی تحقیق کرتی ہے۔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے مشرف ہونے کے مراتب اسمِ اللہ ذات کی طاقت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
جان لو کہ اگر حج کا تمام ثواب جمع کر لیا جائے تو بھی یہ دعوت قوی و قادر ہو گی۔ ایسی دعوت ہر مشکل کی چابی اور معرفتِ توحید اور حضوری کا مغز ہے۔ اللہ کا قرب حاصل ہونے کی بدولت فقیر اللہ کے خزانوں کا خزانچی بن جاتا ہے۔ فقیر ولی اللہ دنیاوی بادشاہ پر غالب ہوتا ہے۔ فقیر لایحتاج ہوتا ہے جو کسی سے بھی التجا نہیں کرتا۔ طالبِ صادق کو یہ مراتب مرشد کامل سے نصیب ہوتے ہیں۔ مرشد پہلے ہی روز (طالبِ صادق کو) ظاہری طور پر غنایت کا خزانہ جبکہ باطن میں تصرفِ ہدایت کا سبق دیتا ہے۔ طالب اس کتاب کے مطالعہ سے روشن ضمیر ہو جاتا ہے۔ لوحِ محفوظ طالب کے لوحِ ضمیر پر منکشف ہو جاتی ہے اور لوحِ محفوظ کے مطالعہ سے طالب لوگوں کی نیک و بد قسمت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ اس کتاب کا مصنف کہتا ہے کہ یہ مراتب نجومی درویش کے ہیں جو دنیاوی خواہشات کے غلبہ میں ہے نہ کہ صداقت پر۔ جان لو کہ پیر و مرشد وہ ہے جو سب سے پہلے (طالبِ مولیٰ کو) قربِ الٰہی کی راہ پر چلائے، مجاہدہ کرائے بغیر ہی مشاہدہ عطا کرے اور کسی تکلیف سے (گزارے) بغیر قربِ الٰہی کا خزانہ عطا کرے اور بغیر محنت کے محبت و معرفتِ الٰہی عطا کرے، بغیر ریاضت کے اسرارِ الٰہی سے نوازے اور بغیر زہد کے اپنا عشق پیدا کرے۔ یہ سب مرشد کی توفیق سے ممکن ہے کہ وہ طالب کو نورِ حضور کی تحقیق عطا کرتا ہے۔ یہ تمام مراتب قرب و مشاہدۂ حضورِ حق سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تمام آیاتِ قرآن، تفسیر اور بیان اور تمام علوم یکبارگی طالب پر عیاں ہو جاتے ہیں جس سے وہ دونوں جہان کا نظارہ پشتِ ناخن پر دیکھتا ہے کیونکہ اس کا مردہ قلب اور وجود قرب و مشاہدۂ حق سے زندہ ہو جاتے ہیں۔ جو مرشد، پیر، فقیر، درویش، اولیا، عارفِ خدا، اہلِ علمِ دعوت، علما باللہ، واصل ولی اللہ حضورِ حق کے متعلق نہیں جانتے وہ احمق ہیں کہ وہ اپنے آپ کو صاحبِ باطن پیر و مرشد کہلواتے ہیں۔
قرب و مشاہدۂ حق کی چند صورتیں ہیں جن کے کچھ نام اور قاعدے ہیں۔ اصل حضورِ حق حیّ و قیوم ذات کا قرب و وصال، جمعیت اور وحدت ہے جس سے ہر شے طالب پر واضح ہو جاتی ہے اور جو کچھ لوحِ محفوظ پر تحریر ہے اسے معلوم ہو جاتا ہے۔ حضورِ حق کے پانچ مراتب ہیں۔ اوّل ظاہری وجود سے حضوری، دوم باطنی وجود سے موجود کے سامنے حضوری، سوم مطلوب کے سامنے حضوری‘ جس سے تمام مطالب حاصل ہوتے ہیں، چہارم اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوقات کو حاضر کر لینے کا تصرف‘ جنہیں اللہ نے کن کہہ کر تخلیق کیا، پنجم دنیا، نفس اور شیطان مردود پر تصرف۔ حضوری کے یہ پانچ مراتب دینی و دنیاوی پانچ خزانے ہیں۔ جو مرشد طالبِ مولیٰ کو حضوری کے تمام مراتب عطا نہیں کرتا اور حضوری کی توفیق سے ان مراتب کی تحقیق نہیں کراتا اور زندگی اور موت کے بعد عزت و جاہ کے درجات عطا نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ وہ مرشد ناقص اور نامکمل ہے اور اس مرشد سے تلقین لینا طالب پر حرام ہے کیونکہ طالب کے لیے حضوری اور دیدارِ حق کے بغیر صرف ذکر، فکر، مراقبہ، مکاشفہ اور ورد وظائف کے ساتھ کسی بھی مرتبہ و مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں اگرچہ وہ عمر بھر سالہا سال ریاضت کرتا رہے ان مراتب میں وہ ناقص و خام ہی رہتا ہے۔ پس ان خام مراتب میں شرف کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ طالبی و مریدی اور مرشدی و پیری میں دن شمار نہیں کیے جاتے۔ مرشد کامل ہاتھ پکڑ کر حضوری میں پہنچانے والا ہوتا ہے جو طالبِ مولیٰ کو ایک لمحہ میں تمام حوادث سے گزار کر حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ ناقص مرشد آج کل کے وعدے کرتا ہے جبکہ مرشد کامل ایک بار کی توجہ سے ہی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام طریقے سالہا سال کی ریاضت کے متقاضی ہیں اگرچہ ذکرِ روح کیا جائے یا ذکرِ قلب۔ اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والی حضوری کی راہ توفیقِ الٰہی کی کلید ہے جو کل و جز کی ہر شے اور مراتب کو کھولتی ہے۔ اس کی تحقیق ایسے مرشد سے حاصل کی جا سکتی ہے جو حق تعالیٰ کا رفیق ہو۔ (جاری ہے)

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں